عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بہن نے نذر مانی ہے کہ وہ چادر اوڑھے بغیر ننگے پاؤں چل کر خانہ کعبہ تک جائے گی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سخت کوشی پر کچھ نہیں کرے گا! ١ ؎ اسے چاہیئے کہ وہ سوار ہوجائے، چادر اوڑھ لے اور تین دن کے روزے رکھے ٢ ؎۔
Sayyidina Uqbahibn Aamir (RA)narrated : I said, O Messenger of Allah, my sister had vowed that she would walk up to Bayt Allah (House of Allah) bare footed and without a covering cloak.” The Prophet ﷺ said, “Allah has nothing to do with the hardship enforced on herself by your sister. Let her ride and cover herself and keep fast for three days.” [Abu Dawud 3293, Nisai 3824, Ibn e Majah 2134, Ahmed 17292]
ضعيف، ابن ماجة (2134)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1544
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس مشقت کا کوئی ثواب اسے نہیں دے گا۔ ٢ ؎: اس حدیث کی رو سے اگر کسی نے بیت اللہ شریف کی طرف پیدل یا ننگے پاؤں چل کر جانے کی نذر مانی ہو تو ایسی نذر کا پورا کرنا ضروری اور لازم نہیں، اور اگر کسی عورت نے ننگے سر جانے کی نذر مانی ہو تو اس کو تو پوری ہی نہیں کرنی ہے کیونکہ یہ معصیت اور گناہ کا کام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأیمان ٢٣ (٣٢٩٣، ٣٢٩٩٤)، سنن النسائی/الأیمان ٣٣ (٣٨٤٥)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢٠ (٢١٣٤)، (تحفة الأشراف: ٩٩٣٠)، و مسند احمد (٤/١٤٣، ١٤٥، ١٤٩، ١٥١)، سنن الدارمی/النذور ٢ (٢٣٧٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبیداللہ بن زحر “ سخت ضعیف ہیں، اس میں ” روزہ والی بات “ ضعیف ہے، باقی ٹکڑوں کے صحیح شواہد موجود ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جس نے قسم کھائی اور اپنی قسم میں کہا: لات اور عزیٰ کی قسم ہے! وہ «لا إله إلا الله» کہے اور جس شخص نے کہا: آؤ جوا کھیلیں وہ صدقہ کرے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) repdrted that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone of you swears and says, By Laat and Uzza’ then let him say, i (There is no god but Allah). And if anyone invites another to gambling then let him give sadaqah.” [Bukhari 6650, Muslim 1647]
صحيح، ابن ماجة (2096)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1545
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة النجم ٢ (٤٨٦٠)، والأدب ٧٤ (٦١٠٧)، والاستئذان ٥٢ (٦٣٠١)، والأیمان ٥ (٦٦٥٠)، صحیح مسلم/الأیمان ٢ (١٦٤٨)، سنن ابی داود/ الأیمان ٤ (٣٢٤٧)، سنن النسائی/الأیمان ١١ (٣٧٨٤)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢ (٢٠٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٧٦)، و مسند احمد (٢/٣٠٩) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر کے بارے جو ان کی ماں پر واجب تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے وہ مرگئیں، فتویٰ پوچھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ان کی طرف سے نذر تم پوری کرو ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Sayyidina Sa’d ibn Ubadahh asked Allah’s Messenger ﷺ about a vow his mother had made but she died before she could fulfil it. The Prophet ﷺ said, “Fulfill it on her behalf.” [Bukhari 2761, Muslim 1638]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1546
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: میت کے واجب حقوق کو پورا کرنا اس کے وارثوں کے ذمہ واجب ہے، اس کے لیے میت کی طرف سے اسے پوری کرنے کی وصیت ضروری نہیں، ورثاء کو اپنی ذمہ داری کا خود احساس ہونا چاہیئے، اور ورثاء میں سے اسے پورا کرنے کی زیادہ ذمہ داری اولاد پر ہے، اگر نذر کا تعلق مال سے ہے تو اسے پوری کرنا مستحب ہے۔
ابوامامہ ؓ اور دوسرے صحابہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو مسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرے گا، تو یہ آزاد کرنا اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہوگا، اس آزاد کیے گئے مرد کا ہر عضو اس آزاد کرنے والے کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا، جو مسلمان دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرے گا، تو یہ دونوں اس کے لیے جہنم سے خلاصی کا باعث ہوں گی، ان دونوں آزاد عورتوں کا ہر عضو اس کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا، جو مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرے گی، تو یہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہوگی، اس آزاد کی گئی عورت کا ہر عضو اس آزاد کرنے والے کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا ۔
Sayyidina Abu Umamah and some other sahabah (RA) reported that Allah’s Messenger I said, ‘If any Muslim sets a Muslim slave free then against every limb of the slave, a limb of his will be set free from the fire. And, if a Muslim sets two Muslim slavewomen free then a limb of his will be set free against each of their limbs. And, if a Muslim woman sets a Muslim woman free then against each of her limbs a limb of her will be set free.” [Ahmed 10805]
صحيح، ابن ماجة (2522)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1547
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یہ حدیث دلیل ہے کہ مردوں کے لیے مرد آزاد کرنا عورت کے آزاد کرنے سے افضل ہے، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا وہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہوگا، اس آزاد کئے گئے مرد کا ہر عضو اس کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا ۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی جو اپنی سندوں کے اعتبار سے صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٨٦٤) (صحیح) وأما حدیث غیرہ من أصحاب النبی ﷺ فأخرجہ من حدیث أبي نجیح السلمي (عمرو بن عبیسة)، سنن ابی داود/ العتق ١٤ (٣٩٦٥، ٣٩٦٦)، و مسند احمد (٤/١١٣، ٣٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٥٥ و ١٠٧٧٢) ومن حدیث کعب بن مرة: د (برقم ٣٩٦٧)، و ن (رقم ٣١٤٢) و سنن ابن ماجہ/العتق ٤ (٢٥٢٢)، و مسند احمد (٤/٢٣٤، ٢٣٥، ٣٢١) (تحفة الأشراف: ١١١٦٣ )