Sunan At-Tirmidhi 3417

دعاؤں کا بیان

3417Sunan At-Tirmidhi

اسی کے بارے میں

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَالَ: اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَا نَفْسِي بَعْدَ مَا أَمَاتَهَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

حذیفہ بن الیمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو کہتے: «اللهم باسمک أموت وأحيا» ١ ؎، اور جب آپ سو کر اٹھتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أحيا نفسي بعد ما أماتها وإليه النشور» ٢ ؎۔

Sayyidina Huzayfah ibn Yaman (RA) reported that when Allah’s Messenger ‘ decided to go to sleep, he would pray: “O Allah, with Your name do I die and live. And when he woke up, he would pray:” Praise belongs to Allah who revived my soul after putting me to death, and to Him is the return. [Ahmed 23429, Bukhari 6312, Abu Dawud 5049, Ibn e Majah 3880]

صحيح، ابن ماجة (3880)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3417
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: تیرا ہی نام لے کر مرتا ( یعنی سوتا ) ہوں اور تیرا ہی نام لے کر جیتا ( یعنی سو کر اٹھتا ) ہوں۔ ٢ ؎: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری جان ( میری ذات ) کو زندگی بخشی، اس کے بعد کہ اسے ( عارضی ) موت دے دی تھی اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے، بعض روایات میں اس کے الفاظ یوں بھی آئے ہیں، «الحمد لله الذي أحيا نفسي بعد ما أماتها وإليه النشور» (معنی ایک ہی ہے )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٧ (٦٣١٢)، والتوحید ١٣ (٧٣٩٤)، سنن ابی داود/ الأدب ١٠٧ (٥٠٤٩)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٦ (٣٨٨٠) (تحفة الأشراف: ٣٣٠٨)، و مسند احمد (٥/١٥٤)، وسنن الدارمی/الاستئذان ٥٣ (٢٧٢٨) (صحیح)