ابو طالوت کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک کے پاس گیا، وہ کدو کھا رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: اے بیل! کس قدر تو مجھے پسند ہے! کیونکہ رسول اللہ ﷺ تجھے پسند کرتے تھے۔
Abu Talut said that when he went to Anas ibn Maalik (RA) he was eating pumpkin, saying the while, “O Tree’ How much I loved you, for Allah’s Messenger ﷺ loved for you.’
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1849
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - اس باب میں حکیم بن جابر سے بھی روایت ہے جسے حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: ١٧١٩) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو طالوت شامی مجہول راوی ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ رکابی میں ڈھونڈ رہے تھے یعنی کدو، اس وقت سے میں اسے ہمیشہ پسند کرتا ہوں۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) said, ‘I found Allahs Messenger ﷺ picking up pumpkin from the dish. Since then I have not ceased to like pumpkin.” [Bukhari 5379, Muslim 2040 ,Abu Dawud 3782, Ahmed 13282] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1850
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٣ - روایت کی گئی ہے کہ انس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے کدو دیکھا تو آپ سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کدو ہے ہم اس سے اپنے کھانے کی مقدار بڑھاتے ہیں ۔
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے (جسم پر) لگاؤ، اس لیے کہ وہ مبارک درخت ہے ١ ؎۔
Sayyidina Umar ibn Khattab (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said,” Eat olive oil and rub it. It is from a blessed tree . [Ibn e Majah 3319]
صحيح، ابن ماجة (1319)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1851
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث کو ہم صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ معمر سے روایت کرتے ہیں، ٢ - عبدالرزاق اس حدیث کی روایت کرنے میں مضطرب ہیں، کبھی وہ اسے مرفوع روایت کرتے ہیں اور کبھی شک کے ساتھ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں اسے عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور کبھی کہتے ہیں: زید بن اسلم سے روایت ہے، وہ اپنے باپ سے اور وہ نبی اکرم ﷺ سے مرسل طریقہ سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ یہ درخت شام کی سر زمین میں کثرت سے پایا جاتا ہے، اور شام وہ علاقہ ہے جس کے متعلق رب العالمین کا ارشاد ہے کہ ہم نے اس سر زمین کو ساری دنیا کے لیے بابرکت بنایا ہے، کہا جاتا ہے کہ اس سر زمین میں ستر سے زیادہ نبی اور رسول پیدا ہوئے انہیں میں ابراہیم (علیہ السلام) بھی ہیں، چوں کہ یہ درخت ایک بابرکت سر زمین میں اگتا ہے، اس لیے بابرکت ہے، اس لحاظ سے اس کا پھل اور تیل بھی برکت سے خالی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٤ (٣٣١٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٩٢) (صحیح )
ابواسید ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے (جسم پر) لگاؤ اس لیے کہ وہ مبارک درخت ہے ۔
Sayyidina Abu Asid (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Eat olives and rub its oil. This is a blessed tree.” [Ahmed 16054]
صحيح بما قبله (1851)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1852
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ہم اسے صرف سفیان ثوری کی روایت سے عبداللہ بن عیسیٰ کے واسطہ سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ )، (تحفة الأشراف: ١١٨٦٠)، و مسند احمد (٣/٤٩٧)، (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی عطا من اہل الشام لین الحدیث ہیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا خادم تمہارے کھانے کی گرمی اور دھواں برداشت کرے، تو (مالک کو چاہیئے کہ کھاتے وقت) اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھا لے، اگر وہ انکار کرے تو ایک لقمہ لے کر ہی اسے کھلا دے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When the servant of one of you prepares food for him enduring its heat and smoke, he must take him by his hand and seat him by him (to eat). If he refuses then he must take a morsel and offer it to him.” [Ibn e Majah 3289] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3289 و 3290)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1853
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة (٢٨٩ و ٣٢٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٣٥)، و مسند احمد (٢/٤٧٣)، (وراجع: صحیح البخاری/العتق ١٨ (٢٥٥٧)، والأطعمة ٥٥ (٥٤٦٠)، و مسند احمد (٢/٢٨٣، ٤٠٩، ٤٣٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سلام کو عام کرو اور اسے پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور کافروں کا سر مارو (یعنی ان سے جہاد کرو) جنت کے وارث بن جاؤ گے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ (RA) said, “Make Salaam common, feed food and kill the infidels. You will then inherit paradise.”
ضعيف، الإرواء (3 / 238) // 777 //، الضعيفة (1324) // ضعيف الجامع الصغير (995) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1854
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطہ سے ابن زیاد کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابن عمر، انس، عبداللہ بن سلام، عبدالرحمٰن بن عائش اور شریح بن ہانی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، شریح بن ہانی نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں مذکور یہ سارے کے سارے کام ایسے ہیں جنہیں عملی جامہ پہنانے والا اس جنت کا وارث ہوجائے گا جس کا وعدہ رب العالمین نے اپنے متقی بندوں سے کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٤٤٠٢) (ضعیف) (سند میں عثمان بن عبد الرحمن جمعی ضعیف راوی ہیں، لیکن ” افشوا السلام وأطعموا الطعام “ کا ٹکڑا دیگر صحابہ سے صحیح ہے )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، کھانا کھلاؤ اور سلام کو عام کرو اور اسے پھیلاؤ، جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو گے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger (RA) said, “Worship Ar-Rahman (The compassionate), feed food, give currency to Salaam... you will enter paradise in peace.” [Bukhari 981]
صحيح، ابن ماجة (3694)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1855
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب تم یہ سب کام اخلاص کے ساتھ انجام دیتے رہو گے یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت ہو تو تم جنت میں امن و امان کے ساتھ جاؤ گے، تمہیں کوئی خوف اور غم نہیں لاحق ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ١١ (٣٦٩٤)، (تحفة الأشراف: ٨٦٤١) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رات کا کھانا کھاؤ گر چہ ایک مٹھی ردی کھجور ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ رات کا کھانا چھوڑنا بڑھاپے کا سبب ہے ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik ‘ reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Bind yourself to have a meal at night even a handful of dates, for, skipping this meal hastens old age
ضعيف، الضعيفة (116) // ضعيف الجامع الصغير (2447) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1856
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث منکر ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، عنبسہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور عبدالملک بن علاق مجہول ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: ٨٦٤١) (ضعیف) (سند میں عنبسہ متروک الحدیث راوی ہے )
عمر بن ابی سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، آپ کے پاس کھانا رکھا تھا، آپ نے فرمایا: بیٹے! قریب ہوجاؤ، بسم اللہ پڑھو اور اپنے داہنے ہاتھ سے جو تمہارے قریب ہے اسے کھاؤ ١ ؎۔
Sayyidina Umar ibn Abu Salamah i narrated : Once, I visited Allah’s Messenger ﷺ Food was placed before him. He said, “Son, draw near. Recite Bismillah, eat with your right hand and eat from what is on your side.” [Bukhari 5376, Muslim 2022]
صحيح، ابن ماجة (3267)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1857
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ہشام بن عروہ سے «عن أبي وجزة السعدي عن رجل من مزينة عن عمر ابن أبي سلمة» کی سند سے مروی ہے، اس حدیث کی روایت کرنے میں ہشام بن عروہ کے شاگردوں کا اختلاف ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں: ( ١ ) کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنا چاہیئے، اس کا اہم فائدہ جیسا کہ بعض احادیث سے ثابت ہے، یہ ہے کہ ایسے کھانے میں شیطان شریک نہیں ہوسکتا، ساتھ ہی اس ذات کے لیے شکر یہ کا اظہار ہے جس نے کھانا جیسی نعمت ہمیں عطا کی، ( ٢ ) اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آداب طعام میں سے ہے کہ اپنے سامنے اور قریب سے کھایا جائے، ( ٣ ) چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک رکھا جائے، ( ٤ ) اس مجلس سے متعلق جو بھی ادب کی باتیں ہوں بچوں کو ان سے واقف کرایا جائے، ( ٥ ) کھانا دائیں ہاتھ سے کھایا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٧ (٣٢٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٨٥)، (وراجع: صحیح البخاری/الأطعمة ٢ (٥٣٧٦)، وصحیح مسلم/الأشربة والأطعمة ١٣ (٢٠٢٢)، و سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٠ (٣٧٧٧)، و موطا امام مالک/صفة النبي ﷺ ١٠ (٣٢)، وسنن الدارمی/الأطعمة ١ (٢٠٦٢) (صحیح) (” ادْنُ “ کا لفظ صحیح نہیں ہے، تراجع الالبانی ٣٥٠ )
عکراش بن ذؤیب ؓ کہتے ہیں کہ بنو مرہ بن عبید نے اپنی زکاۃ کا مال دے کر مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا، میں آپ کے پاس مدینہ آیا تو آپ کو مہاجرین اور انصار کے بیچ بیٹھا پایا، پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ام سلمہ ؓ کے گھر لے گئے اور پوچھا: کھانے کے لیے کچھ ہے؟ چناچہ ایک پیالہ لایا گیا جس میں زیادہ ثرید (شوربا میں ترکی ہوئی روٹی) اور بوٹیاں تھیں، ہم اسے کھانے کے لیے متوجہ ہوئے، میں پیالہ کے کناروں پر اپنا ہاتھ مارنے لگا اور رسول اللہ ﷺ اپنے سامنے سے کھانے لگے، پھر آپ نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر فرمایا: عکراش! ایک جگہ سے کھاؤ اس لیے کہ یہ ایک ہی قسم کا کھانا ہے ، پھر ہمارے پاس ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف قسم کی کھجوریں تھیں، میں اپنے سامنے سے کھانے لگا، اور رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ طبق میں گھومنے لگا، آپ نے فرمایا: عکراش! جہاں سے چاہو کھاؤ، اس لیے کہ یہ ایک قسم کا نہیں ہے ، پھر ہمارے پاس پانی لایا گیا، رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور ہتھیلیوں کی تری سے چہرے، بازو اور سر پر مسح کیا اور فرمایا: عکراش! یہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد کا وضو ہے ۔
ضعيف، ابن ماجة (3274) // ضعيف سنن ابن ماجة (706) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1848
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف علاء بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں، علاء اس حدیث کی روایت کرنے میں منفرد ہیں، ٣ - ہم نبی اکرم ﷺ سے عکراش کی صرف اسی حدیث کو جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١١ (٣٢٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٦) (ضعیف) (سند میں العلاء بن فضل ضعیف راوی ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم لوگوں میں سے کوئی کھانا کھائے تو «بسم اللہ» پڑھ لے، اگر شروع میں بھول جائے تو یہ کہے «بسم اللہ في أوله وآخره»۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “When one of you eats (his) food, let him say Bismillah. If he forgets (to say it) in the beginning then he must say. In the name of Allah, the firstof it and the last of it --------------------------------------------------------------------------------
**
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1858
اسی سند سے عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ چھ صحابہ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے، اچانک ایک اعرابی آیا اور دو لقمہ میں پورا کھانا کھالیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اس نے «بسم اللہ» پڑھ لی ہوتی تو یہ کھانا تم سب کے لیے کافی ہوتا ۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1858
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأطعمة ١٦ (٣٧٦٧)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٠٣ (٢٨١)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٧ (٣٢٦٤)، والمؤلف في الشمائل ٢٥ (تحفة الأشراف: ١٧٩٨٨)، و مسند احمد (٦/١٤٣)، سنن الدارمی/الأطعمة ١ (٢٠٦٣) (صحیح )
تفرد بہ المؤلف وانظر ما قبلہ (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شیطان بہت تاڑنے اور چاٹنے والا ہے، اس سے خود کو بچاؤ، جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The devil is very sensitive and quick to catch, so beware of him for yourself. If anyone goes to sleep in the night with grease on his hands and trouble strikes him then he cannot blame (anyone) but himself.” [Bukhari 1220]
موضوع، الضعيفة (5533)، الروض النضير (2 / 225) // ضعيف الجامع الصغير (1476) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1859
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - یہ حدیث «سهيل ابن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: ١٣٠٣٤) (موضوع) (سند میں یعقوب بن ولید مدنی کذاب راوی ہے، لیکن اس آخری ٹکڑا اگلی حدیث سے صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے ١ ؎۔
Muhammad ibn Ishaq reported from Abu Bakr (RA) Baghdadi, from Muhammad ibn Ja’far, from Mansur ibn Abu Aswad, from A’mash, from Abu Salih and he from Abu Hurayrah that Allah’s Messenger .‘ said, ‘If anyone goes to sleep with greasy hands then he must blame himself.” [Ibn e Majah 3297]
صحيح، ابن ماجة (3297)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1860
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اعمش کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کھانے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھو لو، کیونکہ نہ دھونے سے کھانے کی بو ہاتھوں میں باقی رہے گی، جو جن و شیاطین کو اپنی طرف مائل کرے گی، اور ایسی صورت میں ایسا شخص کسی مصیبت سے دوچار ہوسکتا ہے، اس لیے سوتے وقت اس کا خاص خیال رکھنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأطعمة ٥٤ (٣٨٥٢)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٢ (٣٢٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٦٤)، و مسند احمد (٢/٣٤٤)، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٧ (٢١٠٧) (صحیح )
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے ( جسم پر ) لگاؤ، اس لیے کہ وہ مبارک درخت ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہم صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ معمر سے روایت کرتے ہیں، ۲- عبدالرزاق اس حدیث کی روایت کرنے میں مضطرب ہیں، کبھی وہ اسے مرفوع روایت کرتے ہیں اور کبھی شک کے ساتھ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں اسے عمر رضی الله عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور کبھی کہتے ہیں: زید بن اسلم سے روایت ہے، وہ اپنے باپ سے اور وہ نبی اکرم ﷺ سے مرسل طریقہ سے روایت کرتے ہیں۔
Narrated 'Umar bin Al-Khattab: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Eat olive and use its oil, for indeed it is a blessed tree. [Abu 'Eisa said:] We do not know of this Hadith except through the narration of 'Abdur-Razzaq from Ma'mar (narrators in the chain of this Hadith). 'Abdur-Razzaq would narrate this with Idtirab. Sometimes he mentioned in it: From 'Umar, from the Prophet (ﷺ) and sometimes he reported it indicating doubt, saying: I think it is from 'Umar from the Prophet (ﷺ). And sometimes he said: From Zaid bin Aslam, from his father, from the Prophet (ﷺ) in a Mursal form.