جہاد کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 21 · 185 hadiths · Page 1 of 9

1548Sunan At-Tirmidhi

لڑائی سے پہلے اسلام کی دعوت دینا۔

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ أَنَّ جَيْشًا مِنْ جُيُوشِ الْمُسْلِمِينَ كَانَ أَمِيرَهُمْ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ حَاصَرُوا قَصْرًا مِنْ قُصُورِ فَارِسَ، فَقَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، أَلَا نَنْهَدُ إِلَيْهِمْ ؟ قَالَ: دَعُونِي أَدْعُهُمْ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُمْ، فَأَتَاهُمْ سَلْمَانُ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْكُمْ فَارِسِيٌّ، تَرَوْنَ الْعَرَبَ يُطِيعُونَنِي، فَإِنْ أَسْلَمْتُمْ، فَلَكُمْ مِثْلُ الَّذِي لَنَا وَعَلَيْكُمْ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْنَا، وَإِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا دِينَكُمْ، تَرَكْنَاكُمْ عَلَيْهِ، وَأَعْطُونَا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ، قَالَ: وَرَطَنَ إِلَيْهِمْ بِالْفَارِسِيَّةِ: وَأَنْتُمْ غَيْرُ مَحْمُودِينَ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ، نَابَذْنَاكُمْ عَلَى سَوَاءٍ، قَالُوا: مَا نَحْنُ بِالَّذِي نُعْطِي الْجِزْيَةَ، وَلَكِنَّا نُقَاتِلُكُمْ، فَقَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، أَلَا نَنْهَدُ إِلَيْهِمْ ؟ قَالَ: لَا، فَدَعَاهُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَى مِثْلِ هَذَا، ثُمَّ قَالَ: انْهَدُوا إِلَيْهِمْ، قَالَ: فَنَهَدْنَا إِلَيْهِمْ، فَفَتَحْنَا ذَلِكَ الْقَصْرَ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ بُرَيْدَةَ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَدِيثُ سَلْمَانَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: أَبُو الْبَخْتَرِيِّ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ، لِأَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا، وَسَلْمَانُ مَاتَ قَبْلَ عَلِيٍّ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا، وَرَأَوْا أَنْ يُدْعَوْا قَبْلَ الْقِتَالِ، وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: إِنْ تُقُدِّمَ إِلَيْهِمْ فِي الدَّعْوَةِ فَحَسَنٌ، يَكُونُ ذَلِكَ أَهْيَبَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا دَعْوَةَ الْيَوْمَ، وقَالَ أَحْمَدُ: لَا أَعْرِفُ الْيَوْمَ أَحَدًا يُدْعَى، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا يُقَاتَلُ الْعَدُوُّ حَتَّى يُدْعَوْا، إِلَّا أَنْ يَعْجَلُوا عَنْ ذَلِكَ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، فَقَدْ بَلَغَتْهُمُ الدَّعْوَةُ.

ابوالبختری سعید بن فیروز سے روایت ہے کہ مسلمانوں کے ایک لشکر نے جس کے امیر سلمان فارسی تھے، فارس کے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا، لوگوں نے کہا: ابوعبداللہ! کیا ہم ان پر حملہ نہ کردیں؟، انہوں نے کہا: مجھے چھوڑ دو میں ان کافروں کو اسلام کی دعوت اسی طرح دوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو انہیں دعوت دیتے ہوئے سنا ہے ١ ؎، چناچہ سلمان فارسی ؓ ان کے پاس گئے، اور کافروں سے کہا: میں تمہاری ہی قوم فارس کا رہنے والا ایک آدمی ہوں، تم دیکھ رہے ہو عرب میری اطاعت کرتے ہیں، اگر تم اسلام قبول کرو گے تو تمہارے لیے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے لیے ہیں، اور تمہارے اوپر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو ہمارے اوپر ہیں، اور اگر تم اپنے دین ہی پر قائم رہنا چاہتے ہو تو ہم اسی پر تم کو چھوڑ دیں گے، اور تم ذلیل و خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کرو ٢ ؎، سلمان فارسی ؓ نے اس بات کو فارسی زبان میں بھی بیان کیا، اور یہ بھی کہا: تم قابل تعریف لوگ نہیں ہو، اور اگر تم نے انکار کیا تو ہم تم سے (حق پر) جنگ کریں گے، ان لوگوں نے جواب دیا: ہم وہ نہیں ہیں کہ جزیہ دیں، بلکہ تم سے جنگ کریں گے، مسلمانوں نے کہا: ابوعبداللہ! کیا ہم ان پر حملہ نہ کردیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے تین دن تک اسی طرح ان کو اسلام کی دعوت دی، پھر مسلمانوں سے کہا: ان پر حملہ کرو، ہم لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور اس قلعہ کو فتح کرلیا۔

Abu Bakhtari narrated: A Muslim army led by Sayyidina Salman Farisi (RA) surrounded one of the Persian forts. The men said to him, “O Abu Abdullah, shall we not pounce on them?’ He said, ‘Let me invite them (to Islam). I had heard Allah’s Messenger ﷺ invite them (the enemy).” So, Salman went to them and said, “Indeed, I am a man of you, a Persian. You see the Arabs obey me. Thus, if you submit to Islam then for you is the like of what is for us and on you is that which is on us. And if you reject only to stay on your religion then we will leave at that and you will pay us the jizyah with your hands, disgraced.” The narrator said that Salman (RA) spoke in Persian and also said, “You are not praiseworthy. And if you refuse, we warn you of had things.” They said, “We are not among those who pay the jizyah, hut we will fight you.” The (Muslim) men said, “O Abu Abdullah, shall we not pounce on them?” He said, ‘No” He invited them in this way for three days and after that said, “Pounce on them. The narrator said: We poured ourselves over them and we conquered that fort. They say that this creates a greater awe among the enemy. Some other ulama say that in these days there is no need to invite them to Isam. Imam Ahmad said: I do not know if anyone needs that today. But, Imam Shafi’i said : War should not commence before giving the enemy an invitation, but if they launch an attack beforehand then there is no harm in not inviting them. --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، الإرواء (5 / 87) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (1247) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1548
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - سلمان فارسی ؓ کی حدیث حسن ہے، ہم اس کو صرف عطاء بن سائب ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاری) کو کہتے ہوئے سنا: ابوالبختری نے سلمان کو نہیں پایا ہے، اس لیے کہ انہوں نے علی کو نہیں پایا ہے، اور سلمان کی وفات علی سے پہلے ہوئی ہے، ٢ - اس باب میں بریدہ، نعمان بن مقرن، ابن عمر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کی یہی رائے ہے کہ قتال سے پہلے کافروں کو دعوت دی جائے گی، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے کہ اگر ان کو پہلے اسلام کی دعوت دے دی جائے تو بہتر ہے، یہ ان کے لیے خوف کا باعث ہوگا، ٤ - بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس دور میں دعوت کی ضرورت نہیں ہے، امام احمد کہتے ہیں: میں اس زمانے میں کسی کو دعوت دئیے جانے کے لائق نہیں سمجھتا، ٥ - امام شافعی کہتے ہیں: دعوت سے پہلے دشمنوں سے جنگ نہ شروع کی جائے، ہاں اگر کفار خود جنگ میں پہل کر بیٹھیں تو اس صورت میں اگر دعوت نہ دی گئی تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اسلام کی دعوت ان تک پہنچ چکی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کافروں کو پہلے اسلام کی دعوت دی جائے اگر انہیں یہ منظور نہ ہو تو ان سے جزیہ دینے کو کہا جائے اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو پھر حملہ کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ ٢ ؎: جزیہ ایک متعین رقم ہے جو سالانہ ایسے غیر مسلموں سے لی جاتی ہے جو کسی اسلامی مملکت میں رہائش پذیر ہوں، اس کے بدلے میں ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری اسلامی مملکت کی ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٤٩٠) (ضعیف) (سند میں ابوالبختری کا لقاء ” سلمان فارسی ؓ سے نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع ہے، نیز ” عطاء بن السائب “ اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے، لیکن قتال سے پہلے کفار کو مذکورہ تین باتوں کی پیشکش بریدہ ؓ کی حدیث سے ثابت ہے دیکھئے: الإرواء رقم ١٢٤٧ )
1549Sunan At-Tirmidhi

لڑائی سے پہلے اسلام کی دعوت دینا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْعَدَنِيُّ الْمَكِّيُّ وَيُكْنَى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ هُوَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ، عَنْ ابْنِ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ جَيْشًا أَوْ سَرِيَّةً يَقُولُ لَهُمْ: إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا، أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا، فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ.

عصام مزنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کوئی لشکر یا سریہ بھیجتے تو ان سے فرماتے: جب تم کوئی مسجد دیکھو یا مؤذن کی آواز سنو تو کسی کو نہ مارو ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Isam Muzani (RA) who had the honour of being a sahabi, narrated When Allah’s Messenger ﷺ sent an army anywhere, or a detachment, he would say to them, If you see a mosque or hear a mu’azzin then do not kill anyone. [Abu Dawud 2635, Ahmed 15714]

ضعيف، ضعيف أبي داود (454) // عندنا برقم (565 / 2635) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1549
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ ابن عیینہ سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب اسلام کی کوئی علامت اور نشانی نظر آ جائے تو اس وقت تک حملہ نہ کیا جائے جب تک مومن اور کافر کے درمیان فرق واضح نہ ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ١٠٠ (٢٦٣٥)، (تحفة الأشراف: ٩٩٠١) (ضعیف) (سند میں ” عبد الملک بن نوفل “ لین الحدیث، اور ” ابن عصام “ مجہول راوی ہیں )
1550Sunan At-Tirmidhi

شب خون مارنے اور حملہ کرنا۔

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ، أَتَاهَا لَيْلًا، وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَوْمًا بِلَيْلٍ، لَمْ يُغِرْ عَلَيْهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، خَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ، قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَافَقَ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ الْخَمِيسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ .

انس ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ خیبر روانہ ہوئے تو وہاں رات کو پہنچے، اور آپ جب بھی کسی قوم کے پاس رات کو پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہوجاتی اس پر حملہ نہیں کرتے ١ ؎، پھر جب صبح ہوگئی تو یہود اپنے پھاوڑے اور ٹوکریوں کے ساتھ نکلے، جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو کہا: محمد ہیں، اللہ کی قسم، محمد لشکر کے ہمراہ آ گئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اکبر! خیبر برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں اس وقت ڈرائے گئے لوگوں کی صبح، بڑی بری ہوتی ہے۔

Sayyidina Anas narrated : When Allah’s Messenger ﷺ left for Khaybar, he came to it at night. And, whenever he came to a people at night, he did not attack them till it was morning. When morning came, the Jews came out with their baskets and spades. When they saw him, they cried out, “Muhammad’ By Allah, Muhammad with his army.” So, Allah’s Messenger ﷺ said, “Allahu Akbar! Khaybar is ruined. When we descend on a people, (they) the awe-stricken people, encounter an evil morning.” [Bukhari 2965, Muslim 1365, Ahmed 11992]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1550
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ اذان سے یہ واضح ہوجائے گا کہ یہ مسلمانوں کی بستی ہے یا نہیں، چناچہ اگر اذان سنائی دیتی تو حملہ سے رک جاتے بصورت دیگر حملہ کرتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٠١ (٢٩٤٥)، والمغازي ٣٨ (٤١٩٧)، (وانظر أیضا: الصلاة ١٢ (٣٧١)، صحیح مسلم/النکاح ١٤ (١٣٦٥/٨٤)، والجہاد ٤٣ (١٢٠/١٣٦٥)، سنن النسائی/المواقیت ٢٦ (٥٤٨)، (تحفة الأشراف: ٧٣٤)، و مسند احمد (٣/١٠٢، ١٨٦، ٢٠٦، ٢٦٣) (صحیح )
1551Sunan At-Tirmidhi

شب خون مارنے اور حملہ کرنا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْأَبِي طَلْحَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ، أَقَامَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْغَارَةِ بِاللَّيْلِ وَأَنْ يُبَيِّتُوا، وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ، وقَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: لَا بَأْسَ أَنْ يُبَيَّتَ الْعَدُوُّ لَيْلًا، وَمَعْنَى قَوْلِهِ وَافَقَ مُحَمَّدٌ الْخَمِيسَ، يَعْنِي بِهِ: الْجَيْشَ.

ابوطلحہ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ کسی قوم پر غالب آتے تو ان کے میدان میں تین دن تک قیام کرتے۔

Sayyidina Abu Talhah (RA) reported that when the Prophet ﷺ conquered a people,. he stayed on their battlefield for three days. [Bukhari 3065]

صحيح، صحيح أبي داود (2414 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1551
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - حمید کی حدیث جو انس ؓ سے آئی ہے حسن صحیح ہے، ٣ - اہل علم کی ایک جماعت نے رات میں حملہ کرنے اور چھاپہ مارنے کی اجازت دی ہے، ٤ - بعض اہل علم اس کو مکروہ سمجھتے ہیں، ٥ - احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ رات میں دشمن پر چھاپہ مارنے میں کوئی حرج نہیں ہے، ٦ - «وافق محمد الخميس» میں «الخميس» سے مراد لشکر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٨٤ (٣٠٦٤)، والمغازي ٨ (٣٩٧٦)، سنن ابی داود/ الجہاد ١٣٢ (٢٦٩٥)، (تحفة الأشراف: ٣٧٧٠)، و مسند احمد (٤/٢٩)، وسنن الدارمی/السیر ٢٢ (٢٥٠٢) (صحیح )
1552Sunan At-Tirmidhi

کفار کے گھروں کو آگ لگانا اور برباد کرنا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ، وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ سورة الحشر آية 5 ، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا، وَلَمْ يَرَوْا بَأْسًا بِقَطْعِ الْأَشْجَارِ وَتَخْرِيبِ الْحُصُونِ، وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَنَهَى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ أَنْ يَقْطَعَ شَجَرًا مُثْمِرًا، أَوْ يُخَرِّبَ عَامِرًا، وَعَمِلَ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَهُ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا بَأْسَ بِالتَّحْرِيقِ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ وَقَطْعِ الْأَشْجَارِ وَالثِّمَارِ، وقَالَ أَحْمَدُ: وَقَدْ تَكُونُ فِي مَوَاضِعَ لَا يَجِدُونَ مِنْهُ بُدًّا، فَأَمَّا بِالْعَبَثِ، فَلَا تُحَرَّقْ، وقَالَ إِسْحَاق: التَّحْرِيقُ سُنَّةٌ إِذَا كَانَ أَنْكَى فِيهِمْ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت جلوا اور کٹوا دیئے ١ ؎، یہ مقام بویرہ کا واقعہ ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ما قطعتم من لينة أو ترکتموها قائمة علی أصولها فبإذن اللہ وليخزي الفاسقين» (مسلمانو! ) ، (یہود بنی نضیر کے) کھجوروں کے درخت جو کاٹ ڈالے ہیں یا ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا اور اپنے تنوں پر ہی ان کو کھڑا چھوڑ دیا تو یہ سب اللہ کے حکم سے تھا اور اللہ عزوجل کو منظور تھا کہ وہ نافرمانوں کو ذلیل کرے (الحشر: ٥ ) ۔

Sayyidina lbn Umar reported that Allah’s Messenger had the palm trees of Banu Nadir burned and cut down. They we were at Buwayrah. So, Allah revealed the verse: {Whatsoever palm-trees you cut down, or left standing upon their roots, it was by Allah’s leave, in order that. He might abase the transgressors[. (59:5) [Bukhari 4031, Muslim 1746, Ibn e Majah 2844]

صحيح، ابن ماجة (2844)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1552
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، وہ درخت کاٹنے اور قلعے ویران کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں، ٤ - بعض اہل علم اس کو مکروہ سمجھتے ہیں، اوزاعی کا یہی قول ہے، ٥ - اوزاعی کہتے ہیں: ابوبکر صدیق ؓ نے یزید کو پھل دار درخت کاٹنے اور مکان ویران کرنے سے منع کیا، ان کے بعد مسلمانوں نے اسی پر عمل کیا، ٦ - شافعی کہتے ہیں: دشمن کے ملک میں آگ لگانے، درخت اور پھل کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے ٢ ؎۔ ٧ - احمد کہتے ہیں: اسلامی لشکر کبھی کبھی ایسی جگہ ہوتا ہے جہاں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا، لیکن بلا ضرورت آگ نہ لگائی جائے، ٨ - اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: آگ لگانا سنت ہے، جب یہ کافروں کی ہار و رسوائی کا باعث ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنگی ضرورت کی بنا پر پھلدار درختوں کو جلوانا اور کٹوانا جائز ہے، لیکن بلا ضرورت عام حالات میں انہیں کاٹنے سے بچنا چاہیئے۔ ٢ ؎: یعنی جب اسلامی لشکر کے لیے کچھ ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ درختوں کے جلانے اور مکانوں کے ویران کرنے کے سوا ان کے لیے دوسرا کوئی راستہ نہ ہو تو ایسی صورت میں ایسا کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المزارعة ٤ (٢٣٥٦)، والجہاد ١٥٤ (٣٠٢٠)، والمغازي ١٤ (٣٩٦٠)، صحیح مسلم/الجہاد ١٠ (١٧٤٦)، سنن ابی داود/ الجہاد ٩١ (٢٦١٥)، سنن ابن ماجہ/الجہاد (٢٨٤٤)، (تحفة الأشراف: ٨٢٦٧)، سنن الدارمی/السیر ٢٣ (٢٥٠٣) (صحیح )
1553Sunan At-Tirmidhi

مال غنیمت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَنِي عَلَى الْأَنْبِيَاءِ، أَوْ قَالَ: أُمَّتِي عَلَى الْأُمَمِ، وَأَحَلَّ لِيَ الْغَنَائِمَ ، وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي مُوسَى، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَسَيَّارٌ هَذَا يُقَالُ لَهُ: سَيَّارٌ مَوْلَى بَنِي مُعَاوِيَةَ، وَرَوَى عَنْهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ.

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے انبیاء و رسل پر فضیلت بخشی ہے (یا آپ نے یہ فرمایا: میری امت کو دوسری امتوں پر فضیلت بخشی ہے، اور ہمارے لیے مال غنیمت کو حلال کیا ہے ۔

Sayyidina Abu Umamah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, Surely, Allah excelled me over the Prophets ﷺ or he said, “My ummah over all people, and made the booty lawful for us.” [Ahmed 9348]

صحيح، المشکاة (4001 / التحقيق الثاني)، الإرواء (152 - 285)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1553
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوامامہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، ابوذر، عبداللہ بن عمرو، ابوموسیٰ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٨٧٧) (صحیح )
1554Sunan At-Tirmidhi

گھوڑے کے حصے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَسَمَ فِي النَّفَلِ لِلْفَرَسِ بِسَهْمَيْنِ، وَلِلرَّجُلِ بِسَهْمٍ .

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت کی تقسیم میں گھوڑے کو دو حصے اور آدمی (سوار) کو ایک حصہ دیا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ divided the spoils by alloting two shares to a horse and one to a man. [Muslim 1762]

صحيح، ابن ماجة (2854)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1554
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی گھوڑ سوار کو تین حصے دئے گئے، ایک حصہ اس کا اور دو حصے اس کے گھوڑے کے، گھوڑے کا حصہ اس لیے زیادہ رکھا گیا کہ اس کی خوراک اور اس کی دیکھ بھال پر کافی خرچ ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٥١ (٢٨٦٣)، والمغازي ٣٨ (٤٢٢٨)، صحیح مسلم/الجہاد ١٧ (١٧٦٢)، سنن ابی داود/ الجہاد ١٥٤ (٢٧٢٣)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٣٦ (٢٨٥٤)، (تحفة الأشراف: ٧٩٠٧)، و مسند احمد (٢/٢، ٦٢، ٧٢، ٨٠)، سنن الدارمی/السیر ٣٣ (٢٥١٥) (صحیح )
1555Sunan At-Tirmidhi

لشکر کے متعلق۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، وَأَبُو عَمَّارٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، وَلَا يُغْلَبُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا يُسْنِدُهُ كَبِيرُ أَحَدٍ غَيْرُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَقَدْ رَوَاهُ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَنَزِيُّ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہترین ساتھی وہ ہیں جن کی تعداد چار ہو، اور سب سے بہتر سریہ وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو، اور سب سے بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو اور بارہ ہزار اسلامی فوج قلت تعداد کے باعث مغلوب نہیں ہوگی ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The best number of sahabah is four, the best number of men in expedition is four hundred, the best number of men in armies is four thousand, and twelve thousand will not be defeated because of poor numbers.” [Ahmed 2682, Abu Dawud 2611]

صحيح، الصحيحة (986)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1555
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - جریر بن حازم کے سوا کسی بڑے محدث سے یہ حدیث مسنداً مروی نہیں، زہری نے اسے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، ٤ - اس حدیث کو حبان بن علی عنزی بسند «عقيل عن الزهري عن عبيد اللہ بن عبد اللہ عن ابن عباس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، نیز اسے لیث بن سعد نے بسند «عقيل عن الزهري عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرسلاً روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «سرایا» جمع ہے سریہ کی، «سریہ» اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ ذاتی طور پر شریک نہ رہے ہوں، یہ بڑے لشکر کا ایک حصہ ہوتا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ چار سو فوجی ہوتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ٨٩ (٢٦١١)، سنن ابن ماجہ/السرایا (٢٧٢٨)، (تحفة الأشراف: ٤٨٤٨)، وسنن الدارمی/السیر ٤ (٢٤٨٢) (ضعیف) (اس حدیث کا ” عن الزہري عن النبي ﷺ “ مرسل ہونا ہی صحیح ہے، نیز یہ آیت ربانی { وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّئَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُواْ مِئَتَيْنِ } (الأنفال: 66) کے بھی مخالف ہے، دیکھئے: الصحیحة رقم ٩٨٦، تراجع الالبانی ١٥٢ )
1556Sunan At-Tirmidhi

مال غنیمت میں کس کس کو حصہ دیا جائے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ، كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ، كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ ؟ وَكَانَ يَغْزُو بِهِنَّ، فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى، وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَأَمَّا بِسَهْمٍ، فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ بِسَهْمٍ ، وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَأُمِّ عَطِيَّةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: يُسْهَمُ لِلْمَرْأَةِ وَالصَّبِيِّ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَأَسْهَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصِّبْيَانِ بِخَيْبَرَ، وَأَسْهَمَتْ أَئِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ لِكُلِّ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَأَسْهَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ بِخَيْبَرَ، وَأَخَذَ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَهُ ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، بِهَذَا، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، يَقُولُ: يُرْضَخُ لَهُنَّ بِشَيْءٍ مِنَ الْغَنِيمَةِ، يُعْطَيْنَ شَيْئًا.

یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ بن عامر حروری نے ابن عباس ؓ کے پاس یہ سوال لکھ کر بھیجا کیا رسول اللہ ﷺ عورتوں کو ساتھ لے کر جہاد کرتے تھے؟ اور کیا آپ ان کے لیے مال غنیمت سے حصہ بھی مقرر فرماتے تھے؟ ابن عباس ؓ نے ان کو جواب میں لکھا: تم نے میرے پاس یہ سوال لکھا ہے: کیا رسول اللہ ﷺ عورتوں کو ساتھ لے کر جہاد کرتے تھے؟ ١ ؎ ہاں، آپ ان کے ہمراہ جہاد کرتے تھے، وہ بیماروں کا علاج کرتی تھیں اور مال غنیمت سے ان کو (بطور انعام) کچھ دیا جاتا تھا، رہ گئی حصہ کی بات تو آپ نے ان کے لیے حصہ نہیں مقرر کیا۔

Yazid ibn Hurmuz narrated : Najdah Hururi wrote to Sayyidina ibn Abbas (RA) asking him whether Allahs Messenger ﷺ took women along to battles and did he give them a share in the booty. So, Sayyidina Ibn Abbas (RA) wrote to him: You have wrote to me asking if Allah’s Messenger ﷺ took women along in battles. Yes, he did take them with him and they attended to the sick. They were presented from the booty (as reward). As for a share, he did not fix any share for them. [Muslim 1812]

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس اور ام عطیہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ٣- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، بعض لوگ کہتے ہیں: عورت اور بچہ کو بھی حصہ دیا جائے گا، اوزاعی کا یہی قول ہے، ٤-
1557Sunan At-Tirmidhi

کیا غلام کو بھی حصہ دیا جائے گا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي، فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَلَّمُوهُ أَنِّي مَمْلُوكٌ، قَالَ: فَأَمَرَ بِي، فَقُلِّدْتُ السَّيْفَ، فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ، فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ رُقْيَةً كُنْتُ أَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ، فَأَمَرَنِي بِطَرْحِ بَعْضِهَا وَحَبْسِ بَعْضِهَا ، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، لَا يُسْهَمُ لِلْمَمْلُوكِ، وَلَكِنْ يُرْضَخُ لَهُ بِشَيْءٍ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

عمیر مولیٰ ابی اللحم ؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے مالکان کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک ہوا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے میرے سلسلے میں گفتگو کی اور آپ کو بتایا کہ میں غلام ہوں، چناچہ آپ نے حکم دیا اور میرے جسم پر تلوار لٹکا دی گئی، میں (کوتاہ قامت ہونے اور تلوار کے بڑی ہونے کے سبب) اسے گھسیٹتا تھا، آپ نے میرے لیے مال غنیمت سے کچھ سامان دینے کا حکم دیا، میں نے آپ کے سامنے وہ دم، جھاڑ پھونک پیش کیا جس سے میں دیوانوں کو جھاڑ پھونک کرتا تھا، آپ نے مجھے اس کا کچھ حصہ چھوڑ دینے اور کچھ یاد رکھنے کا حکم دیا ١ ؎۔

The freed slave of Abu Lahm, Umayr narrated: I participated in the Khayhar war with my masters. They spoke about me to Allah’s Messenger saying that I was a slave. He gave command about me and a sword was hung over me and I trailed it (being) short-statured). He ordered that I should be given some household items from the booty. Then I presented to him a spell that I used to chant over the insane and blow on them. He ordered me to discard some of it and retain some of it. [Abu Dawud 2730]

صحيح، صحيح أبي داود (2440 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1557
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ غلام کو حصہ نہیں ملے گا البتہ عطیہ کے طور پر اسے کچھ دیا جائے گا، ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو حصہ قرآن و حدیث کے خلاف تھا اسے چھوڑ دینے اور شرک سے خالی کلمات کو باقی رکھنے کو کہا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ١٥٢ (٢٧٣٠)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٣٧ (٢٨٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٩٨)، وسنن الدارمی/السیر ٣٥ (٢٥١٨) (صحیح )
1558Sunan At-Tirmidhi

جہاد میں شریک ذمی کے لئے حصہ۔

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ، لَحِقَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَذْكُرُ مِنْهُ جُرْأَةً وَنَجْدَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَسْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ ، قَالَ: لَا، قَالَ: ارْجِعْ، فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ ، وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: لَا يُسْهَمُ لِأَهْلِ الذِّمَّةِ وَإِنْ قَاتَلُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ الْعَدُوَّ، وَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنْ يُسْهَمَ لَهُمْ إِذَا شَهِدُوا الْقِتَالَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ. (حديث مرفوع)

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بدر کے لیے نکلے، جب آپ حرۃ الوبرہ ١ ؎ پہنچے تو آپ کے ساتھ ایک مشرک ہو لیا جس کی جرات و دلیری مشہور تھی نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا: تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں، آپ نے فرمایا: لوٹ جاؤ، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا ٢ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ went out to Badr till he was at Harat ul-Wabr and a man met him. He was one of the idolators and known for his bravery. The Prophet ﷺ asked him, ‘Do you believe in Allah and his Messenger ﷺ ?“ He said, ‘No’ So, he said, ‘Go away, for. I do not seek help of an idolator.” There are more words than in the hadith. [Ahmed 25212, Muslim 1817]

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- حدیث میں اس سے بھی زیادہ کچھ تفصیل ہے، ٢- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٣- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ ذمی کو مال غنیمت سے حصہ نہیں ملے گا اگرچہ وہ مسلمانوں کے ہمراہ دشمن سے جنگ کریں، ٤- کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ جب ذمی مسلمانوں کے ہمراہ جنگ میں شریک ہوں تو ان کو حصہ دیا جائے گا، ٥-
1559Sunan At-Tirmidhi

جہاد میں شریک ذمی کے لئے حصہ۔

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْأَبِي مُوسَى، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ خَيْبَرَ، فَأَسْهَمَ لَنَا مَعَ الَّذِينَ افْتَتَحُوهَا ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: مَنْ لَحِقَ بِالْمُسْلِمِينَ قَبْلَ أَنْ يُسْهَمَ لِلْخَيْلِ، أُسْهِمَ لَهُ، وَبُرَيْدٌ يُكْنَى أَبَا بُرَيْدَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَرَوَى عَنْهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَغَيْرُهُمَا.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں اشعری قبیلہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس خیبر آیا، جن لوگوں نے خیبر فتح کیا تھا آپ نے ان کے ساتھ ہمارے لیے بھی حصہ مقرر کیا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Musa (RA) narrated: I came to Allah’s Messenger ﷺ with a number of Ash’aris at Khaybar. So, he gave us share alongwith those who had conquered it. [Bukhari 4223, Abu Dawud 2725]

صحيح، صحيح أبي داود (2436)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1559
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اوزاعی کہتے ہیں: گھوڑے کے لیے حصہ مقرر کرنے سے پہلے جو مسلمانوں کے ساتھ مل جائے، اس کو حصہ دیا جائے گا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض لوگ کہتے ہیں کہ مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اور فتح حاصل ہونے کے بعد جو پہنچے اسے بھی حصہ دیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فرض الخمس ١٥ (٣١٣٦)، والمناقب ٣٧ (٣٨٧٦)، والمغازي ٣٨ (٤٢٣٠)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤١ (٢٥٠٢)، سنن ابی داود/ الجہاد ١٥١ (٢٧٢٥)، (تحفة الأشراف: ٩٠٤٩) (صحیح )
1560Sunan At-Tirmidhi

مشرکین کے برتن استعمال کرنا۔

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قُدُورِ الْمَجُوسِ ؟ فَقَالَ: أَنْقُوهَا غَسْلًا وَاطْبُخُوا فِيهَا، وَنَهَى عَنْ كُلِّ سَبُعٍ وَذِي نَابٍ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، وَرَوَاهُ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، وَأَبُو قِلَابَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ.

ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے مجوس کی ہانڈیوں کے بارے میں سوال کیا گیا ١ ؎ تو آپ نے فرمایا: ان کو دھو کر صاف کرلو اور ان میں پکاؤ، اور آپ نے ہر درندے اور کچلی والے جانور کو کھانے سے منع فرمایا ۔

Sayyidina Abu Tha’labah Khushani reported that Allah’s Messenger was asked about the vessels of the Majusis (Magians). He said, “Wash them and cook in them. And he disallowed every carnivorous beast with fangs.

صحيح، ابن ماجة (3207 - 3232)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1560
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابوثعلبہ ؓ سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٢ - ابوادریس خولانی نے بھی اس کو ابوثعلبہ سے روایت کیا ہے، لیکن ابوقلابہ کا سماع ابوثعلبہ سے ثابت نہیں ہے، انہوں نے ابواسماء کے واسطے سے ابوثعلبہ سے اس کی روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کہ ان کا استعمال کرنا اور ان میں پکانا کھانا درست ہے یا نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٤٦٤ (صحیح )
1778Sunan At-Tirmidhi(1797)

مشرکین کے برتن استعمال کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ،وَقَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَنَطْبُخُ فِي قُدُورِهِمْ وَنَشْرَبُ فِي آنِيَتِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ فَكَيْفَ نَصْنَعُ قَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ فَكُلْ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُكَلَّبٍ فَذُكِّيَ فَكُلْ وَإِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ فَكُلْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ اہل کتاب کی سر زمین میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں کھانا پکائیں اور ان کے برتنوں میں پانی پئیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی برتن نہ مل سکے تو اسے پانی سے دھو لو ، پھر انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم شکار والی سر زمین میں رہتے ہیں کیسے کریں؟ آپ نے فرمایا: جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا روانہ کرو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر وہ شکار مار ڈالے تو اسے کھاؤ، اور اگر کتا سدھایا ہوا نہ ہو اور شکار ذبح کردیا جائے تو اسے کھاؤ اور جب تم تیر مارو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر اس سے شکار ہوجائے تو اسے کھاؤ۔

صحيح، ابن ماجة (3207)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1797
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٤٦٤ و ١٥٦٠ (صحیح )
1561Sunan At-Tirmidhi

نفل کے متعلق۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُنَفِّلُ فِي الْبَدْأَةِ الرُّبُعَ، وَفِي الْقُفُولِ الثُّلُثَ ، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَمَعْنِ بْنِ يَزِيدَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سریہ کے شروع میں جانے پر چوتھائی حصہ اور لڑائی سے لوٹتے وقت دوبارہ جانے پر تہائی حصہ زائد بطور انعام (نفل) دیتے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Ubadahh ibn Samit reported that the Prophet ﷺ used to distribute one fourth of the (nafl) spoils of war in the beginning and one-third at the time of departure. [Ibn e Majah 2852, Ahmed 22789]

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1561
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عبادہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢ - یہ حدیث ابوسلام سے مروی ہے، انہوں نے ایک صحابی سے اس کی روایت کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کی ہے، ٣ - اس باب میں ابن عباس، حبیب بن مسلمہ، معن بن یزید، ابن عمر اور سلمہ بن الاکوع ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ لڑائی سے واپس آنے کے بعد پھر واپس جہاد کے لیے جانا مشکل کام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجہاد ٣٥ (٢٨٥٢)، (تحفة الأشراف: ٥٠٩١) (صحیح) (سند میں ” عبدالرحمن “ اور سلیمان اموی کے حافظہ میں کمزوری ہے، مگر حبیب بن مسلمہ ؓ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، دیکھئے: صحیح أبی داود رقم ٢٤٥٥ )
1562Sunan At-Tirmidhi

جو شخص کسی کافر کو قتل کرے اس سامان اسی کے لئے ہے۔

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ، فَلَهُ سَلَبُهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ،

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی کافر کو قتل کرے اور اس کے پاس گواہ موجود ہو تو مقتول کا سامان اسی کا ہوگا ۔

Savyidina Abu Qatadah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone kills a disbeliever and has a witness then for him is the slain mans possession.’ The hadith relates an account thereafter. (Bukhari 3142, Muslim 1751]

صحيح، الإرواء (5 / 52 - 53)، صحيح أبي داود (243)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1562
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
حدیث میں ایک قصہ مذکور ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ قصہ صحیح البخاری کی حدیث ٣١٤٣ ، ٤٣٢٢ اور صحیح مسلم کی حدیث ١٧٥١ میں دیکھا جاسکتا ہے، واقعہ دلچسپ ہے ضرور مطالعہ کریں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٣٧ (٢١٠٠)، والخمس ١٨ (٣١٤٢)، والمغازي ٥٤ (٤٣٢١)، والأحکام ٢١ (٧١٧٠)، صحیح مسلم/الجہاد ١٣ (١٥٧١)، سنن ابی داود/ الجہاد ١٤٧)، (٢٧١٧)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢٩ (٢٨٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٢١٣٢)، وط/الجہاد ١٠ (١٨)، سنن الدارمی/السیر ٤٤ (٢٥٢٨) (صحیح )
1563Sunan At-Tirmidhi

تقسیم سے پہلے مال غنیمت کی چیزیں فروخت کرنا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَهْضَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْشَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ ، وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تقسیم سے پہلے مال غنیمت کی خرید و فروخت سے منع فرمایا۔

SayyidinaAbu SaeedKhudri reported that Allahs Messenger ﷺ forbade sale of the spoils till they were distributed. [Ibn e Majah 2196, Ahmed 11377]

صحيح، المشکاة (4015 - 4016 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1563
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٤ (٢١٩٦)، (فی سیاق الحول من ذلک) (تحفة الأشراف: ٤٠٧٣) (ضعیف) (سند میں ” محمد بن ابراہیم الباہلی، اور ” محمد بن زید العبدی “ دونوں مجہول راوی ہیں، اور ” جہضم “ میں کلام ہے )
1564Sunan At-Tirmidhi

قید ہونے والی حاملہ عورتوں سے پیدائش سے پہلے صحبت کرنے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، عَنْ وَهْبٍ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، أَنَّ أَبَاهَا أَخْبَرَهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى أَنْ تُوطَأَ السَّبَايَا حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ، وَحَدِيثُ عِرْبَاضٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: إِذَا اشْتَرَى الرَّجُلُ الْجَارِيَةَ مِنَ السَّبْيِ وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ: لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَأَمَّا الْحَرَائِرُ، فَقَدْ مَضَتِ السُّنَّةُ فِيهِنَّ بِأَنْ أُمِرْنَ بِالْعِدَّةِ، حَدَّثَنِي بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.

عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (حاملہ) قیدی عورتوں سے جماع کرنے سے منع فرمایا جب تک کہ وہ اپنے پیٹ میں موجود بچوں کو جن نہ دیں ١ ؎۔

Sayyidina Irbad ibn Sariyah (RA) reported that Allah s Messenger I disallowed sexual intercourse with pregnant captive women till they had delivered their children

صحيح انظر الحديث (1474) // هذا رقم الدع اس، وهو عندنا برقم (1191 - 1517) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1564
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عرباض ؓ کی حدیث غریب ہے، ٢ - اس باب میں رویفع بن ثابت ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اوزاعی کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص قیدی عورتوں میں سے لونڈی خریدے اور وہ حاملہ ہو تو اس سلسلے میں عمر بن خطاب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حاملہ جب تک بچہ نہ جنے اس سے وطی نہیں کی جائے گی، ٤ - اوزاعی کہتے ہیں: آزاد عورتوں کے سلسلے میں تو یہ سنت چلی آرہی ہے کہ ان کو عدت گزارنے کا حکم دیا گیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنگ میں جو عورتیں گرفتار ہوجائیں گرفتاری سے ہی ان کا پچھلا نکاح ٹوٹ جاتا ہے، حمل سے ہوں تو وضع حمل کے بعد اور اگر غیر حاملہ ہوں تو ایک ماہواری کے بعد ان سے جماع کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ وہ تقسیم کے بعد اس کے حصہ میں آئی ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وتقدم برقم ١٤٧٤ (تحفة الأشراف: ٩٨٩٣) (صحیح) (سند میں ” ام حبیبہ “ مجہول ہیں مگر شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
1565Sunan At-Tirmidhi

مشرکین کا کھانے کے حکم۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، أَخْبَرَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، قَال: سَمِعْتُ قَبِيصَةَ بْنَ هُلْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ طَعَامِ النَّصَارَى ؟ فَقَالَ: لَا يَتَخَلَّجَنَّ فِي صَدْرِكَ طَعَامٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. سَمِعْت مَحْمُودًا، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى: عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَبِيصَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ. حدیث نمبر: 1565 mm قَالَ مَحْمُودٌ: وَقَالَ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ: عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُرَيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي طَعَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ.

ہلب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے نصاریٰ کے کھانا کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: کوئی کھانا تمہارے دل میں شک نہ پیدا کرے کہ اس کے سلسلہ میں نصرانیت سے تمہاری مشابہت ہوجائے ١ ؎۔

Qabisah reported from his father that he said: I asked the Prophet ﷺ about the food of the Christians. He said, Let not food that resembles Christianity create doubt in your breasts. [Ahmed 18290, Abu Dawud 3784, Ibn e Majah 2830]

حسن، ابن ماجة (2830) حسن، ابن ماجة (2830) حسن، ابن ماجة (2830)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1565 اس سند سے بھی ہلب ؓ سے اسی کے مثل حدیث مروی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1565 اس سند سے عدی بن حاتم ؓ سے بھی اس جیسی حدیث مروی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1565
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔ اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ اہل کتاب کے کھانے کے سلسلے میں رخصت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ ملت اسلامیہ ملت ابراہیمی سے تعلق رکھتی ہے اس لیے کھانے سے متعلق زیادہ شک میں پڑنا اپنے آپ کو اس رہبانیت سے قریب کرنا ہے جو نصاریٰ کا دین ہے، لہٰذا اس سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ امام ترمذی نے اس باب میں مشرکین کے کھانے کا ذکر کیا ہے، جب کہ حدیث میں مشرکین کا سرے سے ذکر ہی نہیں ہے، حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام ترمذی نے مشرکین سے اہل کتاب کو مراد لیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٤ (٣٧٨٤)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢٦ (٢٨٠)، (تحفة الأشراف: ١١٧٣٤)، و مسند احمد (٥/٢٢٦) (حسن ) انظر ما قبلہ (حسن ) تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٨٧٦) (حسن) (سند میں ” مری بن قطری “ لین الحدیث ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی حسن لغیرہ ہے )
1566Sunan At-Tirmidhi

قیدیوں کے درمیان تفریق کرنا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ الشَّيْبَانِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا، فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، كَرِهُوا التَّفْرِيقَ بَيْنَ السَّبْيِ، بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا، وَبَيْنَ الْوَلَدِ وَالْوَالِدِ، وَبَيْنَ الْإِخْوَةِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: قَدْ سَمِعْتُ البُخَارِيَّ، يَقُولُ: سَمِعَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ.

ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے ماں اور اس کے بچہ کے درمیان جدائی پیدا کی، اللہ قیامت کے دن اسے اس کے دوستوں سے جدا کر دے گا ۔

Sayyidina Abu Ayyub reported that Allah’s Messenger ﷺ said, If anyone separates mother from her child then Allah will separate him on the Day of Resurrection from his dear ones. [Ahmed 23558]

حسن، المشکاة (3361)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1566
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں علی ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، وہ لوگ قیدیوں میں ماں اور بچے کے درمیان، باپ اور بچے کے درمیان اور بھائیوں کے درمیان جدائی کو ناپسند سمجھتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٤٦٨)، وانظر: مسند احمد (٥/٤١٣، ٤١٤)، سنن الدارمی/السیر ٣٩ (حسن )