Sunan At-Tirmidhi 2262

فتنوں کا بیان

2262Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: عَصَمَنِي اللَّهُ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا هَلَكَ كِسْرَى قَالَ: مَنِ اسْتَخْلَفُوا ؟ قَالُوا: ابْنَتَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ، يَعْنِي الْبَصْرَةَ، ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَصَمَنِي اللَّهُ بِهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک چیز سے بچا لیا جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن رکھا تھا، جب کسریٰ ہلاک ہوگیا تو آپ نے پوچھا: ان لوگوں نے کسے خلیفہ بنایا ہے؟ صحابہ نے کہا: اس کی لڑکی کو، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی جس نے عورت کو اپنا حاکم بنایا ، جب عائشہ ؓ آئیں یعنی بصرہ کی طرف تو اس وقت میں نے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث یاد کی ١ ؎، چناچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بچا لیا۔

Sayyidina Abu Bakrah (RA) narrated: Allah protected me with something that I heard from Allah’s Messenger ﷺ when Chosroes was ruined. He asked, ‘Who has succeeded him?” They said, ‘His daughter .” So, the Prophet ﷺ said, ‘People will not prosper when their affairs are dictated by a woman.” Sayyidina Abu Bakrah said, “When Aisha (RA) came, meaning to Busrah, I remembered the saying of Allah’s Messenger ﷺ and thus Allah saved me with this.” [Bukhari 4425] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (2456)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2262
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے اشارہ جنگ جمل کی طرف ہے جو قاتلین عثمان سے بدلہ لینے کی خاطر پیش آئی تھی، عثمان ؓ جب شہید کردیے گئے اور علی ؓ کے ہاتھ پر لوگوں نے بیعت کرلی، پھر طلحہ اور زبیر ؓ مکہ کی طرف روانہ ہوئے وہاں ان کی ملاقات عائشہ ؓ سے ہوئی جو حج کے ارادے سے گئی تھیں، پھر ان سب کی رائے متفق ہوگئی کہ عثمان ؓ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے لوگوں کو آمادہ کرنے کی غرض سے بصرہ چلیں، علی ؓ کو جب یہ خبر پہنچی تو وہ بھی پوری تیاری کے ساتھ پہنچے، پھر حادثہ جمل پیش آیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٨٢ (٤٤٢٥)، والتفن ١٨ (٧٠٩٩)، سنن النسائی/آداب القضاة ٨ (٥٣٩٠) (تحفة الأشراف: ١١٦٦٠)، و مسند احمد (٥/٣٨، ٣٧٨) (صحیح )