دعاؤں کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 44 · 249 hadiths · Page 2 of 12

3390Sunan At-Tirmidhi

صبح اور شام کی دعائے متعلق

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى قَالَ: أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، أُرَاهُ قَالَ فِيهَا: لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ: ذَلِكَ أَيْضًا أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ لَمْ يَرْفَعْهُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو نبی اکرم ﷺ کہتے «أمسينا وأمسی الملک لله والحمد لله ولا إله إلا اللہ وحده لا شريك له أراه قال فيها له الملک وله الحمد وهو علی كل شيء قدير أسألک خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بک من شر هذه الليلة وشر ما بعدها وأعوذ بک من الکسل وسوء الکبر وأعوذ بک من عذاب النار وعذاب القبر» ہم نے شام کی اور ساری بادشاہی نے شام کی اللہ کے حکم سے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ وحدہ لاشریک لہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس رات میں جو خیر ہے، اس کا میں طالب ہوں، اور رات کے بعد کی بھی جو بھلائی ہے اس کا بھی میں خواہاں ہوں، اور اس رات کی برائی اور رات کے بعد کی بھی برائی سے میں پناہ مانگتا ہوں، اور پناہ مانگتا ہوں میں سستی اور کاہلی سے، اور پناہ مانگتا ہوں بوڑھا پے کی تکلیف سے، اور پناہ مانگتا ہوں آگ کے عذاب سے اور پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے ، اور جب صبح ہوتی تو اس وقت بھی یہی دعا پڑھتے، تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ «أمسينا» کی جگہ «أصبحنا» اور «أمسی» کی جگہ «أصبح» کہتے «وأصبح الملک لله والحمد لله» صبح کی ہم نے، اور صبح کی ساری بادشاہی نے، اور ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ۔

Sayyidina Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ used to make thissupplication in the evening: “We have come to the evening and all the universe has come to the evening. And all praise belongs to Allah. There is no God but Allah, He is Alone and has no partner. (The narrator thought that he also prayed:) To Him belongs the dominion and to Him belongs praise, and He is over all things Able. I ask you for the good of this night and the good of that which is after it. And I seek refuge in you from the evil of this night and the evil of that which is after it. And I seek refuge in you from sloth and evil of old age. And I seek refuge in you from punishment in the grave.” When itwas morning, he prayed in the same way but instead of evening, he said morning: “We have come to the morning and all the uriverse has come to the morning. And praise belongs to Allah.” [Ahmed 4192, Muslim 2723, Abu Dawud 5071, Nisai 23] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3390
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے، شعبہ نے یہ حدیث اسی سند سے ابن مسعود سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٨ (٢٧٢٣)، سنن ابی داود/ الأدب ١١٠ (٥٠٧١) (تحفة الأشراف: ٩٣٨٦) (صحیح)
3391Sunan At-Tirmidhi

صبح اور شام کی دعائے متعلق

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ أَصْحَابَهُ يَقُولُ: إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، وَإِذَا أَمْسَى فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُورُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کو سکھاتے ہوئے کہتے تھے کہ جب تمہاری صبح ہو تو کہو «اللهم بك أصبحنا وبک أمسينا وبک نحيا وبک نموت وإليك المصير» اے اللہ! تیرے حکم سے ہم نے صبح کی اور تیرے ہی حکم سے ہم نے شام کی، تیرے حکم سے ہم زندہ ہیں اور تیرے ہی حکم سے ہم مریں گے ، اور آپ نے اپنے صحابہ کو سکھایا جب تم میں سے کسی کی شام ہو تو اسے چاہیئے کہ کہے «اللهم بك أمسينا وبک أصبحنا وبک نحيا وبک نموت وإليك النشور» ہم نے تیرے ہی حکم سے شام کی اور تیرے ہی حکم سے صبح کی تھی، تیرے ہی حکم سے ہم زندہ ہیں اور تیرا جب حکم ہوگا، ہم مرجائیں گے اور تیری ہی طرف ہمیں اٹھ کر جانا ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger used to teach his sahabah (RA) “When one of you comes to morning, let him pray: “O Allah by You we enter in to morning and by You we enter into evening, and by You we live and by You we die, and to You is our return.” And when it is evening, let him pray. “O Allah, by You we come to evening and by You we come to morning, and by You we live and by You we die, and to You will we be gathered.” --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3868)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3391
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٢٦٨٨) (صحیح)
3392Sunan At-Tirmidhi

اسی سے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، قَال: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ الثَّقَفِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِشَيْءٍ أَقُولُهُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ، قَالَ: قُلْ: اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، قَالَ: قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئیے جسے میں صبح و شام میں پڑھ لیا کروں، آپ نے فرمایا: کہہ لیا کرو: «اللهم عالم الغيب والشهادة فاطر السموات والأرض رب کل شيء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بک من شر نفسي ومن شر الشيطان وشرکه» اے اللہ! غائب و حاضر، موجود اور غیر موجود کے جاننے والے، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ہر چیز کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں اپنے نفس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں شیطان کے شر اور اس کی دعوت شرک سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، آپ نے فرمایا: یہ دعا صبح و شام اور جب اپنی خواب گاہ میں سونے چلو پڑھ لیا کرو ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Sayyidina Abu Bakr (RA) requested, ‘O Messenger of Allah, command me some thing that I may supplicate when I come to morning and when I come to evening. He said! Say. O Allah! Knower of the unseen and the seen, Creator of the heavens and the earth, Lord of everything and its Owner, I bear witness that there is no god but You, I seek refuge with You from the mischief of my self and the mischief of the devil and his (temptation to) polytheism. He said, ‘Make this supplication when you come to morning, when you come to evening, and when you take to your bed.” [Ahmed 7966] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح الکلم الطيب (22)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3392
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١١٠ (٥٠٧٦) (تحفة الأشراف: ١٤٢٧٤) و مسند احمد (٢/٢٩٧)، وسنن الدارمی/الاستئذان ٥٤ (٢٧٣١) (صحیح)
3393Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى سَيِّدِ الِاسْتِغْفَارِ ؟ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ وَأَبُوءُ إِلَيْكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَعْتَرِفُ بِذُنُوبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، لَا يَقُولُهَا أَحَدُكُمْ حِينَ يُمْسِي فَيَأْتِي عَلَيْهِ قَدَرٌ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَلَا يَقُولُهَا حِينَ يُصْبِحُ فَيَأْتِي عَلَيْهِ قَدَرٌ قَبْلَ أَنْ يُمْسِيَ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ أَبْزَى، وَبُرَيْدَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ هُوَ ابْنُ أَبِي حَازِمٍ الزَّاهِدُ. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.

شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا میں تمہیں «سيد الاستغفار» (طلب مغفرت کی دعاؤں میں سب سے اہم دعا) نہ بتاؤں؟ (وہ یہ ہے) : «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدک وأنا علی عهدک ووعدک ما استطعت أعوذ بک من شر ما صنعت وأبوء لک بنعمتک علي وأعترف بذنوبي فاغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا میرا کوئی معبود برحق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا، میں تیرا بندہ ہوں، میں اپنی استطاعت بھر تجھ سے کیے ہوئے وعدہ و اقرار پر قائم ہوں، اور میں تیری ذات کے ذریعہ اپنے کئے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں تو نے مجھے جو نعمتیں دی ہیں، ان کا اقرار اور اعتراف کرتا ہوں، میں اپنے گناہوں کو تسلیم کرتا ہوں تو میرے گناہوں کو معاف کر دے، کیونکہ گناہ تو بس تو ہی معاف کرسکتا ہے ، شداد کہتے ہیں: آپ نے فرمایا: یہ دعا تم میں سے کوئی بھی شام کو پڑھتا ہے اور صبح ہونے سے پہلے ہی اس پر «قدر» (موت) آ جاتی ہے تو جنت اس کے لیے واجب ہوجاتی ہے، اور کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جو اس دعا کو صبح کے وقت پڑھے اور شام ہونے سے پہلے اسے «قدر» (موت) آ جائے مگر یہ کہ جنت اس پر واجب ہوجاتی ہے ۔

Sayyidina Shaddad ibn Aws reported that the Prophet ﷺ said to him: Shall I not guide you to Sayyid-ul-Istighfar(the chief of supplication seeking forgiveness)? (It is): “O Allah, You are my Lord. There is no god but You. You created me and I am Your slave and I stick to Your covenant and promise as much as I can. I seek refuge in You from the evil of that which I is do. And I confirm to You Your Favours to me and I confess my sin. Forgive me my sin, for, none forgives sin but You.” (He said,) None of you will say this when it is evening but (He said,) that if his term comes before it is moi’ning then admittance to paradise will be assured to him. And he will not say this when he finds the morning but that if his term comes upon him before evening then admittance to paradise will be assured to him. [Bukhari 6306]

صحيح، الصحيحة (1747)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3393
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے شداد بن اوس ؓ کے واسطہ سے آئی ہے، ٣- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عمر، ابن مسعود، ابن ابزی اور بریدہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤٨٢٥) (وأخرجہ صحیح البخاری/الدعوات ٢ (٦٣٠٦)، وسنن النسائی/الاستعاذة ٥٦ (٥٥٢٤)، و مسند احمد (٤/١٢٢، ١٢٥)، نحوہ بدون قولہ ” ألا ا أدلک علی سید الاستغفار “ ) (صحیح)
3394Sunan At-Tirmidhi

سوتے وقت پڑھنے والی دعائیں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ لَهُ: أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تَقُولُهَا إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ، فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ وَقَدْ أَصَبْتَ خَيْرًا، تَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، قَالَ الْبَرَاءُ: فَقُلْتُ: وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، قَالَ: فَطَعَنَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، ثُمَّ قَالَ: وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ الْبَرَاءِ، وَرَوَاهُمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ وَأَنْتَ عَلَى وُضُوءٍ، وَفِي الْبَابِ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے کہا: کیا میں تمہیں ایسے کچھ کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم اپنے بستر پر سونے کے لیے جانے لگو تو کہہ لیا کرو، اگر تم اسی رات میں مرجاؤ تو فطرت پر (یعنی اسلام پر) مرو گے اور اگر تم نے صبح کی تو صبح کی، خیر (اجر و ثواب) حاصل کر کے، تم کہو:«اللهم إني أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وفوضت أمري إليك رغبة ورهبة إليك وألجأت ظهري إليك لا ملجأ ولا منجی منك إلا إليك آمنت بکتابک الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے حوالے کردی، میں اپنا رخ تیری طرف کر کے پوری طرح متوجہ ہوگیا، میں نے اپنا معاملہ تیری سپردگی میں دے دیا، تجھ سے امیدیں وابستہ کر کے اور تیرا خوف دل میں بسا کر، میری پیٹھ تیرے حوالے، تیرے سوا نہ میرے لیے کوئی جائے پناہ ہے اور نہ ہی تجھ سے بچ کر تیرے سوا کوئی ٹھکانا میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اتاری ہے، میں تیرے اس رسول پر ایمان لایا جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ہے ۔ براء کہتے ہیں: میں نے «نبيك الذي أرسلت» کی جگہ «برسولک الذي أرسلت» کہہ دیا تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر اپنے ہاتھ سے کونچا، پھر فرمایا: «ونبيك الذي أرسلت» ١ ؎۔

Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Shall I not teach you an expression which if you utter when you go to your bed and happen to die that night you will die on nature (that is Islam) and if you come to morning then you will come with goodness?” Say: “ O Allah, I have entrusted my soul to You, turned my face to You and placed my affairs in Your trust out of desire and out of fear for You. And I have put my back in Your protection, for, there is no refuge and no place of safety from You except through You. I believe in Your Book that You have sent down and in Your Prophet ﷺ who You have commissioned.” Bara said that he utered, “and in Your Messenger whom You have commissioned,” but the Prophet ﷺ struck his hand on his chest and said, “and in Your Prophet ﷺ whom You have commissioned.” [Ahmed 18585, Bukhari 247, Muslim 12710, Abu Dawud 5046, Ibn e Majah 3876]

صحيح الکلم الطيب (41 / 26)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3394
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- یہ حدیث براء ؓ سے کئی سندوں سے آئی ہے، ٣- اس حدیث کو منصور بن معتمر نے سعد بن عبیدہ سے اور سعد نے براء کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے، البتہ ان کی روایت میں اتنا فرق ہے کہ جب تم اپنے بستر پر آؤ اور تم وضو سے ہو تو یہ دعا پڑھا کرو، ٤- اس باب میں رافع بن خدیج ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میں نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں وہی کہو، انہیں بدلو نہیں، چاہے یہ الفاظ قرآن کے نہ بھی ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢١٥ (٧٥٩)، و ٢٢٢ (٧٧ ¤ ٣- ٧٨٧) (تحفة الأشراف: ١٨٥٨) (صحیح)
3395Sunan At-Tirmidhi

سوتے وقت پڑھنے والی دعائیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاق ابْنِ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا اضْطَجَعَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ أُومِنُ بِكِتَابِكَ وَبِرَسُولِكَ فَإِنْ مَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی داہنی کروٹ لیٹے پھر پڑھے: «اللهم أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وألجأت ظهري إليك وفوضت أمري إليك لا ملجأ ولا منجی منك إلا إليك أومن بکتابک وبرسولک» اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کردی، میں نے اپنا منہ (اوروں کی طرف سے پھیر کر) تیری طرف کردیا، میں نے اپنی پیٹھ تیری طرف ٹیک دی، میں نے اپنا معاملہ تیرے حوالے کردیا، تجھ سے بچ کر تیرے سوا اور کوئی جائے پناہ و جائے نجات نہیں ہے، میں تیری کتاب اور تیرے رسولوں پر ایمان لاتا ہوں ، پھر اسی رات میں مرجائے، تو وہ جنت میں جائے گا۔

Sayyidina Rafi ibn Khadij reported that the Prophet ﷺ said, “If one of you lies down on his right side and makes this supplication: “O Allah, I have entrusted my soul to You, turned my face to You and put my back to Your protection and placed my affairs in Your trust, there being no refuge and no place of safety from You except through You. I believe in Your Book and in Your Messenger.” and happens to die that night then he will be admitted to paradise. [Nisai 776] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف الإسناد، وقوله: وبرسولک مخالف للصحيح الذي قبله (3394) // ضعيف الجامع الصغير (381) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3395
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث رافع بن خدیج ؓ کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢٢٢ (٧٧١) (تحفة الأشراف: ٣٥٨٩) (ضعیف) (سند میں یحییٰ بن کثیر ثقہ راوی ہیں، لیکن تدلیس اور ارسال کرتے ہیں، اور یہاں روایت عنعنہ سے کی ہے)
3396Sunan At-Tirmidhi

سوتے وقت پڑھنے والی دعائیں

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا وَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر سونے کے لیے آتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وکفانا وآوانا فکم ممن لا کا في له ولا مؤوي» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا اور بچایا ہم کو (مخلوق کے شر سے) اور ہم کو (رہنے سہنے کے لیے) ٹھکانا دیا، جب کہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی حمایتی اور محافظ ہے اور نہ ہی کوئی ٹھکانا اور جائے رہائش ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ retired to his bed, he made this prayer: “ Praise belongs to Allah Who fed us, gave us to drink, satisfied us and gaveus refuge. How many there are who have none to give them enough or to protect them with refuge!” [Ahmed 2553, Muslim 2715, Abu Dawud 5053, Nisai 803] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3396
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٧ (٢٧١٥)، سنن ابی داود/ الأدب ١٠٧ (٥٠٥٣) (تحفة الأشراف: ٣١١)، و مسند احمد (٣/١٥٣، ١٦٧، ٢٣٥) (صحیح)
3397Sunan At-Tirmidhi

اسی کے بارے میں

حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْوَصَّافِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الْعَظِيمَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ، وَإِنْ كَانَتْ عَدَدَ وَرَقِ الشَّجَرِ، وَإِنْ كَانَتْ عَدَدَ رَمْلِ عَالِجٍ وَإِنْ كَانَتْ عَدَدَ أَيَّامِ الدُّنْيَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْوَصَّافِيِّ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے ہوئے تین بار کہے: «أستغفر اللہ العظيم الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» میں اس عظیم ترین اللہ سے استغفار کرتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ ہمیشہ زندہ اور تا ابد قائم و دائم رہنے والا ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں ، اللہ اس کے گناہ بخش دے گا اگرچہ وہ گناہ سمندر کی جھاگ کی طرح (بےشمار) ہوں، اگرچہ وہ گناہ درخت کے پتوں کی تعداد میں ہوں، اگرچہ وہ گناہ اکٹھا ریت کے ذروں کی تعداد میں ہوں، اگرچہ وہ دنیا کے دنوں کے برابر ہوں۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that the Prophet ﷺ ‘ said: If anyone says when he retires to his bed. “I seek forgiveness of Allah Who-there is no god besides Him, the Ever-Living, the Eternal, and I repent to Him.” three times, then Allah will forgive him his sins even though they be like the foam of the sea, or as many in number as the sand particles of Aalij, or equal to the number of days of this world. [Ahmed 11074]

ضعيف الکلم الطيب (39)، التعليق الرغيب (1 / 211) // ضعيف الجامع الصغير (5728) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3397
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف اس سند سے عبیداللہ بن ولید وصافی کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤٢١٤) (ضعیف) (سند میں ” عطیہ عوفی “ ضعیف ہیں)
3398Sunan At-Tirmidhi

اسی کے بارے میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ أَوْ تَبْعَثُ عِبَادَكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سونے کا ارادہ کرتے تو اپنا ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھتے، پھر پڑھتے: «اللهم قني عذابک يوم تجمع أو تبعث عبادک» اے اللہ! مجھے تو اس دن کے عذاب سے بچا لے جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا یا اٹھائے گا ۔

Sayyidma Hudhyfah ibn Yaman reported that when the Prophet ﷺ decided to sleep, he put his hand under his head and said: “ O Allah protect me from Your punishmenton the day on which You assemble or resurrect Your slaves.”

صحيح، الصحيحة (2754)، الکلم الطيب (37 / 39)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3398
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٣٢٠) (صحیح)
3399Sunan At-Tirmidhi

اسی کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ هُوَ السَّلُولِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَسَّدُ يَمِينَهُ عِنْدَ الْمَنَامِ، ثُمَّ يَقُولُ: رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرَوَى الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ لَمْ يَذْكُرْ بَيْنَهُمَا أَحَدًا، وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ وَرَجُلٌ آخَرَ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَرَوَى إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَعَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سوتے وقت اپنے داہنے ہاتھ کا تکیہ بناتے تھے، پھر پڑھتے تھے: «رب قني عذابک يوم تبعث عبادک» اے میرے رب! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا لے جس دن کہ تو مردوں کو اٹھا کر زندہ کرے گا ۔

Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ used to rest his head on his right hand while going to sleep and say: “O Lord save me from Your purishment on the day You raise Your slaves.” [Ahmed 18694, Bukhari 1215, Tirmidhi 252] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الصحيحة أيضاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3399
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث (امام) ثوری نے ابواسحاق سے روایت کی، اور ابواسحاق نے براء سے، اور امام ثوری نے ان دونوں یعنی ابواسحاق و براء کے بیچ میں کسی اور راوی کا ذکر نہیں کیا، ٣- روایت کی شعبہ نے ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے ابوعبیدہ سے، اور ایک دوسرے شخص نے براء سے، ٤- اسرائیل نے ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے عبداللہ بن یزید کے واسطہ سے براء سے روایت کی ہے، اور ابواسحاق نے ابوعبیدہ اور ابوعبیدہ نے عبداللہ بن مسعود ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی کی طرح روایت کی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢١٥ (٧٥ ¤ ٢- ٧٥٨) (تحفة الأشراف: ١٩٢٣)، و مسند احمد (٤/٢٩٠، ٢٩٨) (صحیح)
3400Sunan At-Tirmidhi

اسی کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا أَخَذَ أَحَدُنَا مَضْجَعَهُ أَنْ يَقُولَ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَرَبَّ الْأَرَضِينَ، وَرَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، وَفَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَالظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَالْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کہے: «اللهم رب السموات ورب الأرضين وربنا ورب کل شيء وفالق الحب والنوی ومنزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بک من شر کل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلک شيء وأنت الآخر فليس بعدک شيء والظاهر فليس فوقک شيء والباطن فليس دونک شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» اے آسمانوں اور زمینوں کے رب! اے ہمارے رب! اے ہر چیز کے رب! زمین چیر کر دانے اور گٹھلی سے پودے اگانے والے، توراۃ، انجیل اور قرآن نازل کرنے والے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر شر والی چیز کے شر سے، تو ہی ہر شر و فساد کی پیشانی اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ تو ہی سب سے پہلے ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے، تو ہی سب سے آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہے، تو سب سے ظاہر (اوپر) ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو باطن (نیچے و پوشیدہ) ہے تیرے سے نیچے کوئی چیز نہیں ہے، مجھ پر جو قرض ہے اسے تو ادا کر دے اور تو مجھے محتاجی سے نکال کر غنی کر دے ۔

Sayyidma Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger would command them that when one of them took to his bed, he must pray: “ O Allah, Lord of the heavens and the earth, our Lord and Lord of everything, Who splits the grain and the kernel, Who has sent down the Torah and the Injeel and the Qur’an. I seek refuge in You from the evil of every source of evil whom You do seize by the forelock! You are the First, nothing being before You and You are the last, nothing being after You. You are the Manifest, nothing being above You and You are the Hidden, nothing being beyond You, pay for me the debt and grant me riches rather than poverty.” [Ahmed 8969, Muslim 2713, Abu Dawud 5051, Ibn e Majah 3873] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح الکلم الطيب (40)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3400
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٧ (٢٧١٣)، سنن ابی داود/ الأدب ١٠٧ (٥٠٥١)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢ (٣٨٧٣) (تحفة الأشراف: ١٢٦٣١)، و مسند احمد (٢/٤٠٤) (صحیح)
3402Sunan At-Tirmidhi

سوتے وقت قرآن پڑھنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، فَقَرَأَ فِيهِمَا: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ، يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر رات جب اپنے بستر پر آتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کرتے، پھر ان دونوں پر یہ سورتیں: «قل هو اللہ أحد»، «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» ١ ؎ پڑھ کر پھونک مارتے، پھر ان دونوں ہتھیلیوں کو اپنے جسم پر جہاں تک وہ پہنچتیں پھیرتے، اور شروع کرتے اپنے سر، چہرے اور بدن کے اگلے حصے سے، اور ایسا آپ تین بار کرتے۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated: When the Prophet ﷺ came to his bed every night, he wouid place together both palms (in a scoop), blow on them and recite on them: “Surah al-Ikhlas, al-Falaq and an-Naas”. Then he would wipe them on as much of his body as he could, beginning them at his head and his face and that of his body that is in the front. He would do that three times. [Bukhari 6319, Abu Dawud 5056, Ibn e Majah 3875] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3402
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: انہیں معوذات کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ سے اللہ رب العالمین کے حضور پناہ کی درخواست کی جاتی ہے، معلوم ہوا کہ سوتے وقت ان سورتوں کو پڑھنا چاہیئے تاکہ سوتے میں اللہ کی پناہ حاصل ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ١٢ (٦٣١٩)، سنن ابی داود/ الأدب ١٠٧ (٥٠٥٦)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٥ (٣٨٧٥) (تحفة الأشراف: ١٦٥٣٧) (صحیح)
3404Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ: بِتَنْزِيلُ السَّجْدَةِ، وَبِتَبَارَكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَقَدْ رَوَى زُهَيْرٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ ؟ قَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ جَابِرٍ، إِنَّمَا سَمِعْتُهُ مِنْ صَفْوَانَ أَوْ ابْنِ صَفْوَانَ، وَقَدْ رَوَى شَبَابَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ نَحْوَ حَدِيثِ لَيْثٍ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اس وقت تک سوتے نہ تھے جب تک کہ سونے سے پہلے آپ سورة «سجدہ» اور سورة « تبارک الذی» (یعنی سورة الملک) پڑھ نہ لیتے تھے۔

Sayyidina Jabir (RA) said that the Prophet ﷺ did not go to sleep till he had recited and [These are surah Sajdah #32 and al-Mulk # 67].

صحيح، المشکاة (2155)، الصحيحة (585)، الروض النضير (227)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3404
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- سفیان (ثوری) اور کچھ دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث لیث سے، لیث نے ابوالزبیر سے، ابوالزبیر نے جابر کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے، ٢- زہیر نے بھی یہ حدیث ابوالزبیر سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے یہ حدیث جابر سے (خود) سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہ حدیث جابر سے نہیں سنی ہے، میں نے یہ حدیث صفوان یا ابن صفوان سے سنی ہے، ٣- شبابہ نے مغیرہ بن مسلم سے، مغیرہ نے ابوالزبیر سے اور ابوالزبیر نے جابر سے لیث کی حدیث کی طرح روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٨٩٢ (صحیح)
3406Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بِلَالٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ الْمُسَبِّحَاتِ، وَيَقُولُ فِيهَا آيَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ آيَةٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب تک «مسبحات» ١ ؎ پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے ٢ ؎، آپ فرماتے تھے: ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے ۔

Sayyidina Irbad ibn Sariyah (RA) reported that the Prophet ﷺ would not go to sleep till he had recited the musabbihat.1 He would say that there is a verse in these surah that is better than a thousand verses.

حسن ومضی برقم (3101)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3406
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ سورتیں جن کے شروع میں «سبح»، «ی سبح» یا «سبحان اللہ» ہے۔ ٢ ؎: سونے کے وقت پڑھی جانے والی سورتوں اور دعاؤں کے بارے میں آپ ﷺ سے متعدد روایات وارد ہیں جن میں بعض کا مولف نے بھی ذکر کیا ہے، نبی اکرم ﷺ سے بالکل ممکن ہے کہ وہ ساری دعائیں اور سورتیں پڑھ لیتے ہوں، یا نشاط اور چستی کے مطابق کبھی کوئی پڑھ لیتے ہوں اور کبھی کوئی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٩٢١ (ضعیف) (سند میں بقیة بن الولید مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز عبد اللہ بن أبی بلال الخزاعی الشامی مقبول عندالمتابعہ ہیں، اور ان کا کوئی متابع نہیں اس لیے ضعیف ہیں، البانی صاحب نے صحیح الترمذی میں پہلی جگہ ضعیف الإسناد لکھا ہے، اور دوسری جگہ حسن جب کہ ضعیف الترغیب (٣٤٤) میں اسے ضعیف کہا ہے)
3407Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْرَجُلٍ مَنْ بَنِي حَنْظَلَةَ، قَالَ: صَحِبْتُ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: أَلَا أُعَلِّمُكَ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا أَنْ نَقُولَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَأَسْأَلُكَ عَزِيمَةَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ لِسَانًا صَادِقًا وَقَلْبًا سَلِيمًا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ مِمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ .قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَأْخُذُ مَضْجَعَهُ يَقْرَأُ سُورَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ مَلَكًا فَلَا يَقْرَبُهُ شَيْءٌ يُؤْذِيهِ حَتَّى يَهُبَّ مَتَى هَبَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْجُرَيْرِيُّ هُوَ سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ، وَأَبُو الْعَلَاءِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ.

بنی حنظلہ کے ایک شخص نے کہا کہ میں شداد بن اوس ؓ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ سکھاؤں جسے ہمیں رسول اللہ ﷺ سکھاتے تھے، آپ نے ہمیں سکھایا کہ ہم کہیں: «اللهم إني أسألک الثبات في الأمر وأسألک عزيمة الرشد وأسألک شکر نعمتک وحسن عبادتک وأسألک لسانا صادقا وقلبا سليما وأعوذ بک من شر ما تعلم وأسألک من خير ما تعلم وأستغفرک مما تعلم إنك أنت علام الغيوب» اے اللہ! میں تجھ سے کام میں ثبات (جماؤ ٹھہراؤ) کی توفیق مانگتا ہوں، میں تجھ سے نیکی و بھلائی کی پختگی چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ تو مجھے اپنی نعمت کے شکریہ کی توفیق دے، اپنی اچھی عبادت کرنے کی توفیق دے، میں تجھ سے لسان صادق اور قلب سلیم کا طالب ہوں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جو تیرے علم میں ہے اور اس خیر کا بھی میں تجھ سے طلب گار ہوں جو تیرے علم میں ہے اور تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں ان گناہوں کی جنہیں تو جانتا ہے تو بیشک ساری پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے۔

A man of Banu Hanzalah narrated: I accompanied Shaddad ibn Aws on a journey. He said to me that he would teach me what Allah’s Messenger used to teach them. It was that they should pray: “O Allah, I ask You for steadfastness in keeping Your command. And I ask You for firmness of resolution in (pursuing) the right path. And I ask You (enablement) to be thankful for Your favours and to worship You in the best way. And I ask You for a truthful tongue and a sound heart. And I seek refuge in You from the mischief that You know and I ask You for the good that You know. And I seek Your forgiveness for (sins) that You know Indeed, You are the Best Knower of the unseen.” He also reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is no Muslim who when he goes to bed recites a surah from the Book of Allah but that Allah appoints an angel to protect him so that nothing harmful approaches him till he arises when he awakes.” [Ahmed 171733] --------------------------------------------------------------------------------

(حديث: اللهم إني أسألک الثبات في الأمر ... ) ضعيف، (حديث: ما من مسلم يأخذ مضجعه .... ) ضعيف (حديث: اللهم إني أسألک الثبات في الأمر ... )، المشکاة (955)، الکلم الطيب (104 / 65)، (حديث: ما من مسلم يأخذ مضجعه ... )، المشکاة (2405)، التعليق الرغيب (1 / 210) // ضعيف الجامع الصغير (5218) // (حديث: اللهم إني أسألک الثبات في الأمر ... ) ضعيف، (حديث: ما من مسلم يأخذ مضجعه .... ) ضعيف (حديث: اللهم إني أسألک الثبات في الأمر ... )، المشکاة (955)، الکلم الطيب (104 / 65)، (حديث: ما من مسلم يأخذ مضجعه ... )، المشکاة (2405)، التعليق الرغيب (1 / 210) // ضعيف الجامع الصغير (5218) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3407 شداد بن اوس ؓ نے کہا: اور رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: جو مسلمان بھی اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتا ہے، اور کتاب اللہ (قرآن پاک) میں سے کوئی سورت پڑھ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کے لیے فرشتہ مقرر کردیتا ہے، جس کی وجہ سے تکلیف دینے والی کوئی چیز اس کے قریب نہیں پھٹکتی، یہاں تک کہ وہ سو کر اٹھے جب بھی اٹھے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3407
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- جریری: یہ سعید بن ایاس ابومسعود جریری ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢٣٣ (٨١٢) (تحفة الأشراف: ٤٨٣١)، و مسند احمد (٤/١٢٥) (ضعیف) (سند میں ایک راوی ” مبہم “ ہے) انظر ما قبلہ (ضعیف)
3408Sunan At-Tirmidhi

سوتے وقت تسبیح، تکبیر، اور تحمید کہنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَكَتْ إِلَيَّ فَاطِمَةُ مَجَلَ يَدَيْهَا مِنَ الطَّحِينِ: فَقُلْتُ لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِهِ خَادِمًا، فَقَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنَ الْخَادِمِ، إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا تَقُولَانِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ مِنْ تَحْمِيدٍ وَتَسْبِيحٍ وَتَكْبِيرٍ ، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ فاطمہ ؓ نے مجھ سے آٹا پیسنے کے سبب ہاتھوں میں آبلے پڑجانے کی شکایت کی، میں نے ان سے کہا: کاش آپ اپنے ابو جان کے پاس جاتیں اور آپ ﷺ سے اپنے لیے ایک خادم مانگ لیتیں، (وہ گئیں تو) آپ نے (جواب میں) فرمایا: کیا میں تم دونوں کو ایسی چیز نہ بتادوں جو تم دونوں کے لیے خادم سے زیادہ بہتر اور آرام دہ ہو، جب تم دونوں اپنے بستروں پر سونے کے لیے جاؤ تو ٣٣ بار الحمدللہ اور سبحان اللہ اور ٣٤ بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے ١ ؎۔

Sayyidina Ali narrated: Fatimah complained to me of blisters on her hands from grinding the mill. I suggestd to her that she should go to her father and ask him for a maid-servant. He said (to her), “Shall I not guide you both to something better for both of you than a servant? When you both retire to your bed, make thirty-three, thirty-three and thirty-four times praise, glorification and extoling (of Allah by the words SubhanAllah 33 times AlhamduliLLAH 33 times and AllahuAkbar 34 times) There is a lengthier account in the hadith. [Ahmed 740,996]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3408
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث ابن عون کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث کئی اور سندوں سے علی ؓ سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ قصہ یہ ہے کہ کہیں سے مال غنیمت آیا تھا جس میں غلام اور باندیاں بھی تھیں، علی ؓ نے انہیں میں سے مانگنے کے لیے فاطمہ ؓ کو بھیجا، لیکن آپ نے فاطمہ ؓ کو لوٹا دیا اور رات میں ان کے گھر آ کر مذکورہ تسبیحات بتائیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فرض الخمس ٦ (٣١١٢)، والمناقب ٩ (٣٧٠٥)، والنفقات ٦ (٥٣٦١)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٩ (٢٧٢٧)، سنن ابی داود/ الأدب ١٠٩ (٥٠٦٢) (تحفة الأشراف: ١٠٢٣٥)، و مسند احمد (١/٩٦، ١٣٦، ١٤٦)، وسنن الدارمی/الاستئذان ٥٢ (٢٧٢٧) (صحیح)
3409Sunan At-Tirmidhi

سوتے وقت تسبیح، تکبیر، اور تحمید کہنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو مَجَلًا بِيَدَيْهَا فَأَمَرَهَا بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ .

علی ؓ کہتے ہیں کہ (آپ کی بیٹی) فاطمہ ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس اپنے ہاتھوں میں آبلے پڑجانے کی شکایت کرنے آئیں تو آپ نے انہیں تسبیح (سبحان اللہ) تکبیر (اللہ اکبر) اور تحمید (الحمدللہ) پڑھنے کا حکم دیا۔

Sayyidina Ali (RA) narrated: Fatimah went to the Prophet ﷺ complaining about blisters on her hands. He commanded her to engage in tashbih, takbir and tahmid.

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3409
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح)
3410Sunan At-Tirmidhi

اسی سے متعلق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍورَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَلَّتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ أَلَا وَهُمَا يَسِيرٌ، وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ: يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَيَحْمَدُهُ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُهُ عَشْرًا ، قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ، قَالَ: فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ، وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ تُسَبِّحُهُ وَتُكَبِّرُهُ وَتَحْمَدُهُ مِائَةً، فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ ، قَالُوا: فَكَيْفَ لَا يُحْصِيهَا ؟ قَالَ: يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ، فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا حَتَّى يَنْفَتِلَ، فَلَعَلَّهُ لَا أَنْ يَفْعَلُ، وَيَأْتِيهِ وَهُوَ فِي مَضْجَعِهِ فَلَا يَزَالُ يُنَوِّمُهُ حَتَّى يَنَامَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَرَوَى الْأَعْمَشُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ مُخْتَصَرًا، وَفِي الْبَابِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو عادتیں ایسی ہیں جنہیں جو بھی مسلمان پابندی اور پختگی سے اپنائے رہے گا وہ جنت میں جائے گا، دھیان سے سن لو، دونوں آسان ہیں مگر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے ہیں، ہر نماز کے بعد دس بار اللہ کی تسبیح کرے (سبحان اللہ کہے) دس بار حمد بیان کرے (الحمدللہ کہے) اور دس بار اللہ کی بڑائی بیان کرے (اللہ اکبر کہے) ۔ عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو انہیں اپنی انگلیوں پر شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ نے فرمایا: یہ تو زبان سے گننے میں ڈیڑھ سو ١ ؎ ہوئے لیکن یہ (دس گنا بڑھ کر) میزان میں ڈیڑھ ہزار ہوجائیں گے۔ (یہ ایک خصلت و عادت ہوئی) اور (دوسری خصلت و عادت یہ ہے کہ) جب تم بستر پر سونے جاؤ تو سو بار سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمدللہ کہو، یہ زبان سے کہنے میں تو سو ہیں لیکن میزان میں ہزار ہیں، (اب بتاؤ) کون ہے تم میں جو دن و رات ڈھائی ہزار گناہ کرتا ہو؟ لوگوں نے کہا: ہم اسے ہمیشہ اور پابندی کے ساتھ کیوں نہیں کرسکیں گے؟ آپ نے فرمایا: (اس وجہ سے) کہ تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: فلاں بات کو یاد کرو، فلاں چیز کو سوچ لو، یہاں تک کہ وہ اس کی توجہ اصل کام سے ہٹا دیتا ہے، تاکہ وہ اسے نہ کرسکے، ایسے ہی آدمی اپنے بستر پر ہوتا ہے اور شیطان آ کر اسے (تھپکیاں دیدے کر) سلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ (بغیر تسبیحات پڑھے) سو جاتا ہے ٢ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger said, ‘Two characteristics are such that if a Muslim man adopts them, he will be admitted to paradise. And, indeed, both of them are easy but those who put them in practice are few. Glorify Allah at the end of every salah ten times, praise, Him ten times and extol Him ten times. The narrator said I observed Allah’s Messenger ﷺ count them on his fingers. He said, “They are a hundred and fifty by the tongue, but one thousand and five hundred in the scale. And, when you take to your bed glorify Him, extol Him and praise Him a hundred times. That is a hundred on the tongue but a thousand in the scale. So which of you commits during the day and night two thousand and five hundred sins?’O They (the sahabah .) said, “Why can we not do it regularly?” He said, “The devil comes to one of you while he is engaged in his, salah and says, Remember this, Remember that, till he finishes his salah and perhaps does not do it. And when he goes to bed, the devil comes to him and does not cease tc, induce sleep over him till he is asleep.” [Abu Dawud 5065, Nisai 1344, Ahmed 6927]

صحيح، ابن ماجة (926)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3410
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- شعبہ اور ثوری نے یہ حدیث عطاء بن سائب سے روایت کی ہے۔ اور اعمش نے یہ حدیث عطاء بن سائب سے اختصار کے ساتھ روایت کی ہے، ٣- اس باب میں زید بن ثابت، انس اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ہر نماز کے بعد دس مرتبہ اگر انہیں پڑھا جائے تو ان کی مجموعی تعداد ڈیڑھ سو ہوتی ہے۔ ٢ ؎: یہی وجہ ہے کہ یہ دو مستقل عادتیں و خصلتیں رکھنے والے لوگ تھوڑے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٠٩ (٥٠٦٥)، سنن النسائی/السھو ٩١ (١٣٤٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٢ (٩٢٦) (تحفة الأشراف: ٨٦٣٨)، و مسند احمد (٢/١٦٠، ٢٠٥) (صحیح)
3411Sunan At-Tirmidhi

اسی سے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تسبیح (سبحان اللہ) انگلیوں پر گنتے ہوئے دیکھا ہے۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr reported having observed Allah’s Messenger count the tasbih on his fingers. [Abu Dawud 1502, Nisai 1351]

صحيح، ابن ماجة (926)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3411
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٩ (١٥٠٢)، سنن النسائی/السھو ٩٧ (١٣٥٦) (تحفة الأشراف: ٨٦٣٧) (صحیح)
3412Sunan At-Tirmidhi

اسی سے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ الْأَحْمَسِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ: يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَيَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَيُكَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَعَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ ثِقَةٌ حَافِظٌ، وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْحَكَمِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَرَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ الْحَكَمِ فَرَفَعَهُ.

کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کچھ چیزیں نماز کے پیچھے (بعد میں) پڑھنے کی ایسی ہیں کہ ان کا کہنے والا محروم و نامراد نہیں رہتا، ہر نماز کے بعد ٣٣ بار سبحان اللہ کہے، ٣٣ بار الحمدللہ کہے، اور ٣٤ بار اللہ اکبر کہے ۔

Sayyidina Ka’b ibn Ujrah reported that the Prophet ﷺ said, “There are certain mu’aqibat (post salah supplication) whose speaker is not deprived. Glorify Allah after every salah thirty-three times, praise Him thirty-three times and extol Him thirty-four times.” [Muslim 596, Nisai 1345]

صحيح، الصحيحة (102) (هذا حديث زيد بن ثابت فی نسخة الدع اس فی التسبيح والتحميد والتکبير والتهليل)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3412
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- شعبہ نے یہ حدیث حکم سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے، اور منصور بن معتمر نے حکم سے روایت کی ہے اور اسے مرفوع کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٦ (٥٩٦)، سنن النسائی/السھو ٩٢ (١٣٥٠)، وعمل الیوم واللیلة ٥٩ (١٥٥) (تحفة الأشراف: ١١١١٥) (صحیح)