علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ عید کے لیے پیدل جانا اور نکلنے سے پہلے کچھ کھا لینا سنت ہے۔
Sayyidina Ali narrated that it is the sunnah (Prophets practice) to walk up to the place ofeidprayer and to eat somethhlg before going out (of the home). --------------------------------------------------------------------------------
حسن، ابن ماجة (1294 - 1297)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 530
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے وہ مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی عید کے لیے پیدل جائے اور عید الفطر کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے کچھ کھالے، ٣- مستحب یہ ہے کہ آدمی بلا عذر سوار ہو کر نہ جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٦١ (الشق الأول فقط ) ( تحفة الأشراف: ١٠٠٤٢) (حسن) (سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے اور اس کے بعد خطبہ دیتے تھے۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that AlIahs Messenger ﷺ , Abu Bakr (RA) , and Umar (RA) prayed the salah of the two eid days before sermon. Then they delivered the sermon. [Ahmed4602, Bukhari 83, Muslim 888, Ibn e Majah 1276] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1276)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 531
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہوگی، ٤- اور کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے جس نے نماز سے پہلے خطبہ دیا وہ مروان بن حکم تھا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مگر ایک صحابی رسول ﷺ نے اسے اس بدعت کی ایجاد سے روک دیا تھا ؓ وارضاہ۔
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ عیدین کی نماز ایک اور دو سے زیادہ بار یعنی متعدد بار بغیر اذان اور بغیر اقامت کے پڑھی ہے۔
Sayyidina Jabir ibn Samurah (RA) narrated that he prayed the eid prayer with the Prophet ﷺ more than once or twice without adhan or iqamah. [Ahmed20891, M887, Abu Dawud 1148] --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، صحيح أبي داود (1042)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 532
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر بن سمرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر بن عبداللہ اور ابن عباس ؓ سے احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ عیدین کی نماز کے لیے اذان نہیں دی جائے گی اور نہ نوافل میں سے کسی کے لیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العیدین (٨٨٧)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٥٠ (١١٤٨)، ( تحفة الأشراف: ٢١٦٦)، مسند احمد (٥/٩١) (حسن صحیح)
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عیدین اور جمعہ میں «سبح اسم ربک الأعلی» اور «هل أتاک حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور بسا اوقات دونوں ایک ہی دن میں آ پڑتے تو بھی انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے۔
Sayyidina Numan him Bashir (RA) narrated that the Prophet ﷺ recited in (the salah of) eid and Friday the surah al-Ala and al-Ghasbiyah Ifeidfell on Friday then he recited both surah (in both prayers). [Muslim 62]
صحيح، ابن ماجة (1119)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 533
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- نعمان بن بشیر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابو واقد، سمرہ بن جندب اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اسی طرح سفیان ثوری اور مسعر نے بھی ابراہیم بن محمد بن منتشر سے ابو عوانہ کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ٤- رہے سفیان بن عیینہ تو ان سے روایت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان کی ایک سند یوں ہے: «عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه عن حبيب بن سالم عن أبيه عن النعمان بن بشير» اور ہم حبیب بن سالم کی کسی ایسی روایت کو نہیں جانتے جسے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہو۔ حبیب بن سالم نعمان بن بشیر کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے نعمان بن بشیر سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ اور ابن عیینہ سے ابراہیم بن محمد بن منتشر کے واسطہ سے ان لوگوں کی طرح بھی روایت کی گئی ہے ٢ ؎ اور نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ عیدین کی نماز میں «سورة ق» اور «اقتربت الساعة» پڑھتے تھے ٣ ؎ اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس سند میں حبیب بن سالم اور نعمان بن بشیر کے درمیان حبیب کے والد کا اضافہ ہے، جو صحیح نہیں ہے۔ ٢ ؎: یعنی: بغیر «عن أبیہ» کے اضافہ کے، یہ روایت آگے آرہی ہے۔ ٣ ؎: اس میں کوئی تضاد نہیں، کبھی آپ یہ سورتیں پڑھتے اور کبھی وہ سورتیں، بہرحال ان کی قراءت مسنون ہے، فرض نہیں، لیکن ایسا نہیں کہ بعض لوگوں کی طرح ان مسنون سورتوں کو پڑھے ہی نہیں۔ مسنون عمل کو بغیر کسی شرعی عذر کے جان بوجھ کر چھوڑنا سخت گناہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٨)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٤٢ (١١٢٢)، سنن النسائی/الجمعة ٤٠ (١٤٢٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٠ (١١٢٠)، و ١٥٧ (١٢٨١)، موطا امام مالک/الجمعة ٩ (١٩)، ( تحفة الأشراف: ١١٦١٢)، مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧١، ٢٧٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٣ (١٦٠٩) (صحیح)
عمرو بن عوف مزنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عیدین میں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہیں۔
Kathir ibn Abdullah reported from his father, from his grandfather that the Prophet ﷺ called in the salah of the eeds seven takbirs before recital in the first raka;ah and five in the second before recital. [Ibn e Majah 1277]
صحيح، ابن ماجة (1279)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 536
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عائشہ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- کثیر کے دادا کی حدیث حسن ہے اور یہ سب سے اچھی روایت ہے جو نبی اکرم ﷺ سے اس باب میں روایت کی گئی ہے۔ ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- اور ابوہریرہ ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے مدینے میں اسی طرح یہ نماز پڑھی، ٥- اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے، اور یہی مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ٦- عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے عیدین کی تکبیروں کے بارے میں کہا ہے کہ یہ نو تکبیریں ہیں۔ پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہے ١ ؎ اور دوسری رکعت میں پہلے قرأت کرے پھر رکوع کی تکبیر کے ساتھ چار تکبیریں کہے ٢ ؎ کئی صحابہ کرام سے بھی اسی طرح کی روایت مروی ہے۔ اہل کوفہ کا بھی قول یہی ہے اور یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تکبیر تحریمہ کے ساتھ پانچ، یعنی پہلی میں چار زائد تکبیریں۔ ٢ ؎: یہ کل سات تکبیریں زائد ہوئیں اس کی سند ابن مسعود ؓ تک صحیح ہے، لیکن یہ موقوف ہے خود آپ ﷺ کا عمل بارہ زوائد تکبیرات پر تھا، ولنا المرفوع۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٦ (١٢٧٩)، ( تحفة الأشراف: ١٠٧٧٤) (صحیح) (سند میں کثیر ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے: صحیح أبی داود ١٠٤٥-١٠٤٦، والعیدین ٢٦/٩٨٩)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید الفطر کے دن نکلے، آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر آپ نے نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ came out on the eid ul Fitr and prayed two raka’at He did not pray any salah before it or after it [Ahmed2332 Bukhari 964 Muslim 884 Abu Dawud 1159 Nisai 1583 Ibn e Majah 1291]
صحيح، ابن ماجة (1291)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 537
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عمرو اور ابوسعید سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ٤- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کے ایک گروہ کا خیال ہے کہ عیدین کی نماز کے پہلے اور اس کے بعد نماز پڑھ سکتے ہیں لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٨ (٩٦٤)، و ٢٦ (٩٨٩)، والزکاة ٢١ (٤٣١)، واللباس ٥٧ (٥٨٨١)، و ٥٩ (٥٨٨٣)، صحیح مسلم/العیدین ٢ (١٣/٨٨٤)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٥٦ (١١٥٩)، سنن النسائی/العیدین ٢٩ (١٥٨٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٦٠ (١٢٩١)، ( تحفة الأشراف: ٥٥٥٨)، مسند احمد (١/٣٥٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٩ (١٦٤٦) (صحیح)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ عید کے دن نکلے تو انہوں نے نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد اور ذکر کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسے ہی کیا ہے۔
It is reported that Sayyidina lbn Umar (RA) came out (of his home) to pray the eid saiah and did not pray any prayer before or after theeidsalah.’He said, ‘The Prophet ﷺ did like that. [Ahmed5212] --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، الإرواء (3 / 99)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 538
ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عیدین میں کنواری لڑکیوں، دوشیزاؤں، پردہ نشیں اور حائضہ عورتوں کو بھی لے جاتے تھے۔ البتہ حائضہ عورتیں عید گاہ سے دور رہتیں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہتیں۔ ایک عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: اس کی بہن کو چاہیئے کہ اسے اپنی چادروں میں سے کوئی چادر عاریۃً دیدے ١ ؎۔
Sayyidah Umm Atiyah reported that Allah’s Messenger -L would instruct unmarried girls, young women, those observing the veil and the menstruating women to come out to theeidprayers. As for the menstruating women, they stood away from the place of prayer and joined the supplication of the Muslims. One of them asked, “O Messenger of Allah, if one does not have a veil?” He said, “Her sister may lend her, her own veil.” [Ahmed20815, Bukhari 971, Ibn e Majah 1307, Muslim 890, Abu Dawud 138, Nisai 1555]
صحيح، ابن ماجة (1307 و 1308)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 539
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورتوں کو نماز عید کے لیے عید گاہ لے جانا مسنون ہے، جو لوگ اس کی کراہت کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں: یہ ابتدائے اسلام کا واقعہ ہے تاکہ اہل اسلام کی تعداد زیادہ معلوم ہو اور لوگوں پر ان کی دھاک بیٹھ جائے، لیکن یہ تاویل صحیح نہیں کیونکہ ابن عباس ؓ سے بھی اس طرح کی روایت آتی ہے اور وہ کمسن صحابہ میں سے ہیں، ظاہر ہے ان کی یہ گواہی فتح مکہ کے بعد کی ہوگی جس وقت اظہار قوت کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب عید کے دن ایک راستے سے نکلتے تو دوسرے سے واپس آتے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ took one road for the eid salah, he returned by other than it. [Ahmed8462, Ibn e Majah 1301] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1301)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 541
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمر اور ابورافع ؓ سے احادیث آئی ہیں، ٣- ابوتمیلہ اور یونس بن محمد نے یہ حدیث بطریق: «فليح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث، عن جابر بن عبدالله» کی ہے، ٤- بعض اہل علم نے اس حدیث کی پیروی میں امام کے لیے مستحب قرار دیا ہے کہ جب ایک راستے سے جائے تو دوسرے سے واپس آئے۔ شافعی کا یہی قول ہے، اور جابر کی حدیث (بمقابلہ ابوہریرہ) گویا زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کی پیروی میں مسلمانوں کو بھی راستہ تبدیل کر کے آنا جانا چاہیئے، کیونکہ اس سے ایک تو اسلام کی شان وشوکت کا مظاہرہ ہوگا دوسرے قیامت کے دن یہ دونوں راستے ان کی اس عبادت کی گواہی دیں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف من حدیث ابی ہریرة واخرجہ فی العیدین ٢٤ (٩٨٦) بنفس الطریق لکنہ من حدیث جابر، وقال حدیث جابر أصح (ای من حدیث ابی ہریرة) ( تحفة الأشراف: ١٢٩٣٧) (صحیح)
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید الفطر کے دن جب تک کھا نہ لیتے نکلتے نہیں تھے اور عید الاضحی کے دن جب تک نماز نہ پڑھ لیتے کھاتے نہ تھے۔
Abdullah ibn Buraydah (RA) reported from his father that the Prophet ﷺ , d- did not go out for the salah ofeidul-fitr till he had eaten (something) but he did not eat (anything) oneidul-adha till he had prayed. (Ahmed23041 Ibn e Majah 1757]
صحيح، ابن ماجة (1756)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 542
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- بریدہ بن حصیب اسلمی ؓ کی حدیث غریب ہے، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ثواب بن عتبہ کی اس کے علاوہ کوئی حدیث مجھے نہیں معلوم، ٣- اس باب میں علی اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- بعض اہل علم نے مستحب قرار دیا ہے کہ آدمی عید الفطر کی نماز کے لیے کچھ کھائے بغیر نہ نکلے اور اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ کھجور ١ ؎ کا ناشتہ کرے اور عید الاضحی کے دن نہ کھائے جب تک کہ لوٹ کر نہ آ جائے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: برصغیر ہند و پاک کے مسلمانوں نے پتہ نہیں کہاں سے یہ حتمی رواج بنا ڈالا ہے کہ سوئیاں کھا کر عید گاہ جاتے ہیں، اور آ کر بھی کھاتے کھلاتے ہیں، اس رواج کی اس حد تک پابندی کی جاتی ہے کہ عیدالفطر اور سوئیاں لازم ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں، جیسے عید الاضحی میں گوشت، اس حد تک پابندی بدعت کے زمرے میں داخل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٩ (١٧٥٤)، ( تحفة الأشراف: ١٧٥٤) (صحیح)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید الفطر کے دن نماز کے لیے نکلنے سے پہلے چند کھجوریں کھالیتے تھے۔
Sayyidina Anas ibn Maahk (RA) narrated that the Prophet ﷺ had a breakfast of dates oneidul-fitr before going to the place ofeidsalah. [Ahmed1227O Ibn e Majah 17054]
صحيح، ابن ماجة (1754)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 543
عمر بن خطاب نے ابوواقد لیثی حارث بن عوف رضی الله عنہ سے پوچھا: عید الفطر اور عیدالاضحیٰ میں رسول اللہ ﷺ کیا پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ «ق والقرآن المجيد» اور «اقتربت الساعة وانشق القمر» پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ubaidullah bin Abdullah bin Utbah narrated: Umar bin Al-Khattab asked Abu Waqid Al-Laithi what Allah's Messenger would recite during Al-Fitr and Al-Adha, so he said: 'He would recite: Qaf, By the Glorious Quran and the Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder.'
ام عطیہ رضی الله عنہا سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام عطیہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں اور عیدین کے لیے عورتوں کو نکلنے کی رخصت دی ہے، اور بعض نے اسے مکروہ جانا ہے، ۴- عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ آج کل میں عیدین میں عورتوں کے جانے کو مکروہ سمجھتا ہوں، اگر کوئی عورت نہ مانے اور نکلنے ہی پر بضد ہو تو چاہیئے کہ اس کا شوہر اسے پرانے میلے کپڑوں میں نکلنے کی اجازت دے اور وہ زینت نہ کرے، اور اگر وہ اس طرح نکلنے پر راضی نہ ہو تو پھر شوہر کو حق ہے کہ وہ اسے نکلنے سے روک دے، ۵- عائشہ رضی الله عنہا سے نقل کیا ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ ان نئی چیزوں کو دیکھ لیتے جو اب عورتوں نے نکال رکھی ہیں تو انہیں مسجد جانے سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کر دیا گیا تھا، ۶- سفیان ثوری سے بھی نقل کیا گیا ہے کہ آج کل کے دور میں انہوں نے بھی عورتوں کا عید کے لیے نکلنا مکروہ قرار دیا ۱؎۔
There is a similar narration from Umm Atiyyah : with another chain.