Sunan At-Tirmidhi 2892

فضائل قرآن کا بیان۔

2892Sunan At-Tirmidhi

سورت ملک کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ مِسْعَرٍ تِرْمِذِيٌّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ الم تَنْزِيلُ وَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، مِثْلَ هَذَا، وَرَوَاهُ مُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، وَرَوَى زُهَيْرٌ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ سَمِعْتَ مِنْ جَابِرٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ صَفْوَانُ، أَوِ ابْنُ صَفْوَانَ، وَكَأَنَّ زُهَيْرًا أَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب تک «الم تنزيل» اور «تبارک الذي بيده الملک» پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ would not go to sleep till he had recited (Surah as-Sajdah (#62) and (al-Mulk #66). [Nisai 711]

(حديث جابر) صحيح، (قول طاو وس) ضعيف مقطوع (حديث جابر)، الصحيحة (585)، الروض النضير (227)، المشکاة (2155 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2892
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو کئی ایک رواۃ نے لیث بن ابی سلیم سے اسی طرح روایت کیا ہے، ٢ - مغیرہ بن مسلم نے ابوزبیر سے، اور ابوزبیر نے جابر کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے، ٣ - زہیر روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: میں نے ابوزبیر سے کہا: آپ نے جابر سے سنا ہے، تو انہوں نے یہی حدیث بیان کی؟ ابوالزبیر نے کہا: مجھے صفوان یا ابن صفوان نے اس کی خبر دی ہے۔ تو ان زہیر نے ابوالزبیر سے جابر کے واسطہ سے اس حدیث کی روایت کا انکار کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢٠٦ (٧٠٨) (تحفة الأشراف: ٢٩٣١)، و مسند احمد (٣/٣٤٠) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” لیث بن ابی سلیم “ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو الصحیحہ رقم ٥٨٥ )