ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ابی بن کعب ؓ کے پاس سے گزرے وہ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے فرمایا: اے ابی (سنو) وہ (آواز سن کر) متوجہ ہوئے لیکن جواب نہ دیا، نماز جلدی جلدی پوری کی، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: السلام علیک یا رسول اللہ! (اللہ کے رسول آپ پر سلامتی نازل ہو) ، رسول اللہ ﷺ نے کہا: وعلیک السلام (تم پر بھی سلامتی ہو) ابی! جب میں نے تمہیں بلایا تو تم میرے پاس کیوں نہ حاضر ہوئے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: (اب تک) جو وحی مجھ پر نازل ہوئی ہے اس میں تجھے کیا یہ آیت نہیں ملی «استجيبوا لله وللرسول إذا دعاکم لما يحييكم» اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ، جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں (انفال ٢٤ ) ، انہوں نے کہا: جی ہاں، اور آئندہ إن شاء اللہ ایسی بات نہ ہوگی۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں پسند ہے کہ میں تمہیں ایسی سورت سکھاؤں جیسی سورت نہ تو رات میں نازل ہوئی نہ انجیل میں اور نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! (ضرور سکھائیے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز میں تم (قرآن) کیسے پڑھتے ہو؟ تو انہوں نے ام القرآن (سورۃ فاتحہ) پڑھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ تورات میں، انجیل میں، زبور میں (حتیٰ کہ) قرآن اس جیسی سورت نازل نہیں ہوئی ہے۔ یہی سبع مثانی ٢ ؎ (سات آیتیں) ہیں اور یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ went to Ubayy ibn Ka’b. He called out. “O Ubbay!” He was engaged in salah and turned but did not answer. He shortened his salah and then went to Allahs Messenger ﷺ and said, “As-salammu alikum, O Messenger of Allah ﷺ ”! He said, “Wa alika salaam! What prevented you, O Ubayy, from answering me when I called you”? He said, “O Messenger of Allah ﷺ , I was engaged in salah.” He said, “Have you not observed that which Allah has revealed to me: “Respond to Allah and to His Messenger ﷺ when he (the Messenger) calls you.” (Al-Quran 8:24). He said, “Yes indeed. I will not do it again, Insha Allah.” He asked, “Would you love that I teach you a surah that has not been revealed in the Torah, not in the Injil, not in the Zabur and not in the Qur’an, the like of it.” He answered, “Yes, O Messenger of Allah ﷺ . So, he asked, “How do you recite in salah”? He said, “We recite the ummul Qar’an.” So, Allah’s Messeneger said, “By Him in Whose hand is my soul, nothing has been revealed like it in the Turah, the Injil, the Zabur and the Qur’an. It is the sab’am minal mathani and the mighty Qur’an that is given to me.” --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، صحيح أبي داود (1310)، المشکاة (2142 / التحقيق الثاني)، التعليق الرغيب (2 / 216)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2875
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں انس بن مالک اور ابوسعید بن معلی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حکم ربانی کی بنا پر صحابہ پر واجب تھا کہ آپ ﷺ کی پکار کا جواب دیں خواہ نماز ہی میں کیوں نہ ہو، لیکن ان صحابی نے یہ سمجھا تھا کہ یہ حکم نماز سے باہر کے لیے ہے، اس لیے جواب نہیں دیا تھا۔ ٢ ؎: چونکہ اس میں سات آیتیں ہیں اس لیے اسے سبع کہا گیا، اور ہر نماز میں یہ سورت دہرائی جاتی ہے، اس لیے اسے مثانی کہا گیا، یا مثانی اس لیے کہا گیا کہ اس کا نزول دو مرتبہ ہوا ایک مکہ میں دوسرا مدینہ میں۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ وہ گھر جس میں سورة البقرہ پڑھی جاتی ہے اس میں شیطان داخل نہیں ہوتا ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Do not turn you homes into graves. The devil does not enter the house in which al-Baqarah is recited.” [Muslim 780,Ahmed 7826]
صحيح أحكام الجنائز (212)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2877
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے ١ ؎ اور قرآن کی چوٹی سورة البقرہ ہے، اس سورة میں ایک آیت ہے یہ قرآن کی ساری آیتوں کی سردار ہے اور یہ آیت آیۃ الکرسی ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Everything has a hump and the hump of the Quran is surah al-Baqarah. There is a verse in it that is the chief of all verses of the Qur’an, the ayat ul-Kursi.” (2:255)
ضعيف، الضعيفة (1348)، التعليق الرغيب (2 / 218) // ضعيف الجامع الصغير (4725) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2878
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف حکیم بن جبیر کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - حکیم بن جبیر کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے اور انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس میں کوئی چیز نمایاں ہوتی ہے جو کوہان کی حیثیت رکھتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٣١٣) (ضعیف) (سند میں حکیم بن جبیر ضعیف راوی ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے سورة مومن کی (ابتدائی تین آیات) «حم» سے «إليه المصير» تک اور آیت الکرسی صبح ہی صبح (بیدار ہونے کے بعد ہی) پڑھی تو ان دونوں کے ذریعہ شام تک اس کی حفاظت کی جائے گی، اور جس نے ان دونوں کو شام ہوتے ہی پڑھا تو ان کے ذریعہ اس کی صبح ہونے تک حفاظت کی جائے گی ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone recites in the morning (Al-Quran 40:1-3) and ayat al-kursi (2:255) then he is protected thereby until evening. And, if anyone recites these verses in the evening then he is protected thereby till it is morning.” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، المشکاة (2144 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (5769) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2879
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - بعض اہل علم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر بن ابی ملیکہ کے حافظے کے سلسلے میں کلام کیا ہے، ٣ - زرارہ بن مصعب کا پورا نام زرارہ بن مصعب بن عبدالرحمٰن بن عوف ہے، اور وہ ابومصعب مدنی کے دادا ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٤٩٥) (ضعیف) (سند میں عبد الرحمن ملی کی ضعیف راوی ہیں )
ابوایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ ان کا اپنا ایک احاطہٰ تھا اس میں کھجوریں رکھی ہوئی تھیں۔ جن آتا تھا اور اس میں سے اٹھا لے جاتا تھا، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بات کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا: جاؤ جب دیکھو کہ وہ آیا ہوا ہے تو کہو: بسم اللہ (اللہ کے نام سے) رسول اللہ ﷺ کی بات مان ، ابوذر ؓ نے اسے پکڑ لیا تو وہ قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ مجھے چھوڑ دو، دوبارہ وہ ایسی حرکت نہیں کرے گا، چناچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا، تمہارے قیدی نے کیا کیا؟! انہوں نے کہا: اس نے قسمیں کھائیں کہ اب وہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے گا۔ آپ نے فرمایا: اس نے جھوٹ کہا: وہ جھوٹ بولنے کا عادی ہے ، راوی کہتے ہیں: انہوں نے اسے دوبارہ پکڑا، اس نے پھر قسمیں کھائیں کہ اسے چھوڑ دو، وہ دوبارہ نہ آئے گا تو انہوں نے اسے (دوبارہ) چھوڑ دیا، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے پوچھا: تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: اس نے قسم کھائی کہ وہ پھر لوٹ کر نہ آئے گا۔ آپ نے فرمایا: اس نے جھوٹ کہا، وہ تو جھوٹ بولنے کا عادی ہے ۔ (پھر جب وہ آیا) تو انہوں نے اسے پکڑ لیا، اور کہا: اب تمہیں نبی اکرم ﷺ کے پاس لے جائے بغیر نہ چھوڑوں گا۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں ایک چیز یعنی آیت الکرسی بتارہا ہوں۔ تم اسے اپنے گھر میں پڑھ لیا کرو۔ تمہارے قریب شیطان نہ آئے گا اور نہ ہی کوئی اور آئے گا ، پھر ابوذر ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ تو انہوں نے آپ کو وہ سب کچھ بتایا جو اس نے کہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے بات تو صحیح کہی ہے، لیکن وہ ہے پکا جھوٹا ۔
Abu Ayyub Ansari (RA) reported that he had a niche that contained dates. A female jinn would come and take away dates from it. He complained about it to the Prophet ﷺ who said, “Go. When you see her, say, ‘In the name of Allah, obey Allah’s Messenger ﷺ . So, he nabbed her and she swore that she would not return. He let her go and went to the Prophet ﷺ who asked, “What has your prisoner done?” He said, “She has promissed not to come again.” He said, “She has lied. She will come again.” He nabbed her again and she promised that she would not come again, so he let her go. He went to the Prophet ﷺ who asked, “What has your prisoner done?” He said that she had promised not to return. The Prophet ﷺ said, “She has lied and will come back.” So, he nabbed her, (the third time) and said, “I am not going to free you till I take you to the Prophet ﷺ . She said, “I mention to you something the ayat ul-Kursi. Recite it in your house. The devil or any other than him will not approach you. “He went to the Prophet ﷺ , who asked him what his prisoner had done and he informed him of what she had said. The Prophet ﷺ said, “She has spoken truth though she is a liar.” --------------------------------------------------------------------------------
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گنتی کے کچھ لشکری بھیجے (بھیجتے وقت) ان سے (قرآن) پڑھوایا، تو ان میں سے ہر ایک نے جسے جتنا قرآن یاد تھا پڑھ کر سنایا۔ جب ایک نوعمر نوجوان کا نمبر آیا تو آپ نے اس سے کہا: اے فلاں! تمہارے ساتھ کیا ہے یعنی تمہیں کون کون سی سورتیں یاد ہیں؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں اور سورة البقرہ یاد ہے۔ آپ نے کہا: کیا تمہیں سورة البقرہ یاد ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: جاؤ تم ان سب کے امیر ہو ۔ ان کے شرفاء میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے سورة البقرہ صرف اسی ڈر سے یاد نہ کی کہ میں اسے (نماز تہجد میں) برابر پڑھ نہ سکوں گا۔ آپ نے فرمایا: قرآن سیکھو، اسے پڑھو اور پڑھاؤ۔ کیونکہ قرآن کی مثال اس شخص کے لیے جس نے اسے سیکھا اور پڑھا، اور اس پر عمل کیا اس تھیلی کی ہے جس میں مشک بھری ہوئی ہو اور چاروں طرف اس کی خوشبو پھیل رہی ہو، اور اس شخص کی مثال جس نے اسے سیکھا اور سو گیا اس کا علم اس کے سینے میں بند رہا۔ اس تھیلی کی سی ہے جو مشک بھر کر سیل بند کردی گئی ہو ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ sent a small army and they were a countable number. He got them to recite the Qur’an and each man of them recited whatever he had of the Qur’an (in memory). He came to a man among them, the youngest of them in years and asked him, ‘What do you have of the Qur’an with you, O so-and-so?” He said, “I have this and that and surah al-Baqarah.” He asked him “Oh, do you have surah al-Baqarah?” He said, ‘Yes.’ The Prophet ﷺ said, “Go. You are their amir.” Then a man of the nobles among them remaked, “By Allah, nothing prevented me from learning al-Baqarah but that I was apprehensive that I might not be able to recite it in salah (in tahajjud).” Allah’s Messenger ﷺ said, “Learn the Qur’an and recite it. The example of the Qur’an for one who learns it, recites it and stands in salah with it is like a bag full of musk, its fragrance spreading in every corner. And the example of one who learns it but goes to sleep while it is in his heart is like a bag of musk tied close (at its mouth).”
ضعيف، ابن ماجة (217) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (39)، المشکاة (2143)، ضعيف الجامع الصغير (2452) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2876
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس حدیث کو لیث بن سعد نے سعید مقبری سے، اور سعید نے ابواحمد کے آزاد کردہ غلام عطا سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے اس روایت میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٦ (٢١٧) (تحفة الأشراف: ١٤٢٤٢) (ضعیف) (سند میں عطاء مولی ابی احمد لین الحدیث راوی ہیں )
ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے رات میں سورة البقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں وہ اس کے لیے کافی ہوگئیں ١ ؎۔
Sayyidina Abu Mas’ud Ansari (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone recites the two verses at the conclusion of surah al-Baqarah in the night then that enough for him.” [Bukhari 4008,Muslim 808,Ahmed 17067]
صحيح، صحيح أبي داود (1263 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2881
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ دونوں آیتیں ہر برائی اور شیطان کے شر سے اس کی حفاظت کریں گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ١٠ (٥٠٠٩)، صحیح مسلم/المسافرین ٤٣ (٨٠٧)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٢٦ (١٣٩٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٣ (١٣٦٩) (تحفة الأشراف: ٩٩٩٩)، و مسند احمد (٤/١١٨)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٠ (١٥٢٨) (صحیح )
نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی، اس کتاب کی دو آیتیں نازل کیں اور انہیں دونوں آیتوں پر سورة البقرہ کو ختم کیا، جس گھر میں یہ دونوں آیتیں (مسلسل) تین راتیں پڑھی جائیں گی ممکن نہیں ہے کہ شیطان اس گھر کے قریب آسکے ۔
Sayyidina Nu’man ibn Bashir (RA) reported that the Prophet ﷺ said. “Allah wrote a Book before He created the heavens and earth by two thousand years. In it are revealed two verses with which surah al-Baqarah is concluded. And they are not read three nights in house, but the devil does not approach it.” --------------------------------------------------------------------------------
نواس بن سمعان ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قرآن اور قرآن والا جو دنیا میں قرآن پر عمل کرتا ہے دونوں آئیں گے ان کی پیشوائی سورة البقرہ اور آل عمران کریں گی ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سورتوں کی تین مثالیں دیں، اس کے بعد پھر میں ان سورتوں کو نہ بھولا۔ آپ نے فرمایا: گویا کہ وہ دونوں چھتریاں ہیں، جن کے بیچ میں شگاف اور پھٹن ہیں، یا گویا کہ وہ دونوں کالی بدلیاں ہیں، یا گویا کہ وہ صف بستہ چڑیوں کا سائبان ہیں، یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں کا لڑ جھگڑ کر دفاع و بچاؤ کر رہی ہیں ۔
Sayyidina Nawwas ibn Sam’an (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The Qur’an and its people who had abided by it in the world will come, led by surah al-Baqarah and Aali Imran. Allah’s Messenger ﷺ then coined for them three examples that Nawwas said he never fogot after that. He said, “They will come as though they were two canopies with light between them, or as though they were two black clouds, or as though they were flock of birds in rows, pleading for their companion (who had recited them).” [Muslim 804,Ahmed 22208] Muhammad ibn Isma’il reported from Humaydi, from Sufyan ibn Uyaynah in explaiation of the hadith of Adbullah Ibn Mas’ud (RA) Allah has not created in the heavens or the earth anything mightier than ayat ul-kursi (2:255) that Sufyan said,” ayat ui-kursi is Allah’s words and the words of Allah, are mightier than Allah’s creation of heaven and earth. --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2883
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - اس باب میں بریدہ اور ابوامامہ سے بھی روایت ہے، ٣ - اس حدیث کا بعض اہل علم کے نزدیک معنی و مفہوم یہ ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب آئے گا۔ اس حدیث اور اس جیسی دیگر احادیث کی بعض اہل علم نے یہی تفسیر کی ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب آئے گا، نواس ؓ کی نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، مفسرین کی اس تفسیر کی دلیل اور اس کا ثبوت ملتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے اس قول «وأهله الذين يعملون به في الدنيا» میں اشارہ ہے کہ قرآن کے آنے سے مراد ان کے اعمال کا ثواب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٤٢ (٨٠٥) (تحفة الأشراف: ١١٧١٣)، و مسند احمد (٤/١٨٣) (صحیح )
سفیان بن عیینہ سے روایت ہے، وہ عبداللہ بن مسعود ؓ کی اس حدیث «ما خلق اللہ من سماء ولا أرض أعظم من آية الکرسي» کی تفسیر میں کہتے ہیں: آیت الکرسی کی فضیلت اس وجہ سے ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ کا کلام اللہ کی مخلوق یعنی آسمان و زمین سے بڑھ کر ہے۔
براء ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سورة الکہف پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران اس نے اپنے چوپائے (سواری) کو دیکھا کہ وہ (اپنے کھونٹے پر) ناچنے اور اچھل کود کرنے لگا۔ اس نے نظر (ادھر ادھر) دوڑائی تو اسے ایک بدلی سی نظر آئی، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور اس (واقعہ) کا آپ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ سکینت (طمانینت) تھی جو قرآن کی وجہ سے یا قرآن پڑھنے پر نازل ہوئی ۔
Sayyidina Bara (RA) reported that while a man was reciting surah al-Kahf, he observed his animal jump. He looked and indeed, something like a cloud was near. He went to Allah’s Messenger ﷺ and mentioned that to him. He said, “This is sakinah (tranquility) that descends with the Qur’an or descends on the Qur’an.” [Bukhari 3614,Muslim 895,Ahmed 18534]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2885
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں اسید بن حضیر سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦١٤)، وتفسیر سورة الفتح ٤ (٤٨٣٩)، وفضائل القرآن ١١ (٥٠١١)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٦ (٧٩٥) (تحفة الأشراف: ١٨٧٢) (صحیح )
ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے سورة الکہف کی ابتدائی تین آیات پڑھیں وہ دجال کے فتنہ سے بچا لیا گیا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Darda (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone recites the first three verses of surah al-Kahf then he is protected from the fitnah of the dajjal.” [Muslim 809,Abu Dawud 4323,Ahmed 21771] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح بلفظ: من حفظ عشر آيات ......، وهو بلفظ الکتاب شاذ، الصحيحة (582)، الضعيفة (1336) // صحيح الجامع الصغير (6201)، ضعيف الجامع الصغير (5765) //
صحيح بلفظ: من حفظ عشر آيات ......، وهو بلفظ الکتاب شاذ، الصحيحة (582)، الضعيفة (1336) // صحيح الجامع الصغير (6201)، ضعيف الجامع الصغير (5765) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2886
اس سند سے بھی اسے ابوالدرداء ؓ نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2886
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی موجودگی میں دجال کا ظہور ہو بھی جائے تو بھی وہ اللہ کی رحمت اور ان آیات کی برکت سے وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٤٤ (٨٠٩)، سنن ابی داود/ الملاحم ١٤ (٤٣٢٣) (تحفة الأشراف: ١٠٩٦٣) (صحیح) (مؤلف کے الفاظ ” ثلاث آیات “ کے ساتھ یہ روایت شاذ ہے، مؤلف کے سوا سب کے یہاں ” عشر آیات “ ہی کے الفاظ ہیں)
انظر ماقبلہ (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے، اور قرآن کا دل سورة یاسین ہے۔ اور جس نے سورة یاسین پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے پڑھنے کے صلے میں دس مرتبہ قرآن شریف پڑھنے کا ثواب لکھے گا ۔ اس سند سے بھی یہ سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is a heart for everything and the heart of the Quran is Yasin. And, if anyone recites Yasin, Allah records for him against his recital of it a recital of the Quran ten times.”
موضوع، الضعيفة (169)، // ضعيف الجامع الصغير (1935) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2887
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس حدیث کو ہم صرف حمید بن عبدالرحمٰن کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور اہل بصرہ قتادہ کی روایت کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور ہارون ابو محمد شیخ مجہول ہیں۔ ٣ - اس باب میں ابوبکر صدیق سے بھی روایت ہے، اور یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔ ٤ - اس کی سند ضعیف ہے اور اس باب میں ابوہریرہ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٣٥٠) (موضوع) (سند میں ہارون العبدی اور مقاتل بن سلیمان کذاب ہیں، یہاں مقاتل بن سلیمان ہی صحیح ہے، مقاتل بن حیان سہو ہے، دیکھیے: الضعیفة رقم: ١٦٩ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص سورة «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone recites surah Haa Meem ad-Dukhan in the night he will see the morning while seventy thousand angels seek forgiveness for him.”
موضوع، المشکاة (2149) // ضعيف الجامع الصغير (5766) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2888
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣ - عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٤١٣) (موضوع) (مولف نے سبب بیان کردیا ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص جمعہ کی رات میں «حم الدخان» پڑھے گا اسے بخش دیا جائے گا ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone recites Haa Meem ad-Dukhan (#44) one the night of Friday then he is forgiven.”
ضعيف، الضعيفة (4632)، المشکاة (2150 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (5767) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2889
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - ہشام ابوالمقدام ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، ٣ - حسن بصری نے ابوہریرہ ؓ سے نہیں سنا ہے، ایوب، یونس بن عبید اور علی بن زید نے ایسا ہی کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٢٥٢) (ضعیف) (مؤلف نے سبب بیان کردیا ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کردیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے، (انہوں نے آواز سنی) اس قبر میں کوئی انسان سورة «تبارک الذي بيده الملک» پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے پوری سورة ختم کردی۔ وہ صحابی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے پھر آپ سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کردیا، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورة «تبارک الملک» پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورة ختم کردی۔ آپ نے فرمایا: «هي المانعة» یہ سورة مانعہ ہے، یہ نجات دینے والی ہے، اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that one of the companions of the Prophet ﷺ pitched a tent on a grave. He did not know that there was grave. It was the grave of human beings, who recited surah al-Mulk (#67) to the end of it. He came to the Prophet ﷺ and said, “O Messenger of Allah ﷺ , I pitched my tent over a grave without knowing that it was a grave. The man inside recited surah al-Mulk to its end.” The Prophet ﷺ said, “It is the rescuer. It rescues from punisment of the grave.”
ضعيف، وإنما يصح منه قوله: هي المانعة .....، الصحيحة (1140) // ضعيف الجامع الصغير (6101)، المشکاة (2154) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2890
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥٣٦٧) (ضعیف) (سند میں یحییٰ بن عمرو ضعیف راوی ہیں، لیکن ” ھي المانعة “ کا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے، دیکھیے: الصحیحة رقم ١١٤٠ )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قرآن کی تیس آیتوں کی ایک سورة نے ایک آدمی کی شفاعت (سفارش) کی تو اسے بخش دیا گیا، یہ سورة «تبارک الذي بيده الملک» ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, “A surah of the Qur’an has thirty verses. It intercedes for a man till he is forgiven. It is (Surah al-Mulk).” [Abu Dawud 1400, Ibn e Majah 3786,Ahmed 7980]
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٢٧ (١٤٠٠)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢٠٧ (٧١٠)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٢ (٣٧٨٦) (تحفة الأشراف: ١٣٥٥٠)، وسنن الدارمی/فضائل القرآن ٢٣ (٣٤٥٢) (حسن) (سند میں عباس الجشمی لین الحدیث راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے )
١ - اس حدیث کو کئی ایک رواۃ نے لیث بن ابی سلیم سے اسی طرح روایت کیا ہے، ٢ - مغیرہ بن مسلم نے ابوزبیر سے، اور ابوزبیر نے جابر کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے، ٣ - زہیر روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: میں نے ابوزبیر سے کہا: آپ نے جابر سے سنا ہے، تو انہوں نے یہی حدیث بیان کی؟ ابوالزبیر نے کہا: مجھے صفوان یا ابن صفوان نے اس کی خبر دی ہے۔ تو ان زہیر نے ابوالزبیر سے جابر کے واسطہ سے اس حدیث کی روایت کا انکار کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢٠٦ (٧٠٨) (تحفة الأشراف: ٢٩٣١)، و مسند احمد (٣/٣٤٠) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” لیث بن ابی سلیم “ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو الصحیحہ رقم ٥٨٥ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے سورة «إذا زلزلت الأرض» سورة پڑھی تو اسے آدھا قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے سورة «قل يا أيها الکافرون» پڑھی تو اسے چوتھائی قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے سورة «قل هو اللہ أحد» پڑھی تو اسے ایک تہائی قرآن پڑھنے کا ثواب ملے گا ۔
Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone recites (az-Zilzal, surah # 99), it represents for him half the Qur’an. If anyone recites (al-Kafirun, surah # 109), it represents for him one-fourth of the Quran and if anyone recites (al-Ikhlas, surah # 112) then it represents for him one-third of the Qur’an.” --------------------------------------------------------------------------------
حسن دون فضل (زلزلت)، الضعيفة (1142) // كذا أصل الشيخ ناصر والصواب (1342)، ضعيف الجامع الصغير (5757)، وسيأتي برقم (550 / 3071) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2893
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے کسی اور سے نہیں صرف انہیں حسن بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٢٨٤) (حسن) (سند میں حسن بن سلم مجہول راوی ہے، مگر ” { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } اور { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} کی فضیلت شواہد کی بنا پر حسن ہے، اور اول حدیث سورة زلزال سے متعلق ضعیف ہے )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: اے فلاں! کیا تم نے شادی کرلی؟ انہوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! اللہ کے رسول! نہیں کی ہے، اور نہ ہی میرے پاس ایسا کچھ ہے جس کے ذریعہ میں شادی کرسکوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس سورة «قل هو اللہ أحد» نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، میرے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا: سورة «قل هو اللہ أحد» ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس سورة «إذا جاء نصر اللہ والفتح» نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، (ہے) آپ نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہے ، آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس سورة «قل يا أيها الکافرون» نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ (ہے) آپ نے فرمایا: (یہ) چوتھائی قرآن ہے ۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس سورة «إذا زلزلت الأرض» نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں (ہے) آپ نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہے ، آپ نے فرمایا: تم شادی کرو ۔
Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that Allah’s Messenger ﷺ asked one of his sahabah, “Have you married, O’ so-and-so”? He said, “No, By Allah, O Messenger of Allah ﷺ . And I have not enough to (be able to) marry.” He asked, “Do you not have surah (al-Ikhlas)”? He said, “Certainly, I have.” He said, “That is one-third of the Qur’an”, and he asked, “Do you not have surah (an-Nasr).” The man answered, “Of course, I have.” The Prophet ﷺ said, “That is one-fourth of thern Qur’an. And do you not have surah (al-Kafirun)”? He said, “Indeed I do have it.” He said “That is one-fourth of the Qur’an, and do you not have He said, “Of coure.” The Prophet ﷺ said “That is one-fourth of the Qur’an.” And added, “Go marry. Go marry”!