علی ؓ کہتے ہیں کہ لہسن کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو ١ ؎۔
Sayyidina Ali reported: We are forbidden to eat (raw) garlic unless (it is) cooked.
صحيح، الإرواء (2512)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1808
Notes · وضاحت
١ ؎: پکنے سے اس میں پائی جانے والی بو ختم ہوجاتی ہے، اس لیے اسے کھا کر مسجد جانے میں کوئی حرج نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأطعمة ٤١ (٣٨٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٠١٢٧) (صحیح) (سند میں ابواسحاق سبیعی مختلط اور مدلس راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، الإرواء: ٢٥١٢ )
شریک بن حنبل سے روایت ہے کہ علی ؓ لہسن کھانا مکروہ سمجھتے تھے، سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو۔
Hannad reported from Waki who from his father, who from Abu Ishaq, who from Shank ibn Hanbal and he from Sayyidina Ali that he said, ‘Apart from cooked onion, it is makruh to eat onion.” [Abu Dawud 3828]
ضعيف، الإرواء (2512)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1809
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، یہ علی ؓ کا قول ہے، ٢ - شریک بن حنبل کے واسطہ سے یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرسل طریقہ سے بھی آئی ہے، ٣ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: راوی جراح بن ملیح صدوق ہیں اور جراح بن ضحاک مقارب الحدیث ہیں۔
Takhrij · تخریج
(تحفة الأشراف: ١٠١٢٧) (ضعیف) (سند میں ابو اسحاق سبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں )
ام ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ (ہجرت کے بعد) ان کے گھر ٹھہرے، ان لوگوں نے آپ کے لیے پرتکلف کھانا تیار کیا جس میں کچھ ان سبزیوں (گندنا وغیرہ) میں سے تھی، چناچہ آپ نے اسے کھانا ناپسند کیا اور صحابہ سے فرمایا: تم لوگ اسے کھاؤ، اس لیے کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں ڈرتا ہوں کہ میں اپنے رفیق (جبرائیل) کو تکلیف پہچاؤں ۔
Sayyidah Umm Ayyub (RA) reported that when the Prophet ﷺ came to them (on his migration), they offered to him food made up of some vegetables. He did not like it, and said to his sahabah “Eat it for I am not like one of you. I fear that I may hurt my companion.” [Ahmed 27512, Ibn e Majah 3364] Muhammad ibn Humayd reported from Zayd ibn Hubab, from Abu Khaldah, from Abul Aaliyah that he said, “Garlic is a pure provision.”
حسن، ابن ماجة (3364)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1810
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ام ایوب ابوایوب انصاری کی بیوی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٥٩ (٣٣٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٠٤) (حسن )
ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ لہسن حلال رزق ہے۔ ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے، وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں، انہوں نے انس بن مالک سے ملاقات کی ہے اور ان سے حدیث سنی ہے، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے اور یہ رفیع ریاحی ہیں، عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: ابوخلدہ ایک نیک مسلمان تھے۔
ضعيف الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1811
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: ١٨٦٤٦) (ضعیف الإسناد) (سند میں محمد بن حمید رازی ضعیف راوی ہیں )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (سوتے وقت) دروازہ بند کرلو، مشکیزہ کا منہ باندھ دو، برتنوں کو اوندھا کر دو یا انہیں ڈھانپ دو اور چراغ بجھا دو، اس لیے کہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھولتا ہے اور نہ کسی بندھن اور برتن کو کھولتا ہے، (اور چراغ اس لیے بجھا دو کہ) چوہا لوگوں کا گھر جلا دیتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir reported that the Prophet ﷺ said, “Shut the door (before sleeping), tie up the water skin (at its mouth), cover up the utensils or turn them upside down and extinguish the lantern, for, the devil does not open the closed (doors), nor what is tied up, nor uncover the utensils (or turn them face up) and, because the tiny evil one (a mouse) puts homes of people on fire.” [Muslim 2012]
صحيح، ابن ماجة (341)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1812
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - جابر سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٣ - اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے بہت سے فائدے حاصل ہوئے: ( ١ ) بسم اللہ پڑھ کر دروازہ بند کرنے سے بندہ جن اور شیاطین سے محفوظ ہوتا ہے، ( ٢ ) اور چوروں سے بھی گھر محفوظ ہوجاتا ہے، ( ٣ ) برتن کا منہ باندھنے اور ڈھانپ دینے سے اس میں موجود چیز کی زہریلے جانوروں کے اثرات نیز وبائی بیماریوں اور گندگی وغیرہ سے حفاظت ہوجاتی ہے، ( ٤ ) چراغ اور آگ کے بجھانے سے گھر آگ کے خطرات سے محفوظ ہوتا ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سوتے وقت اپنے گھروں میں (جلتی ہوئی) آگ نہ چھوڑو ۔
Saalim reported from his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “Do not leave the fire burning in your homes while you go to sleep.” [Bukhari 6293, Muslim 2015] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1813
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو کھجور ایک ساتھ کھانے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اپنے ساتھ کھانے والے کی اجازت حاصل کرلے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ forbade eating two dates together unless allowed by one’s companion. [Bukhari 2490, Muslim 2045]
صحيح، ابن ماجة (3331)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1814
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سعد مولی ابوبکر سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا وہ کرے گا جو کھانے کے سلسلہ میں بےانتہا حریص اور لالچی ہو، اور جسے ساتھ میں دوسرے کھانے والوں کا بالکل لحاظ نہ ہو، اس لیے اس طرح کے حرص اور لالچ سے دور رہنا چاہیئے، خاص طور پر جب کھانے کی مقدار کم ہو، یہ ممانعت اجتماعی طور پر کھانے کے سلسلہ میں ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس گھر میں کھجور نہیں اس گھر کے لوگ بھوکے ہیں ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The house that has no dates, its people are hungry.” [Muslim 2046]
صحيح، ابن ماجة (3327)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1815
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے ہشام بن عروہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یحییٰ بن حسان کے علاوہ میں نہیں جانتا ہوں کسی نے اسے روایت کیا ہے، ٣ - اس باب میں ابورافع کی بیوی سلمی ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس وقت کی بات ہے جب لوگوں کی اصل غذا صرف کھجور تھی، یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے کھجور کی اہمیت بتانا مقصود ہو، آج بھی جس علاقہ اور جگہ کی کوئی خاص چیز ہوتی ہے جو وہاں کے لوگوں کی اصل غذا ہو تو اس کی طرف نسبت کر کے اس کی اہمیت واضح کی جاتی ہے۔ حدیث کے ظاہری معانی کے پیش نظر کھجور کے فوائد کی بنا پر گھر میں ہر وقت کھجور کی ایک مقدار ضرور رہنی چاہیئے۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جو ایک لقمہ کھاتا ہے یا ایک گھونٹ پیتا ہے، تو اس پر اللہ کی تعریف کرتا ہے ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Indeed, Allah is pleased with the slave who, having eaten food or drunk a drink, praises Him for that. [Muslim 2724]
صحيح، الصحيحة (1651)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1816
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - زکریا بن ابی زائدہ سے اسے کئی لوگوں نے اسی طرح روایت کیا ہے، ہم اسے صرف زکریا بن ابی زائدہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں عقبہ بن عامر، ابوسعید، عائشہ، ابوایوب اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٤ (٢٧٣٤)، (تحفة الأشراف: ٨٥٧)، و مسند احمد (٣/١٠٠، ١١٧) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ پیالے میں داخل کیا، پھر فرمایا: اللہ کا نام لے کر اس پر بھروسہ رکھتے ہوئے اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ held a leper by his hand and made him join in his bowl (of meal). He said after that, ‘Eat in the name of Allah, relying in Allah and placing trust in Him.” [Abu Dawud 3925]
ضعيف، ابن ماجة (3542) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (776)، المشکاة (4585)، ضعيف الجامع الصغير (4195)، ضعيف أبي داود (847 / 3925) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1817
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یونس بن محمد کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ مفضل بن فضالہ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، ٢ - یہ مفضل بن فضالہ ایک بصریٰ شیخ ہیں، مفضل بن فضالہ ایک دوسرے شیخ بصریٰ ہیں وہ ان سے زیادہ ثقہ اور شہرت کے مالک راوی ہیں، ٣ - شعبہ نے اس حدیث کو بطریق: «حبيب بن الشهيد عن ابن بريدة أن ابن عمر» روایت کیا ہے کہ انہوں (ابن عمر) نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا، میرے نزدیک شعبہ کی حدیث زیادہ صحیح اور ثابت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء کا کہنا ہے کہ ایسا آپ نے ان لوگوں کو دکھانے کے لیے کیا جو اپنے ایمان و توکل میں قوی ہیں، اور ناپسندیدہ امر پر صبر سے کام لیتے ہیں اور اسے قضاء و قدر کے حوالہ کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو ناپسنددیدہ امر پر صبر نہیں کر پاتے اور اپنے بارے میں خوف محسوس کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے آپ نے یہ فرمایا: «فر من المجذوم کما تفر من الأسد» چناچہ ایسے لوگوں سے بچنا اور اجتناب کرنا مستحب ہے، لیکن واجب نہیں ہے، اور ان کے ساتھ کھانا پینا بیان جواز کے لیے ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطب ٣٤ (٣٩٢٥)، سنن ابن ماجہ/الطب ٤٤ (٣٥٤٢)، (تحفة الأشراف: ٣٠١٠) (ضعیف) (سند میں مفضل بصری ضعیف راوی ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کافر سات آنت میں کھاتا ہے اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The disbeliever eats in seven intestines while the believer eats in one intestine.’ [Muslim 2060, Bukhari 5393]
صحيح، ابن ماجة (3257)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1818
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، ابوسعید، ابو بصرہ غفاری، ابوموسیٰ، جہجاہ غفاری، میمونہ اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء نے اس کی مختلف توجیہیں کی ہیں: ( ١ ) مومن اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرتا ہے، اسی لیے کھانے کی مقدار اگر کم ہے تب بھی اسے آسودگی ہوجاتی ہے، اور کافر چونکہ اللہ کا نام لیے بغیر کھاتا ہے اس لیے اسے آسودگی نہیں ہوتی، خواہ کھانے کی مقدار زیادہ ہو یا کم۔ ( ٢ ) مومن دنیاوی حرص طمع سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے، اسی لیے کم کھاتا ہے، جب کہ کافر حصول دنیا کا حریص ہوتا ہے اسی لیے زیادہ کھاتا ہے، ( ٣ ) مومن آخرت کے خوف سے سرشار رہتا ہے اسی لیے وہ کم کھا کر بھی آسودہ ہوجاتا ہے، جب کہ کافر آخرت سے بےنیاز ہو کر زندگی گزارتا ہے، اسی لیے وہ بےنیاز ہو کر کھاتا ہے، پھر بھی آسودہ نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ١٢ (٥٣٩٣-٥٣٩٥)، صحیح مسلم/الأشربة ٣٤ (٢٠٦٠)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣ (٣٢٥٧)، (تحفة الأشراف: ٨١٥٦)، و مسند احمد (٢/٢١، ٤٣، ٧٤، ١٤٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک کافر مہمان آیا، آپ ﷺ نے اس کے لیے بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، بکری دو ہی گئی، وہ دودھ پی گیا، پھر دوسری دو ہی گئی، اس کو بھی پی گیا، اس طرح وہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا، پھر کل صبح ہو کر وہ اسلام لے آیا، رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے ایک بکری (دوہنے کا) حکم دیا، وہ دو ہی گئی، وہ اس کا دودھ پی گیا، پھر آپ نے دوسری کا حکم دیا تو وہ اس کا پورا دودھ نہ پی سکا، (اس پر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ had as a guest an infidel. He ordered that a sheep should be milked. He drank that, then he drank a second helping; and he drank a third helping; till he consumed seven rounds. Then, the morning of the next day, he embraced Islam and Allah’s Messenger ﷺ commanded that a sheep should be milked for him which he drank; then he gave instructions for more, but he could not drink it all. So, Allah’s Messenger ﷺ said, “The Believer drinks in one intestine while the disbeliever drinks in seven intestines.” [Muslim 2063]
صحيح، ابن ماجة (3256)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1819
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے کہ ان سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چھ غزوے کیے اور ٹڈی کھاتے رہے۔
Sayyidina Abdullah (RA) Abu Awfa reported that when he was asked about eating locusts, he said : I participated in six battles with Allah’s Messenger ﷺ . We ate locusts during that. [Bukhari 4595]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1821
اس سند سے بھی ابن ابی اوفی ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو سفیان بن عیینہ نے ابویعفور سے اسی طرح روایت کیا ہے اور کہا ہے: چھ غزوے کیے ، ٢ - اور سفیان ثوری اور کئی لوگوں نے ابویعفور سے یہ حدیث روایت کی ہے اور کہا ہے: سات غزوے کیے ۔
ابن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات کئے اور ٹڈی کھاتے رہے ١ ؎۔
Mahmud ibn Ghaylan reported this hadith from Abu Ahmad and Mu’ammal, from Sufyan, from Abu Ya’fur, from Ibn Abu Awfa, saying “We participated in seven battles with the Prophet ﷺ ”.
صحيح
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1822
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1822
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - شعبہ نے بھی اسے ابویعفور کے واسطہ سے ابن ابی اوفی سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کئی غزوات کئے اور ٹڈی کھاتے رہے۔
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابویعفور کا نام واقد ہے، انہیں وقدان بھی کہا جاتا ہے، ابویعفور دوسرے بھی ہیں، ان کا نام عبدالرحمٰن بن عبید بن نسطاس ہے، ٣ - اس باب میں ابن عمر اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ جانور جو حلال ہیں انہیں میں سے ٹڈی بھی ہے، اس کی حلت پر تقریباً سب کا اتفاق ہے۔
جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ ٹڈیوں پر بد دعا کرتے تو کہتے «اللهم أهلک الجراد اقتل کباره وأهلک صغاره وأفسد بيضه واقطع دابره وخذ بأفواههم عن معاشنا وأرزاقنا إنک سميع الدعاء» اللہ! ٹڈیوں کو ہلاک کر دے، بڑوں کو مار دے، چھوٹوں کو تباہ کر دے، ان کے انڈوں کو خراب کر دے، ان کا جڑ سے خاتمہ کر دے، اور ہمارے معاش اور رزق تباہ کرنے سے ان کے منہ روک لے، بیشک تو دعا کو سننے والا ہے ، ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر کو جڑ سے ختم کرنے کی بد دعا کیسے کر رہے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ سمندر میں مچھلی کی چھینک ہے ۔
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی کے بارے میں محدثین نے کلام کیا ہے، ان سے غریب اور منکر روایتیں کثرت سے ہیں، ان کے باپ محمد بن ابراہیم ثقہ ہیں اور مدینہ کے رہنے والے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصید ٩ (٣٢٢١)، (تحفة الأشراف: ١٤٥١، ٢٥٨٥) (موضوع) (سند میں موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی ضعیف اور منکرالحدیث راوی ہے، ابن الجوزی نے موضوعات میں اسی کو متہم کیا ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفة: ١١٢، لیکن ضعیف سنن الترمذی اور مشہور حسن کے سنن کے نسخے میں اس حدیث پر کوئی حکم نہیں لگا ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کھانے اور ان کے دودھ پینے سے منع فرمایا۔
Sayyidina lbn Umar (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ disallowed eating (the flesh) of jallalah and drinking its milk. [Abu Dawud 3785, Ibn e Majah 3189]
صحيح، ابن ماجة (3189)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1824
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ثوری نے اسے «عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں عبداللہ بن عباس سے بھی حدیث مروی ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے «مجثمة» اور گندگی کھانے والے جانور کے دودھ اور مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ disallowed the animal that is targetted after being tethered, the milk of jallalah and drinking directly from the mouth of the water-skin. [Ahmed 2161, Nisai 4460]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - محمد بن بشار کہتے ہیں: ہم سے ابن عدی نے «عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن عکرمة عن ابن عباس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے، ٣ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی حدیث مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «مجثمہ»: وہ جانور ہے جس پر نشانہ بازی کی جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے۔
زہدم جرمی کہتے ہیں کہ میں ابوموسیٰ کے پاس گیا، وہ مرغی کھا رہے تھے، کہا: قریب ہوجاؤ اور کھاؤ اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے کھاتے دیکھا ہے ١ ؎۔
Zahdam Jarmi narrated visited Abu Musa (RA) . He was eating a chicken, He said, Come closer and eat. I had seen Allah’s Messenger ﷺ eat it.” [Bukhari 4385, Muslim 1649]
صحيح، الإرواء (2499)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1826
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے، زہدم سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ہم اسے صرف زہدم ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوست کے گھر اس کے کھانے کے وقت میں جانا صحیح ہے، نیز کھانے والے کو چاہیئے کہ آنے والے مہمان کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرے، اگرچہ کھانے کی مقدار کم ہو، اس لیے کہ اجتماعی شکل میں کھانا نزول برکت کا سبب ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ مرغ کا گوشت حلال ہے۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مرغ کا گوشت کھاتے دیکھا۔
Sayyidina Abu Musa (RA) said, “I saw Allah’s Messenger eat chicken.”
صحيح انظر ما قبله (1826)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1827
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس حدیث میں کچھ اور باتیں بھی ہیں، ٣ - ایوب سختیانی نے بھی اس حدیث کو «عن القاسم التميمي عن أبي قلابة عن زهدم» کی سند سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٩ (٣٧٩٧)، (تحفة الأشراف: ٤٤٨٢) (ضعیف) (سند میں ابراہیم بن عمر بن سفینہ ” بُریہ “ مجہول الحال راوی ہیں )