Sunan At-Tirmidhi 3387

دعاؤں کا بیان

3387Sunan At-Tirmidhi

دعا میں جلدی کرنے والے کے متعلق

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، يَقُولُ: دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عُبَيْدٍ اسْمُهُ سَعْدٌ وَهُوَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ وَيُقَالُ: مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ هُوَ ابْنُ عَمِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَنَسٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر کسی کی دعا قبول کی جاتی ہے، جب تک کہ وہ جلدی نہ مچائے (جلدی یہ ہے کہ) وہ کہنے لگتا ہے: میں نے دعا کی مگر وہ قبول نہ ہوئی ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The supplication of each one of you is accepted if he does not make haste and say, I prayed but was not given an answer.” [ Bukhari 634, Muslim 2735] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، صحيح أبي داود (2334)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3387
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ دعا کرتے ہوئے انسان یہ کبھی نہ سوچے کہ دعا مانگتے ہوئے اتنا عرصہ گزر گیا اور دعا قبول نہیں ہوئی، بلکہ اسے مسلسل دعا مانگتے رہنا چاہیئے، کیونکہ اس تاخیر میں بھی کوئی مصلحت ہے جو صرف اللہ کو معلوم ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٢٢ (٦٣٤٠)، صحیح مسلم/الزکر والدعاء ٢٥ (٢٧٣٥)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٨ (١٤٨٤)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٨ (٣٨٥٣) (تحفة الأشراف: ١٢٩٢٩)، وط/القرآن ٨ (٢٩)، و مسند احمد (٢/٣٩٦) (صحیح)