عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جبرائیل (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کے پاس میری دو بار امامت کی، پہلی بار انہوں نے ظہر اس وقت پڑھی (جب سورج ڈھل گیا اور) سایہ جوتے کے تسمہ کے برابر ہوگیا، پھر عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا ١ ؎، پھر مغرب اس وقت پڑھی جب سورج ڈوب گیا اور روزے دار نے افطار کرلیا، پھر عشاء اس وقت پڑھی جب شفق ٢ ؎ غائب ہوگئی، پھر نماز فجر اس وقت پڑھی جب فجر روشن ہوگئی اور روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہوگیا، دوسری بار ظہر کل کی عصر کے وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہوگیا، پھر عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہوگیا، پھر مغرب اس کے اول وقت ہی میں پڑھی (جیسے پہلی بار میں پڑھی تھی) پھر عشاء اس وقت پڑھی جب ایک تہائی رات گزر گئی، پھر فجر اس وقت پڑھی جب اجالا ہوگیا، پھر جبرائیل نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے محمد! یہی آپ سے پہلے کے انبیاء کے اوقات نماز تھے، آپ کی نمازوں کے اوقات بھی انہی دونوں وقتوں کے درمیان ہیں ٣ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "Jibril led me in Salah twice near Bayt Allah. The first time, we offered the Salah of Zuhr when the shadow was like the thong of a shoe. Then, we offered Asr when the shadow of everything was equal to it, and maghrib after sunset when the fasting man takes if tar (breaks his fast), and Isha when the twilight disappeared, and fair when one who fasts is forbidden food and drink. The second time, we offerred Zuhr when the shadow of everything was like it in length at the time of Asr on the previous day. Then we offered the Asr when the shadow of everything was twice as long. We prayed Maghrib at the same time as the previous day; we prayed Isha when one-third of the night was over and Fajr when the earth was well-lit. Then Jibril turned to me and said; "O Muhammad ﷺ ! This was the time observed by Prophets ﷺ before you, and the time (of five Salah) is between these two times."
حسن صحيح، المشکاة (583)، الإرواء (249)، صحيح أبي داود (416)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 149
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں ابوہریرہ، بریدہ، ابوموسیٰ، ابومسعود انصاری، ابوسعید، جابر، عمرو بن حرم، براء اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ظہر کا وقت ایک مثل تک رہتا ہے اس کے بعد عصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے جمہور کا یہی مسلک ہے اور عصر کے وقت سے متعلق امام ابوحنیفہ کا مشہور قول دو مثل کا ہے لیکن یہ کسی صحیح مرفوع حدیث سے ثابت نہیں۔ بلکہ بعض علمائے احناف نے صحیح احادیث میں ان کے اس قول کو رد کردیا ہے ( تفصیل کے لیے دیکھئیے: التعلیق الممجد علی موطا الإمام محمد، ص: ٤١، ط/قدیمی کتب خانہ کراچی )۔ ٢ ؎: اس سے مراد وہ سرخی ہے جو سورج ڈوب جانے کے بعد مغرب ( پچھم ) میں باقی رہتی ہے۔ ٣ ؎: پہلے دن جبرائیل (علیہ السلام) نے ساری نمازیں اول وقت میں پڑھائیں اور دوسرے دن آخری وقت میں تاکہ ہر نماز کا اول اور آخر وقت معلوم ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢ (٣٩٣)، ( تحفة الأشراف: ٦٥١٩)، مسند احمد (١/٣٣٣، ٣٥٤) (حسن صحیح)
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل نے میری امامت کی ، پھر انہوں نے ابن عباس ؓ کی حدیث کی طرح اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ البتہ انہوں نے اس میں «لوقت العصر بالأمس» کا ٹکڑا ذکر نہیں کیا۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported from Allahs Messenger ﷺ said, "Jibril led me in Salah. “And he mentioned a Hadith of the same purport as Sayyidina Abbas (RA) (Hadith #149), saying (about Zuhr) "at the time of Asr yesterday."
صحيح، الإرواء (250)، صحيح أبي داود (418)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 150
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ١ ؎، اور ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اوقات نماز کے سلسلے میں سب سے صحیح جابر ؓ والی حدیث ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی یہ اصطلاح ( حسن صحیح غریب ) اس وقت استعمال کرتے ہیں جب کوئی حدیث کسی صحابی کی روایت سے معروف ہو اور اس کے مختلف طرق ہوں، یا ایک ہی طریق ہو پھر اسی صحابی سے کسی اور طریق سے روایت آئے اور اسے غریب جانا جائے، مطلب یہ ہے کہ لفظی طور پر غریب ہے اسنادی طور پر حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/مواقیت الصلاة ١٧ (٥٢٧)، ( تحفة الأشراف: ٣١٢٨)، مسند احمد (٣/٣٣٠، ٣٣١) (وذکرہ أبو داود تحت حدیث رقم: ٣٩٤ تعلیقاً ومقتصرا علی وقت المغرب فقط) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز کا ایک اول وقت ہے اور ایک آخری وقت، ظہر کا اول وقت وہ ہے جب سورج ڈھل جائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب عصر کا وقت شروع ہوجائے، اور عصر کا اول وقت وہ ہے جب عصر کا وقت (ایک مثل سے) شروع ہوجائے اور آخری وقت وہ ہے جب سورج پیلا ہوجائے، اور مغرب کا اول وقت وہ ہے جب سورج ڈوب جائے اور آخری وقت وہ ہے جب شفق ١ ؎ غائب ہوجائے، اور عشاء کا اول وقت وہ ہے جب شفق غائب ہوجائے اور اس کا آخر وقت وہ ہے جب آدھی رات ہوجائے ٢ ؎، اور فجر کا اول وقت وہ ہے جب فجر (صادق) طلوع ہوجائے اور آخری وقت وہ ہے جب سورج نکل جائے۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allahs Messenge ﷺ said,” There is for every Salah, its initial and final time. The initial time for Zuhr is when the sun declines and its final time is when Asr commences. The initial time of Asr is when it sets in till when the sun turns yellow. The initial time of Maghrib is with sunset and its last is when redness on the horizons disappears. The initial time of Isha is from then and its final time is at midnight. The initial time of Fajr is from true dawn till sunrise.
صحيح، الصحيحة (1696)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 151
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی روایت آئی ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ اوقات کے سلسلہ میں اعمش کی مجاہد سے روایت محمد بن فضیل کی اعمش سے روایت سے زیادہ صحیح ہے، محمد بن فضیل کی حدیث غلط ہے اس میں محمد بن فضیل سے چوک ہوئی ہے
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں لفظ «افق» ہے جس سے مراد شفق ہے، یعنی سورج کی سرخی اندھیرے میں گم ہوجائے۔ ٢ ؎: یہ وقت اختیاری ہے رہا، وقت جواز تو یہ صبح صادق کے طلوع ہونے تک ہے کیونکہ ابوقتادہ کی حدیث میں ہے «ليس في النوم تفريط إنما التفريط علی من لم يصل الصلاة حتی يجيء وقت الصلاة الأخری» ٣ ؎: کیونکہ محمد بن فضیل نے یوں روایت کی ہے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة» جبکہ صحیح یوں ہے: «عن الأعمش عن مجاهد قوله» یعنی: اس روایت کا مجاہد کا قول ہونا زیادہ صحیح ہے، نبی اکرم ﷺ کے مرفوع قول ہونے سے۔
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا، اس نے آپ سے اوقات نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: تم ہمارے ساتھ قیام کرو (تمہیں نماز کے اوقات معلوم ہوجائیں گے) ان شاء اللہ، پھر آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی جب فجر (صادق) طلوع ہوگئی پھر آپ نے حکم دیا تو انہوں نے سورج ڈھلنے کے بعد اقامت کہی تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی آپ نے عصر پڑھی اس وقت سورج روشن اور بلند تھا، پھر جب سورج ڈوب گیا تو آپ نے انہیں مغرب کا حکم دیا، پھر جب شفق غائب ہوگئی تو آپ نے انہیں عشاء کا حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی، پھر دوسرے دن انہیں حکم دیا تو انہوں نے فجر کو خوب اجالا کر کے پڑھا، پھر آپ نے انہیں ظہر کا حکم دیا تو انہوں نے ٹھنڈا کیا، اور خوب ٹھنڈا کیا، پھر آپ نے انہیں عصر کا حکم دیا اور انہوں نے اقامت کہی تو اس وقت سورج اس کے آخر وقت میں اس سے زیادہ تھا جتنا پہلے دن تھا (یعنی دوسرے دن عصر میں تاخیر ہوئی) ، پھر آپ نے انہیں مغرب میں دیر کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے مغرب کو شفق کے ڈوبنے سے کچھ پہلے تک مؤخر کیا، پھر آپ نے انہیں عشاء کا حکم دیا تو انہوں نے جب تہائی رات ختم ہوگئی تو اقامت کہی، پھر آپ نے فرمایا: نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ تو اس آدمی نے عرض کیا: میں ہوں، آپ نے فرمایا: نماز کے اوقات انہیں دونوں کے بیچ میں ہیں ۔
Sayyidina Sulayman ibn Braydah (RA) reported from his father (Buraidah (RA). He said someone came to the Prophet ﷺ and asked him about the times of salah. He said, “Stay with us, Insha Allah.”Then he commanded Sayyidina Bilal (RA) and he called the Iqamah at the time of rise of dawn. Then he commanded Sayyidina Bilal (RA) and he gave the Iqamah at the declination of the sun and (they) offered the Zuhr Salah. Then he commanded him ( Bilal (RA) ) and he called the iqamah and (they) offered the asr while the sun was high and bright. Then when the sun set, he gave the command for Maghrib. Then he gave the command for Isha and he called the iqamah when the twilight had disappeared. Then, the next day, he gave the command and the fair was offered in a good light. Then he commanded for the Zuhr and they offered it when the extreme heat had cooled down. Then he gave the command for the Asr and he gave the iqamah when the suns time was more delayed than the previous day. Then he gave the command for Maghrib and (they) offered it a little before twilight disappeared. Then he gave the command for Isha and he called its iqamah when a third of the night had passed. Then the Prophet ﷺ asked, "Where is he who had asked about the times of Salah?" He said, "Here am I!” So, he said, "The times of Salah are between these two times."
صحيح، ابن ماجة (667)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 152
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب فجر پڑھا لیتے تو پھر عورتیں چادروں میں لپٹی ہوئی لوٹتیں وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔
Sayyidah Aisha (RA) narrated that when Allahs Messenger ﷺ would .finish the Fajr Salah, the women would return." Ansari added, "And they would pass wrapped in cloaks unrecognized because of the darkness.
صحيح، ابن ماجة (669)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 153
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، انس، اور قیلہ بنت مخرمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اسی کو صحابہ کرام جن میں ابوبکر و عمر ؓ بھی شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین میں سے بہت سے اہل علم نے پسند کیا ہے، اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ فجر «غلس» (اندھیرے) میں پڑھنا مستحب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٣ (٣٧٢)، والمواقیت ٢٧ (٥٧٨)، والأذان ١٦٣ (٨٦٧)، و ١٦٥ (٨٧٢)، صحیح مسلم/المساجد ٤٠ (٦٤٥)، سنن ابی داود/ الصلاة ٨ (٤٢٣)، سنن النسائی/المواقیت ٢٥ (٥٤٧، ٥٤٦)، والسہو ١٠١ (١٣٦٣)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٢ (٦٦٩)، ( تحفة الأشراف: ٣٥٨٢)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (٤)، مسند احمد (٦/٣٣، ٣٦، ١٧٩، ٢٤٨، ٢٥٩) (صحیح)
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: فجر خوب اجالا کر کے پڑھو، کیونکہ اس میں زیادہ ثواب ہے ۔
Sayyidina Rafi (RA) ibn Khadij said that he heard Allahs Messenger ﷺ say, "Offer the Fajr Salah in good light. There is more reward in that."
صحيح، ابن ماجة (672)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 154
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- رافع بن خدیج کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوبرزہ اسلمی، جابر اور بلال ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کی رائے نماز فجر اجالا ہونے پر پڑھنے کی ہے۔ یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں۔ اور شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ «اسفار» اجالا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ فجر واضح ہوجائے اور اس کے طلوع میں کوئی شک نہ رہے، «اسفار» کا یہ مطلب نہیں کہ نماز تاخیر (دیر) سے ادا کی جائے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ نیز صحابہ و تابعین و سلف صالحین کے تعامل کو دیکھتے ہوئے اس حدیث کا یہی صحیح مطلب ہے۔ باب ہذا اور گزشتہ باب کی احادیث میں علمائے حدیث نے جو بہترین تطبیق دی وہ یوں ہے کہ فجر کی نماز منہ اندھیرے اول وقت میں شروع کرو، اور تطویل قرأت کے ساتھ اجالا کرلو، دونوں طرح کی احادیث پر عمل ہوجائے گا۔ ( مزید تفصیل کے لیے تحفۃ الأحوذی جلد اول ص ١٤٥، طبع المکتبۃ الفاروقیۃ /ملتان، پاکستان )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٨ (٤٢٤)، سنن النسائی/المواقیت ٢٧ (٥٤٩)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٢ (٦٧٢)، ( تحفة الأشراف: ٣٥٨٢)، مسند احمد (٣/٤٦٠) و (٤/١٤٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١ (١٢٥٣) (صحیح)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ظہر کو رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر جلدی کرنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا، اور نہ ابوبکر اور عمر ؓ سے بڑھ کر جلدی کرنے والا کسی کو دیکھا۔
Sayyidah Aisha (RA) said, "I did not see anyone offering the Salah of Zuhr earlier than Allahs Messenger ﷺ did, and not even (earlier) than Abu Bakr (RA) and Umar (RA)”
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 155
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں جابر بن عبداللہ، خباب، ابوبرزہ، ابن مسعود، زید بن ثابت، انس اور جابر بن سمرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں اور عائشہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اور اسی کو صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں اہل علم نے اختیار کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر: مسند احمد (٦/١٣٥، ٢١٦)، ( تحفة الأشراف: ١٥٩٣٤) (ضعیف الإسناد) (سند کے ضعف کی وجہ یہ ہے کہ اس کے راوی ” حکیم بن جبیر “ ضعیف ہیں، لیکن دوسری احادیث جیسا کہ مولف نے ذکر کیا ہے سے یہ حدیث ثابت ہے۔ )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز ظہر اس وقت پڑھی جس وقت سورج ڈھل گیا۔
Hasan ibn Ali Halwani reported to us, Abdur Razzaq reported to him and Mumar to him and Zuhri to him. Sayyidina Anas ibn Malik told me that Allahs Messenger offered the Salah of zuhr when it was time of zawal (declination of the sun).
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 156
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث صحیح ہے اور یہ اس باب میں سب سے اچھی حدیث ہے، ٢- اس باب میں جابر ؓ سے بھی حدیث آئی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈا ہونے پر پڑھو ١ ؎ کیونکہ گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Huraryrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “When the heat is severe postpone the Salah till it is cooler because the severity of heat is the effect of the violence of Hell.”
صحيح، ابن ماجة (678)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 157
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوسعید، ابوذر، ابن عمر، مغیرہ، اور قاسم بن صفوان کے باپ ابوموسیٰ، ابن عباس اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اس سلسلے میں عمر ؓ سے بھی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، ٤- اہل علم میں کچھ لوگوں نے سخت گرمی میں ظہر تاخیر سے پڑھنے کو پسند کیا ہے۔ یہی ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: ظہر ٹھنڈا کر کے پڑھنے کی بات اس وقت کی ہے جب مسجد والے دور سے آتے ہوں، رہا اکیلے نماز پڑھنے والا اور وہ شخص جو اپنے ہی لوگوں کی مسجد میں نماز پڑھتا ہو تو میں اس کے لیے یہی پسند کرتا ہوں کہ وہ سخت گرمی میں بھی نماز کو دیر سے نہ پڑھے، ٥- جو لوگ گرمی کی شدت میں ظہر کو دیر سے پڑھنے کی طرف گئے ہیں ان کا مذہب زیادہ بہتر اور اتباع کے زیادہ لائق ہے، رہی وہ بات جس کی طرف شافعی کا رجحان ہے کہ یہ رخصت اس کے لیے ہے جو دور سے آتا ہوتا کہ لوگوں کو پریشانی نہ ہو تو ابوذر ؓ کی حدیث میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو اس چیز پر دلالت کرتی ہیں جو امام شافعی کے قول کے خلاف ہیں۔ ابوذر ؓ کہتے ہیں: ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، بلال ؓ نے نماز ظہر کے لیے اذان دی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بلال! ٹھنڈا ہوجانے دو، ٹھنڈا ہوجانے دو (یہ حدیث آگے آرہی ہے) ، اب اگر بات ایسی ہوتی جس کی طرف شافعی گئے ہیں، تو اس وقت ٹھنڈا کرنے کا کوئی مطلب نہ ہوتا، اس لیے کہ سفر میں سب لوگ اکٹھا تھے، انہیں دور سے آنے کی ضرورت نہ تھی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کچھ انتظار کرلو ٹھنڈا ہوجائے تب پڑھو، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ موسم گرما میں ظہر قدرے تاخیر کر کے پڑھنی چاہیئے اس تاخیر کی حد کے بارے میں ابوداؤد اور نسائی میں ایک روایت آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ موسم گرما میں ظہر میں اتنی تاخیر کرتے کہ سایہ تین قدم سے لے کر پانچ قدم تک ہوجاتا، مگر علامہ خطابی نے کہا ہے کہ یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے بلکہ طول البلد اور عرض البلد کے اعتبار سے اس کا حساب بھی مختلف ہوگا، بہرحال موسم گرما میں نماز ظہر قدرے تاخیر سے پڑھنی مستحب ہے، یہی جمہور کی رائے ہے۔ ٢ ؎: اسے حقیقی اور ظاہری معنی پر محمول کرنا زیادہ صحیح ہے کیونکہ صحیحین کی روایت میں ہے کہ جہنم کی آگ نے رب عزوجل سے شکایت کی کہ میرے بعض اجزاء گرمی کی شدت اور گھٹن سے بعض کو کھا گئے ہیں تو رب عزوجل نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں اور ایک گرمی میں، جاڑے میں سانس اندر کی طرف لیتی ہے اور گرمی میں باہر نکالتی ہے۔
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، ساتھ میں بلال ؓ بھی تھے۔ بلال ؓ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا: ٹھنڈا ہوجانے دو ۔ انہوں نے پھر اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے پھر فرمایا: ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھ ۔ وہ کہتے ہیں (ظہر تاخیر سے پڑھی گئی) یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا تب انہوں نے اقامت کہی پھر آپ نے نماز پڑھی، پھر فرمایا: گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے۔ لہٰذا نماز ٹھنڈے میں پڑھا کرو ۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) said that Allahs Messenger ﷺ was on a journey and Sayyidina Bilal (RA) was with him too. He intended to call the iqamah for the Salah of Zuhr, but the Prophet ﷺ said, "Let It cool down!" Then he again Intended to call..Allahs Messenger ﷺ said, "Let it be cooler for the Zuhr", till they saw the shadows of hillocks and called the iqamah and offered the Salah of Zuhr. Then Allahs Messenger ﷺ said, "The extreme heat is the severity of Hell. So, observe the Salah of Zuhr when it is cooler.”
صحيح، صحيح أبي داود (429)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 158
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر پڑھی اس حال میں کہ دھوپ ان کے کمرے میں تھی، ان کے کمرے کے اندر کا سایہ پورب والی دیوار پر نہیں چڑھا تھا۔
Sayyidah Aisha (RA) said that Allahs Messenger ﷺ prayed the Salah while the sun was still in her room and the shadow had not gone up in her room.
صحيح، ابن ماجة (683)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 159
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس، ابوارویٰ، جابر اور رافع بن خدیج ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، (اور رافع ؓ سے عصر کو مؤخر کرنے کی بھی روایت کی جاتی ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے، ٣- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم نے جن میں عمر، عبداللہ بن مسعود، عائشہ اور انس ؓ بھی شامل ہیں اور تابعین میں سے کئی لوگوں نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ عصر جلدی پڑھی جائے اور اس میں تاخیر کرنے کو ان لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے اسی کے قائل عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١ (٥٢٢)، و ١٣ (٥٤٥)، والخمس ٤ (٣١٠٣)، صحیح مسلم/المساجد ٣١ (٦١١)، سنن ابی داود/ الصلاة ٥ (٤٠٧)، سنن النسائی/المواقیت ٨ (٥٠٦)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٥ (٦٨٣)، ( تحفة الأشراف: ١٦٥٨٥)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (٢) (صحیح)
علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ وہ بصرہ میں جس وقت ظہر پڑھ کر لوٹے تو وہ انس بن مالک ؓ کے پاس ان کے گھر آئے، ان کا گھر مسجد کے بغل ہی میں تھا۔ انس بن مالک نے کہا: اٹھو چلو عصر پڑھو، تو ہم نے اٹھ کر نماز پڑھی، جب پڑھ چکے تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا سورج کو دیکھتا رہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کی دونوں سینگوں کے درمیان آ جائے تو اٹھے اور چار ٹھونگیں مار لے، اور ان میں اللہ کو تھوڑا ہی یاد کرے ۔
Ala ibn Abdur Rahman (RA) visited Sayyidina Anas (RA) at his home after offering the Salah of Zuhr. His home was next to the mosque. Sayyidina Ans (RA) said, "Let us stand up and offer the Asr Salah.”They stood up and offered Salah of Asr. When they had finished, Sayyidina Anas (RA) said, "I had heard Allahs Messenger ﷺ say that it is a hypocrites Salah that he sits by watching the sun till it is between the two horns of the devil, he rises and pecks four times, remembering Allah but a little.”
صحيح، صحيح أبي داود (420)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 160
ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر میں تم لوگوں سے زیادہ جلدی کرتے تھے اور تم لوگ عصر میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ جلدی کرتے ہو ١ ؎۔
Sayyidina Umm Salamah (RA) said, "Allahs Messenger ﷺ used to hasten the zuhr more than you do but you observe the Asr earlier than he did."
صحيح، المشکاة (6195 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 161
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 162
اسماعیل بن علیہ کی ابن جریج سے روایت زیادہ صحیح ہے ١ ؎۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 163
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اسماعیل بن علیہ سے بطریق «ابن جريج عن ابن أبي مليكة عن أم سلمة» اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ اور مجھے اپنی کتاب میں اس کی سند یوں ملی کہ مجھے علی بن حجر نے خبر دی انہوں نے اسماعیل بن ابراہیم سے اور اسماعیل نے ابن جریج سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے اس روایت سے عصر دیر سے پڑھنے کے استحباب پر استدلال کیا ہے، جب کہ اس میں کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے عصر کی تاخیر کے استحباب پر استدلال کیا جائے، اس میں صرف اتنی بات ہے کہ ام سلمہ ؓ کے جو لوگ مخاطب تھے وہ عصر میں رسول اللہ ﷺ سے بھی زیادہ جلدی کرتے تھے، تو ان سے ام سلمہ نے یہ حدیث بیان فرمائی، اس میں اس بات پر قطعاً دلالت نہیں کہ نبی اکرم ﷺ عصر دیر سے پڑھتے تھے کہ عصر کی تاخیر پر اس سے استدلال کیا جائے، علامہ عبدالحئی لکھنوی التعليق الممجد میں لکھتے ہیں «هذا الحديث إنما يدل علی أن التعجيل في الظهر أشد من التعجيل في العصر لا علی استحباب التأخير» بلاشبہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز ظہر میں ( اس کا وقت ہوتے ہی ) جلدی کرنا، نماز عصر میں جلدی کرنے سے بھی زیادہ سخت حکم رکھتا ہے، نہ کہ تاخیر سے نماز ادا کرنے کے مستحب ہونے پر۔
١ ؎: یعنی: اس حدیث کا ابن جریج کے طریق سے مروی ہونا زیادہ صحیح ہے بہ نسبت ایوب سختیانی کے طریق کے، کیونکہ ابن جریج سے علی بن حجر کے علاوہ بشر بن معاذ نے بھی روایت کی ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ( تحفة الأشراف: ١٨١٨٤)، وانظر مسند احمد (٦/٢٨٩، ٣١٠) (صحیح) (تراجع الألبانی ٦٠٦)
انظر ما قبلہ (صحیح)
انظر ما قبلہ (صحیح)
سلمہ بن الاکوع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا اور پردے میں چھپ جاتا ١ ؎۔
Sayyidina Salamah ibn al-Aku(RA) said that Allahs Messenger ﷺ offer the Salah of Maghrib when the sun had set and hid itself behind the screen.
صحيح، ابن ماجة (688)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 164
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- سلمہ بن الاکوع والی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر، صنابحی، زید بن خالد، انس، رافع بن خدیج، ابوایوب، ام حبیبہ، عباس بن عبدالمطلب اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- عباس ؓ کی حدیث ان سے موقوفاً روایت کی گئی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے، ٤- اور صنابحی نے نبی اکرم ﷺ سے نہیں سنا ہے، وہ تو ابوبکر ؓ کے دور کے ہیں، ٥- اور یہی قول صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا ہے، ان لوگوں نے نماز مغرب جلدی پڑھنے کو پسند کیا ہے اور اسے مؤخر کرنے کو مکروہ سمجھا ہے، یہاں تک کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مغرب کا ایک ہی وقت ہے ٢ ؎، یہ تمام حضرات نبی اکرم ﷺ کی اس حدیث کی طرف گئے ہیں جس میں ہے کہ جبرائیل نے آپ کو نماز پڑھائی اور یہی ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مغرب کا وقت سورج ڈوبنے کے بعد شروع ہوتا ہے اور اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مغرب میں تاخیر نہیں کرنی چاہیئے بلکہ اسے اول وقت ہی میں ادا کرنا چاہیئے۔ ٢ ؎: سلف کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ مغرب کا وقت «ممتد» پھیلا ہوا ہے یا غیر ممتد، جمہور کے نزدیک سورج ڈوبنے سے لے کر شفق ڈوبنے تک پھیلا ہوا ہے، اور شافعی اور ابن مبارک کی رائے ہے کہ مغرب کا صرف ایک ہی وقت ہے اور وہ اول وقت ہے، ان لوگوں کی دلیل جبرائیل (علیہ السلام) والی روایت ہے جس میں ہے کہ دونوں دنوں میں آپ نے مغرب سورج ڈوبنے کے فوراً بعد پڑھائی اور جمہور کی دلیل صحیح مسلم میں موجود ابوموسیٰ کی روایت ہے، اس میں ہے «ثم أخر المغرب حتی کان عند سقوط الشفق» جمہور کی رائے ہی زیادہ صحیح ہے، جمہور نے جبرائیل والی روایت کا جواب تین طریقے سے دیا ہے: ١- اس میں صرف افضل وقت کے بیان پر اکتفا کیا گیا ہے، وقت جواز کو بیان نہیں گیا، ٢- جبرائیل کی روایت متقدم ہے مکی دور کی اور مغرب کا وقت شفق ڈوبنے تک ممتد ہونے کی روایت متاخر ہے مدنی دور کی، ٣- یہ روایت جبرائیل والی روایت سے سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے۔
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ اس نماز عشاء کے وقت کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، رسول اللہ ﷺ اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے تھے ١ ؎۔
Sayyidina Numan ibn Bashir (RA) said, "I know more then all people the hour of this Salah. Allahs Messenger ﷺ used to observe it at the time of the setting of the moon on its third night.
صحيح، المشکاة (613)، صحيح أبي داود (445)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 165
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث جبرائیل میں یہ بات آچکی ہے کہ عشاء کا وقت شفق غائب ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے، یہ اجماعی مسئلہ ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں، رہی یہ بات کہ اس کا آخری وقت کیا ہے تو صحیح اور صریح احادیث سے جو بات ثابت ہے وہ یہی ہے کہ اس کا آخری وقت طلوع فجر تک ہے جن روایتوں میں آدھی رات تک کا ذکر ہے اس سے مراد اس کا افضل وقت ہے جو تیسری رات کے چاند ڈوبنے کے وقت سے شروع ہوتا ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ عموماً اسی وقت نماز عشاء پڑھتے تھے، لیکن مشقت کے پیش نظر امت کو اس سے پہلے پڑھ لینے کی اجازت دے دی۔ ( دیکھئیے اگلی حدیث رقم ١٦٧)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٧ (٤١٩)، سنن النسائی/المواقیت ١٩ (٥٢٩)، ( تحفة الأشراف: ١١٦١٤)، مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧٤) (صحیح)
اس طریق سے بھی ابو عوانہ سے اسی سند سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی نے پہلے ابو عوانہ کا طریق ذکر کیا پھر ہشیم کے طریق کا اور فرمایا: ابو عوانہ والی حدیث ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
Abu Bakr (RA) ibn Muhammad ibn Aban narrated from Abdur Rahman ibn Mahdi from Awanah a hadith like it (#165).
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ سمجھتا تو میں عشاء کو تہائی رات یا آدھی رات تک دیر کر کے پڑھنے کا حکم دیتا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Were it not that my Ummah would be detressed by it, I would have them to postpone the Salah of Isha to a third or half of the night.
صحيح، ابن ماجة (691)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 167
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
: ١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر بن سمرہ، جابر بن عبداللہ، ابوبرزہ، ابن عباس، ابو سعید خدری، زید بن خالد اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اسی کو صحابہ کرام اور تابعین وغیرہم میں سے اکثر اہل علم نے پسند کیا ہے، ان کی رائے ہے کہ عشاء تاخیر سے پڑھی جائے، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عشاء مذکور وقت تک مؤخر کر کے پڑھنا افضل ہے، صرف اسی نماز کے ساتھ خاص ہے، باقی اور نمازیں اول وقت ہی پر پڑھنا افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصلاة ٨ (٦٩٠)، ( تحفة الأشراف: ١٢٩٨٨)، مسند احمد (٢/٢٤٥) (صحیح)
ابوبرزہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Barzah (RA) narrated that the Prophet ﷺ disliked sleeping before Isha and talking after it.
صحيح، ابن ماجة (701)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 168
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوبرزہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، عبداللہ بن مسعود اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اکثر اہل علم نے نماز عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات کرنے کو مکروہ کہا ہے، اور بعض نے اس کی اجازت دی ہے، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: اکثر حدیثیں کراہت پر دلالت کرنے والی ہیں، اور بعض لوگوں نے رمضان میں عشاء سے پہلے سونے کی اجازت دی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عشاء سے پہلے سونے کی کراہت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے عشاء فوت ہوجانے کا خدشہ رہتا ہے، اور عشاء کے بعد بات کرنا اس لیے ناپسندیدہ ہے کہ اس سے سونے میں تاخیر ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان کے لیے تہجد یا فجر کے لیے اٹھنا مشکل ہوجاتا ہے امام نووی نے علمی مذاکرہ وغیرہ کو جو جائز اور مستحب بتایا ہے تو یہ اس بات کے ساتھ مشروط ہے کہ نماز فجر وقت پر ادا کی جائے، اگر رات کو تعلیم و تعلم یا وعظ و تذکیر میں اتنا وقت صرف کردیا جائے کہ فجر کے وقت اٹھا نہ جاسکے تو یہ جواز و استحباب بھی محل نظر ہوگا۔ ( دیکھئیے اگلی حدیث اور اس کا حاشیہ )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١١ (٥٤١)، و ١٣ (٥٤٧)، و ٢٣ (٥٦٨)، و ٣٨ (٥٩٨)، صحیح مسلم/المساجد ٤٠ (٦٤٧)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣ (٣٩٨)، والأدب ٢٧ (٤٨٤٩)، سنن النسائی/المواقیت ٢ (٤٩٦)، و ١٦ (٥٢٦)، و ٢٠ (٥٣١)، والافتتاح ٤٢ (٩٤٩)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٣ (٦٧٤)، ( تحفة الأشراف: ١١٦٠٦)، مسند احمد (٤/٤٢٠، ٤٢١، ٤٢٣، ٤٢٤، ٤٢٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٦ (١٣٣٨) (صحیح)
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کے بعض معاملات میں سے ابوبکر ؓ کے ساتھ رات میں گفتگو کرتے اور میں ان دونوں کے ساتھ ہوتا تھا۔
Sayyidina Umar ibn al-Khattab (RA) said that Allahs Messenger ﷺ used to talk with Sayyidina Abu Bakr (RA) concerning affairs of the Muslims, He too used them.
صحيح، الصحيحة (2781)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 169
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عمر ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، اوس بن حذیفہ اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم نے عشاء کے بعد بات کرنے کے سلسلہ میں اختلاف کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے عشاء کے بعد بات کرنے کو مکروہ جانا ہے اور کچھ لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے، بشرطیکہ یہ کوئی علمی گفتگو ہو یا کوئی ایسی ضرورت ہو جس کے بغیر چارہ نہ ہو ١ ؎ اور اکثر احادیث رخصت کے بیان میں ہیں، نیز نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: بات صرف وہ کرسکتا ہے جو نماز عشاء کا منتظر ہو یا مسافر ہو ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: رہے ایسے کام جن میں کوئی دینی اور علمی فائدہ یا کوئی شرعی غرض نہ ہو مثلاً کھیل کود، تاش بازی، شطرنج کھیلنا، ٹیلی ویژن اور ریڈیو وغیرہ دیکھنا، سننا تو یہ ویسے بھی حرام، لغو اور مکروہ کام ہیں، عشاء کے بعد ان میں مصروف رہنے سے ان کی حرمت یا کراہت اور بڑھ جاتی ہے۔
قاسم بن غنام کی پھوپھی ام فروہ ؓ (جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے بیعت کی تھی) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ تو آپ نے فرمایا: اول وقت میں نماز پڑھنا ۔
Qasim ibn Ghannam reported from his paternal aunt Sayyidah Umm Farwah (RA) who had sworn allegiance to the Prophet ﷺ that the Prophet ﷺ was asked what act was the most excellent. He said, "To observe Salah at the earliest time for it."
صحيح، صحيح أبي داود (452)، المشکاة (607)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 170
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٩ (٤٢٦)، ( تحفة الأشراف: ١٨٤١) (صحیح) (سند میں قاسم مضطرب الحدیث ہیں، اور عبداللہ العمری ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ابن مسعود ؓ کی اس معنی کی روایت صحیحین میں موجود ہے جو مؤلف کے یہاں رقم ١٧٣ پر آرہی ہے۔ )