Sunan At-Tirmidhi 3413

دعاؤں کا بیان

3413Sunan At-Tirmidhi

اسی سے متعلق

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنَحْمَدَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنُكَبِّرَهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، قَالَ: فَرَأَى رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الْمَنَامِ، فَقَالَ: أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُوا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاجْعَلُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ، وَاجْعَلُوا التَّهْلِيلَ مَعَهُنَّ، فَغَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ، فَقَالَ: افْعَلُوا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا کہ ہر نماز کے بعد ہم (سلام پھیر کر) ٣٣ بار سبحان اللہ، ٣٣ بار الحمدللہ اور ٣٤ بار اللہ اکبر کہیں، راوی (زید) کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے خواب دیکھا، خواب میں نظر آنے والے شخص (فرشتہ) نے پوچھا: کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ ہر نماز کے بعد ٣٣ بار سبحان اللہ ٣٣ بار الحمدللہ اور ٣٤ بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو؟ اس نے کہا: ہاں، (تو سائل (فرشتے) نے کہا: (٣٣، ٣٣ اور ٣٤ کے بجائے) ٢٥ کرلو، اور «لا إلہ إلا اللہ» کو بھی انہیں کے ساتھ شامل کرلو، (اس طرح کل سو ہوجائیں گے) صبح جب ہوئی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے، اور آپ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ایسا ہی کرلو ١ ؎۔

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سلسلے میں تین روایتیں ہیں ایک یہی اس حدیث میں مذکور طریقہ ( یعنی ٣٣/٣٣/ اور ٣٤ بار ) دوسرا طریقہ وہی جو فرشتے نے بتایا، اور ایک تیسرا طریقہ یہ ہے کہ سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر ٣٣/٣٣ بار، اور ایک بار سو کا عدد پورا کرنے کے لیے «لا الہ الا اللہ» کہے، جو طریقہ بھی اپنائے سب ثابت ہے، کبھی یہ کرے اور کبھی وہ۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السھو ٩٣ (١٣٥١) (تحفة الأشراف: ٣٤١٣)، و مسند احمد (٥/٥٨٥، ١٩٠)، وسنن الدارمی/الصلاة ٩٠ (١٣٩٤) (صحیح)