عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس نے دنیا میں شراب پی اور وہ اس حال میں مرگیا کہ وہ اس کا عادی تھا، تو وہ آخرت میں اسے نہیں پیئے گا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported Allah’s Messenge ﷺ said, “Every intoxicant is Khamr and every intoxicant is forbidden. He who drinks wine in this world and dies as an addict to it will not drink it in the Hereafter.” [Ahmed 4690, Abu Dawud 3679, Bukhari 5575, Nisai 5598, Ibn e Majah 3387, Muslim 2003]
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث کئی سندوں سے نافع سے آئی ہے، جسے نافع، ابن عمر سے، ابن عمر نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، ٣ - مالک بن انس نے اس حدیث کو نافع کے واسطہ سے ابن عمر سے موقوفا روایت کی ہے، اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ٤ - اس باب میں ابوہریرہ، ابو سعید خدری، عبداللہ بن عمرو بن العاص، ابن عباس، عبادہ اور ابو مالک اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دنیا میں شراب پینے والا اگر توبہ کئے بغیر مرگیا تو وہ آخرت کی شراب سے محروم رہے گا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے شراب پی اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے دوبارہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے پھر شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے چوتھی بار بھی شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا اور اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں کرے گا، اور اس کو نہر خبال سے پلائے گا، پوچھا گیا، ابوعبدالرحمٰن! نہر خبال کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جہنمیوں کے پیپ کی ایک نہر ہے ۔
Sayyidina ‘Abdullah ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone drinks wine then his salah over forty days are not approved. If he repents then Allah will relent to him. If he reverts (to it), then Allah will not approve his sJah over forty days. If he repents, Allah will relent to him but if he reverts (to it) then Allah will iLot approve his salah over forty days. If he repents then Allah will relent to him. Again, if he reverts the fourth time, Allah will not approve his salah over forty days and if he repents then Allah will not relent to him and He will give him to drink from the river of Khabal.” Someone asked, “O Abu Abdur Rahman! what is the river of Khabal?’ He said, “The pus of the dwellers of the people of fire.” [Nisai 5686]
صحيح، ابن ماجة (3377)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1862
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - عبداللہ بن عمرو بن العاص اور ابن عباس کے واسطہ سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that he heard the Prophet ﷺ say, ‘Every intoxicant is forbidden.” [Bukhari 5585, Muslim 2001]
صحيح، ابن ماجة (3387)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1864
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ابوسلمہ سے ابوہریرہ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، دونوں حدیثیں صحیح ہیں، کئی لوگوں نے اسے اسی طرح «محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اور «عن أبي سلمة عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں عمر، علی، ابن مسعود، انس، ابو سعید خدری، ابوموسیٰ اشج عصری، دیلم، میمونہ، ابن عباس، قیس بن سعد، نعمان بن بشیر، معاویہ، وائل بن حجر، قرہ مزنی، عبداللہ بن مغفل، ام سلمہ، بریدہ، ابوہریرہ اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کر دے تو اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA)reported that Allah’s Messenger said, ‘If a large quantity of anything intoxicates then a small quantity of it is also forbidden.” [Ahmed 14709]
حسن صحيح، ابن ماجة (3393)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1865
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث جابر کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں سعد، عائشہ، عبداللہ بن عمرو، ابن عمر اور خوات بن جبیر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو تو اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے، اس سے ان لوگوں کے قول کی تردید ہوجاتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ خمر تھوڑی ہو یا زیادہ حرام ہے، اس کے علاوہ دیگر نشہ آور اشیاء کی صرف وہ مقدار حرام ہے جس سے نشہ پیدا ہو اور جس مقدار میں نشہ نہ پیدا ہو وہ حرام نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأشربة ٥ (٣٦٨١)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٠ (٣٣٩٣)، (تحفة الأشراف: ٣٠١٤)، و مسند احمد (٣/٣٤٣) (حسن صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس چیز کا ایک فرق (سولہ رطل) کی مقدار بھر نشہ پیدا کر دے تو اس کی مٹھی بھر مقدار بھی حرام ہے ١ ؎، ان میں (یعنی محمد بن بشار اور عبداللہ بن معاویہ جمحی) میں سے ایک نے اپنی روایت میں کہا: یعنی اس کا ایک گھونٹ بھی حرام ہے۔
Sayyidah Ayshah reported that Allah’s Messenger (RA) said, “Every intoxicant is forbidden. If a Faraq of anything intoxicates then a handful of it is forbidden (too).” [Ahmed 24486]
صحيح، الإرواء (2376)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1866
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اسے لیث بن ابی سلیم اور ربیع بن صبیح نے ابوعثمان انصاری سے مہدی بن میمون کی حدیث جیسی حدیث روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں «فرق» (سولہ رطل) اور مٹھی بھر کا مفہوم بھی کثیر و قلیل ہی ہے، یعنی جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو تو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأشربة ٥ (٣٦٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٦٥)، و مسند احمد (٦/٧٢) (صحیح )
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک آدمی ابن عمر ؓ کے پاس آیا اور پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ١ ؎، طاؤس کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں نے ان سے یہ بات سنی ہے۔
Tawus reported that a man came to Ibn Umar (RA) and asked if Allah’s Messenger had forbidden nabidh in vessels (or jars). He said, “Yes.” Tawus confirmed, “By Allah, I too had heard this from him. [Bukhari 5593]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1867
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن ابی اوفی، ابو سعید خدری، سوید، عائشہ، ابن زبیر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن شرط یہ ہے کہ وہ نشہ آور ہوجائے، نبیذ اگر نشہ آور نہیں ہے تو حلال ہے، نبیذ وہ شراب ہے جو کھجور، کشمش، انگور، شہد، گیہوں اور جو وغیرہ سے تیار کی جاتی ہے۔
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے ان برتنوں کے متعلق پوچھا جن سے آپ نے منع فرمایا ہے اور کہا: اس کو اپنی زبان میں بیان کیجئے اور ہماری زبان میں اس کی تشریح کیجئے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے «حنتمة» سے منع فرمایا ہے اور وہ مٹکا ہے، آپ نے «دباء» سے منع فرمایا ہے اور وہ کدو کی تو نبی ہے۔ آپ نے «نقير» سے منع فرمایا اور وہ کھجور کی جڑ ہے جس کو اندر سے گہرا کر کے یا خراد کر برتن بنا لیتے ہیں، آپ نے «مزفت» سے منع فرمایا اور وہ روغن قیر ملا ہوا (لاکھی) برتن ہے، اور آپ نے حکم دیا کہ نبیذ مشکوں میں بنائی جائے ١ ؎۔
Amr ibn Murrah reported having heard Zadhan say I asked lbn Umar (RA) about the vessels disallowed by Allah’s Messenger ﷺ asked him to name them in “your language” and explain them in “our language.” So, he said, “Allah’s Messenger disallowed hantamah which is a green jar, dubba which is hollow pumpkins used as containers, naqir which is hollow stumps (of dates) or peeled and cleaned, and muzzafat which is vessels smeared with pitch. He gave command that nabidh should be made in water-skins.” [Muslim 1997]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1868
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، علی، ابن عباس، ابو سعید خدری، ابوہریرہ، عبدالرحمٰن بن یعمر، سمرہ، انس، عائشہ، عمران بن حصین، عائذ بن عمرو، حکم غفاری اور میمونہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کے الفاظ «حنتم»، «دباء»، «نقیر» اور «مزفت» یہ مختلف قسم کے برتنوں کے نام ہیں، ان میں زمانہ جاہلیت میں شراب بنائی اور رکھی جاتی تھی، شراب کی حرمت کے وقت ان برتنوں کے استعمال سے منع کردیا گیا، پھر بعد میں بریدہ اسلمی کی اگلی روایت «كنت نهيتكم عن الأوعية فاشربوا في كل وعاء» یعنی میں نے تمہیں مختلف برتنوں کے استعمال سے منع کردیا تھا، لیکن اب انہیں اپنے پینے کے لیے استعمال کرسکتے ہو سے ان برتنوں کی ممانعت منسوخ ہوگئی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٦ (١٩٩٧/٥٧)، سنن النسائی/الأشربة ٣٧ (٥٦٤٨)، (تحفة الأشراف: ٦٧١٦)، و مسند احمد (٢/٥٦) (صحیح )
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں (اس سے پہلے باب کی حدیث میں مذکور) برتنوں سے منع کیا تھا، درحقیقت برتن کسی چیز کو نہ تو حلال کرتے ہیں نہ حرام (بلکہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔
Sayyidina Buraydah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I had disallowed you to make nabidh in certain vessels. Indeed, vessels do not make anything lawful or unlawful, but every intoxicant is forbidden.” [Muslim 977]
صحيح التعليق علی ابن ماجةصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1869
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ان) برتنوں (کے استعمال) سے منع فرمایا تو انصار نے آپ سے شکایت کی، اور کہا: ہمارے پاس دوسرے برتن نہیں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تب میں منع نہیں کرتا ۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ disallowed (certain) vessels (to prepare nabidh in them). The Ansars complained to him, saying, “We do not have (other) vessels.” He said, “In that case, you may.” [Bukhari 5592]
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1870
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، ابو سعید خدری، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے لیے مشک میں نبیذ بناتے تھے، اس کے اوپر کا منہ بند کردیا جاتا تھا، اس کے نیچے ایک سوراخ ہوتا تھا، ہم صبح میں نبیذ کو بھگوتے تھے تو آپ شام کو پیتے تھے اور شام کو بھگوتے تھے تو آپ صبح کو پیتے تھے ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah said, ‘We used to prepare nabiz for Allah’s Messenge ﷺ in a waterskin. We would tie shut its higher opening; it also had a small lower opening. If we soaked it in the morning, he drank it in the evening and if we soaked it in the evening he drank it in the morning.” [Muslim 2005]
صحيح، ابن ماجة (3398)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1871
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے یونس بن عبید کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - عائشہ ؓ سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٣ - اس باب میں جابر، ابوسعید اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: غرضیکہ نبیذ کو اس کے برتن میں زیادہ وقت نہیں دیا جاتا تھا مبادا اس میں کہیں نشہ نہ پیدا ہوجائے۔
عمر ؓ کہتے ہیں کہ شراب گیہوں سے بنائی جاتی ہے، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔
Ahmad ibn Mani reported it from Abdullah ibn Idris, from Abu Hayyan Taymou, from Shabi who from Ibn Umar (RA) from Umar ibn Khattab (RA) that wine is prepared from wheat. [Bukhari 4619, Muslim 3032, Abu Dawud 3669]
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1874
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ گیہوں سے شراب بنائی جاتی ہے، یہ ابراہیم بن مہاجر کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ١ ؎، ٢ - علی بن مدینی کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید نے کہا: ابراہیم بن مہاجر حدیث بیان کرنے میں قوی نہیں ہیں، ٣ - یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی نعمان بن بشیر سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سابقہ حدیث نمبر ( ١٨٧٢ ) سے زیادہ صحیح ہے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «گدر» (ادھ پکی) کھجور اور تازہ کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah reported that Allah’s Messenger forbade them to make nabidh from unripe dates and fresh dates. [Bukhari 5601, Muslim 1986]
صحيح، ابن ماجة (3395)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1876
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ «خلیط» ہونے (دونوں کے مل جانے) سے اس میں تیزی سے نشہ پیدا ہوتا ہے، باوجود یہ کہ اس کا رنگ نہیں بدلتا ہے، اس لیے پینے والا یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ ابھی یہ نشہ آور نہیں ہے۔
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے «گدر» (ادھ پکی) کھجور اور پختہ کھجور ایک ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا: اور آپ نے مٹکوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔
Sayyidina Aba Sa’eed reported that the Prophet ﷺ forbade preparing nabizdh from unripe dates and fresh dates, and from dates and grapes and from making nabidh in waterskin. [Muslim 1987]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1877
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر، انس، ابوقتادہ، ابن عباس، ام سلمہ اور «معبد بن کعب عن أمہ» ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ حذیفہ ؓ نے ایک آدمی سے پانی طلب کیا تو اس نے انہیں چاندی کے برتن میں پانی دیا، انہوں نے پانی کو اس کے منہ پر پھینک دیا، اور کہا: میں اس سے منع کرچکا تھا، پھر بھی اس نے باز رہنے سے انکار کیا ١ ؎، بیشک رسول اللہ ﷺ نے سونے اور چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے، اور ریشم پہننے سے اور دیباج سے اور فرمایا: یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہے ۔
Hakam reported having heard Ibn Abu Layla say that Huzayfah (RA) asked for water. Someone brought it in a silver vessel. He threw it away, saying, “I had forbidden him but he refused to cease. Indeed, Allah’s Messenger disallowed us to drink from vessels of gold and silver, to don silk and brocade, saying that these are for them (the infidels) in this world and for you (Muslims), in the next.” [Bukhari 5426, Muslim 2067]
صحيح، ابن ماجة (3414)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1878
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ام سلمہ، براء، اور عائشہ ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میں نے اسے پہلے ہی ان برتنوں کے استعمال سے منع کردیا تھا، لیکن منع کرنے کے باوجود جب یہ باز نہ آیا تبھی میں نے اس کے چہرہ پر یہ پانی پھینکا تاکہ آئندہ اس کا خیال رکھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢٩ (٥٤٢٦)، والأشربة ٢٧ (٥٦٣٢)، و ٢٨ (٥٦٣٣)، واللباس ٢٥ (٥٨٣١)، و ٢٧ (٥٨٣٧)، صحیح مسلم/اللباس ١ (٢٠٦٧)، سنن ابی داود/ الأشربة ١٧ (٣٧٢٣)، سنن النسائی/الزینة ٣٣ (٥٣٠٣)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٧ (٣٤١٤)، (تحفة الأشراف: ٣٣٧٣)، و مسند احمد (٥/٣٨٥، ٣٩٠، ٣٩٦، ٣٩٨، ٤٠٠، ٤٠٨) (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا، پوچھا گیا: کھڑے ہو کر کھانا کیسا ہے؟ کہا: یہ اور برا ہے ۔
Sayyidina Anas reported that the Prophet ﷺ disallowed that a man should drink (anything) while he is standing. Someone asked, “And eating?” He said, “That is worse than that.” [Muslim 2024]
صحيح، ابن ماجة (3424)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1879
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٤ (٢٠٢٤)، سنن ابی داود/ الأشربة ١٣ (٣٧١٧)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢١ (٣٤٢٤)، (تحفة الأشراف: ١١٨٠)، و مسند احمد (٣/١١٨، ١٨٢، ٢٧٧) سنن الدارمی/الأشربة ٢٤ (٢١٧٣) (صحیح )
جارود بن معلی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔
Sayyidina Jarud ibn Ala reported that the Prophet ﷺ is ﷺ forbade drinking anything while standing.
صحيح بما قبله (1879)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1880
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب حسن ہے، ٢ - اسی طرح کئی لوگوں نے اس حدیث کو «عن سعيد عن قتادة عن أبي مسلم عن الجارود عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے، اور یہ حدیث بطریق: «عن قتادة عن يزيد بن عبد اللہ ابن الشخير عن أبي مسلم عن الجارود أن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: مسلمان کی گری ہوئی چیز (یعنی اس پر قبضہ کرنے کی نیت سے) اٹھانا آگ میں جلنے کا سبب ہے ، ٣ - اس باب میں ابو سعید خدری، ابوہریرہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣١٧٧) (صحیح) (سند میں ابو مسلم جذمی مقبول عند المتابعہ ہیں، ورنہ لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث رقم ١٨٧٩ سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے )