ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول اللہ ﷺ ہماری طرف نکلے، اس وقت ہم سب تقدیر کے مسئلہ میں بحث و مباحثہ کر رہے تھے، آپ غصہ ہوگئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور ایسا نظر آنے لگا گویا آپ کے گالوں پر انار کے دانے نچوڑ دئیے گئے ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے، یا میں اسی واسطے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں؟ بیشک تم سے پہلی امتیں ہلاک ہوگئیں جب انہوں نے اس مسئلہ میں بحث و مباحثہ کیا، میں تمہیں قسم دلاتا ہوں کہ اس مسئلہ میں بحث و مباحثہ نہ کرو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ came to us while we were debating about Divine decree. He became angry and his face turned so red as if pomegranate seed had been cracked open on his face. He asked us, “Is this what, you are commanded to do? Or, is this with which I was sent to you? Indeed, those before you perished only because they debated on this subject. I call upon you to assure me that you will not debate on it ever.”
حسن، المشکاة (98 و 99)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2133
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے اس سند سے صرف صالح مری کی روایت سے جانتے ہیں اور صالح مری کے بہت سارے غرائب ہیں جن کی روایت میں وہ منفرد ہیں، کوئی ان کی متابعت نہیں کرتا۔ ٣ - اس باب میں عمر، عائشہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے، یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ بندوں کے اچھے اور برے اعمال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور ان کا ظہور اللہ کے قضاء و قدر اور اس کے ارادے و مشیئت پر ہے، اور اس کا علم اللہ کو پوری طرح ہے، لیکن ان امور کا صدور خود بندے کے اپنے اختیار سے ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اچھے اعمال کو پسند کرتا ہے، اور برے اعمال کو ناپسند کرتا ہے، اور اسی اختیار کی بنیاد پر جزا و سزا دیتا ہے، تقدیر کے مسئلہ میں عقل سے غور و خوض اور بحث و مباحثہ جائز نہیں، کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا گمراہی کا خطرہ ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آدم اور موسیٰ نے باہم مناظرہ کیا، موسیٰ نے کہا: آدم! آپ وہی تو ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی ١ ؎ پھر آپ نے لوگوں کو گمراہ کیا اور ان کو جنت سے نکالا؟ آدم نے اس کے جواب میں کہا: آپ وہی موسیٰ ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے گفتگو کرنے کے لیے منتخب کیا، کیا آپ میرے ایسے کام پر مجھے ملامت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے پہلے میرے اوپر لازم کردیا تھا؟، آدم موسیٰ سے دلیل میں جیت گئے ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ narrated: Adam and Musa disputed with one another. Musa said, “O Adam! You are the one whom Allah created with His own hand. He blew into you His spirit, but you misled the people and drove them out of Paradise.” So, Adam said to him, “You are Musa! Allah chose you for direct conversation with Him. You blame me for something that I did which Allah had recorded against me even before He had created the heavens and earth.” So, Adam out-debated Musa. [Ahmed 7638, Bukhari 3409, Muslim 2652] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (80)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2134
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یہ حدیث اس سند سے یعنی سلیمان تیمی کی روایت سے جسے وہ اعمش سے روایت کرتے ہیں، ٣ - اعمش کے بعض شاگردوں نے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ اور بعض نے اس کی سند یوں بیان کی ہے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم»، ٤ - کئی اور سندوں سے یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے، ٥ - اس باب میں عمر اور جندب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ روح جو اللہ کی پیدا کردہ ہے، اور جس کا ہر ذی روح حاجت مند ہے۔ ٢ ؎: صحیح مسلم میں اس کی تصریح ہے کہ آدم اور موسیٰ کا یہ مباحثہ اللہ رب العالمین کے سامنے ہوا۔ «واللہ اعلم »
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/احادیث الأنبیاء ٣١ (٣٤٠٩)، وتفسیر طہ ١ (٤٧٣٦)، و ٢ (٤٧٣٨)، و القدر ١١ (٦٦٤١)، والتوحید ٣٧ (٧٥١٥)، صحیح مسلم/القدر ٢ (٢٦٥٢)، سنن ابی داود/ السنة ١٧ (٤٧٠١)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٠ (٨٠) (تحفة الأشراف: ١٢٣٨٩)، و موطا امام مالک/القدر ١ (١)، و مسند احمد (٢/٢٤٨، ٢٦٨، ٣٩٨) (صحیح )
عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو عمل ہم کرتے ہیں اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، وہ نیا شروع ہونے والا امر ہے یا ایسا امر ہے جس سے فراغت ہوچکی ہے؟ ١ ؎ آپ نے فرمایا: ابن خطاب! وہ ایسا امر ہے جس سے فراغت ہوچکی ہے، اور ہر آدمی کے لیے وہ امر آسان کردیا گیا ہے (جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے) ، چناچہ جو آدمی سعادت مندوں میں سے ہے وہ سعادت والا کام کرتا ہے اور جو بدبختوں میں سے ہے وہ بدبختی والا کام کرتا ہے ۔
Sayyidina Umar (RA) asked, “O Messenger of Allah! ﷺ These deeds that we do are they abrupt and instant or pre-determined which we have accomplished?’ He said, ‘They are pre-determined and accomplished already, O Ibn Khattab. To everyone that for which he was created has been made easy. Thus, they who are auspicious are prompted to do auspicious deeds and the unfortunate do deeds of this nature (evil deeds). [Ahmed 5140]
صحيح ظلال الجنة (161 - 167)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2135
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، حذیفہ بن اسید، انس اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو عمل ہم کرتے ہیں کیا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم میں آتا ہے؟ یا وہ پہلے سے لکھا ہوا ہے اور اللہ کے علم میں ہے؟۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ زمین کرید رہے تھے کہ اچانک آپ نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا پھر فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جس کا حال معلوم نہ ہو، (وکیع کی روایت میں ہے: تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں جس کی جنت یا جہنم کی جگہ نہ لکھ دی گئی ہو) ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم لوگ (تقدیر کے لکھے ہوئے پر) بھروسہ نہ کرلیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، تم لوگ عمل کرو اس لیے کہ ہر آدمی کے لیے وہ چیز آسان کردی گئی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔
Sayyidina Ali (RA) reported that while they were with Allah’s Messenger ﷺ he was scratching earth (as though in deep thought). Suddenly he raised his head to the heaven and said, “There is none among you about whom it is not determined.” Waki said, “It is recorded that his seat is in the fire or his seat is in Paradise.” They asked, “Shall we not place trust in Allah, O Messenger of Allah? ﷺ “ He said, “Do your deeds. To everyone is made easy that for which he is created.” [Bukhari 6605, Muslim 2647] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (78)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2136
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٨٢ (١٣٦٢)، وتفسیر سورة واللیل إذا یغشی ٣ (٤٩٤٥)، والأدب ١٢٠ (٦٢١٧)، و القدر ٤ (٦٦٠٥)، والتوحید ٥٤ (٧٥٥٢)، صحیح مسلم/القدر ١ (٢٦٤٧)، سنن ابی داود/ السنة ١٧ (٤٦٩٤)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٠ (٧٨)، ویأتي عند المؤلف برقم ٣٣٤٤) (تحفة الأشراف: ١٠١٦٧)، و مسند احمد (١/١٣٢) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم سے صادق و مصدوق رسول اللہ ﷺ نے بیان کیا ١ ؎، تم میں سے ہر آدمی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی شکل میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن تک «علقة» (یعنی جمے ہوئے خون) کی شکل میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن تک «مضغة» (یعنی گوشت کے لوتھڑے) کی شکل میں رہتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے، پھر اسے چار چیزوں (کے لکھنے) کا حکم کیا جاتا ہے، چناچہ وہ لکھتا ہے: اس کا رزق، اس کی موت، اس کا عمل اور یہ چیز کہ وہ «شقي» (بدبخت) ہے یا «سعيد» (نیک بخت) ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تم میں سے کوئی آدمی جنتیوں کا عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس کے اوپر لکھی ہوئی تقدیر غالب آتی ہے اور جہنمیوں کے عمل پر اس کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔ لہٰذا وہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے، اور تم میں سے کوئی آدمی جہنمیوں کا عمل کرتا رہتا ہے پھر اس کے اوپر لکھی ہوئی تقدیر غالب آتی ہے اور جنتیوں کے عمل پر اس کا خاتمہ کیا جاتا ہے، لہٰذا وہ جنت میں داخل ہوتا ہے۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ the truthful who was confirmed as such, said to them, “Each one of you stays in his mother’s womb for forty days as a sperm. Then he turns into a clot for as many days, and then a lump of flesh. Then Allah sends to him an angel who blows into him the soul and is commanded with four words. He records his sustenance, his life term, his deeds and whether he will be miserable or fortunate. By Him besides Whom there is no God, one of you will perform deeds of the people of Paradise till only a cubit separates him from it when what is decreed will overtake him and he will do deeds of the denizens of the fire and he will enter it. And one of you will do deeds deserving of the fire till there is not but a cubit between him and it when he will do a deed of those worthy of Paradise and will enter it.” [Bukhari 6594, Muslim 2643] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (76)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2137
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سچے ہیں اور سچی بات آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٦ (٣٢٠٨)، وأحادیث الأنبیاء ١ (٣٣٩٣)، صحیح مسلم/القدر ١ (٢٦٤٣)، سنن ابی داود/ السنة ١٧ (٤٧٠٨)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٠ (٧٦) (تحفة الأشراف: ٩٢٢٨)، و مسند احمد (١/٣٨٢، ٤١٤) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے ١ ؎، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی، یا مشرک بناتے ہیں عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! جو اس سے پہلے ہی مرجائے؟ ٢ ؎ آپ نے فرمایا: اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Every child is born on the religion (of Islam). Then his parents make him a Jew, a Christian or a polytheist.” Someone said, “O Messenger of Allah, (what about) those who die before (their parents convert them)?” He said, “Allah knows best what they would have done (if they had survived).” [Bukhari 1358, Muslim 2658]
صحيح، الإرواء (1220)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2138
Notes · وضاحت
١ ؎: فطرت اسلام پر پیدا ہونے کی علماء نے یہ تاویل کی ہے کہ چونکہ «ألست بربکم» کا عہد جس وقت اللہ رب العالمین اپنی مخلوق سے لے رہا تھا تو اس وقت سب نے اس عہد اور اس کی وحدانیت کا اقرار کیا تھا، اس لیے ہر بچہ اپنے اسی اقرار پر پیدا ہوتا ہے، یہ اور بات ہے کہ بعد میں وہ ماں باپ کی تربیت یا لوگوں کے بہکاوے میں آ کر یہودی، نصرانی اور مشرک بن جاتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی بچپن ہی میں جس کا انتقال ہوجائے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٩٢ (١٣٨٣)، و القدر ٣ (٦٥٩٢)، صحیح مسلم/القدر ٦ (٢٦٥٨)، سنن ابی داود/ السنة ١٨ (٤٧١٤) (تحفة الأشراف: ١٢٤٧٦)، و موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٥٢)، و مسند احمد (٢/٢٤٤، ٢٥٣، ٢٥٩، ٢٦٨، ٣١٥، ٣٤٧، ٣٩٣، ٤٧١، ٤٨٨، ٥١٨) (صحیح )
سلمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دعا کے سوا کوئی چیز تقدیر کو نہیں ٹالتی ہے ١ ؎ اور نیکی کے سوا کوئی چیز عمر میں اضافہ نہیں کرتی ہے ٢ ؎۔
Sayyidina Salman (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Nothing averts the decree except supplication and nothing but piety prolongs life.” [Ahmed 22476] --------------------------------------------------------------------------------
حسن، الصحيحة (154)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2139
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث سلمان کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابواسید سے بھی روایت ہے، ٣ - ہم اسے صرف یحییٰ بن ضریس کی روایت سے جانتے ہیں، ٤ - ابومودود دو راویوں کی کنیت ہے، ایک کو فضہ کہا جاتا ہے، اور یہ وہی ہیں جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہے، ان کا نام فضہ ہے اور دوسرے ابومودود کا نام عبدالعزیز بن ابوسلیمان ہے، ان میں سے ایک بصرہ کے رہنے والے ہیں اور دوسرے مدینہ کے، دونوں ایک ہی دور میں تھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «قضاء» سے مراد امر مقدر ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے: مفہوم یہ ہے کہ بلا و مصیبت کے ٹالنے میں دعا بےحد موثر ہے، یہاں تک کہ اگر قضاء کا کسی چیز سے لوٹ جانا ممکن ہوتا تو وہ دعا ہوتی، جب کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے: مراد یہ ہے کہ دعا سے قضاء کا سہل و آسان ہوجانا ہے گویا دعا کرنے والے کو یہ احساس ہوگا کہ قضاء نازل ہی نہیں ہوئی، اس کی تائید ترمذی کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں دعا جو کچھ قضاء نازل ہوچکی ہے اس کے لیے اور جو نازل نہیں ہوئی ہے اس کے لیے بھی نفع بخش ثابت ہوتی ہے۔ ٢ ؎: عمر میں اضافہ اگر حقیقت کے اعتبار سے ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ اضافہ اس فرشتہ کے علم کے مطابق ہے جو انسان کے عمر پر مقرر ہے، نہ کہ اللہ کے علم کی طرف نسبت کے اعتبار سے ہے، مثلاً لوح محفوظ میں اگر یہ درج ہے کہ فلاں کی عمر اس کے حج اور عمرہ کرنے کی صورت میں ساٹھ سال کی ہوگی اور حج و عمرہ نہ کرنے کی صورت میں چالیس سال کی ہوگی تو یہ اللہ کے علم میں ہے کہ وہ حج و عمرہ کرے گا یا نہیں، اور علم الٰہی میں رد و بدل اور تغیر نہیں ہوسکتا جب کہ فرشتے کے علم میں جو ہے اس میں تبدیلی کا امکان ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا پڑھتے تھے «يا مقلب القلوب ثبت قلبي علی دينك» اے دلوں کے الٹنے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لے آئے کیا آپ کو ہمارے سلسلے میں اندیشہ رہتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، لوگوں کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں جیسا چاہتا ہے انہیں الٹتا پلٹتا رہتا ہے ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ often said: "O Turner of hearts, keep my heart steadfast on Your religion. So, Anas (RA) asked, “We have believed in you and what you have brought. Are you apprehensive about us?” He said, “Yes hearts are, surely, between two of the fingers of Allah. He may turn them as He will.” [Ahmed 12108] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3834)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2140
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - کئی لوگوں نے اسی طرح «عن الأعمش عن أبي سفيان عن أنس» کی سند سے روایت کی ہے۔ بعض لوگوں نے «عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، لیکن ابوسفیان کی حدیث جو انس سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے، ٣ - اس باب میں نواس بن سمعان، ام سلمہ، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢ (٣٨٣٤) (تحفة الأشراف: ٩٢٤) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (ایک بار) ہماری طرف نکلے اس وقت آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں۔ آپ نے پوچھا: تم لوگ جانتے ہو یہ دونوں کتابیں کیا ہیں؟ ہم لوگوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ آپ ہمیں بتادیں۔ داہنے ہاتھ والی کتاب کے بارے میں آپ نے فرمایا: یہ رب العالمین کی کتاب ہے، اس کے اندر جنتیوں، ان کے آباء و اجداد اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں، پھر آخر میں ان کا میزان ذکر کردیا گیا ہے۔ لہٰذا ان میں نہ تو کسی کا اضافہ ہوگا اور نہ ان میں سے کوئی کم ہوگا ، پھر آپ نے بائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں فرمایا: یہ رب العالمین کی کتاب ہے، اس کے اندر جہنمیوں، ان کے آباء و اجداد اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں اور آخر میں ان کا میزان ذکر کردیا گیا ہے، اب ان میں نہ تو کسی کا اضافہ ہوگا اور نہ ان میں سے کوئی کم ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر عمل کس لیے کریں جب کہ اس معاملہ سے فراغت ہوچکی ہے؟ آپ نے فرمایا: سیدھی راہ پر چلو اور میانہ روی اختیار کرو، اس لیے کہ جنتی کا خاتمہ جنتی کے عمل پہ ہوگا، اگرچہ اس سے پہلے وہ جو بھی عمل کرے اور جہنمی کا خاتمہ جہنمی کے عمل پہ ہوگا اگرچہ اس سے پہلے وہ جو بھی عمل کرے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا، پھر ان دونوں کتابوں کو پھینک دیا اور فرمایا: تمہارا رب بندوں سے فارغ ہوچکا ہے، ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک فریق جہنم میں جائے گا ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ came to us and he had in his hand two books. He asked, “Can you surmise what these two books are? We said, ‘No, O Messenger of Allah ﷺ unless you inform us.’ He said, “About the one that is in my right hand, it is a book from the Lord of the worlds. In it are names of the people of Paradise and the names of their ancestors and of their tribes. Then they are added up in the end. So, there will never be an increase in them, nor a decrease from them ever.” As for the one in his left hand, he said, “This is a book from the Lord of the worlds. In it are names of the people of the fire and the names of their tribes. In the end, they are summed up. There never will be an increase in their numbers and there never will be a decrease in them.” His companions said, “O Messenger of Allah ﷺ then what the point in deeds is if the affair is already over from them?” He said, “Advance at a moderate pace and get closer, for the deeds of the people of Paradise are sealed for them though they may have done whatever deed before that. And for the people of Hell, the deeds of the people of Hell are sealed for them no matter what deed they may have done earlier.” Then Allah’s Messenger ﷺ gestured with both hands and threw both of them the books away, saying, “Your Lord is over with the creatures, a section in Paradise and a section in Hell.” [Ahmed 6574]
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے عمل کراتا ہے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیسے عمل کراتا ہے؟ آپ نے فرمایا: موت سے پہلے اسے عمل صالح کی توفیق دیتا ہے ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If Allah decides to do good to a slave, he involves him in deeds.” He was asked, “How does he involve them in deeds, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “He makes it easy for him to do righteous (deeds) before death.” [Ahmed 13407] --------------------------------------------------------------------------------
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: کسی کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی ، ایک اعرابی (بدوی) نے عرض کیا: اللہ کے رسول! خارشتی شرمگاہ والے اونٹ سے (جب اسے باڑہ میں لاتے ہیں) تو تمام اونٹ (کھجلی والے) ہوجاتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھر پہلے کو کس نے کھجلی دی؟ کسی کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی ہے اور نہ ماہ صفر کی نحوست کی کوئی حقیقت ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر نفس کو پیدا کیا ہے اور اس کی زندگی، رزق اور مصیبتوں کو لکھ دیا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ stood up between them and said, “There is no infection.” A villager said, “O Messenger of Allah! ﷺ When a mangy camel mixes with other camels, they all are infected with mange.” He asked, “Then who brought mange to the first camel. (The illness of one does not come on another). Neither is there infection nor Safar. Allah created all souls and wrote down their life and their provision, and their hardships.” [Ahmed 4198]
صحيح، الصحيحة (1152)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2143
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب میں زمانہ جاہلیت کی تین باتوں کی نفی کی گئی ہے، اور اس حدیث میں متعدی مرض اور صفر کے سلسلے میں موجود بداعتقادی پر نکیر ہے، اہل جاہلیت کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور فیصلے کے بغیر بیماری خود سے متعدی ہوتی ہے، یعنی خود سے پھیل جاتی ہے، اسلام نے ان کے اس اعتقاد باطل کو غلط ٹھہرایا، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لاعدوی» یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہوتی، اور اس کے لیے سب سے پہلے اونٹ کو کھجلی کی بیماری کیسے لگی، کی بات کہہ کر سمجھایا اور بتایا کہ کسی بیماری کا لاحق ہونا اور اس بیماری سے شفاء دینا یہ سب اللہ رب العالمین کے حکم سے ہے وہی مسبب الاسباب ہے۔ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر سے ہوتا ہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے،«ھامہ» یعنی الو کا ذکر باب میں ہے، اس حدیث میں نہیں ہے، بلکہ دوسری احادیث میں ہے آیا ہے، الو کو دن میں دکھائی نہیں دیتا ہے، تو وہ رات کو نکلتا ہے، اور اکثر ویرانوں میں رہتا ہے، عرب لوگ اس کو منحوس جانتے تھے، اور بعض یہ سمجھتے تھے کہ مقتول کی روح الو بن کر پکارتی پھرتی ہے، جب اس کا بدلہ لے لیا جاتا ہے تو وہ اڑ جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس خیال کو باطل قرار دیا، اور فرمایا: «و ولاهامة»، آج بھی الو کی نحوست کا اعتقاد باطل بہت سے لوگوں کے یہاں پایا جاتا ہے، جو جاہلیت کی بداعتقادی ہے، اسی طرح صفر کے مہینے کو جاہلیت کے زمانے میں لوگ منحوس قرار دیتے تھے، اور جاہل عوام اب تک اسے منحوس جانتے ہیں، صفر کے مہینے کے پہلے تیرہ دن جس میں رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے تھے ان ایام کو تیرہ تیزی کہتے ہیں، ان میں عورتیں کوئی بڑا کام جیسے شادی بیاہ وغیرہ کرنے نہیں دیتیں، یہ بھی لغو ہے، صفر کا مہینہ اور مہینوں کی طرح ہے، کچھ فرق نہیں ہے۔ یہ بھی آتا ہے کہ عرب ماہ محرم کی جگہ صفر کو حرمت والا مہینہ بنا لیتے تھے، اسلام میں یہ بھی باطل، اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ عربوں کے اعتقاد میں پیٹ میں ایک سانپ ہوتا تھا جس کو صفر کہا جاتا ہے، بھوک کے وقت وہ پیدا ہوتا ہے اور آدمی کو ایذا پہنچاتا ہے، اور ان کے اعتقاد میں یہ متعدی مرض تھا، تو اسلام نے اس کو باطل قرار دیا (ملاحظہ ہو: النہایۃ فی غریب الحدیث: مادہ: صفر، نیز ان مسائل پر ہم نے سنن ابن ماجہ (کتاب الطب: باب نمبر ٤٣ ، حدیث نمبر ٣٥٣ ٦-٣٥٤١) میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، اس کا مطالعہ مفید ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٦٤٠)، وانظر مسند احمد (١/٤٤٠) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، سند میں ایک راوی ” صاحب لنا “ مبہم ہے، اور ہوسکتا ہے کہ یہ ابوہریرہ ؓ ہوں، ابو زرعہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں، نیز مسند احمد (٢/٣٢٧) میں یہ حدیث بواسطہ ابو زرعہ ابوہریرہ ؓ سے موجود ہے )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بندہ مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لے آئے، اور یہ یقین کرلے کہ جو کچھ اسے لاحق ہوا ہے چوکنے والا نہ تھا اور جو کچھ چوک گیا ہے اسے لاحق ہونے والا نہ تھا ۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘A man does not believe unless he believes in fate good and bad and till he knows that what’ confronts him could not have escaped and what escapes him could not have confronted him.”
صحيح، الصحيحة (2439)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2144
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن میمون کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - عبداللہ بن میمون منکر حدیث ہیں، ٣ - اس باب میں عبادہ، جابر اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بندہ چار چیزوں پر ایمان لائے بغیر مومن نہیں ہوسکتا: ( ١ ) گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے، ( ٢ ) موت پر ایمان لائے، ( ٣ ) مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے، ( ٤ ) تقدیر پر ایمان لائے ۔
Sayyidina Ali narrated: Allah’s Messenger ﷺ said, “No one is a Believer unless he believes in four things: (1) He testifies that there is no God but Allah and that I am Allah’s Messenger and He sent me with the truth. (2) He believes in death (being certain and does pious deeds before that). (3) He believes in resurrection after death, and (4) He believes in predestination.” [Ahmed 758, Ibn Majah 81] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (81)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2145
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٠ (٨١) (تحفة الأشراف: ١٠٠٨٩) (صحیح )
مطر بن عکامس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کردیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت و ضرورت پیدا کردیتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Matar ibn Ukamis reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If Allah has decreed that one should die in a (particular) land then He creates for him a need there. [Ahmed 22043]
صحيح، المشکاة (110)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2146
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - مطر بن عکامس کی نبی اکرم ﷺ سے اس حدیث کے علاوہ کوئی دوسری حدیث نہیں معلوم ہے، ٣ - اس باب میں ابوعزہ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چناچہ بندہ اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے زمین کے اس حصہ کی جانب سفر کرتا ہے جہاں اللہ نے اس کی موت اس کے لیے مقدر کر رکھی ہے، پھر وہاں پہنچ کر اس کی موت ہوتی ہے، «وما تدري نفس بأي أرض تموت» اور کسی جان کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ اس کی موت کسی سر زمین میں آئے گی (لقمان: ٣٤ )، اسی طرف اشارہ ہے کہ زمین کے کس حصہ میں موت آئے گی کسی کو کچھ خبر نہیں۔
ابوعزہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کردیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کردیتا ہے ۔
Ahmad ibn Mani and Ali ibn Hujr also reported a hadith with the same meaning. They said, Ismail ibn Ibrahim reported from Ayyub, from Abu Malih, from Abu Azzah, he said that Allahs Messenger said; ““If Allah has decreed that one should die in a (particular) land then He creates for him a need there." Or reported with the words a need with it. --------------------------------------------------------------------------------
صحيح انظر ما قبله (2146)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2147
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - ابوعزہ کو شرف صحبت حاصل ہے اور ان کا نام یسار بن عبد ہے، ٣ - راوی ابوملیح کا نام عامر بن اسامہ بن عمیر ہذلی ہے۔ انہیں زید بن اسامہ بھی کہا جاتا ہے۔
ابوخزامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دم جن سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں، دوائیں جن سے علاج کرتے ہیں اور بچاؤ کی چیزیں جن سے بچاؤ کرتے ہیں، آپ بتائیے کیا یہ اللہ کی تقدیر میں سے کچھ لوٹا سکتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ سب بھی تو اللہ کی تقدیر سے ہیں ۔
Abu Khizamah reported on the authority of his father that a man came to the Prophet ﷺ and submitted, “About the ruqyah that we blow (over the patient), the medicine that we take and the preventive measures that we adopt do they avert destiny in any way whatsoever?” He said, “They are part of Allah’s decree.” [Ahmed 3437] --------------------------------------------------------------------------------
ہم اس حدیث کو صرف زہری کی روایت سے جانتے ہیں، کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن سفيان عن الزهري عن أبي خزامة عن أبيه» کی سند سے روایت کی ہے، یہ زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح کئی لوگوں نے «عن الزهري عن أبي خزامة عن أبيه» کی سند سے روایت کی ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے دو قسم کے لوگوں کے لیے اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے: ( ١ ) مرجئہ ( ٢ ) قدریہ ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Two groups of my Ummah have no share in Islam the Murjiyah and the Qadariyah. “ [Ibn Majah 62]
ضعيف، المشکاة (105)، الظلال (334 و 335) // يعني کتاب السنة لابن أبي عاصم طبع المکتب الإسلامي، وضعيف الجامع الصغير (3498) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2149
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں عمر، ابن عمر اور رافع بن خدیج ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مرجئہ: باطل اور گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے جو یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ بندہ کو اپنے افعال کے سلسلہ میں کچھ بھی اختیار حاصل نہیں، جمادات کی طرح وہ مجبور محض ہے ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جس طرح کفر کے ساتھ اطاعت و فرمانبرداری کچھ بھی مفید نہیں اسی طرح ایمان کے ساتھ معصیت ذرہ برابر نقصان دہ نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المدقدمة ٩ (٧٣) (تحفة الأشراف: ٦٢٢٢) (ضعیف) (سند میں ” نزار بن حیان اسدی “ ضعیف ہیں )
عبداللہ بن شخیر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابن آدم کی مثال ایسی ہے کہ اس کے پہلو میں ننانوے آفتیں ہیں اگر وہ ان آفتوں سے بچ گیا تو بڑھاپے میں گرفتار ہوجائے گا یہاں تک کہ اسے موت آ جائے گی ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Shikhkhir reported from the Prophet ﷺ that he said, the children of Adam are created in this picture that by both his sides are ninety-nine deaths. If these miss him then he gets entangled in old age till he dies of it.”
حسن، المشکاة (1569)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2150
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ انسان پیدائش سے لے کر بڑھاپے تک مختلف قسم کے آفات و مصائب سے گھرا ہوا ہے، اگر وہ ان آفات سے کسی طرح بچ نکلا تو بڑھاپے جیسی آفت سے وہ نہیں بچ سکے گا، اور بالآخر موت اسے آ دبوچے گی گویا یہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے سبز و سنہرا باغ ہے، اسی لیے مومن کو اللہ کے ہر فیصلہ پر صبر کرنا چاہیئے، اور اللہ نے اس کے لیے جو کچھ مقدر کر رکھا ہے اس پر راضی رہنا چاہیئے۔
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے فیصلے پر راضی ہونا ابن آدم کی سعادت (نیک بختی) ہے، اللہ سے خیر طلب نہ کرنا ابن آدم کی شقاوت (بدبختی) ہے اور اللہ کے فیصلے پر ناراض ہونا ابن آدم کی شقاوت (بدبختی) ہے ۔
Sayyidina Saad reported that Allah’s Messenger ﷺ said, the well-being of the son of Adam lies in his being pleased with what Allah has decreed for him. And the wretchedness of the son of Adam lies in his neglect of istikharah (seeking guidance) from, Allah and of his wretchedness is his displeasure with what Allah has decreed for him.” [Ahmed 1444]
ضعيف، الضعيفة (1800)، التعليق الرغيب (1 / 244) // ضعيف الجامع الصغير (5300) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2151
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف محمد بن ابی حمید کی روایت سے جانتے ہیں، انہیں حماد بن ابی حمید بھی کہا جاتا ہے، ان کی کنیت ابوابراہیم ہے، اور مدینہ کے رہنے والے ہیں، یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٩٣٤) (ضعیف) (سند میں ” محمد بن أبی حمید “ ضعیف ہیں )
نافع کا بیان ہے کہ ابن عمر ؓ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا: فلاں شخص نے آپ کو سلام عرض کیا ہے، اس سے ابن عمر ؓ نے کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ اس نے دین میں نیا عقیدہ ایجاد کیا ہے، اگر اس نے دین میں نیا عقیدہ ایجاد کیا ہے تو اسے میرا سلام نہ پہنچانا، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اس امت میں یا میری امت میں، (یہ شک راوی کی طرف سے ہوا ہے) تقدیر کا انکار کرنے والوں پر «خسف»، «مسخ» یا «قذف» کا عذاب ہوگا ١ ؎۔
Nafi reported that a man came to Sayyidina Ibn Umar (RA) and conveyed salaam (greeting) of a certain person. He said, “I have learnt that he has introduced a form of religion. If he has done that then do not convey my salaam to him, for I had heard Allah’s Messenger ﷺ say: In this Ummah or, he said, in my Ummah there will be swallowing up (by earth), metamorphosing or raining of stones of the adherents of qadr.” [Ibn Majah 4061, Abu Dawud 4613]
حسن، ابن ماجة (4061)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2152
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ابوصخر کا نام حمید بن زیاد ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «خسف»: زمین میں دھنسانے، «مسخ»: صورتیں تبدیل کرنے اور «قذف»: پتھروں کے عذاب کو کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٩ (٤٠٦١) (تحفة الأشراف: ٧٦٥١) (حسن )