Sunan At-Tirmidhi 150

نماز کا بیان

150Sunan At-Tirmidhi

نماز کے ابواب جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے نماز کے اوقات جو نبی ﷺ سے مروی ہیں

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَمَّنِي جِبْرِيلُ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَعْنَاهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ لِوَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وقَالَ مُحَمَّدٌ: أَصَحُّ شَيْءٍ فِي الْمَوَاقِيتِ حَدِيثُ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَحَدِيثُ جَابِرٍ فِي الْمَوَاقِيتِ قَدْ رَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل نے میری امامت کی ، پھر انہوں نے ابن عباس ؓ کی حدیث کی طرح اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ البتہ انہوں نے اس میں «لوقت العصر بالأمس» کا ٹکڑا ذکر نہیں کیا۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported from Allahs Messenger ﷺ said, "Jibril led me in Salah. “And he mentioned a Hadith of the same purport as Sayyidina Abbas (RA) (Hadith #149), saying (about Zuhr) "at the time of Asr yesterday."

صحيح، الإرواء (250)، صحيح أبي داود (418)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 150
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ١ ؎، اور ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اوقات نماز کے سلسلے میں سب سے صحیح جابر ؓ والی حدیث ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی یہ اصطلاح ( حسن صحیح غریب ) اس وقت استعمال کرتے ہیں جب کوئی حدیث کسی صحابی کی روایت سے معروف ہو اور اس کے مختلف طرق ہوں، یا ایک ہی طریق ہو پھر اسی صحابی سے کسی اور طریق سے روایت آئے اور اسے غریب جانا جائے، مطلب یہ ہے کہ لفظی طور پر غریب ہے اسنادی طور پر حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/مواقیت الصلاة ١٧ (٥٢٧)، ( تحفة الأشراف: ٣١٢٨)، مسند احمد (٣/٣٣٠، ٣٣١) (وذکرہ أبو داود تحت حدیث رقم: ٣٩٤ تعلیقاً ومقتصرا علی وقت المغرب فقط) (صحیح)