Sunan At-Tirmidhi 159

نماز کا بیان

159Sunan At-Tirmidhi

عصر کی نماز جلدی پڑھنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا وَلَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، وَأَبِي أَرْوَى، وَجَابِرٍ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: وَيُرْوَى عَنْ رَافِعٍ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَأْخِيرِ الْعَصْرِ وَلَا يَصِحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عُمَرُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةُ، وَأَنَسٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ: تَعْجِيلَ صَلَاةِ الْعَصْرِ وَكَرِهُوا تَأْخِيرَهَا، وَبِهِ يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر پڑھی اس حال میں کہ دھوپ ان کے کمرے میں تھی، ان کے کمرے کے اندر کا سایہ پورب والی دیوار پر نہیں چڑھا تھا۔

Sayyidah Aisha (RA) said that Allahs Messenger ﷺ prayed the Salah while the sun was still in her room and the shadow had not gone up in her room.

صحيح، ابن ماجة (683)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 159
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس، ابوارویٰ، جابر اور رافع بن خدیج ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، (اور رافع ؓ سے عصر کو مؤخر کرنے کی بھی روایت کی جاتی ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے، ٣- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم نے جن میں عمر، عبداللہ بن مسعود، عائشہ اور انس ؓ بھی شامل ہیں اور تابعین میں سے کئی لوگوں نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ عصر جلدی پڑھی جائے اور اس میں تاخیر کرنے کو ان لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے اسی کے قائل عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١ (٥٢٢)، و ١٣ (٥٤٥)، والخمس ٤ (٣١٠٣)، صحیح مسلم/المساجد ٣١ (٦١١)، سنن ابی داود/ الصلاة ٥ (٤٠٧)، سنن النسائی/المواقیت ٨ (٥٠٦)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٥ (٦٨٣)، ( تحفة الأشراف: ١٦٥٨٥)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (٢) (صحیح)