دعاؤں کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 44 · 249 hadiths · Page 3 of 12

3413Sunan At-Tirmidhi

اسی سے متعلق

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنَحْمَدَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنُكَبِّرَهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، قَالَ: فَرَأَى رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الْمَنَامِ، فَقَالَ: أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُوا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاجْعَلُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ، وَاجْعَلُوا التَّهْلِيلَ مَعَهُنَّ، فَغَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ، فَقَالَ: افْعَلُوا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا کہ ہر نماز کے بعد ہم (سلام پھیر کر) ٣٣ بار سبحان اللہ، ٣٣ بار الحمدللہ اور ٣٤ بار اللہ اکبر کہیں، راوی (زید) کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے خواب دیکھا، خواب میں نظر آنے والے شخص (فرشتہ) نے پوچھا: کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ ہر نماز کے بعد ٣٣ بار سبحان اللہ ٣٣ بار الحمدللہ اور ٣٤ بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو؟ اس نے کہا: ہاں، (تو سائل (فرشتے) نے کہا: (٣٣، ٣٣ اور ٣٤ کے بجائے) ٢٥ کرلو، اور «لا إلہ إلا اللہ» کو بھی انہیں کے ساتھ شامل کرلو، (اس طرح کل سو ہوجائیں گے) صبح جب ہوئی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے، اور آپ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ایسا ہی کرلو ١ ؎۔

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سلسلے میں تین روایتیں ہیں ایک یہی اس حدیث میں مذکور طریقہ ( یعنی ٣٣/٣٣/ اور ٣٤ بار ) دوسرا طریقہ وہی جو فرشتے نے بتایا، اور ایک تیسرا طریقہ یہ ہے کہ سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر ٣٣/٣٣ بار، اور ایک بار سو کا عدد پورا کرنے کے لیے «لا الہ الا اللہ» کہے، جو طریقہ بھی اپنائے سب ثابت ہے، کبھی یہ کرے اور کبھی وہ۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السھو ٩٣ (١٣٥١) (تحفة الأشراف: ٣٤١٣)، و مسند احمد (٥/٥٨٥، ١٩٠)، وسنن الدارمی/الصلاة ٩٠ (١٣٩٤) (صحیح)
3414Sunan At-Tirmidhi

رات کو آنکھ کھل جانے پر پڑھی جانے والے دُعا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي أَوْ قَالَ ثُمَّ دَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ، فَإِنْ عَزَمَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی نیند سے جاگے پھر کہے «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو علی كل شيء قدير و سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» ١ ؎، پھر کہے «رب اغفر لي» اے میرے رب ہمیں بخش دے ، یا آپ نے کہا: پھر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، پھر اگر اس نے ہمت کی اور وضو کیا پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہوگی ۔

Sayyidina Ubadahh ibn Samit (RA) reported that Allah’s Messenger said, “If any on wakes up during the night and says: “There is no God but Allah. He is Alone and has no partner. To Him belongs the dominion and to Him all praise belongs. And He is over everything Able. Subhan Allah (gorified is Allah) Alhamdu lillah (all praise belongs to Allah) Allahu Akbar (Allah is the Greatest) and there is no power and might save with Allah. “then (he added), “says: “O Lord forgive me,” or he said, “then he makes a supplication, he will be answered and if he resolves and makes ablution and offers salah , his salah is approved.” [Ahmed 22738]

صحيح، ابن ماجة (3878)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3414
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ واحد کے سوا اور کوئی معبود برحق نہیں ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہت اسی کی ہے اور اسی کے لیے سب تعریفیں ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور گناہ سے بچنے کی قوت اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں ہے مگر اللہ کی توفیق سے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التہجد ٢١ (١١٥٤)، والأدب ١٠٨ (٥٠٦٠)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٦ (٣٨٧٨) (تحفة الأشراف: ٥٠٧٤)، وسنن الدارمی/الاستئذان ٥٣ (٢٧٢٩) (صحیح)
3415Sunan At-Tirmidhi

رات کو آنکھ کھل جانے پر پڑھی جانے والے دُعا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ يُصَلِّي كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ سَجْدَةٍ، وَيُسَبِّحُ مِائَةَ أَلْفِ تَسْبِيحَة.

مسلمہ بن عمرو کہتے ہیں کہ عمیر بن ہانی ١ ؎ ہر دن ہزار رکعتیں نمازیں پڑھتے تھے، اور سو ہزار (یعنی ایک لاکھ) تسبیحات پڑھتے تھے، یعنی سبحان اللہ کہتے تھے۔

Ali ibn Hujr reported that Muslamah ibn Amr reported that Umayr ibn Hani made a thousand prostrations every day and glorified Allah with SubhanAllah a hundred thousand times.

ضعيف الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3415
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ دمشق کے رہنے والے ایک تابعی ہیں، ستۃ کے رواۃ میں سے ہیں، اور ثقہ ہیں، ١٢٧ ھ میں شہید کردیئے گئے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٩١٨١) (ضعیف الإسناد) (سند میں ” مسلمہ بن عمرو شامی “ مجہول راوی ہیں)
3416Sunan At-Tirmidhi

اسی کے بارے میں

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ بَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُعْطِيهِ وَضُوءَهُ، فَأَسْمَعُهُ الْهَوِيَّ مِنَ اللَّيْلِ، يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَأَسْمَعُهُ الْهَوِيَّ مِنَ اللَّيْلِ، يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے دروازے کے پاس سوتا تھا، اور آپ کو وضو کا پانی دیا کرتا تھا، میں آپ کو «سمع اللہ لمن حمده» کہتے ہوئے سنتا تھا، نیز میں آپ کو «الحمد لله رب العالمين» پڑھتے ہوئے سنتا تھا ١ ؎۔

Sayyidina Rabi’ah ibn Ka’b Aslami said, “I used to sleep at the door of the Prophet ﷺ and give him water for ablution. I could hear long in the night his repetition of: “Allah has heard him who praises Him” and could also hear long in the night his repetition of “All praise belongs to Allah”. [Ahmed 16576, Abu Dawud 1320, Ibn e Majah 3879, Nisai 1617] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3879)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3416
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: جب جب آپ رات میں اٹھا کرتے تو یہ دونوں دعائیں کافی دیر تک پڑھتے تھے یا کبھی یہ اور کبھی وہ پڑھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٣ (٤٨٩)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٢ (١٣٢٠)، سنن النسائی/التطبیق ٧٩ (١١٣٩)، وقیام اللیل ٩ (١٦١٧)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٦ (١٦٧٩) (تحفة الأشراف: ٣٦٠٣)، و مسند احمد (٤/٥٩) (صحیح)
3417Sunan At-Tirmidhi

اسی کے بارے میں

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَالَ: اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَا نَفْسِي بَعْدَ مَا أَمَاتَهَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

حذیفہ بن الیمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو کہتے: «اللهم باسمک أموت وأحيا» ١ ؎، اور جب آپ سو کر اٹھتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أحيا نفسي بعد ما أماتها وإليه النشور» ٢ ؎۔

Sayyidina Huzayfah ibn Yaman (RA) reported that when Allah’s Messenger ‘ decided to go to sleep, he would pray: “O Allah, with Your name do I die and live. And when he woke up, he would pray:” Praise belongs to Allah who revived my soul after putting me to death, and to Him is the return. [Ahmed 23429, Bukhari 6312, Abu Dawud 5049, Ibn e Majah 3880]

صحيح، ابن ماجة (3880)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3417
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: تیرا ہی نام لے کر مرتا ( یعنی سوتا ) ہوں اور تیرا ہی نام لے کر جیتا ( یعنی سو کر اٹھتا ) ہوں۔ ٢ ؎: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری جان ( میری ذات ) کو زندگی بخشی، اس کے بعد کہ اسے ( عارضی ) موت دے دی تھی اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے، بعض روایات میں اس کے الفاظ یوں بھی آئے ہیں، «الحمد لله الذي أحيا نفسي بعد ما أماتها وإليه النشور» (معنی ایک ہی ہے )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٧ (٦٣١٢)، والتوحید ١٣ (٧٣٩٤)، سنن ابی داود/ الأدب ١٠٧ (٥٠٤٩)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٦ (٣٨٨٠) (تحفة الأشراف: ٣٣٠٨)، و مسند احمد (٥/١٥٤)، وسنن الدارمی/الاستئذان ٥٣ (٢٧٢٨) (صحیح)
3418Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ رات کو نماز (تہجد) کیلئے اٹھے کیا کہے؟

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات میں تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لک الحمد أنت نور السموات والأرض ولک الحمد أنت قيام السموات والأرض ولک الحمد أنت رب السموات والأرض ومن فيهن أنت الحق ووعدک الحق ولقاؤك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق اللهم لك أسلمت وبک آمنت وعليك توکلت وإليك أنبت وبک خاصمت وإليك حاکمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت» اے اللہ! تیرے ہی لیے سب تعریف ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، (اور آسمان و زمین کے درمیان روشنی پیدا کرنے والا) تیرے ہی لیے سب تعریف ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کو قائم کرنے والا ہے، تیرے لیے ہی سب تعریف ہے تو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کا رب ہے، تو حق ہے تیرا وعدہ حق (سچا) ہے تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے جہنم حق ہے، قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں نے اپنے کو تیرے سپرد کردیا، اور تجھ ہی پر ایمان لایا، اور تجھ ہی پر بھروسہ کیا، اور تیری ہی طرف رجوع کیا، اور تیرے ہی خاطر میں لڑا اور تیرے ہی پاس فیصلہ کے لیے گیا۔ اے اللہ! میں پہلے جو کچھ کرچکا ہوں اور جو کچھ بعد میں کروں گا اور جو پوشیدہ کروں اور جو کھلے عام کروں میرے سارے گناہ اور لغزشیں معاف کر دے، تو ہی میرا معبود ہے، اور تیرے سوا میرا کوئی معبود برحق نہیں ہے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Abbasi reported that when Allah’s Messenger got up in the dark of the night to offer salah, he would make this supplication: “ O Allah, praise belongs to You—You are the light of the heavens and earth-and, praise belongs to You-You are the Guardian Creator of the heavens and the earth. And, praise belongs to You—You are Lord of the heavens and the earth and that which is therein. You are True and Your promise is True, and the meeting with You is True. And paradise is True and hell is True; and the hour is True. o Allah, to You do I surrender, and in You do I have faith, and on You do I rely, and to You do I turn. And, with Your help do I contend, and Your judgement do I seek. So, forgive me that which I haie committed and that which I have put back, and that which I have concealed and that which I have disclosed. You are my God. There is no god but You.” [Muslim 769, Abu Dawud 771, Ahmed 2710] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1355)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3418
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عباس ؓ سے آئی ہے، اور وہ اسے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التہجد ١ (١١٢٠)، والدعوات ١٠ (٦٣١٧)، والتوحید ٨ (٧٣٨٥)، و ٢٤ (٧٤٤٢)، و ٣٥ (٧٤٩٩)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٩)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٢١ (٧٧١)، سنن النسائی/قیام اللیل ٩ (١٦٢٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٠ (١٣٥٥) (تحفة الأشراف: ٥٧٥١)، و مسند احمد (١/٢٩٨)، وسنن الدارمی/الصلاة ١٦٩ (١٥٢٧) (صحیح)
3419Sunan At-Tirmidhi

اسی کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْلَةً حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِكَ تَهْدِي بِهَا قَلْبِي وَتَجْمَعُ بِهَا أَمْرِي وَتَلُمُّ بِهَا شَعَثِي وَتُصْلِحُ بِهَا غَائِبِي وَتَرْفَعُ بِهَا شَاهِدِي وَتُزَكِّي بِهَا عَمَلِي وَتُلْهِمُنِي بِهَا رُشْدِي وَتَرُدُّ بِهَا أُلْفَتِي وَتَعْصِمُنِي بِهَا مِنْ كُلِّ سُوءٍ، اللَّهُمَّ أَعْطِنِي إِيمَانًا وَيَقِينًا لَيْسَ بَعْدَهُ كُفْرٌ، وَرَحْمَةً أَنَالُ بِهَا شَرَفَ كَرَامَتِكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْفَوْزَ فِي الْعَطَاءِ وَيُرْوَى فِي الْقَضَاءِ، وَنُزُلَ الشُّهَدَاءِ، وَعَيْشَ السُّعَدَاءِ، وَالنَّصْرَ عَلَى الْأَعْدَاءِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُنْزِلُ بِكَ حَاجَتِي وَإِنْ قَصُرَ رَأْيِي وَضَعُفَ عَمَلِي افْتَقَرْتُ إِلَى رَحْمَتِكَ، فَأَسْأَلُكَ يَا قَاضِيَ الْأُمُورِ وَيَا شَافِيَ الصُّدُورِ كَمَا تُجِيرُ بَيْنَ الْبُحُورِ أَنْ تُجِيرَنِي مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ وَمِنْ دَعْوَةِ الثُّبُورِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْقُبُورِ، اللَّهُمَّ مَا قَصَّرَ عَنْهُ رَأْيِي وَلَمْ تَبْلُغْهُ نِيَّتِي وَلَمْ تَبْلُغْهُ مَسْأَلَتِي مِنْ خَيْرٍ وَعَدْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ خَيْرٍ أَنْتَ مُعْطِيهِ أَحَدًا مِنْ عِبَادِكَ، فَإِنِّي أَرْغَبُ إِلَيْكَ فِيهِ وَأَسْأَلُكَهُ بِرَحْمَتِكَ رَبَّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ ذَا الْحَبْلِ الشَّدِيدِ، وَالْأَمْرِ الرَّشِيدِ أَسْأَلُكَ الْأَمْنَ يَوْمَ الْوَعِيدِ، وَالْجَنَّةَ يَوْمَ الْخُلُودِ مَعَ الْمُقَرَّبِينَ الشُّهُودِ، الرُّكَّعِ السُّجُودِ، الْمُوفِينَ بِالْعُهُودِ، إِنَّكَ رَحِيمٌ وَدُودٌ وَأَنْتَ تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا هَادِينَ مُهْتَدِينَ غَيْرَ ضَالِّينَ وَلَا مُضِلِّينَ، سِلْمًا لِأَوْلِيَائِكَ وَعَدُوًّا لِأَعْدَائِكَ، نُحِبُّ بِحُبِّكَ مَنْ أَحَبَّكَ وَنُعَادِي بِعَدَاوَتِكَ مَنْ خَالَفَكَ، اللَّهُمَّ هَذَا الدُّعَاءُ وَعَلَيْكَ الْاسْتِجَابَةُ، وَهَذَا الْجُهْدُ وَعَلَيْكَ التُّكْلَانُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَبْرِي وَنُورًا فِي قَلْبِي وَنُورًا مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَنُورًا مِنْ خَلْفِي وَنُورًا عَنْ يَمِينِي وَنُورًا عَنْ شِمَالِي وَنُورًا مِنْ فَوْقِي وَنُورًا مِنْ تَحْتِي وَنُورًا فِي سَمْعِي وَنُورًا فِي بَصَرِي وَنُورًا فِي شَعْرِي وَنُورًا فِي بَشَرِي وَنُورًا فِي لَحْمِي وَنُورًا فِي دَمِي وَنُورًا فِي عِظَامِي، اللَّهُمَّ أَعْظِمْ لِي نُورًا وَأَعْطِنِي نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا، سُبْحَانَ الَّذِي تَعَطَّفَ الْعِزَّ وَقَالَ بِهِ، سُبْحَانَ الَّذِي لَبِسَ الْمَجْدَ وَتَكَرَّمَ بِهِ، سُبْحَانَ الَّذِي لَا يَنْبَغِي التَّسْبِيحُ إِلَّا لَهُ، سُبْحَانَ ذِي الْفَضْلِ وَالنِّعَمِ، سُبْحَانَ ذِي الْمَجْدِ وَالْكَرَمِ، سُبْحَانَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَذْكُرْهُ بِطُولِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک رات نماز (تہجد) سے فارغ ہو کر پڑھتے ہوئے سنا (آپ پڑھ رہے تھے) :«اللهم إني أسألک رحمة من عندک تهدي بها قلبي وتجمع بها أمري وتلم بها شعثي وتصلح بها غائبي وترفع بها شاهدي وتزکي بها عملي وتلهمني بها رشدي وترد بها ألفتي وتعصمني بها من کل سوء اللهم أعطني إيمانا ويقينا ليس بعده کفر ورحمة أنال بها شرف کر امتک في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألک الفوز في العطاء ونزل الشهداء وعيش السعداء والنصر علی الأعداء اللهم إني أنزل بک حاجتي وإن قصر رأيي وضعف عملي افتقرت إلى رحمتک فأسألك يا قاضي الأمور ويا شافي الصدور کما تجير بين البحور أن تجيرني من عذاب السعير ومن دعوة الثبور ومن فتنة القبور اللهم ما قصر عنه رأيي ولم تبلغه نيتي ولم تبلغه مسألتي من خير وعدته أحدا من خلقک أو خير أنت معطيه أحدا من عبادک فإني أرغب إليك فيه وأسألكه برحمتک رب العالمين اللهم ذا الحبل الشديد والأمر الرشيد أسألک الأمن يوم الوعيد والجنة يوم الخلود مع المقربين الشهود الرکع السجو د الموفين بالعهود إنک رحيم ودود وأنت تفعل ما تريد اللهم اجعلنا هادين مهتدين غير ضالين ولا مضلين سلما لأوليائك وعدوا لأعدائك نحب بحبک من أحبک ونعادي بعداوتک من خالفک اللهم هذا الدعا وعليك الإجابة وهذا الجهد وعليك التکلان اللهم اجعل لي نورا في قلبي ونورا في قبري ونورا من بين يدي ونورا من خلفي ونورا عن يميني ونورا عن شمالي ونورا من فوقي ونورا من تحتي ونورا في سمعي ونورا في بصري ونورا في شعري ونورا في بشري ونورا في لحمي ونورا في دمي ونورا في عظامي اللهم أعظم لي نورا وأعطني نورا واجعل لي نورا سبحان الذي تعطف العز وقال به سبحان الذي لبس المجد وتکرم به سبحان الذي لا ينبغي التسبيح إلا له سبحان ذي الفضل والنعم سبحان ذي المجد والکرم سبحان ذي الجلال والإکرام» ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ make this supplication when he had finished with his salah (of tahajjud): “ O Allah, I ask You for mercy from You by which You guide my heart, and by which You set my affairs right, and by which You remove my worry, and by which you carrect my secret, and by which You elevate my apparent condition, and by which You purify my deed, and by which You inspire me with right guidance, and by which You return my love, and by which You protect me from every evil. O Allah, grant me faith and a conviction after which there is no disbelief, and a mercy by which I acquire the honour of Your compassion in this world and the hereafter. O Allah, I ask Y.ou for success in (the grant or as reported) the decree, and the ranks of the martyrs, and the life of the fortunate, and triuMph over the enemies. O Allah, I place before You my need knowing that I have a deficient intelligence and poor deeds. I am in need of Your mercy! So, I ask You. O The one who decrees affairs and Who heals hearts-as You rescue (the stricken) on the seas-rescue me from the chastisement of hell and from the curse that ruinsO and from the trial in the graves. O Allah, that which my poor intelligence overlooked and my supplication did not encompass-of the good that You promised someone among Your creatures, or the good that You would grant one of Your slaves-so, I desire that from You longingly and I ask You for that through Your mercy, O Lord of the worlds. O Allah, Owner of the strong rope and of correct commands, I ask You for peace on the Day of Resurrection, and paradise on the day of everlasting life with those who are near to You, and witnesses, and observers of ruku and sujud (bowing and prostration), who fulfil their promises. You are The Most Merciful and The Most Loving. Indeed, You do what You desire to do! O Allah, cause us to guide and be rightly guided-not misled and not those who mislead (others), at peace with Your friends, but at war with Your enemies, that we may love those who love You and antagonise those who oppose You. O Allah, this is a supplication and it is upon You to grant it, and this is a humble effort yet reliance is placed on You. O Allah, make for me light in my heart, light in my grave, light before me, light behind me, light to my right, light to my left, light above me, light belowme, light in my hearing, light in my sight, light in my hair, light in my body, light in my flesh, light in my blood and light in my bones. O Allah, magnify for me light and give me light, and make for me light. Glorified is He who has covered Himself with honour and is known by it. Glorified is He whose garment is Majesty-and is honoured by it. Glorified is He-none deserves to be glorified except Him. Glorified is He Possessor of favour and blessings. Glorified is He, the Possessor of Majesty and Benevolence. Glorified is He, the Possessor of Majesty and Splendour. --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف الإسناد // ضعيف الجامع الصغير (1194) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3419
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- شعبہ اور سفیان ثوری نے سلمہ بن کہیل سے، سلمہ نے کریب سے، اور کریب نے ابن عباس ؓ کے واسطہ سے، نبی اکرم ﷺ سے اس حدیث کے بعض حصوں کی روایت کی ہے، انہوں نے یہ پوری لمبی حدیث ذکر نہیں کی ہے۔ فائدہ ١ ؎: اے اللہ! میں تجھ سے ایسی رحمت کا طالب ہوں، جس کے ذریعہ تو میرے دل کو ہدایت عطا کر دے، اور جس کے ذریعہ میرے معاملے کو مجتمع و مستحکم کر دے، میرے پراگندہ امور کر درست فرما دے، اور اس کے ذریعہ میرے باطن کی اصلاح فرما دے، اور اس کے ذریعہ میرے ظاہر کو بلند کر دے، اور اس کے ذریعہ میرے عمل کو صاف ستھرا بنا دے، اس کے ذریعہ سیدھی راہ کی طرف میری رہنمائی فرما، اس کے ذریعہ ہماری باہمی الفت و چاہت کو لوٹا دے، اور اس کے ذریعہ ہر برائی سے مجھے بچا لے، اے اللہ! تو ہمیں ایسا ایمان و یقین دے کہ پھر اس کے بعد کفر کی طرف جانا نہ ہو، اے اللہ! تو ہمیں ایسی رحمت عطا کر جس کے ذریعہ میں دنیا و آخرت میں تیری کرامت کا شرف حاصل کرسکوں، اے اللہ! میں تجھ سے «عطاء» (بخشش) اور «قضاء» (فیصلے) میں کامیابی مانگتا ہوں، میں تجھ سے شہدا کی سی مہمان نوازی، نیک بختوں کی سی خوش گوار زندگی اور دشمنوں کے خلاف تیری مدد کا خواستگار ہوں، اور میں اگرچہ کم سمجھ اور کمزور عمل کا آدمی ہوں مگر میں اپنی ضروریات کو لے کر تیرے ہی پاس پہنچتا ہوں، میں تیری رحمت کا محتاج ہوں، اے معاملات کے نمٹانے و فیصلہ کرنے والے! اے سینوں کی بیماریوں سے شفاء دینے والے تو مجھے بچا لے جہنم کی آگ سے، تباہی و بربادی کی پکار (نوحہ و ماتم) سے، اور قبروں کے فتنوں عذاب اور منکر نکیر کے سوالات سے اسی طرح بچا لے جس طرح کہ تو سمندروں میں (گھرے اور طوفانوں کے اندر پھنسے ہوئے لوگوں کو) بچاتا ہے، اے اللہ! جس چیز تک پہنچنے سے میری رائے عقل قاصر رہی، جس چیز تک میری نیت و ارادے کی بھی رسائی نہ ہوسکی، جس بھلائی کا تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی سے وعدہ کیا اور میں اسے تجھ سے مانگ نہ سکا، یا جو بھلائی تو از خود اپنے بندوں میں سے کسی بندے کو دینے والا ہے میں بھی اسے تجھ سے مانگنے اور پانے کی خواہش اور آرزو کرتا ہوں، اور اے رب العالمین! سارے جہاں کے پالنہار، تیری رحمت کے سہارے تجھ سے اس چیز کا سوالی ہوں، اے اللہ بڑی قوت والے اور اچھے کاموں والے، میں تجھ سے وعید کے دن یعنی قیامت کے دن امن و چین چاہتا ہوں، میں تجھ سے ہمیشہ کے لیے تیرے مقرب بندوں، تیرے کلمہ گو بندوں، تیرے آگے جھکنے والے بندوں، تیرے سامنے سجدہ ریز ہونے والے بندوں، تیرے وعدہ و اقرار کے پابند بندوں کے ساتھ جنت میں جانے کی دعا مانگتا ہوں، (اے رب! ) تو رحیم ہے (بندوں پر رحم کرنے والا) تو ودود ہے (اپنے بندوں سے محبت فرمانے والا) تو (بااختیار ہے) جو چاہتا ہے کرتا ہے، اے اللہ! تو ہمیں ہدایت دینے والا بنا مگر ایسا جو خود بھی ہدایت یافتہ ہو جو نہ خود گمراہ ہو، نہ دوسروں کو گمراہ بنانے والا ہو، تیرے دوستوں کے لیے صلح جو ہو، اور تیرے دشمنوں کے لیے دشمن، جو شخص تجھ سے محبت رکھتا ہو ہم اس شخص سے تجھ سے محبت رکھنے کے سبب محبت رکھیں، اور جو شخص تیرے خلاف کرے ہم اس شخص سے تجھ سے دشمنی رکھنے کے سبب دشمنی رکھیں، اے اللہ یہ ہماری دعا و درخواست ہے، اور اس دعا کو قبول کرنا بس تیرے ہی ہاتھ میں ہے، یہ ہماری کوشش ہے اور بھروسہ بس تیری ہی ذات پر ہے، اے اللہ! تو میری قبر میں نور (روشنی) کر دے، اے اللہ! تو میرے قلب میں نور بھر دے، اے اللہ! تو میرے آگے اور سامنے نور پھیلا دے، اے اللہ تو میرے پیچھے نور کر دے، میرے آگے اور سامنے نور پھیلا دے، اے اللہ تو میرے پیچھے نور کر دے، نور میرے داہنے بھی نور میرے بائیں بھی، نور میرے اوپر بھی اور نور میرے نیچے بھی، نور میرے کانوں میں بھی نور میری آنکھوں میں بھی، نور میرے بالوں میں بھی نور میری کھال میں بھی نور، میرے گوشت میں بھی، نور میرے خون میں بھی اور نور میں اضافہ فرما دے، میرے لیے نور بنا دے، پاک ہے وہ ذات جس نے عزت کو اپنا اوڑھنا بنایا، اور عزت ہی کو اپنا شعار بنانے کا حکم دیا، پاک ہے وہ ذات جس نے مجد و شرف کو اپنا لباس بنایا اور جس کے سبب سے وہ مکرم و مشرف ہوا، پاک ہے وہ ذات جس کے سوا کسی اور کے لیے تسبیح سزاوار نہیں، پاک ہے فضل اور نعمتوں والا، پاک ہے مجد و کرم والا، پاک ہے عظمت و بزرگی والا ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٢٩٢) (ضعیف الإسناد) (سند میں داود بن علی لین الحدیث راوی ہیں)
3420Sunan At-Tirmidhi

تہجد کی نماز شروع کرتے واقت کی دعا کے متعلق

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا: رات میں جب نبی اکرم ﷺ تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو اپنی نماز کے شروع میں کیا پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب رات کو کھڑے ہوتے، نماز شروع کرتے وقت یہ دعا پڑھتے: «اللهم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحکم بين عبادک فيما کانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنک تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم» اے اللہ! جبرائیل، میکائیل و اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے اور کھلے کے جاننے والے، اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافات کا فیصلہ کرنے والا ہے، اے اللہ! جس چیز میں بھی اختلاف ہوا ہے اس میں حق کو اپنانے، حق کو قبول کرنے کی اپنے اذن و حکم سے مجھے ہدایت فرما، (توفیق دے) کیونکہ تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھی راہ پر چلاتا ہے ۔

Abu Salamah narrated: I asked Sayyidah Ayshah (RA) “With what did the Prophet ﷺ l begin his salah when he stood for it in the night?” She said, “When he stood up in the night, he began his salah thus: O Allah, Lord of Jibril and Mikail and Israfil, Originator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the seen, You will judge between Your slaves concerning that which they differ. Guide me in that which is disputed to the Truth with Your command. Surely, You are on the Right Path. [Ahmed 25280, Muslim 770, Abu Dawud 767, Ibn e Majah 1357, Nisai 1621] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1357)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3420
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٧٠)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٢١ (٧٦٧)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٢ (١٦٢٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٠ (١٣٥٧) (تحفة الأشراف: ١٧٧٧٩) (صحیح)
3421Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا إِنَّهُ لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، آمَنْتُ بِكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، فَإِذَا رَكَعَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرَضِينَ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، فَإِذَا سَجَدَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ فَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، ثُمَّ يَكُونُ آخِرَ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالسَّلَامِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں کھڑے ہوتے تو پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشرکين إن صلاتي ونسکي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلک أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملک لا إله إلا أنت أنت ربي وأنا عبدک ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها إنه لا يصرف عني سيئها إلا أنت آمنت بک تبارکت وتعاليت أستغفرک وأتوب إليك»، پھر جب آپ رکوع کرتے تو پڑھتے: «اللهم لک رکعت وبک آمنت ولک أسلمت خشع لک سمعي وبصري ومخي وعظامي وعصبي» پھر آپ جب سر اٹھاتے تو کہتے: «اللهم ربنا لک الحمد ملء السموات والأرضين وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء بعد»، پھر جب آپ سجدہ فرماتے تو کہتے: «اللهم لک سجدت وبک آمنت ولک أسلمت سجد وجهي للذي خلقه فصوره وشق سمعه وبصره فتبارک اللہ أحسن الخالقين» پھر آپ سب سے آخر میں تشہد اور سلام کے درمیان جو دعا پڑھتے تھے، وہ دعا یہ تھی: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت»۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ stood for salah, he said: I have turned my face towards Him Who originated the heavens and the earth. I am not inclined to any deviation, and I am not of the polytheists. Surely. my salah, my offering, my living and my dying are for Allah, Lord of the worlds, He has no partner, and about that I have been commanded, and I am the first of those who submit (as a Muslim). O Allah, You are the king. There is no God besides You. You are my Lord and I am Your slave. I have wronged myself and I confess my sins, so forgive me my sins, all of them. No one, but You forgive sins. And guide me to the best of manners. No one will guide me to the best of them, but You. And, turn away from me its evils, for, none will turn away from me its evils, except You. I have believed in You. Blessed are You and Exalted! I seek Your forgiveness and I repent to You. Then as he bowed down into ruku, he said: O Allah, I bow down for you, and in you do I believe, and to you do I submit. Humbled before you are my hearing, my sight, my marrow, my bénes and my nerves. Then as he raised his head, he said: O Allah, our Lord, for You is all praise as fills up the heavens and the earths and that which is between them, and fills up that which You wish of anything (besites these). Then he prostrated and said: O Allah, to You do. I prostrate and in You do I believe and to You do I submit. My face prostrated to Him Who created it and fashioned it, and opened in it its hearing and its sight. So blessed is Allah the Best of all Creators! Then, the last he said between the tashahhud and the salutation : O Allah, forgive me that which I have hastened and that which I have delayed (of sins), what I have concealed and what I have disclosed, and that which you know of it better than I do. You are the One Who advances and You are The One Who delays. There is no God, but You. [Muslim 771, Abu Dawud 760, Nisai 896, Ibn e Majah 1054, Ahmed 729] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، صفة الصلاة، صحيح أبي داود (738)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3421
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٨)، دالصلاة ١٢١ (٧٦٠)، سنن النسائی/الافتتاح ١٧ (٨٩٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥ (٨٦٤) (تحفة الأشراف: ١٠٢٢٨)، و مسند احمد (١/٩٤، ٩٥، ١٠٢)، وسنن الدارمی/الصلاة ٣٣ (١٢٧٤)، وانظر حدیث رقم ٣٤٢٣ (صحیح)
3422Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَيُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: حَدَّثَنِي عَمِّي، وَقَالَ يُوسُفُ أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَعْرَجُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، فَإِذَا رَكَعَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَعِظَامِي وَعَصَبِي ، فَإِذَا رَفَعَ، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، فَإِذَا سَجَدَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ فَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ، ثُمَّ يَقُولُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو (تکبیر تحریمہ کے بعد) کہتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشرکين إن صلاتي ونسکي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلک أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملک لا إله إلا أنت أنت ربي وأنا عبدک ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بک وإليك تبارکت وتعاليت أستغفرک وأتوب إليك»، پھر جب آپ رکوع کرتے تو پڑھتے: «اللهم لک رکعت وبک آمنت ولک أسلمت خشع لک سمعي وبصري وعظامي وعصبي»، پھر جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو آپ کہتے: «اللهم ربنا لک الحمد ملء السماء وملء الأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء»، پھر جب سجدہ میں جاتے تو کہتے: «اللهم لک سجدت وبک آمنت ولک أسلمت سجد وجهي للذي خلقه فصوره وشق سمعه وبصره فتبارک اللہ أحسن الخالقين»، پھر آپ سب سے آخر میں تشہد اور سلام کے درمیان پڑھتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت»۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib reported that when Allah’s Messenger ﷺ stood for salah, he prayed: Translation as in hadith # 3422 and then the portion from: “Labbaik” Here I am. I obey You alone. All good is in Your Hand but evil will not draw one near You. I place trust in You. You are Blessed and Exalted. Then he went into ruku and said: O Allah, I bow down for you, and in you do I believe, and to you do I submit. Humbled before you are my hearing, my sight, my marrow, my bénes and my nerves. When he raised his head from ruku, he said: O Allah, our Lord, for You is all praise as fills up the heavens and the earths and that which is between them, and fills up that which You wish of anything (besites these). Then he prostrated and said: O Allah, to You do. I prostrate and in You do I believe and to You do I submit. My face prostrated to Him Who created it and fashioned it, and opened in it its hearing and its sight. So blessed is Allah the Best of all Creators! Between tashahhud and salutation he said: O Allah, forgive me that which I have hastened and that which I have delayed (of sins), what I have concealed and what I have disclosed, and that which you know of it better than I do. You are the One Who advances and You are The One Who delays. There is no God, but You. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، صفة الصلاة، صحيح أبي داود (738)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3422
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح)
3423Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ ذَلِكَ أَيْضًا إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهَا إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنْ سَجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ فَكَبَّرَ، وَيَقُولُ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بَعْدَ التَّكْبِيرِ: وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، وَلَا مَنْجَا وَلَا مَلْجَأَ إِلَّا إِلَيْكَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، ثُمَّ يَقْرَأُ، فَإِذَا رَكَعَ كَانَ كَلَامُهُ فِي رُكُوعِهِ أَنْ يَقُولَ: اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، وَأَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يُتْبِعُهَا اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، فَإِذَا سَجَدَ قَالَ فِي سُجُودِهِ: اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، وَأَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ، وَيَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ الشَّافِعِيِّ وَبَعْضُ أَصْحَابِنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَحْمَدُ لَا يَرَاهُ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ يَقُولُ: هَذَا فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَلَا يَقُولُهُ فِي الْمَكْتُوبَةِ، سَمِعْت أَبَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي التِّرْمِذِيَّ، مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل بْنِ يُوسُفَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ الْهَاشِمِيَّ، يَقُولُ: وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هَذَا عِنْدَنَا مِثْلُ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ.

علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب فرض نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے برابر اٹھاتے (رفع یدین کرتے) ، اور ایسا اس وقت بھی کرتے تھے جب اپنی قرأت پوری کرلیتے تھے اور رکوع کا ارادہ کرتے تھے، اور ایسا ہی کرتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے ١ ؎، بیٹھے ہونے کی حالت میں اپنی نماز کے کسی حصے میں بھی رفع یدین نہ کرتے تھے، پھر جب دونوں سجدے کر کے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اسی طرح، پھر تکبیر (اللہ اکبر) کہتے اور نماز شروع کرتے وقت تکبیر (تحریمہ) کے بعد پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشرکين إن صلاتي ونسکي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلک أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملک لا إله إلا أنت سبحانک أنت ربي وأنا عبدک ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك أنا بک وإليك ولا منجا ولا ملجأ إلا إليك أستغفرک وأتوب إليك» (یہ دعا پڑھنے کے بعد) پھر قرأت کرتے، رکوع میں جاتے، رکوع میں آپ یہ دعا پڑھتے: «اللهم لک رکعت وبک آمنت ولک أسلمت وأنت ربي خشع سمعي وبصري ومخي وعظمي لله رب العالمين» پھر جب آپ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو کہتے: «سمع اللہ لمن حمده»، «سمع اللہ لمن حمده» کہنے کے فوراً بعد آپ پڑھتے: «اللهم ربنا ولک الحمد ملء السموات والأرض وملء ما شئت من شيء» اس کے بعد جب سجدہ کرتے تو سجدوں میں پڑھتے:«اللهم لک سجدت وبک آمنت ولک أسلمت وأنت ربي سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره تبارک اللہ أحسن الخالقين»۔ اور جب نماز سے سلام پھیرنے چلتے تو (سلام پھیرنے سے پہلے) پڑھتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت»۔

Sayyidina Ali ibn Talib reported that when Allah’s Messenger r1 stood for fard salah, he raised his hand up to his shoulders. When he finished the recital (of the Qur’an) and went in to ruku, he did that again. He did the same thing on raising his head from ruku. Buthe did not raise his hand on any posture when he was sitting down. When he got up from the two postures, he raised his hands in the same way, saying Allahu Akbar. When he began the salah, after the takbir, he would say: Translation as in the preceding hadith up to “la manja” whereafter: There is no shelter from You and no place of refuge except by having recourse to You. I seek Your forgiveness and repent to You. Then he recited (the Quran). When he bowed down into ruku, his words in ruku were: O Allah, I bow down for you, and in you do I believe, and to you do I submit. Humbled before you are my hearing, my sight, my marrow, my bénes and my nerves. When he raised his head from the ruku, he said: Allah hears He who glorified him and he followed it with: O Allah, our Lord, for You is all praise as fills up the heavens and the earths and that which is between them, and fills up that which You wish of anything (besites these). Then he prostrated and said: O Allah, to You do. I prostrate and in You do I believe and to You do I submit. My face prostrated to Him Who created it and fashioned it, and opened in it its hearing and its sight. So blessed is Allah the Best of all Creators! When he had finished offering the salah, he said: O Allah, forgive me that which I have hastened and that which I have delayed (of sins), what I have concealed and what I have disclosed, and that which you know of it better than I do. You are the One Who advances and You are The One Who delays. There is no God, but You. --------------------------------------------------------------------------------

حسن صحيح، صحيح أبي داود (729)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3423
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور اسی پر عمل ہے امام شافعی اور ہمارے بعض اصحاب کا، ٣- امام احمد بن حنبل ایسا خیال نہیں رکھتے، ٤- اہل کوفہ اور ان کے علاوہ کے بعض علماء کا کہنا ہے کہ آپ ﷺ انہیں نفلی نمازوں میں پڑھتے تھے نہ کہ فرض نمازوں میں ٢ ؎ ٣- میں نے ابواسماعیل ترمذی محمد بن اسماعیل بن یوسف کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے سلیمان بن داود ہاشمی کو کہتے ہوئے سنا، انہوں نے ذکر کیا اسی حدیث کا پھر کہا: یہ حدیث میرے نزدیک ایسے ہی مستند اور قوی ہے، جیسے زہری کی وہ حدیث قوی و مستند ہوتی ہے جسے وہ سالم بن عبداللہ سے اور سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان تینوں حالتوں و صورتوں میں رفع یدین کرتے تھے۔ ٢ ؎: فرض نماز خصوصا باجماعت نماز میں امام کو تخفیف کی ہدایت کی گئی ہے، تو اس میں اتنی لمبی لمبی دعائیں آپ خود کیسے پڑھ سکتے تھے، یہ انفرادی نمازو ؓ کے لیے ہے خواہ فرض ہو یا نفل۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١١٨ (٧٤٤)، سنن النسائی/الافتتاح ١٧ (٨٩٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥ (٨٦٤) (تحفة الأشراف: ١٠٢٢٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٣٣ (١٢٧٤)، وانظر ماقبلہ (حسن صحیح)
3424Sunan At-Tirmidhi

اس متعلق کہ سجود قرأت میں کیا پڑھے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ لِيابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ وَأَنَا نَائِمٌ كَأَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ، فَسَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي وَسَمِعْتُهَا وَهِيَ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ لِي جَدُّكَ،: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَةً ثُمَّ سَجَدَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ مِثْلَ مَا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سویا ہوا تھا، رات میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا تو ان میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدہ کیا تو درخت نے بھی میرے سجدے کی متابعت کرتے ہوئے سجدہ کیا، میں نے سنا وہ پڑھ رہا تھا: «اللهم اکتب لي بها عندک أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندک ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدک داود» اے اللہ! تو اس کے بدلے میرے لیے اپنے پاس اجر و ثواب لکھ لے، اور اس کے عوض مجھ پر سے (گناہوں کا) بوجھ اتار دے اور اسے اپنے پاس (میرے لیے آخرت کا) ذخیرہ بنا دے، اور اسے میرے لیے ایسے ہی قبول کرلے جس طرح تو نے اپنے بندے داود (علیہ السلام) کے لیے قبول کیا تھا ۔ ابن جریج کہتے ہیں: مجھ سے تمہارے (یعنی حسن بن عبیداللہ کے) دادا (عبیداللہ) نے کہا کہ ابن عباس ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے (اس موقع پر) سجدہ کی ایک آیت پڑھی، پھر سجدہ کیا، ابن عباس ؓ کہتے ہیں: میں نے آپ کو (سجدہ میں) پڑھتے ہوئے سنا آپ وہی دعا پڑھ رہے تھے، جو (خواب والے) آدمی نے آپ کو درخت کی دعا سنائی تھی ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that a man came to Allah’s Messenger ﷺ and said, “O Messenger of Allah, I saw myself in the night, while I was asleep, as though I offer salah behind a tree. As I prostrated, the tree prostrated with my prostration. I heard it saying: O Allah record for me a reward against it, with You, and remove from me against it a burden (of sin). And let it be with You a treasure. And accept it from me as You did accept it from Your servant Dawud. Ibn Jurayj reported from Ibn Abbas (RA) that the Prophet ﷺ then recited a verse calling for prostration and made a prostration. lbn Abbas (RA) said that he heard him repeat the words the man had conveyed to him from the tree. [Ibn e Majah 1053]

حسن، ابن ماجة (1053)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3424
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے کسی اور سے نہیں صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ کی طرف سے احکام و مسائل بتانے کے مختلف طریقے اختیار کیے گئے تھے، ان میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ اللہ کسی صحابی کو خواب دکھاتا، اس میں فرشتہ کوئی مسئلہ بتاتا اور وہ صحابی بیدار ہو کر اللہ کے رسول ﷺ سے ذکر کرتا، آپ اس کی تقریر ( تصدیق ) کردیتے، جیسے اذان میں ہوا تھا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٥٧٩ (حسن)
3425Sunan At-Tirmidhi

اس متعلق کہ سجود قرأت میں کیا پڑھے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ: سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات کے وقت سجدہ تلاوت میں پڑھتے تھے: «سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته» میرا چہرہ اس کے آگے سجدہ ریز ہوا جس نے اسے اپنی قدرت و قوت سے پیدا کیا، جس نے اسے سننے کے لیے کان اور دیکھنے کے لیے آنکھیں دیں ۔

Sayyidah Ayshah r’i narrated : The Prophet ﷺ used to say when he made a prostration for a verse of the Qur’an in the night: “My face made the prostration for Him who has created it and Who, with His (intrinsic) power and strength, made openings in it for ears and eyes “ [Abu Dawud 1414, Ahmed 24077]

صحيح، المشکاة (1035)، صحيح أبي داود (1274)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3425
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٥٨٠ (صحیح)
3426Sunan At-Tirmidhi

اس متعلق کہ گھر سے نکلتے وقت کیا کہے

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ يَعْنِي إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ: بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، يُقَالُ لَهُ كُفِيتَ وَوُقِيتَ وَتَنَحَّى عَنْهُ الشَّيْطَانُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص گھر سے نکلتے وقت: «بسم اللہ توکلت علی اللہ لا حول ولا قوة إلا بالله» میں نے اللہ کے نام سے شروع کیا، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور گناہوں سے بچنے اور کسی نیکی کے بجا لانے کی قدرت و قوت نہیں ہے سوائے سہارے اللہ کے کہے، اس سے کہا جائے گا: تمہاری کفایت کردی گئی، اور تم (دشمن کے شر سے) بچا لیے گئے، اور شیطان تم سے دور ہوگیا۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger said, “If anyone who goes out of his home says: In the name of Allah. I trust in Allah. There is no power and strength save in Allah, then it is said to him, ‘You are well provided and protected,’ and the devil goes away from him. [Nisai 89]

صحيح، المشکاة (2443 / التحقيق الثاني)، التعليق الرغيب (2 / 264)، الکلم الطيب (58 / 49)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3426
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١١٢ (٥٠٩٥)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٣٧ (٨٩) (تحفة الأشراف: ١٨٣) (صحیح)
3427Sunan At-Tirmidhi

اسی بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَزِلَّ أَوْ نَضِلَّ أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ أَوْ نَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «بسم اللہ توکلت علی اللہ اللهم إنا نعوذ بک من أن نزل أو نضل أو نظلم أو نظلم أو نجهل أو يجهل علينا» ١ ؎ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، بھروسہ کرتا ہوں اللہ پر، اے اللہ تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ حق و صواب سے کہیں پھر نہ جاؤں، یا راہ حق سے بھٹکا نہ دیا جاؤں، یا میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا میں کسی کے ساتھ جاہلانہ برتاؤ کروں یا کوئی میرے ساتھ جاہلانہ انداز سے پیش آئے ۔

Sayyidah Umm Salamah (RA)reported that when the Prophet ﷺ went forth from his house, he prayed: In the name of Allah, I place trust in Allah. O Allah, we seek refuge in You lest we slip, or go astray, or wrong (someone), or be wronged (by someone), or do something uncultivated, or someone may act ignorantly with us. [Abu Dawud 5094, Ibn e Majah 3884, Nisai 5501, Ahmed 26791] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3884)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3427
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١١٢ (٥٠٩٤)، سنن النسائی/الاستعاذة ٣٠ (٥٤٨٨)، ٦٥ (٥٥٤١)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٨ (٣٨٨٤) (تحفة الأشراف: ١٨١٦٨)، و مسند احمد (٦/٣٠٦، ٣١٨، ٣٢٣) (صحیح)
3428Sunan At-Tirmidhi

بازار میں داخل ہوتے وقت پڑھنے کی دعا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ، قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ فَلَقِيَنِي أَخِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ دَخَلَ السُّوقَ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَرَفَعَ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ دَرَجَةٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِهَذَا الْحَدِيثَ نَحْوَهُ.

عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھی: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو علی كل شيء قدير» نہیں کوئی معبود برحق ہے مگر اللہ اکیلا، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کے لیے ملک (بادشاہت) ہے اور اسی کے لیے حمد و ثناء ہے وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے، وہ زندہ ہے کبھی مرے گا نہیں، اسی کے ہاتھ میں ساری بھلائیاں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور اس کی دس لاکھ برائیاں مٹا دیتا ہے اور اس کے دس لاکھ درجے بلند فرماتا ہے ۔

Sayyidina Umar reported that Allah’s Messenger ‘ said, “If anyone goes to the market and says: “There is no God but Allah Who is Alone; He has no partner; to Him belongs the dominion and for Him is all praise; He gives life and gives death; He is the Ever-Living Who will never die; in His Hand is all the good, and He is over all things powerful. “ “ Allah will record for him a million pieties, and remit from him a million evil deeds, and raise him by a million ranks. [Ibn e Majah 2235]

حسن، ابن ماجة (2235)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3428
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- عمرو بن دینار زبیر ؓ کے گھر والوں کے آمد و خرچ کے منتظم تھے، انہوں نے یہ حدیث سالم بن عبداللہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٠ (٢٢٣٥) (تحفة الأشراف: ١٠٥٢٨) (حسن)
3429Sunan At-Tirmidhi

بازار میں داخل ہوتے وقت پڑھنے کی دعا

حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ فِي السُّوقِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَبَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ هَذَا هُوَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَوَى عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرً أَحَادِيثَ لا يُتَابَعُ عَلَيْهَا، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ. وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

عمرو بن دینار زبیر ؓ کے گھر کے منتظم کار، سالم بن عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے، اور وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بازار جاتے ہوئے یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو علی كل شيء قدير» ١ ؎ تو اللہ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دے گا اور دس لاکھ اس کے گناہ مٹا دے گا اور جنت میں اس کے لیے ایک گھر بنائے گا۔

Amr ibn Dinar reported it. He was the treasure of the family of Zubayr. He reported from Saalim ibn Abdullah, and it is similar to the above. Ahmad ibn Abda ad-Dabbi reported from Hammad ibn Zayd and Mu’tamir ibn Sulayman. They said : Amr ibn Dinar the treasurer of the family of Zubayr reported from Saalim ibn Abdullah ibn Umar. from his father, from his grandfather that Allah’s Messenger said: If anyone says in the market. There is no God but Allah Who is Alone, Who has no partner; to Him belongs the dominion and to Him belongs all praise; He gives life and He gives death and He is the Living who never dies; in His Hand is all the good and He is over all things Powerful, then Allah will record for him a million good deeds, erase from him a million bad deeds and build for him a house in Paradise. [Ahmed 327]

حسن انظر ما قبله (3428)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3429
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ عمرو بن دینار بصریٰ شیخ ہیں، اور بعض اصحاب حدیث نے ان کے بارے میں کلام کیا ہے ٢- یحییٰ بن سلیم طائفی نے یہ حدیث عمران بن مسلم سے، عمران نے عبداللہ بن دینار سے، اور عبداللہ بن دینار نے ابن عمر ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، اور اس میں انہوں نے عمر ؓ سے روایت کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (حسن)
3430Sunan At-Tirmidhi

کوئی بیمار ہو تو یہ دعا پڑھے

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، صَدَّقَهُ رَبُّهُ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَأَنَا أَكْبَرُ، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَحْدِي، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، قَالَ اللَّهُ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَحْدِي لَا شَرِيكَ لِي، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، قَالَ اللَّهُ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا لِيَ الْمُلْكُ وَلِيَ الْحَمْدُ، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، قَالَ اللهُ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِي، وَكَانَ يَقُولُ: مَنْ قَالَهَا فِي مَرَضِهِ ثُمَّ مَاتَ لَمْ تَطْعَمْهُ النَّارُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ،وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا.

ابومسلم خولانی کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ابو سعید خدری اور ابوہریرہ ؓ نے گواہی دی کہ ان دونوں کی موجودگی میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو «لا إله إلا اللہ والله أكبر» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے ، کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے: (ہاں) میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب: «لا إله إلا اللہ وحده» اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، کہتا ہے، تو آپ نے فرمایا: اللہ کہتا ہے (ہاں) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور جب کہتا ہے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له» اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں ، تو اللہ کہتا ہے، (ہاں) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میرا کوئی شریک نہیں ہے، اور جب کہتا ہے: «لا إله إلا اللہ له الملک» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے ، تو اللہ کہتا ہے: کوئی معبود برحق نہیں مگر میں، میرے لیے ہی بادشاہت ہے اور میرے لیے ہی حمد ہے، اور جب کہتا ہے: «لا إله إلا اللہ ولا حول ولا قوة إلا بالله» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور گناہ سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ، تو اللہ کہتا ہے: (ہاں) میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور گناہوں سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی قوت نہیں ہے مگر میری توفیق سے، اور آپ فرماتے تھے: جو ان کلمات کو اپنی بیماری میں کہے، اور مرجائے تو آگ اسے نہ کھائے گی ۔

Sayyidina Abu Sa’eed and Abu Hurayrah bore testimony that the Prophet ﷺ .i-i said: If anyone says There is no God but Allah and Allah is the Greatest, then Allah his l..ord attests him, saying. There is no God but I and I am The Greatest. And, if he says: then Allah says,” ‘There is no God but I and I am Alone.” And if he says: There is no God but Allah Who is Alone and Who has no partner, then He says, “There is no God but I Who is Alone and I have no partner.” and, if he says: There is no God but Allah to whom belongs the dominion and to whom belongs all praise, Then Allah says, There is no God but I. To Me belongs the dominion and to Me belongs all praise.” And, if he says: There is no God but Allah and there is no power and no might except with Allah, Then Allah says, There is no God but I and there is no power and no might except with Me. If a person utters these expressions in his illness and dies then the fire will not consume him. [Ibn e Majah 3784]

صحيح، ابن ماجة (3794) صحيح، ابن ماجة (3794)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3430 اس سند سے شعبہ نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے اغر ابو مسلم سے، اور ابو مسلم نے ابوہریرہ اور ابو سعید خدری سے اس حدیث کے مانند ہم معنی حدیث روایت کی، اور شعبہ نے اسے مرفوع نہیں کیا۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3430
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٧ (٣٠، ٣١)، ١٣ (٣٤٨)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٤ (٣٧٩٤) (تحفة الأشراف: ٣٩٦٦، ١٢١٧٢) (صحیح) انظر ما قبلہ (صحیح)
3431Sunan At-Tirmidhi

اس متعلق کہ مصیبت زدہ کو دیکھ کر کیا کہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ رَأَى صَاحِبَ بَلَاءٍ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا، إِلَّا عُوفِيَ مِنْ ذَلِكَ الْبَلَاءِ كَائِنًا مَا كَانَ مَا عَاشَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانِ آلِ الزُّبَيْرِ هُوَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ، وَقَدْ تَفَرَّدَ بِأَحَادِيثَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا رَأَى صَاحِبَ بَلَاءٍ فَتَعَوَّذَ مِنْهُ يَقُولُ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ وَلَا يُسْمِعُ صَاحِبَ الْبَلَاءِ.

عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص مصیبت میں گرفتار کسی شخص کو دیکھے اور کہے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاک به وفضلني علی كثير ممن خلق تفضيلا» سب تعریف اللہ کے لیے ہے کہ جس نے مجھے اس بلا و مصیبت سے بچایا جس سے تجھے دوچار کیا، اور مجھے فضیلت دی، اپنی بہت سی مخلوقات پر ، تو وہ زندگی بھر ہر بلا و مصیبت سے محفوظ رہے گا خواہ وہ کیسی ہو ۔

Sayyidina Umar reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone says on seeing someone in afliction: Praise belongs to Allah Who saved me from that with which He has afflicted you, and caused me to excel over most of those whom He created with a distinct excellence, then he will be saved from the affliction whatever it be as long as he lives. [Ibn e Majah 3892]

حسن، ابن ماجة (3892)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3431
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اور عمرو بن دینار آل زبیر کے خزانچی ہیں اور بصریٰ شیخ ہیں اور حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں، اور یہ سالم بن عبداللہ بن عمر سے کئی احادیث کی روایت میں منفرد ہیں، ٣- ابو جعفر محمد بن علی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب آدمی کسی کو مصیبت میں گرفتار دیکھے تو اس بلا سے آہستہ سے پناہ مانگے مصیبت زدہ شخص کو نہ سنائے، ٤- اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢٢ (٣٨٩٢) (تحفة الأشراف: ١٠٥٣٢) (حسن) (سند میں عمرو بن دینار قھر مان آل زبیر ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، دیکھیے اگلی حدیث)
3432Sunan At-Tirmidhi

اس متعلق کہ مصیبت زدہ کو دیکھ کر کیا کہے

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ السِّمْنَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ رَأَى مُبْتَلًى فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا، لَمْ يُصِبْهُ ذَلِكَ الْبَلَاءُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی شخص کو مصیبت میں مبتلا دیکھے پھر کہے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاک به وفضلني علی كثير ممن خلق تفضيلا» تو اسے یہ بلا نہ پہنچے گی ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who sees an afflicted person and says: Praise belongs to Allah Who saved me wherewith he has afflicted you and made me to excel singularly over many of those whom He created, then that offliction will never bother him. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الصحيحة (2737)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3432
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٢٦٩٠) (صحیح) (سند میں عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ٢٠٦، ٢٧٣٧، وتراجع الالبانی ٢٢٨)