سفینہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حباری کا گوشت کھایا ١ ؎۔
Ibrahim Ibn Umar (RA) ibn Safinah reported from his father from his grand father that he ate the meat of bustard with Allah’s Messsenger ﷺ [Abu Dawud 3797]
ضعيف، الإرواء (2500) //، ضعيف أبي داود (812 / 3797) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1828
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣ - ابراہیم بن عمر بن سفینہ سے ابن ابی فدیک نے بھی روایت کی ہے، انہیں برید بن عمر بن سفینہ بھی کہا گیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «حباری» (یعنی سرخاب) بطخ کی شکل کا ایک پرندہ ہے جس کی گردن لمبی اور رنگ خاکستری ہوتا ہے، اس کی چونچ بھی قدرے لمبی ہوتی ہے۔ اور یہ جنگلوں میں پایا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
(ضعیف) (سند میں ابراہیم بن عمر بن سفینہ جن کا لقب بریہ ہے، مستور ہیں، اور ابراہیم بن عبدالرحمن بن مہدی بصری صدوق راوی ہیں، لیکن ان سے منکر روایات آئی ہیں )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھنی دست پیش کی، آپ نے اس میں سے تناول فرمایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔
امام ترمذی کہتے: ١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن حارث، مغیرہ اور ابورافع ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that she presented to Allah’s Messenger a roasted shoulder piece. He ate from it and then stood up for salah, but did not make (a fresh) ablution. [Bukhari 207]
صحيح مختصر الشمائل (138)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1829
ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے: ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ہم اسے صرف علی بن اقمر کی روایت سے جانتے ہیں، علی بن اقمر سے اس حدیث کو زکریا بن ابی زائدہ، سفیان بن سعید ثوری اور کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، شعبہ نے یہ حدیث سفیان ثوری سے علی بن اقمر کے واسطہ سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں علی، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sayyidina Abu Juhayfah reported that Allah’s Messenger s4id, “As for me, I do not recline while eating.” [Bukhari 5398]
صحيح، ابن ماجة (3262)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1830
Notes · وضاحت
١ ؎: ٹیک لگانے کا کیا مطلب ہے؟ اس سلسلہ میں کئی باتیں کہی جاتی ہیں: ( ١ ) کسی ایک جانب جھک کر کھانا جیسے دائیں یا بائیں ہاتھ یا کمنی پر ٹیک لگانا، ( ٢ ) زمین پر بچھے ہوئے گدے پر اطمینان و سہولت کی خاطر آلتی پالتی مار کر بیٹھنا تاکہ کھانا زیادہ کھایا جائے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کے بیٹھنے کو ٹیک لگا کر بیٹھنا قرار دینا صحیح نہیں ہے، حافظ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ مستحب انداز بیٹھنے کا یہ ہے کہ پیروں کے تلوؤں پر گھٹنوں کے بل بیٹھے، یا دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور بائیں پر بیٹھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ١٣ (٥٣٩٨)، سنن ابی داود/ الأطعمة ١٧ (٣٧٦٩)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٦ (٣٢٦٢)، (تحفة الأشراف: ١١٨٠١)، و مسند احمد (٤/٣٠٨)، سنن الدارمی/الأطعمة ٣١ (٢١١٥) (صحیح )
عبداللہ مزنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی گوشت خریدے تو اس میں (پکاتے وقت) شوربا (سالن) زیادہ کرلے، اس لیے کہ اگر وہ گوشت نہ پا سکے تو اسے شوربا مل جائے، وہ بھی دو گوشت میں سے ایک گوشت ہے ۔
Sayyidina Abdullah Muzani narrated: Allah’s Messenger said, ‘If one of you buys meat, let him increase broth, for if one does not find meat then he will find both. And that is a kind of meat.”
ضعيف، الضعيفة (2341) // ضعيف الجامع الصغير (371) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1832
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس باب میں ابوذر سے بھی روایت ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے محمد بن فضاء کی روایت سے جانتے ہیں، محمد بن فضاء «معبر» (یعنی خواب کی تعبیر بیان کرنے والے) ہیں، ان کے بارے میں سلیمان بن حرب نے کلام کیا ہے، ٣ - یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٩٧٤) (ضعیف) (سند میں محمد بن فضاء ضعیف، اور ان کے والد فضاء بن خالد بصری مجہول راوی ہیں )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں میں سے کوئی شخص کسی بھی نیک کام کو حقیر نہ سمجھے، اگر کوئی نیک کام نہ مل سکے تو اپنے بھائی سے مسکرا کر ملے ١ ؎، اور اگر تم گوشت خریدو یا ہانڈی پکاؤ تو شوربا (سالن) بڑھا لو اور اس میں سے چلو بھر اپنے پڑوسی کو دے دو ۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Let not one of you regard any pious work as lowly. If he cannot find anything, let him meet his brother with a cheerful face. And when you buy meat, or cook a vessel, add to its broth and send some of it to your neighbour.” [Muslim 2626]
ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مردوں میں سے بہت سارے مرد درجہ کمال کو پہنچے ١ ؎ اور عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ درجہ کمال کو پہنچیں اور تمام عورتوں پر عائشہ کو اسی طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح تمام کھانوں پر ثرید کو ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Musa (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Many among men have attained perfection but none of the women have attained perfection except Maryam bint Imran and Aasiyah wife of Fir’awn. And the excellence of Ayshah over women is like the excellence of tharidO over all food.’ [Bukhari 5418, Muslim 2431]
صحيح، ابن ماجة (3280)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1834
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ اور انس سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چناچہ مردوں میں سے انبیاء، رسل، علما، خلفاء، اور اولیاء ہوئے۔ ٢ ؎: ثرید: اس کھانے کو کہتے ہیں جس میں گوشت کے ساتھ شوربے میں روٹی ملی ہوئی ہو۔
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میرے باپ نے میری شادی کی اور لوگوں کو مدعو کیا، ان میں صفوان بن امیہ ؓ بھی تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گوشت کو دانت سے نوچ کر کھاؤ اس لیے کہ وہ زیادہ جلد ہضم ہوتا ہے، اور لذیذ ہوتا ہے ۔
Abdullah ibn Harith narrated: My father married me and invited people (to the feast). Safwan ibn Umayyah was among them. He said, Allahs Messenger (SA)W had said that we should bite meat, for that is tasty and easily digested in this way.’ [Ahmed 1530]
ضعيف، الضعيفة (2193) // ضعيف الجامع الصغير (2101) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1835
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو ہم صرف عبدالکریم کی روایت سے جانتے ہیں اور عبدالکریم المعلم کے حافظہ کے بارے میں اہل علم نے کلام کیا ہے، کلام کرنے والوں میں ایوب سختیانی بھی ہیں، ٢ - اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: ٤٩٤٧) (ضعیف) (سند میں ابو امیہ عبد الکریم بن ابی المخارق المعلم ضعیف راوی ہیں )
عمرو بن امیہ ضمری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے بکری کی دست کا گوشت چھری سے کاٹا، اور اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا ١ ؎۔
Jafar ibn Amr ibn Umayyah Damn reported from his father that he saw the Prophet ﷺ cutting slices from a shoulder of mutton and eating it. Then he walked for salah (prayer) without making (fresh) ablution. [Bukhari 5422, Muslim 355]
صحيح، ابن ماجة (490)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1836
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں مغیرہ بن شعبہ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ چھری سے کاٹ کر گوشت کھایا جاسکتا ہے، طبرانی اور ابوداؤد میں ہے کہ چھری سے گوشت کاٹ کر مت کھاؤ کیونکہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے، لیکن یہ روایتیں ضعیف ہیں، ان سے استدلال درست نہیں، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ آگ سے پکی چیز کھانے سے وضوء نہیں ٹوٹتا، کیونکہ آپ ﷺ نے گوشت کھا کر وضو نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥ (٢٠٨)، والأذان ٤٣ (٦٧٥)، والجہاد ٩٢ (٢٩٢٣)، والأطعمة ٢٠ (٥٤٠٨)، و ٢٦ (٥٤٢٢)، و ٥٨ (٥٤٦٢)، صحیح مسلم/الحیض ٢٤ (٣٥٥)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٦ (٤٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٠)، و مسند احمد (٤/١٣٩، ١٧٩) و (٥/٢٨٨) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور آپ کو دست پیش کی گئی، آپ کو دست بہت پسند تھی، چناچہ آپ نے اسے دانت سے نوچ کر کھایا۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ was presented some meat. He was given the foreleg which he liked much. He had a bite of it. [Bukhari 4712, Muslim 196 Ahmed 9629]
صحيح، ابن ماجة (3307)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1837
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، عبداللہ بن جعفر اور ابوعبیدہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - ابوحیان کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان ہے اور ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کا نام ہرم ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو دست کا گوشت زیادہ پسند نہیں تھا، لیکن آپ کو یہ کبھی کبھی ملتا تھا، اس لیے آپ اسے کھانے میں جلدی کرتے تھے کیونکہ وہ دوسرے گوشت کے مقابلہ میں جلدی گلتا ہے۔
Sayyidah Ayshah said that the foreleg meat was not very dear to Allah’s Messenger ,but (the fact is that) meat was had on alternate days, so he made haste with it and this portion of meat was quickly cooked.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے ۔
Muhammad ibn sahi reported from Yahya ibn Hassan, from Sulayman, from Hisham, who from his father who from Sayyidah Ayshah (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said, “Vinegar is an excellent seasoning.” [Ibn e Majah 3316]
ام ہانی بنت ابوطالب ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا: کیا تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، صرف روٹی کے چند خشک ٹکڑے اور سرکہ ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے لاؤ، وہ گھر سالن کا محتاج نہیں ہے جس میں سرکہ ہو ۔
Sayyidah Umm Hani (RA) daughter of Abu Talib, narrated: Allah’s Messenger ﷺ visited me. He asked, ‘Do you have anything (to eat).” I said, “No, only a few stale loaves of bread and vinegar.’ So, he said, “Bring it (to me). The house that has vinegar will not be in need of condiment.”
حسن، الصحيحة (2220)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1842
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف ام ہانی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - ام ہانی کی وفات علی بن ابی طالب کے کچھ دنوں بعد ہوئی، ٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: شعبی کا سماع ام ہانی سے میں نہیں جانتا ہوں، ٤ - میں نے پھر پوچھا: آپ کی نظر میں ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا: احمد بن حنبل کا ان کے بارے میں کلام ہے اور میرے نزدیک وہ مقارب الحدیث ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٨٠٠٢) (حسن) (سند میں ابو حمزہ، ثابت بن ابی صفیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن مسند احمد (٣/٣٥٣) میں جابر ؓ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، الصحیحة: ٢٢٢٠ )
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - بعض لوگوں نے اسے «عن هشام بن عروة عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، اس میں عائشہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، یزید بن رومان نے اس حدیث کو عروہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی، اس لیے نبی اکرم ﷺ نے انہیں صدقہ کے اونٹوں میں بھیجا اور فرمایا: اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پیو ۔
Sayyidina (RA) reported that some people of Uraynah came to Madinah. The climate did not suit them. So, Allah’s Messenger .I4L sent them to the stable of the camels of sadaqah. He commanded them to drink the milk and urir of the camels.
صحيح، ابن ماجة (2578)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1845
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی انس سے آئی ہے، ابوقلابہ نے اسے انس سے روایت کی ہے اور سعید بن ابی عروبہ نے بھی اسے قتادہ کے واسطہ سے انس سے روایت کی ہے۔
سلمان فارسی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ کھانے کی برکت کھانے کے بعد وضو کرنے میں ہے ، میں نے نبی اکرم ﷺ سے اسے بیان کیا اور جو کچھ تورات میں پڑھا تھا اسے بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: کھانے کی برکت کھانے سے پہلے اور اس کے بعد وضو کرنے میں ہے ۔
Sayyidina Salman (RA) said that he read in the Torah that blessing in meal lies in performing ablution after having it. He mentioned that to the Prophet ﷺ informing him that he read it in the Torah. Allah’s Messenger ﷺ said, “Blessing in meal lies in making ablution before consuming the meal and afterwards,” [Ahmed 23793]
ضعيف، الضعيفة (168)، مختصر الشمائل (159) //، ضعيف أبي داود (804 / 3761)، ضعيف الجامع الصغير (2331) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1846
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو ہم صرف قیس بن ربیع کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اور قیس بن ربیع حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ٣ - اس باب میں انس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأطعمة ١٢ (٣٧٦١)، (تحفة الأشراف: ٤٤٨٩) (ضعیف) (سند میں قیس بن ربیع ضعیف راوی ہںأ )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پاخانہ سے تشریف لائے، تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، صحابہ نے عرض کیا: کیا آپ کے لیے وضو کا پانی لائیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے نماز کے لیے جاتے وقت وضو کا حکم دیا گیا ہے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that once ‘Allah’s Messenger ﷺ came out of the privy and food was offered to him. The sahabah (RA) asked him, “Shall we bring you water for ablution?” He said, “i am only commanded to make ablution when I stand up for salah.” [Muslim 374]
صحيح مختصر الشمائل (158)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1847
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے عمرو بن دینار نے سعید بن حویرث کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کی ہے، ٣ - علی بن مدینی کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید نے کہا: سفیان ثوری کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا مکروہ سمجھتے تھے، وہ پیالہ کے نیچے چپاتی رکھنا بھی مکروہ سمجھتے تھے۔