کھانے کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 23 · 77 hadiths · Page 3 of 4

1828Sunan At-Tirmidhi

سرخاب کا گوشت کھانا

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَكَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حُبَارَى ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، وَيُقَالُ: بُرَيْدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ.

سفینہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حباری کا گوشت کھایا ١ ؎۔

Ibrahim Ibn Umar (RA) ibn Safinah reported from his father from his grand father that he ate the meat of bustard with Allah’s Messsenger ﷺ [Abu Dawud 3797]

ضعيف، الإرواء (2500) //، ضعيف أبي داود (812 / 3797) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1828
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣ - ابراہیم بن عمر بن سفینہ سے ابن ابی فدیک نے بھی روایت کی ہے، انہیں برید بن عمر بن سفینہ بھی کہا گیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «حباری» (یعنی سرخاب) بطخ کی شکل کا ایک پرندہ ہے جس کی گردن لمبی اور رنگ خاکستری ہوتا ہے، اس کی چونچ بھی قدرے لمبی ہوتی ہے۔ اور یہ جنگلوں میں پایا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
(ضعیف) (سند میں ابراہیم بن عمر بن سفینہ جن کا لقب بریہ ہے، مستور ہیں، اور ابراہیم بن عبدالرحمن بن مہدی بصری صدوق راوی ہیں، لیکن ان سے منکر روایات آئی ہیں )
1829Sunan At-Tirmidhi

بھنا ہوا گوشت کھانا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّعَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا قَرَّبَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا تَوَضَّأَ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَالْمُغِيرَةِ، وَأَبِي رَافِعٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھنی دست پیش کی، آپ نے اس میں سے تناول فرمایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے: ١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن حارث، مغیرہ اور ابورافع ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔

Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that she presented to Allah’s Messenger a roasted shoulder piece. He ate from it and then stood up for salah, but did not make (a fresh) ablution. [Bukhari 207]

صحيح مختصر الشمائل (138)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1829
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ ) (تحفة الأشراف: ١٨٢٠٠) (صحیح )
1830Sunan At-Tirmidhi

تکیہ لگا کر کھانے کی کراہت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَنَا فَلَا آكُلُ مُتَّكِئًا ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ وَرَوَى زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَسُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ.

ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے: ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ہم اسے صرف علی بن اقمر کی روایت سے جانتے ہیں، علی بن اقمر سے اس حدیث کو زکریا بن ابی زائدہ، سفیان بن سعید ثوری اور کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، شعبہ نے یہ حدیث سفیان ثوری سے علی بن اقمر کے واسطہ سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں علی، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔

Sayyidina Abu Juhayfah reported that Allah’s Messenger s4id, “As for me, I do not recline while eating.” [Bukhari 5398]

صحيح، ابن ماجة (3262)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1830
Notes · وضاحت
١ ؎: ٹیک لگانے کا کیا مطلب ہے؟ اس سلسلہ میں کئی باتیں کہی جاتی ہیں: ( ١ ) کسی ایک جانب جھک کر کھانا جیسے دائیں یا بائیں ہاتھ یا کمنی پر ٹیک لگانا، ( ٢ ) زمین پر بچھے ہوئے گدے پر اطمینان و سہولت کی خاطر آلتی پالتی مار کر بیٹھنا تاکہ کھانا زیادہ کھایا جائے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کے بیٹھنے کو ٹیک لگا کر بیٹھنا قرار دینا صحیح نہیں ہے، حافظ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ مستحب انداز بیٹھنے کا یہ ہے کہ پیروں کے تلوؤں پر گھٹنوں کے بل بیٹھے، یا دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور بائیں پر بیٹھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ١٣ (٥٣٩٨)، سنن ابی داود/ الأطعمة ١٧ (٣٧٦٩)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٦ (٣٢٦٢)، (تحفة الأشراف: ١١٨٠١)، و مسند احمد (٤/٣٠٨)، سنن الدارمی/الأطعمة ٣١ (٢١١٥) (صحیح )
1831Sunan At-Tirmidhi

نبی کریم ﷺ کا میٹھی چیز اور شہد پسند کرنا

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَفِي الْحَدِيثِ كلام أكثر من هذا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میٹھی چیز اور شہد کو پسند کرتے تھے۔

Sayyidah Ayshah(RA) said that the Prophet ﷺ loved sweetmeat and honey. [Bukhari 5431, Muslim 1474]

صحيح، ابن ماجة (3323)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1831
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اسے علی بن مسہر نے بھی ہشام بن عروہ کے واسطہ سے روایت کی ہے، ٣ - حدیث میں اس سے زیادہ باتیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٣٢ (٥٤٣١)، والأشربة ١٠ (٥٥٩٩)، و ١٥ (٥٦١٤)، والطب ٤ (٥٦٨٢)، والحیل ١٢ (٦٩٧٢)، صحیح مسلم/الطلاق ٣ (١٤٧٤)، سنن ابی داود/ الأشربة ١١ (٣٧١٥)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٦ (٣٣٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٧٩٦)، و مسند احمد (٦/٥٩) (صحیح )
1832Sunan At-Tirmidhi

شوربا زیادہ کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ لَحْمًا فَلْيُكْثِرْ مَرَقَتَهُ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ لَحْمًا أَصَابَ مَرَقَةً وَهُوَ أَحَدُ اللَّحْمَيْنِ ، وَفِي الْبَاب: عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ هُوَ الْمُعَبِّرُ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ.

عبداللہ مزنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی گوشت خریدے تو اس میں (پکاتے وقت) شوربا (سالن) زیادہ کرلے، اس لیے کہ اگر وہ گوشت نہ پا سکے تو اسے شوربا مل جائے، وہ بھی دو گوشت میں سے ایک گوشت ہے ۔

Sayyidina Abdullah Muzani narrated: Allah’s Messenger said, ‘If one of you buys meat, let him increase broth, for if one does not find meat then he will find both. And that is a kind of meat.”

ضعيف، الضعيفة (2341) // ضعيف الجامع الصغير (371) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1832
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس باب میں ابوذر سے بھی روایت ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے محمد بن فضاء کی روایت سے جانتے ہیں، محمد بن فضاء «معبر» (یعنی خواب کی تعبیر بیان کرنے والے) ہیں، ان کے بارے میں سلیمان بن حرب نے کلام کیا ہے، ٣ - یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٩٧٤) (ضعیف) (سند میں محمد بن فضاء ضعیف، اور ان کے والد فضاء بن خالد بصری مجہول راوی ہیں )
1833Sunan At-Tirmidhi

شوربا زیادہ کرنا

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَلْقَ أَخَاهُ بِوَجْهٍ طَلِيقٍ، وَإِنِ اشْتَرَيْتَ لَحْمًا أَوْ طَبَخْتَ قِدْرًا فَأَكْثِرْ مَرَقَتَهُ وَاغْرِفْ لِجَارِكَ مِنْهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں میں سے کوئی شخص کسی بھی نیک کام کو حقیر نہ سمجھے، اگر کوئی نیک کام نہ مل سکے تو اپنے بھائی سے مسکرا کر ملے ١ ؎، اور اگر تم گوشت خریدو یا ہانڈی پکاؤ تو شوربا (سالن) بڑھا لو اور اس میں سے چلو بھر اپنے پڑوسی کو دے دو ۔

Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Let not one of you regard any pious work as lowly. If he cannot find anything, let him meet his brother with a cheerful face. And when you buy meat, or cook a vessel, add to its broth and send some of it to your neighbour.” [Muslim 2626]

صحيح، الصحيحة (1368)، التعليق الرغيب (3 / 264)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1833
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - شعبہ نے بھی اسے ابوعمران جونی کے واسطہ سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا اسے دلی سکون پہنچانا ہے، یہ بھی ایک نیک عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر و الصلة ٤٢ (٢٦٢٥/١٤٢)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٥٨ (٣٣٦٢)، (تحفة الأشراف: ١١٩٥١)، و مسند احمد (٥/١٤٩، ١٥٦، ١٦١، ١٧١) (صحیح )
1834Sunan At-Tirmidhi

ثرید کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مردوں میں سے بہت سارے مرد درجہ کمال کو پہنچے ١ ؎ اور عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ درجہ کمال کو پہنچیں اور تمام عورتوں پر عائشہ کو اسی طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح تمام کھانوں پر ثرید کو ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Musa (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Many among men have attained perfection but none of the women have attained perfection except Maryam bint Imran and Aasiyah wife of Fir’awn. And the excellence of Ayshah over women is like the excellence of tharidO over all food.’ [Bukhari 5418, Muslim 2431]

صحيح، ابن ماجة (3280)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1834
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ اور انس سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چناچہ مردوں میں سے انبیاء، رسل، علما، خلفاء، اور اولیاء ہوئے۔ ٢ ؎: ثرید: اس کھانے کو کہتے ہیں جس میں گوشت کے ساتھ شوربے میں روٹی ملی ہوئی ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٣٢ (٣٤١١)، و ٤٦ (٣٤٣٣)، وفضائل الصحابة ٣٠ (٣٧٦٩)، والأطعمة ٢٥ (٥٤١٨)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٢ (٢٤٣١) (صحیح )
1835Sunan At-Tirmidhi

گوشت نوچ کر کھانا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: زَوَّجَنِي أَبِي فَدَعَا أُنَاسًا فِيهِمْ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: انْهَسُوا اللَّحْمَ نَهْسًا فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي عَبْدِ الْكَرِيمِ الْمُعَلِّمِ مِنْهُمْ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میرے باپ نے میری شادی کی اور لوگوں کو مدعو کیا، ان میں صفوان بن امیہ ؓ بھی تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گوشت کو دانت سے نوچ کر کھاؤ اس لیے کہ وہ زیادہ جلد ہضم ہوتا ہے، اور لذیذ ہوتا ہے ۔

Abdullah ibn Harith narrated: My father married me and invited people (to the feast). Safwan ibn Umayyah was among them. He said, Allahs Messenger (SA)W had said that we should bite meat, for that is tasty and easily digested in this way.’ [Ahmed 1530]

ضعيف، الضعيفة (2193) // ضعيف الجامع الصغير (2101) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1835
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو ہم صرف عبدالکریم کی روایت سے جانتے ہیں اور عبدالکریم المعلم کے حافظہ کے بارے میں اہل علم نے کلام کیا ہے، کلام کرنے والوں میں ایوب سختیانی بھی ہیں، ٢ - اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: ٤٩٤٧) (ضعیف) (سند میں ابو امیہ عبد الکریم بن ابی المخارق المعلم ضعیف راوی ہیں )
1836Sunan At-Tirmidhi

چھری سے گوشت کاٹ کر کھانے کی اجازت

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَزَّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْبَاب: عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ.

عمرو بن امیہ ضمری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے بکری کی دست کا گوشت چھری سے کاٹا، اور اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا ١ ؎۔

Jafar ibn Amr ibn Umayyah Damn reported from his father that he saw the Prophet ﷺ cutting slices from a shoulder of mutton and eating it. Then he walked for salah (prayer) without making (fresh) ablution. [Bukhari 5422, Muslim 355]

صحيح، ابن ماجة (490)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1836
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں مغیرہ بن شعبہ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ چھری سے کاٹ کر گوشت کھایا جاسکتا ہے، طبرانی اور ابوداؤد میں ہے کہ چھری سے گوشت کاٹ کر مت کھاؤ کیونکہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے، لیکن یہ روایتیں ضعیف ہیں، ان سے استدلال درست نہیں، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ آگ سے پکی چیز کھانے سے وضوء نہیں ٹوٹتا، کیونکہ آپ ﷺ نے گوشت کھا کر وضو نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥ (٢٠٨)، والأذان ٤٣ (٦٧٥)، والجہاد ٩٢ (٢٩٢٣)، والأطعمة ٢٠ (٥٤٠٨)، و ٢٦ (٥٤٢٢)، و ٥٨ (٥٤٦٢)، صحیح مسلم/الحیض ٢٤ (٣٥٥)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٦ (٤٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٠)، و مسند احمد (٤/١٣٩، ١٧٩) و (٥/٢٨٨) (صحیح )
1837Sunan At-Tirmidhi

نبی کریم ﷺ کو کون ساگوشت پسند تھا

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا ، قَالَ: وَفِي الْبَاب: عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو حَيَّانَ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ، وَأَبُو زَرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ اسْمُهُ هَرِمٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور آپ کو دست پیش کی گئی، آپ کو دست بہت پسند تھی، چناچہ آپ نے اسے دانت سے نوچ کر کھایا۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ was presented some meat. He was given the foreleg which he liked much. He had a bite of it. [Bukhari 4712, Muslim 196 Ahmed 9629]

صحيح، ابن ماجة (3307)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1837
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، عبداللہ بن جعفر اور ابوعبیدہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - ابوحیان کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان ہے اور ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کا نام ہرم ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٣ (٣٣٤٠)، وتفسیر الإسراء ٥ (٤٧١٢)، صحیح مسلم/الإیمان ٨٤ (١٩٤)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٨ (٣٣٠٧)، ویأتي عند المؤلف في صفة القیامة ١٠ (٢٤٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٢٧) (صحیح )
1838Sunan At-Tirmidhi

نبی کریم ﷺ کو کون ساگوشت پسند تھا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ أَبُو عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ يَحْيَى مِنْ وَلَدِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا كَانَ الذِّرَاعُ أَحَبَّ اللَّحْمِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ كَانَ لَا يَجِدُ اللَّحْمَ إِلَّا غِبًّا فَكَانَ يَعْجَلُ إِلَيْهِ لِأَنَّهُ أَعْجَلُهَا نُضْجًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو دست کا گوشت زیادہ پسند نہیں تھا، لیکن آپ کو یہ کبھی کبھی ملتا تھا، اس لیے آپ اسے کھانے میں جلدی کرتے تھے کیونکہ وہ دوسرے گوشت کے مقابلہ میں جلدی گلتا ہے۔

Sayyidah Ayshah said that the foreleg meat was not very dear to Allah’s Messenger ,but (the fact is that) meat was had on alternate days, so he made haste with it and this portion of meat was quickly cooked.

منکر مختصر الشمائل (144)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1838
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٦١٩٤) (منکر) (سند میں عبدالوہاب بن یحییٰ لین الحدیث راوی ہیں، اور متن صحیح روایات کے خلاف ہے )
1839Sunan At-Tirmidhi

سرکہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ أَخُو سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ ،

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے ١ ؎۔

Sayyidinajabir reported that the Prophet ﷺ said, Vinegar is an excellent seasoning.’ [Abu Dawud 3820]

صحيح، ابن ماجة (3316 و 3317)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1839
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں عائشہ اور ام ہانی سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے سرکہ کے سالن کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ یہ سب کے لیے کم خرچ میں آسانی سے دستیاب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٣٠ (٢٠٥٢)، سنن ابی داود/ الأطعمة ٤٠ (٣٨٢٠)، سنن النسائی/الأیمان ٢١ (٣٨٢٧)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٣ (٣٣١٧)، (تحفة الأشراف: ٢٧٥٨)، و مسند احمد ٣/٣٠٤، ٣٧١، ٣٨٩، ٣٩٠)، سنن الدارمی/الأطعمة ١٨ (٢٠٩٢) (صحیح )
1842Sunan At-Tirmidhi

سرکہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُبَارَكِ بْنِ سَعِيدٍ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے ۔

Jabir narrated that the Prophet ﷺ said, “Vineger is an excellent seasoning.’

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث مبارک بن سعید کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٨٣٩ (تحفة الأشراف: ٢٥٧٩) (صحیح )
1840Sunan At-Tirmidhi

سرکہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: نِعْمَ الْإِدَامُ أَوِ الْأُدْمُ الْخَلُّ ،

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے ۔

Muhammad ibn sahi reported from Yahya ibn Hassan, from Sulayman, from Hisham, who from his father who from Sayyidah Ayshah (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said, “Vinegar is an excellent seasoning.” [Ibn e Majah 3316]

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٣٠ (٢٠٥١)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٣ (٣٣١٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٤٣) (صحیح )
1841Sunan At-Tirmidhi

سرکہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ ، فَقُلْتُ: لَا إِلَّا كِسَرٌ يَابِسَةٌ وَخَلٌّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَرِّبِيهِ فَمَا أَقْفَرَ بَيْتٌ مِنْ أُدْمٍ فِيهِ خَلٌّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أُمِّ هَانِئٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ اسْمُهُ ثَابِتُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ، وَأُمُّ هَانِئٍ مَاتَتْ بَعْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِزَمَانٍ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: لَا أَعْرِفُ لِلشَّعْبِيِّ سَمَاعًا مِنْ أُمِّ هَانِئٍ فَقُلْتُ: أَبُو حَمْزَةَ كَيْفَ هُوَ عِنْدَكَ فَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: تَكَلَّمَ فِيهِ وَهُوَ عِنْدِي مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.

ام ہانی بنت ابوطالب ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا: کیا تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، صرف روٹی کے چند خشک ٹکڑے اور سرکہ ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے لاؤ، وہ گھر سالن کا محتاج نہیں ہے جس میں سرکہ ہو ۔

Sayyidah Umm Hani (RA) daughter of Abu Talib, narrated: Allah’s Messenger ﷺ visited me. He asked, ‘Do you have anything (to eat).” I said, “No, only a few stale loaves of bread and vinegar.’ So, he said, “Bring it (to me). The house that has vinegar will not be in need of condiment.”

حسن، الصحيحة (2220)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1842
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف ام ہانی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - ام ہانی کی وفات علی بن ابی طالب کے کچھ دنوں بعد ہوئی، ٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: شعبی کا سماع ام ہانی سے میں نہیں جانتا ہوں، ٤ - میں نے پھر پوچھا: آپ کی نظر میں ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا: احمد بن حنبل کا ان کے بارے میں کلام ہے اور میرے نزدیک وہ مقارب الحدیث ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٨٠٠٢) (حسن) (سند میں ابو حمزہ، ثابت بن ابی صفیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن مسند احمد (٣/٣٥٣) میں جابر ؓ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، الصحیحة: ٢٢٢٠ )
1843Sunan At-Tirmidhi

تربوز کو تر کھجور کے ساتھ کھانا

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ وَقَدْ رَوَى يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ هَذَا الْحَدِيثَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ تازہ کھجور کے ساتھ تربوز کھاتے تھے۔

Sayyidah Ayshah (RA) said that the Prophet ﷺ ate water-melon with fresh dates. [Abu Dawud 3836]

صحيح، الصحيحة (57)، مختصر الشمائل (170)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1843
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - بعض لوگوں نے اسے «عن هشام بن عروة عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، اس میں عائشہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، یزید بن رومان نے اس حدیث کو عروہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأطعمة ٤٥ (٣٨٣٦)، (وأخرجہ النسائي في الکبریٰ )، (تحفة الأشراف: ١٦٩٠٨) (صحیح )
1844Sunan At-Tirmidhi

ککڑی کو کھجور کے ساتھ ملا کر کھانا

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِدٍ.

عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ تازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھاتے تھے۔

Sayyidina Abdullah ibn Ja’far (RA) said that the Prophet ﷺ (SA)W ate (Egyptian) cucumber with fresh dates. [Bukhari 5440, Muslim 2042]

صحيح، ابن ماجة (3325)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1844
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف ابراہیم بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٣٩ (٥٤٤٠)، صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة ٢٣ (٢٠٤٣)، سنن ابی داود/ الأطعمة ٤٥ (٣٨٣٥)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٧ (٣٣٢٥)، (تحفة الأشراف: ٥٢١٩)، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٤ (٢١٠٢) (صحیح )
1845Sunan At-Tirmidhi

اونٹوں کا پیشاب پینا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، وَثَابِتٌ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، وَقَالَ: اشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَنَسٍ رَوَاهُ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی، اس لیے نبی اکرم ﷺ نے انہیں صدقہ کے اونٹوں میں بھیجا اور فرمایا: اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پیو ۔

Sayyidina (RA) reported that some people of Uraynah came to Madinah. The climate did not suit them. So, Allah’s Messenger .I4L sent them to the stable of the camels of sadaqah. He commanded them to drink the milk and urir of the camels.

صحيح، ابن ماجة (2578)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1845
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی انس سے آئی ہے، ابوقلابہ نے اسے انس سے روایت کی ہے اور سعید بن ابی عروبہ نے بھی اسے قتادہ کے واسطہ سے انس سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٧٢ (صحیح )
1846Sunan At-Tirmidhi

کھانے سے پہلے اور بعد وضو کرنا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجُرْجَانِيُّ، قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ الْمَعْنَى واحد، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ يَعْنِي الرُّمَّانِيَّ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ بَعْدَهُ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ للنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: لَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَأَبُو هَاشِمٍ الرُّمَّانِيُّ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ دِينَارٍ.

سلمان فارسی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ کھانے کی برکت کھانے کے بعد وضو کرنے میں ہے ، میں نے نبی اکرم ﷺ سے اسے بیان کیا اور جو کچھ تورات میں پڑھا تھا اسے بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: کھانے کی برکت کھانے سے پہلے اور اس کے بعد وضو کرنے میں ہے ۔

Sayyidina Salman (RA) said that he read in the Torah that blessing in meal lies in performing ablution after having it. He mentioned that to the Prophet ﷺ informing him that he read it in the Torah. Allah’s Messenger ﷺ said, “Blessing in meal lies in making ablution before consuming the meal and afterwards,” [Ahmed 23793]

ضعيف، الضعيفة (168)، مختصر الشمائل (159) //، ضعيف أبي داود (804 / 3761)، ضعيف الجامع الصغير (2331) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1846
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو ہم صرف قیس بن ربیع کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اور قیس بن ربیع حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ٣ - اس باب میں انس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأطعمة ١٢ (٣٧٦١)، (تحفة الأشراف: ٤٤٨٩) (ضعیف) (سند میں قیس بن ربیع ضعیف راوی ہںأ )
1847Sunan At-Tirmidhi

کھانے سے پہلے وضو نہ کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالُوا: أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ، قَالَ: إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ يَكْرَهُ غَسْلَ الْيَدِ قَبْلَ الطَّعَامِ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُوضَعَ الرَّغِيفُ تَحْتَ الْقَصْعَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پاخانہ سے تشریف لائے، تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، صحابہ نے عرض کیا: کیا آپ کے لیے وضو کا پانی لائیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے نماز کے لیے جاتے وقت وضو کا حکم دیا گیا ہے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that once ‘Allah’s Messenger ﷺ came out of the privy and food was offered to him. The sahabah (RA) asked him, “Shall we bring you water for ablution?” He said, “i am only commanded to make ablution when I stand up for salah.” [Muslim 374]

صحيح مختصر الشمائل (158)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1847
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے عمرو بن دینار نے سعید بن حویرث کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کی ہے، ٣ - علی بن مدینی کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید نے کہا: سفیان ثوری کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا مکروہ سمجھتے تھے، وہ پیالہ کے نیچے چپاتی رکھنا بھی مکروہ سمجھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأطعمة ١١ (٣٧٦٠)، سنن النسائی/الطہارة ١٠٠ (١٣٠)، وراجع صحیح مسلم/الحیض ٣١ (٣٧٤)، (تحفة الأشراف: ٥٧٩٣)، و مسند احمد (١/٣٥٩) (صحیح )