ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم کوئی چیز (عبادت) نہیں ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah ‘ reported that the Prophet ﷺ said, “There is nothing nobler in Allah’s sight than supplication.” [Ibn e Majah 3829, Ahmed 8756]
حسن، ابن ماجة (3829)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3370
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف عمران قطان کی روایت سے جانتے ہیں، عمران القطان یہ ابن داور ہیں اور ان کی کنیت ابوالعوام ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ بندہ رب العالمین کی طاقت و قدرت کے سامنے دعا کرتے وقت اپنی انتہائی بےبسی اور عاجزی و محتاجگی کا اظہار کرتا ہے، اس لیے اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم چیز ( عبادت ) کوئی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدعاء ١ (٣٨٢٩) (تحفة الأشراف: ١٢٩٣٨) (حسن)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دعا عبادت کا مغز (حاصل و نچوڑ) ہے ١ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik reported that the Prophet ﷺ said, “Suppliction is the essence of worship.”This hadith is gharib through this sanad. We knowitmly as a narrative of Ibn Lahi’ah. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف بهذا اللفظ، الروض النضير (2 / 289)، المشکاة (2231) // ضعيف الجامع الصغير (3003) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3371
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ دعا عبادت کا خلاصہ اور اصل ہے، اس لیے جو شخص اپنی حاجت برآری اور مشکل کشائی کے لیے غیر اللہ کو پکارتا ہے، وہ گویا غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے، جب کہ غیر اللہ کی عبادت شرک ہے، اور شرک ایسا گناہ ہے جو بغیر توبہ کے ہرگز معاف نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦٥) (ضعیف) (سند میں ” ابن لھیعہ “ ضعیف ہیں، اس لیے مخ العبادة کے لفظ سے حدیث ضعیف ہے، اور ” الدعاء ھو العبادة “ کے لفظ سے نعمان بن بشیر ؓ کی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو اگلی حدیث)
نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ نے آیت: «وقال ربکم ادعوني أستجب لکم إن الذين يستکبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين» تمہارا رب فرماتا ہے، تم مجھے پکارو، میں تمہاری پکار (دعا) کو قبول کروں گا، جو لوگ مجھ سے مانگنے سے گھمنڈ کرتے ہیں، وہ جہنم میں ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوں گے (المومن: ٦) پڑھی ۔
Sayyidina Nu’man ibn Bashir (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The supplication is itself worship.” Then he recited.And your Iord says, “Call upon Me, and I shall answer you. Surely those who are too arogant to worship Me, they shall enter Hell, disgraced.” (40: 60) [Ahmed 18419] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3828)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3372
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- منصور نے یہ حدیث اعمش سے اور اعمش نے ذر سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف ذر کی روایت سے جانتے ہیں، یہ ذر بن عبداللہ ہمدانی ہیں ثقہ ہیں، عمر بن ذر کے والد ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ سے سوال نہیں کرتا ١ ؎ اللہ اس سے ناراض اور ناخوش ہوتا ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘If anyone does not ask Allah for anything then Allah gets angry at him.” [Ahmed 9725]
حسن، ابن ماجة (3827)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3373
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
وکیع اور کئی راویوں نے یہ حدیث ابوالملیح سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ابوالملیح کا نام صبیح ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو ایسا ہی کہتے ہوئے سنا ہے، انہوں نے کہا کہ انہیں فارسی بھی کہا جاتا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نہ توبہ و استغفار کرتا ہے اور نہ دنیوی و اخروی اپنی ضرورت کی چیزیں طلب کرتا ہے، اللہ سے دعا سے بالکل ہی بےنیازی برتنا ہے۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے جب ہم لوٹے اور ہمیں مدینہ دکھائی دینے لگا تو لوگوں نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے تکبیر کہی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا رب بہرہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ غائب و غیر حاضر ہے، وہ تمہارے درمیان موجود ہے، وہ تمہارے کجاؤں اور سواریوں کے درمیان (یعنی بہت قریب) ہے پھر آپ نے فرمایا: عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ «لا حول ولا قوة إلا بالله» (جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے) ۔
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- ابوعثمان نہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے اور ابونعامہ سعدی کا نام عمرو بن عیسیٰ ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: جو اس کلمے کا ورد کرے گا وہ جنت کے خزانوں میں ایک خزانے کا مالک ہوجائے گا، کیونکہ اس کلمے کا مطلب برائی سے پھر نے اور نیکی کی قوت اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ جب بندہ اس کا باربار اظہار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بےانتہا خوش ہوتا ہے، بندے کی طرف سے اس طرح کی عاجزی کا اظہار تو عبادت حاصل ہے۔
عبداللہ بن بسر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! اسلام کے احکام و قوانین تو میرے لیے بہت ہیں، کچھ تھوڑی سی چیزیں مجھے بتا دیجئیے جن پر میں (مضبوطی) سے جما رہوں، آپ نے فرمایا: تمہاری زبان ہر وقت اللہ کی یاد اور ذکر سے تر رہے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Busr reported that a man submitted, “O Messenger of Allah, the injunctions of Islam are many over me, so teach me something that I might abide by.” He said, “Let not your tongure cease to be fresh with the remembrance of Allah.” [Ibn e Majah 3792, Ahmed 10968] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3793)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3375
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس آدمی کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ فرائض، سنن اور نوافل کی شکل میں نیکیوں کی بہت کثرت ہے، مجھے کوئی ایسا جامع نسخہ بتائیے جس سے صرف فرائض و سنن پر اگر عمل کرسکوں اور نوافل و مستحبات رہ جائیں تو بھی میری نیکیاں کم نہ ہوں، آپ نے فرمایا: ذکر الٰہی سے اپنی زبان تر رکھ اور اسے اپنی زندگی کا دائمی معمول بنا لے، ایسا کرنے کی صورت میں اگر تو نوافل و مستحبات پر عمل نہ بھی کرسکا تو ذکر الٰہی کی کثرت سے اس کا ازالہ ہوجائے گا۔ کیونکہ نوافل و مستحبات ( عبادات ) کا حاصل تو یہی ہے نہ کہ بندے بارگاہ الٰہی میں اپنی عاجزی و خاکساری کا اظہار کا نذرانہ پیش کرتا ہے، سو کثرت ذکر سے بھی یہ مقصد حاصل ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٣ (٣٧٩٣) (تحفة الأشراف: ٥١٩٦) (صحیح)
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک درجہ کے لحاظ سے کون سے بندے سب سے افضل اور سب سے اونچے مرتبہ والے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی عورتیں ۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں لڑائی لڑنے والے (غازی) سے بھی بڑھ کر؟ آپ نے فرمایا: (ہاں) اگرچہ اس نے اپنی تلوار سے کفار و مشرکین کو مارا ہو، اور اتنی شدید جنگ لڑی ہو کہ اس کی تلوار ٹوٹ گئی ہو، اور وہ خود خون سے رنگ گیا ہو، تب بھی اللہ کا ذکر کرنے والے اس سے درجے میں بڑھے ہوئے ہوں گے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri reported that someone asked Allah’s Messenger, ﷺ “Which worshipper is of a better rank in the sight of Allah on the day of Resurrection? He said, He who remembers Allah very often.” Abu Sa’eed asked, “O Messenger of Allah, is he better than the warrior in Allah’s path even?” He said “If he strikes his sword on the disbelievers and the polyteists till it breaks and becomes bloody, yet those who remember Allah much are better than him in rank.” [Ahmed 11820] --------------------------------------------------------------------------------
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہارے سب سے بہتر اور تمہارے رب کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور سب سے بلند درجے والے عمل کی تمہیں خبر نہ دوں؟ وہ عمل تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے، وہ عمل تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہے کہ تم (میدان جنگ میں) اپنے دشمن سے ٹکراؤ، وہ تمہاری گردنیں کاٹے اور تم ان کی (یعنی تمہارے جہاد کرنے سے بھی افضل) لوگوں نے کہا: جی ہاں، (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا: وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے ، معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں: اللہ کے ذکر سے بڑھ کر اللہ کے عذاب سے بچانے والی کوئی اور چیز نہیں ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Darda (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Shall I not inform you of the best of your deeds and the purest of them in the sight of Allah, your Master-the raisers of your ranks, better for you than spending gold and silver in charity, and better for you than your encounter with your enemy whose necks you chop off and they strike at your necks?” They said, “Certainly (inform us).” He said, “Remembrance of Allah.” Mu’adh ibn Jabal said, uNothing is a better deliverer from Allah’s chastisement than remembrance of Allah.” [Ahmed 21761, Ibn e Majah 379]
صحيح، ابن ماجة (2790)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3377
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
بعض نے یہ حدیث عبداللہ بن سعید اسی طرح اسی سند سے روایت کی ہے، اور بعضوں نے اسے ان سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کا ذکر اللہ کے عذاب سے نجات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، کیونکہ ذکر: رب العالمین کی توحید، اس کی ثنا، تحمید و تمجید وغیرہ کے کلمات کو دل اور زبان پر جاری رکھنے کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٣ (٣٧٩٠) (تحفة الأشراف: ١٠٩٥٠) (صحیح)
ابوہریرہ اور ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے: انہوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو قوم اللہ کو یاد کرتی ہے (ذکر الٰہی میں رہتی ہے) اسے فرشتے گھیر لیتے ہیں اور رحمت الٰہی اسے ڈھانپ لیتی ہے، اس پر سکینت (طمانیت) نازل ہوتی ہے اور اللہ اس کا ذکر اپنے ہاں فرشتوں میں کرتا ہے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) and Abu Hurayrah (RA) bore testimony that Allah’s Messenger said, “Whenever a people remember Allah, the angels surround them, mercy envelops them and peace descends on them, and Allah mentions them to those with Him (the angels).” [Muslim 2700, Ibn e Majah 3791, Nisai 953, Ahmed 11463]
صحيح، ابن ماجة (3791)
صحيح، ابن ماجة (3791)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3378
اس سند سے شعبہ نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے اغر (یعنی ابو مسلم) سے سنا، انہوں نے کہا: میں ابو سعید خدری اور ابوہریرہ ؓ کے متعلق گواہی دیتا ہوں، ان دونوں (بزرگوں) نے رسول اللہ ﷺ کے متعلق گواہی دی، اور پھر اوپر والی حدیث جیسی حدیث ذکر کی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3378
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ طریق ( ٣٣٨٠) کے بعد مطبوع نسخوں میں تھا، اور صحیح جگہ اس کی یہی ہے، جیسا کہ کئی قلمی نسخوں میں آیا ہے، یہ سند محبوبی کی روایت سے ساقط تھی، اسی لیے مزی نے اس سند کو تحفۃ الأشراف میں ذکر نہیں کیا، حافظ ابن حجر نے اس پر استدراک کیا اور کہا کہ ایسے ہی میں نے اس کو دیکھا ہے حافظ ابوعلی حسین بن محمد صدفی ( ت: ٥١٤ ھ ) کے قلم سے جامع ترمذی میں، اور ایسے ہی ابن زوج الحرۃ کی روایت میں ہے، اور میں نے اسے محبوبی کی روایت میں نہیں دیکھا ہے ( النکت الظراف ٣/٣٢٩)۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١١ (٢٧٠٠)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٣ (٣٧٩١) (تحفة الأشراف: ٣٩٦٤، و ١٢١٩٤) (صحیح)
انظر ماقبلہ (صحیح)
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ مسجد گئے (وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے) پوچھا: تم لوگ کس لیے بیٹھے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں، معاویہ ؓ نے کہا: کیا! قسم اللہ کی! تم کو اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی، ہم اسی مقصد سے یہاں بیٹھے ہیں، معاویہ ؓ نے کہا: میں نے تم لوگوں پر کسی تہمت کی بنا پر قسم نہیں کھلائی ہے ١ ؎، رسول اللہ ﷺ کے پاس میرے جیسا مقام و منزلت رکھنے والا کوئی شخص مجھ سے کم (ادب و احتیاط کے سبب) آپ سے حدیثیں بیان کرنے والا نہیں ہے۔ ( پھر بھی میں تمہیں یہ حدیث سنا رہا ہوں) رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس گئے وہ سب دائرہ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، ان سے کہا: کس لیے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں، اللہ نے ہمیں اسلام کی طرف جو ہدایت دی ہے، اور مسلمان بنا کر ہم پر جو احسان فرمایا ہے ہم اس پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اور اس کی حمد بیان کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا واقعی؟! قسم ہے تمہیں اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی، ہمیں اسی مقصد نے یہاں بٹھایا ہے، آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں قسم اس لیے نہیں دلائی ہے، میں نے تم لوگوں پر کسی تہمت کی بنا پر قسم نہیں کھلائی ہے، بات یہ ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے بتایا اور خبر دی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ فرشتوں پر فخر کرتا ہے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that when Mu’awiyah (RA) came to the mosque, he asked people why they were sitting. They said, “We sit remembering Allah.” He asked, “Do you sit with no other purpose but this?” They asserted, “By Allah, we do not sit but only for that.” He said, “I did not seek your assurance on Doath because I thought you might be lying. You know well that I narrate very few ahadith from Allah’s Messenger Once he came to a circle of the Sahabah ... and asked them why they were assembled. They said that they sat and remembered Allah and praised Him that. He guided them to Islam and favoured them with it. He asked them, “By Allah, is that the only thing you are sitting for?” They confirmed that they sat for nothing else. He told them that he had not made them swear lest they might be lying but that Jibril had come to him and informed him that Allah took pride in them in the company of angels.” [Muslim 2701, Nisai 5441] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3379
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: بات یہ نہیں ہے کہ میں آپ لوگوں کی ثقاہت کے بارے میں مطمئن نہیں ہوں اس لیے قسم کھلائی ہے، بلکہ خود آپ ﷺ نے اسی طرح صحابہ سے قسم لے کر یہ حدیث بیان فرمائی تھی، اسی اتباع میں، میں نے بھی آپ لوگوں کو قسم کھلائی ہے، حدیثوں کی روایت کا یہ بھی ایک انداز ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جس کیفیت کے ساتھ حدیث بیان کی ہوتی ہے، صحابہ سے لے کر اخیر سند تک کے ساری راوی اسی طرح روایت کرتے ہیں، اس سے حدیث کی صحت پر اور زیادہ یقین بڑھ جاتا ہے ( اور خود آپ ﷺ نے بھی کسی شک و شبہ کی بنا پر ان سے قسم نہیں لی تھی، بلکہ بیان کی جانے والی بات کی اہمیت جتانے کے لیے ایک اسلوب اختیار کیا تھا )۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١١ (٢٧٠١)، سنن النسائی/القضاة ٣٧ (٥٤٢٨) (تحفة الأشراف: ١١٤١٦)، و مسند احمد (٤/٩٢) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اللہ کی یاد نہ کریں، اور نہ اپنے نبی ﷺ پر (درود) بھیجیں تو یہ چیز ان کے لیے حسرت و ندامت کا باعث بن سکتی ہے۔ اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے، اور چاہے تو انہیں بخش دے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ said, “As for those people who sit together but do not remember Allah in their assembly and do not invocate blessings on their Prophet, they are at a loss, thus, if He will Allah may punish them or if He will, He may forgive them.” [Ahmed 10248, Abu Dawud 4856, Nisai 407] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (74)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3380
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ ؓ کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے، ٣- اور آپ کے قول «ترة» کے معنی ہیں حسرت و ندامت کے، بعض عربی داں حضرات کہتے ہیں: «ترة» کے معنی بدلہ کے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا سبق یہ ہے کہ مسلمان جب بھی کسی میٹنگ میں بیٹھیں تو آخر مجلس کے خاتمہ پر پڑھی جانے والی دعا ضرور پڑھ لیں، نہیں تو یہ مجلس بجائے اجر و ثواب کے سبب کے وبال کا سبب بن جائے گی ( یہ حدیث رقم ٣٤٣٣ پر آرہی ہے )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٣٥٠٦)، و مسند احمد (٢/٤٣٢، ٤٤٦، ٤٥٣) (صحیح) (سند میں صالح بن نبہان مولی التوأمة صدوق راوی ہیں، لیکن آخر میں اختلاط کا شکار ہوگئے تھے، اس لیے ان سے روایت کرنے والے قدیم تلامیذ جیسے ابن ابی ذئب اور ابن جریج کی ان سے روایت مقبول ہے، لیکن اختلاط کے بعد روایت کرنے والے شاگردوں کی ان سے روایت ضعیف ہوگی، مسند احمد کی روایت زیاد بن سعد اور ابن ابی ذئب قدماء سے ہے، نیز طبرانی اور حاکم میں ان سے راوی عمارہ بن غزیہ قدماء میں سے ہے، اور حاکم نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے، اور متابعات بھی ہیں، جن کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم: ٧٤)
جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو کوئی بندہ اللہ سے دعا کر کے مانگتا ہے اللہ اسے یا تو اس کی مانگی ہوئی چیز دے دیتا ہے، یا اس دعا کے نتیجہ میں اس دعا کے مثل اس پر آئی ہوئی مصیبت دور کردیتا ہے، جب تک اس نے کسی گناہ یا قطع رحمی (رشتہ ناتا توڑنے) کی دعا نہ کی ہو ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported having heard Allah’s Messenger ﷺ say, “There is none who makes a supplication but Allah gives him what he asks, or removes from him an evil equal to his supplication provided he has not supplicated for a sin or for severing of ties of relationship.”
حسن، المشکاة (2236)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3381
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں ابو سعید خدری اور عبادہ بن صامت سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ دعا میں فائدہ ہے، اللہ کی مشیت کے مطابق اگر وہ قبول ہوجاتی ہے تو جو چیز اس سے مانگی گئی ہے وہ مانگنے والے کو دی جاتی ہے اور اگر جب مشیت قبول نہ ہوئی تو اس کی مثل مستقبل میں پہنچنے والی کوئی مصیبت اس سے دور کی جاتی ہے، یا پھر آخرت میں دعا کی مثل رب العالمین مانگنے والے کو اجر عطا فرمائے گا، لیکن اگر دعا کسی گناہ کے لیے ہو یا صلہ رحمی کے خلاف ہو تو نہ تو قبول ہوتی ہے، اور نہ ہی اس کا ثواب ملتا ہے، اسی طرح دعا کی قبولیت کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ دعا آدمی کے حسب حال ہو، اس کی فطری حیثیت سے ماوراء نہ ہو جیسے کوئی غریب ہندی یہ دعا کرے کہ اے اللہ مجھے امریکہ کا صدر بنا دے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٧٨١) (حسن) (سند میں ابن لھیعہ ضعیف، اور ابوالزبیر مدلس ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے اچھا لگے (اور پسند آئے) کہ مصائب و مشکلات (اور تکلیف دہ حالات) میں اللہ اس کی دعائیں قبول کرے، تو اسے کشادگی و فراخی کی حالت میں کثرت سے دعائیں مانگتے رہنا چاہیئے ۔
Sayyidina Jabir (RA) reported having heard Allah’s Messenger ﷺ say, “There is none who makes a supplication but Allah gives him what he asks, or removes from him an evil equal to his supplication provided he has not supplicated for a sin or for severing of ties of relationship.”
حسن، الصحيحة (595)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3382
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٣٤٩٧) (حسن) (سند میں شہر بن حوشب متکلم فیہ راوی ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو الصحیحة رقم: ٥٩٣)
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: سب سے بہتر ذکر «لا إلہ إلا اللہ» ہے، اور بہترین دعا «الحمد للہ» ہے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that he heard Allah’s Messenger say, “The most excellent zikr is “There is no God but Allah” and the most excellent supplication is "all praise belongs to Allah(Alhamdulillah)".” [Ibn e Majah 3800]
حسن، ابن ماجة (3800)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3383
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف موسیٰ بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- علی بن مدینی اور کئی نے یہ حدیث موسیٰ بن ابراہیم سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «لا إله إلا الله» افضل ترین ذکر اس لیے ہے کہ یہ اصل التوحید ہے اور توحید کے مثل کوئی نیکی نہیں، نیز یہ شرک کو سب سے زیادہ نفی کرنے والا جملہ ہے، اور یہ دونوں باتیں اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہیں، اور «الحمد لله» سب سے افضل دعا اس معنی کر کے ہے کہ جو بندہ اللہ کی حمد کرتا ہے وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر یہ ادا کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «لئن شکرتم لأزيدنكم» اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تم کو اور زیادہ دوں گا، تو اس سے بہتر طلب ( دعا ) اور کیا ہوگی، اور بعض علماء کا کہنا ہے کہ «الحمد لله» سے اشارہ ہے سورة الحمدللہ میں جو دعا اس کی طرف، یعنی «إهدنا الصراط المستقيم» اور یہ سب سے افضل دعا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر وقت اللہ کو یاد کرتے تھے ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ remembered Allah at every moment. [Bukhari 634, Muslim 373, Abu Dawud 18, Ibn e Majah 302, Ahmed 26436]
صحيح، ابن ماجة (302)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3384
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سبھی اوقات سے یہ اوقات مستثنیٰ ہیں مثلاً: پاخانہ، پیشاب کی حالت اور جماع کی حالت، کیونکہ ان حالات میں ذکر الٰہی نہ کرنا، اسی طرح ان حالتوں میں مؤذن کے کلمات کا جواب نہ دینا اور چھینک آنے پر «الحمد للہ» نہ کہنا اور سلام کا جواب نہ دینا بہتر ہے۔
ابی بن کعب ؓ سے کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی کو یاد کر کے اس کے لیے دعا کرتے، تو پہلے اپنے لیے دعا کرتے پھر اس کے لیے۔
Sayyidina Ubayy ibn Ka’b “ reported that if Allah’s Messenger ﷺ remembered someone and prayed for him, he began with himself. [Abu Dawud 3984, Ibn e Majah 3852]
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ دعا میں ہاتھ اٹھاتے تھے تو جب تک اپنے دونوں ہاتھ منہ مبارک پر پھیر نہ لیتے انہیں نیچے نہ گراتے تھے، محمد بن مثنیٰ اپنی روایت میں کہتے ہیں: آپ دونوں ہاتھ جب دعا کے لیے اٹھاتے تو انہیں اس وقت تک واپس نہ لاتے جب تک کہ دونوں ہاتھ اپنے چہرے مبارک پر پھیر نہ لیتے ١ ؎۔
Sayyidina Umar ibn Khattab (RA) said that if Allah’s Messenger ‘ rasied his hands for prayer, he did not take them back without wiping them on his face. Muhammad ibn Muthanna said in his hadith: He did not return them till he rubbed his face with them.
ضعيف، المشکاة (2245)، الإرواء (433) // ضعيف الجامع الصغير (4412) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3386
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف حماد بن عیسیٰ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- حماد بن عیسیٰ نے اسے تنہا روایت کیا ہے، اور یہ بہت کم حدیثیں بیان کرتے ہیں، ان سے کئی لوگوں نے روایت لی ہے، ٣- حنظلہ ابن ابی سفیان جمحی ثقہ ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید قطان نے ثقہ کہا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دونوں روایتوں کا مفہوم ایک ہے فرق صرف الفاظ میں ہے، ایک میں ہے «لم يحطهما» اور دوسری میں ہے «لايردهما» اور یہی یہاں دونوں روایتوں کے ذکر سے بتانا مقصود ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٥٣١) (ضعیف) (سند میں ” عیسیٰ بن حماد “ ضعیف راوی ہیں)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر کسی کی دعا قبول کی جاتی ہے، جب تک کہ وہ جلدی نہ مچائے (جلدی یہ ہے کہ) وہ کہنے لگتا ہے: میں نے دعا کی مگر وہ قبول نہ ہوئی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The supplication of each one of you is accepted if he does not make haste and say, I prayed but was not given an answer.” [ Bukhari 634, Muslim 2735] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، صحيح أبي داود (2334)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3387
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ دعا کرتے ہوئے انسان یہ کبھی نہ سوچے کہ دعا مانگتے ہوئے اتنا عرصہ گزر گیا اور دعا قبول نہیں ہوئی، بلکہ اسے مسلسل دعا مانگتے رہنا چاہیئے، کیونکہ اس تاخیر میں بھی کوئی مصلحت ہے جو صرف اللہ کو معلوم ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٢٢ (٦٣٤٠)، صحیح مسلم/الزکر والدعاء ٢٥ (٢٧٣٥)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٨ (١٤٨٤)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٨ (٣٨٥٣) (تحفة الأشراف: ١٢٩٢٩)، وط/القرآن ٨ (٢٩)، و مسند احمد (٢/٣٩٦) (صحیح)
ابان بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو ہر روز صبح و شام کو «بسم اللہ الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» میں اس اللہ کے نام کے ذریعہ سے پناہ مانگتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ سننے والا جاننے والا ہے ، تین بار پڑھے اور اسے کوئی چیز نقصان پہنچا دے۔ ابان کو ایک جانب فالج کا اثر تھا، (حدیث سن کر) حدیث سننے والا شخص ان کی طرف دیکھنے لگا، ابان نے ان سے کہا: میاں کیا دیکھ رہے ہو؟ حدیث بالکل ویسی ہی ہے جیسی میں نے تم سے بیان کی ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ جس دن مجھ پر فالج کا اثر ہوا اس دن میں نے یہ دعا نہیں پڑھی تھی، اور نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے مجھ پر اپنی تقدیر کا فیصلہ جاری کردیا۔
Sayyidina Uthman ibn Affan (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: Nothing can harm a person who makes this supplication in the morning of every day and in the evening of every day three times each;
حسن صحيح، ابن ماجة (3869)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3388
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١١٠ (٥٠٨٨)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٤ (٣٨٦٩) (تحفة الأشراف: ٩٧٧٨)، و مسند احمد (١/٦٢، ٧٢) (صحیح)
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص شام کے وقت کہا کرے «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا» میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی (و خوش) ہوں ، تو اللہ پر یہ حق بنتا ہے کہ وہ اس بندے کو بھی اپنی طرف سے راضی و خوش کر دے ۔
Sayyidina Thawban (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone says in the evening: I am pleased with Allah as Lord, with Islam as religion and with Muhammad as a Prophet. then it is a right on Allah that He should be pleased with him. [Ahmed 18990]
ضعيف نقد الکتاني (33 / 34)، الکلم الطيب (24)، الضعيفة (5020) // ضعيف الجامع الصغير (5735) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3389
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢١٢٢) (ضعیف) (سند میں سعید بن المرزبان ضعیف راوی ہیں، تراجع الالبانی ٢٠٧)