Sunan At-Tirmidhi 153

نماز کا بیان

153Sunan At-Tirmidhi

فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ . قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: فَيَمُرُّ النِّسَاءُ مُتَلَفِّفَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ، وقَالَ قُتَيْبَةُ: مُتَلَفِّعَاتٍ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَقَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: يَسْتَحِبُّونَ التَّغْلِيسَ بِصَلَاةِ الْفَجْرِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب فجر پڑھا لیتے تو پھر عورتیں چادروں میں لپٹی ہوئی لوٹتیں وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔

Sayyidah Aisha (RA) narrated that when Allahs Messenger ﷺ would .finish the Fajr Salah, the women would return." Ansari added, "And they would pass wrapped in cloaks unrecognized because of the darkness.

صحيح، ابن ماجة (669)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 153
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، انس، اور قیلہ بنت مخرمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اسی کو صحابہ کرام جن میں ابوبکر و عمر ؓ بھی شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین میں سے بہت سے اہل علم نے پسند کیا ہے، اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ فجر «غلس» (اندھیرے) میں پڑھنا مستحب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٣ (٣٧٢)، والمواقیت ٢٧ (٥٧٨)، والأذان ١٦٣ (٨٦٧)، و ١٦٥ (٨٧٢)، صحیح مسلم/المساجد ٤٠ (٦٤٥)، سنن ابی داود/ الصلاة ٨ (٤٢٣)، سنن النسائی/المواقیت ٢٥ (٥٤٧، ٥٤٦)، والسہو ١٠١ (١٣٦٣)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٢ (٦٦٩)، ( تحفة الأشراف: ٣٥٨٢)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (٤)، مسند احمد (٦/٣٣، ٣٦، ١٧٩، ٢٤٨، ٢٥٩) (صحیح)