سورت آل عمران کی فضیلت کے متعلق
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَال: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ إِذْ رَأَى دَابَّتَهُ تَرْكُضُ، فَنَظَرَ فَإِذَا مِثْلُ الْغَمَامَةِ أَوِ السَّحَابَةِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تِلْكَ السَّكِينَةُ نَزَلَتْ مَعَ الْقُرْآنِ أَوْ نَزَلَتْ عَلَى الْقُرْآنِ ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
براء ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سورة الکہف پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران اس نے اپنے چوپائے (سواری) کو دیکھا کہ وہ (اپنے کھونٹے پر) ناچنے اور اچھل کود کرنے لگا۔ اس نے نظر (ادھر ادھر) دوڑائی تو اسے ایک بدلی سی نظر آئی، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور اس (واقعہ) کا آپ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ سکینت (طمانینت) تھی جو قرآن کی وجہ سے یا قرآن پڑھنے پر نازل ہوئی ۔
Sayyidina Bara (RA) reported that while a man was reciting surah al-Kahf, he observed his animal jump. He looked and indeed, something like a cloud was near. He went to Allah’s Messenger ﷺ and mentioned that to him. He said, “This is sakinah (tranquility) that descends with the Qur’an or descends on the Qur’an.” [Bukhari 3614,Muslim 895,Ahmed 18534]