Sunan At-Tirmidhi 3431

دعاؤں کا بیان

3431Sunan At-Tirmidhi

اس متعلق کہ مصیبت زدہ کو دیکھ کر کیا کہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ رَأَى صَاحِبَ بَلَاءٍ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا، إِلَّا عُوفِيَ مِنْ ذَلِكَ الْبَلَاءِ كَائِنًا مَا كَانَ مَا عَاشَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانِ آلِ الزُّبَيْرِ هُوَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ، وَقَدْ تَفَرَّدَ بِأَحَادِيثَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا رَأَى صَاحِبَ بَلَاءٍ فَتَعَوَّذَ مِنْهُ يَقُولُ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ وَلَا يُسْمِعُ صَاحِبَ الْبَلَاءِ.

عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص مصیبت میں گرفتار کسی شخص کو دیکھے اور کہے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاک به وفضلني علی كثير ممن خلق تفضيلا» سب تعریف اللہ کے لیے ہے کہ جس نے مجھے اس بلا و مصیبت سے بچایا جس سے تجھے دوچار کیا، اور مجھے فضیلت دی، اپنی بہت سی مخلوقات پر ، تو وہ زندگی بھر ہر بلا و مصیبت سے محفوظ رہے گا خواہ وہ کیسی ہو ۔

Sayyidina Umar reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone says on seeing someone in afliction: Praise belongs to Allah Who saved me from that with which He has afflicted you, and caused me to excel over most of those whom He created with a distinct excellence, then he will be saved from the affliction whatever it be as long as he lives. [Ibn e Majah 3892]

حسن، ابن ماجة (3892)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3431
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اور عمرو بن دینار آل زبیر کے خزانچی ہیں اور بصریٰ شیخ ہیں اور حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں، اور یہ سالم بن عبداللہ بن عمر سے کئی احادیث کی روایت میں منفرد ہیں، ٣- ابو جعفر محمد بن علی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب آدمی کسی کو مصیبت میں گرفتار دیکھے تو اس بلا سے آہستہ سے پناہ مانگے مصیبت زدہ شخص کو نہ سنائے، ٤- اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢٢ (٣٨٩٢) (تحفة الأشراف: ١٠٥٣٢) (حسن) (سند میں عمرو بن دینار قھر مان آل زبیر ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، دیکھیے اگلی حدیث)