Sunan At-Tirmidhi 2264

فتنوں کا بیان

2264Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِ أُمَرَائِكُمْ وَشِرَارِهِمْ خِيَارُهُمْ ؟ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتَدْعُونَ لَهُمْ وَيَدْعُونَ لَكُمْ، وَشِرَارُ أُمَرَائِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، وَمُحَمَّدٌ يُضَعَّفُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے اچھے حکمرانوں اور برے حکمرانوں کے بارے میں نہ بتادوں؟ اچھے حکمراں وہ ہیں جن سے تم محبت کرو گے اور وہ تم سے محبت کریں گے، تم ان کے لیے دعائیں کرو گے اور وہ تمہارے لیے دعائیں کریں گے، تمہارے برے حکمراں وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو گے اور وہ تم سے نفرت کریں گے تم ان پر لعنت بھیجو گے اور وہ تم پر لعنت بھیجیں گے ١ ؎۔

Sayyidina Umar (RA) ibn Khattab reported that the Prophet ﷺ said, “Shall I not inform you of the best of your rulers and the worst of them? The best of them are they whom you love and they love you and you pray for them and they pray for you. And the worst of them are they whom you despise and they despise you and you curse them and they curse you.” --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الصحيحة (907)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2264
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف محمد بن ابوحمید کی روایت سے جانتے ہیں، اور محمد بن ابوحمید حافظے کے تعلق سے ضعیف قرار دیے گئے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کچھ ایسے حکمراں ہوں گے جو عدل و انصاف سے کام لیں گے، ان کے اور تمہارے درمیان محبت قائم ہوگی وہ تمہارے خیرخواہ اور تم ان کے خیرخواہ ہو گے، اور کچھ ایسے حکمراں ہوں گے جو ظلم و زیادتی میں بےمثال ہوں گے، ان میں شر کا پہلو زیادہ غالب ہوگا، اسی لیے تم ان سے اور وہ تم سے بغض رکھیں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٣٩٩) (صحیح) (سند میں محمد بن ابی حمید ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، دیکھیے الصحیحة رقم: ٩٠٧ )