ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے (مرنے کے بعد) کوئی مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جس نے ایسی اولاد چھوڑی جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو اس کی کفالت میرے ذمہ ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone leaves behind property then that is for his heirs. And if anyone leaves behind family with no support then (the responsibility for them) is for me. [Bukhari 6731] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح وهو طرف من حديث تقدم بتمامه (1082)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2090
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - زہری نے یہ حدیث «عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے اور وہ حدیث اس سے طویل اور مکمل ہے، ٣ - اس باب میں جابر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - «ضياعا» کا معنی یہ ہے کہ ایسی اولاد جس کے پاس کچھ نہ ہو تو میں ان کی کفالت کروں گا اور ان پر خرچ کروں گا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسے مسلمان یتیموں اور بیواؤں کی کفالت اس حدیث کی رُو سے مسلم حاکم کے ذمے ہے کہ جن کا مورث ان کے لیے کوئی وراثت چھوڑ کر نہ مرا ہو۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٠٧٠ (تحفة الأشراف: ١٥١٠٨٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرآن اور علم فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ اس لیے کہ میں وفات پانے والا ہوں ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger said, ‘Learn (the rules of) inheritance, and the Qur’an, and teach (other) people, for I will die.” [Ibn Majah 2719]
ضعيف، المشکاة (244)، الإرواء (1664) // ضعيف الجامع الصغير (2450) //
ضعيف، المشکاة (244)، الإرواء (1664) // ضعيف الجامع الصغير (2450) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2091
ابواسامہ نے یہ حدیث «عن عوف عن رجل عن سليمان بن جابر عن ابن مسعود عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے۔ اور اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے۔ محمد بن قاسم اسدی کو احمد بن حنبل وغیرہ نے ضعیف کہا ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2091
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث میں اضطراب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٣٤٩٨) (ضعیف) (سند میں شہر بن حوشب اور محمد بن قاسم اسدی دونوں ضعیف ہیں، اسدی کی بعض لوگوں نے تکذیب تک کی ہے، الإرواء: ١٦٦٤، ١٦٦٥)
تفردبہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٢٣٥) وأخرجہ النسائی من طرق (٦٣٠٥، ٦٣٠٦ من الکبری) (ضعیف) (سند میں اضطراب ہے، جس کی طرف مؤلف نے اشارہ کیا اور اس کی تفصیل نسائی میں ہے، حافظ ابن حجر کے نزدیک سند میں اختلاف کا سبب عوف ہیں، النکت الظراف، الإرواء: ١٦٦٤ )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ سعد بن ربیع کی بیوی اپنی دو بیٹیوں کو جو سعد سے پیدا ہوئی تھیں لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دونوں سعد بن ربیع کی بیٹیاں ہیں، ان کے باپ آپ کے ساتھ لڑتے ہوئے جنگ احد میں شہید ہوگئے ہیں، ان کے چچا نے ان کا مال لے لیا ہے، اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا، اور بغیر مال کے ان کی شادی نہیں ہوگی۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا ، چناچہ اس کے بعد آیت میراث نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان (لڑکیوں) کے چچا کے پاس یہ حکم بھیجا کہ سعد کی دونوں بیٹیوں کو مال کا دو تہائی حصہ دے دو اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ، اور جو بچے وہ تمہارا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated : The wife of Sad ibn Rabi brought her two daughters from Sad to Allah’s Messenger ﷺ She said, “O Messenger of Allah, these are two daughters of Sad ibn Rabi. Their father fought by your side on the day of Uhud and was martyred. Their uncle took away their wealth and left nothing for them, and they cannot be married unless they have wealth.’ He said, “Allah will decide in this matter.” So, the verse of inheritance was revealed0. So, Allah’s Messenger sent for their uncle and instructed him to give the two daughters of SA’d two-thirds and to give their mother one-eighth, and what remained was for him. [Abu Dawud 2891] --------------------------------------------------------------------------------
حسن، ابن ماجة (2720)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2092
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - عبداللہ بن محمد بن عقیل سے شریک نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کل ترکہ ٢٤ حصے فرض کریں گے جن میں سے: کل وراثت میں سے بیٹیوں کا ٢ /٣ (دو تہائی) = ١٦ حصے، مرنے والے کی بیوی کا ١ /٨ (آٹھواں حصہ) = ٣ حصے اور باقی بھائی کا = ٥ حصے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَسَأَلَهُمَا عَنِ الِابْنَةِ، وَأُخْتٍ لأب، وأم، فقال: للابنة النصف، وللأخت من الأب والأم ما بقي، وقالا له: انطلق إلى عبد الله، فاسأله فإنه سيتابعنا، فأتى عبد الله فذكر ذلك له وأخبره بما وَابْنَةِ الِابْنِ قَالَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ، وَلَكِنْ أَقْضِي فِيهِمَا كَمَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، وَلِلْأُخْتِ مَا بَقِيَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو قَيْسٍ الْأَوْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ الْكُوفِيُّ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ.
ہزیل بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اور سلمان بن ربیعہ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے ان سے بیٹی، پوتی اور حقیقی بہن کی میراث کے بارے میں پوچھا، ان دونوں نے جواب دیا: بیٹی کو آدھی میراث اور حقیقی بہن کو باقی حصہ ملے گا، انہوں نے اس آدمی سے یہ بھی کہا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو، وہ بھی ہماری طرح جواب دیں گے، وہ آدمی عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آیا، ان سے مسئلہ بیان کیا اور ابوموسیٰ اور سلمان بن ربیعہ نے جو کہا تھا اسے بھی بتایا، عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: اگر میں بھی ویسا ہی جواب دوں تب تو میں گمراہ ہوگیا اور ہدایت یافتہ نہ رہا، میں اس سلسلے میں اسی طرح فیصلہ کروں گا جیسا رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا: بیٹی کو آدھا ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا تاکہ (بیٹیوں کا مکمل حصہ) دو تہائی پورا ہوجائے اور باقی حصہ بہن کو ملے گا ١ ؎۔
Huzayl ibn Shurahbil reported that a man came to Abu Musa and Suleiman ibn Rahi’ah and asked them about the inheritance of a daughter, son’s daughter and a sister from same parents. He said, “for the daughters is half and the rest for the sister from the same parents.’ Both of them then said to him, “Go to Abdullah and ask him. He will concur with us.” So he came to Abdullah and mentioned to him his case and what the two had said. Abdullah said, “In that way, I will have gone astray and I will not be among the guided. But, I will decide in this case as Allah’s Messenger had decided. For the daughter is half, for the son’s daughter is one-sixth, which adds up to two-thirds and for the sisters is the rest.” [Bukhari 6736] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2721)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2093
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - شعبہ نے بھی ابوقیس عبدالرحمٰن بن ثروان اودی کوفی سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کل ترکہ کے ( ١٢ ) حصے فرض کریں گے جن میں سے: مرنے والے کی بیٹی کے لیے کل ترکہ کا آدھا = ٦ حصے، پوتی کے لیے چھٹا حصہ = ٢ حصے اور مرنے والے کی بہن کے لیے باقی ترکہ = ٤ حصے۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو «من بعد وصية توصون بها أو دين» تم سے کی گئی وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد (میراث تقسیم کی جائے گی ١ ؎ ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وصیت سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا۔ (اگر حقیقی بھائی اور علاتی بھائی دونوں موجود ہوں تو) حقیقی بھائی وارث ہوں گے، علاتی بھائی (جن کے باپ ایک اور ماں دوسری ہو) وارث نہیں ہوں گے، آدمی اپنے حقیقی بھائی کو وارث بناتا ہے علاتی بھائی کو نہیں ۔
Sayyidina Ali (RA) said, you recite this verse: While Allah’s Messenger ﷺ had commanded that debts be discharged before inheritance. And that real brothers are heirs at the exclusion of half brothers. A man inherits his brothers from the same father and mother at the exclusion of his half brother from the same father. The verse of the Qur’an: After (paying) of a bequest you may have bequeathed, or a debt. (4: 12) [Ibn Majah 2715]
حسن، ابن ماجة (2715)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2094
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: آیت کے سیاق سے ایسا لگتا ہے کہ پہلے میت کی وصیت پوری کی جائے گی، پھر اس کا قرض ادا کیا جائے گا، لیکن رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق پہلے قرض ادا کیا جائے گا، پھر وصیت کا نفاذ ہوگا، یہی تمام علماء کا قول بھی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الوصایا ٧ (٢٧١٥)، و یأتي برقم ٢١٢٢ (تحفة الأشراف: ١٠٠٤٣)، و أحمد (١/٧٩، ١٣١، ١٤٤) (حسن) (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کا راوی ” حارث اعور “ ضعیف ہے، دیکھیے: الإرواء رقم: ١٦٦٧ )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا: حقیقی بھائی وارث ہوں گے نہ کہ علاتی بھائی ۔
Ibn Abu Umar (RA) reported from Sufyan, from Abu Ishaq, from Harith, from Sayyidina Ali (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said (a hadith of the same kind).
حسن انظر ما قبله (2094)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2095
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ہم اس حدیث کو صرف ابواسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ابواسحاق سبیعی روایت کرتے ہیں حارث سے اور حارث، علی ؓ سے، ٢ - بعض اہل علم نے حارث کے بارے میں کلام کیا ہے، ٣ - عام اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الوصایا ٧ (٢٧١٥) (زیادةً علی الحدیث المذکور) و في الفرائض ١٠ (٢٧٣٩) (حسن )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میری عیادت کی غرض سے تشریف لائے اس وقت میں بنی سلمہ کے محلے میں بیمار تھا، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں اپنا مال اپنی اولاد ١ ؎ کے درمیان کیسے تقسیم کروں؟ آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا: پھر یہ آیت نازل ہوئی: «يوصيكم اللہ في أولادکم للذکر مثل حظ الأنثيين» اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے (النساء: ١١ ) ۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ visited me while I was ill in the locality of Banu Salamah. I said, “O Prophet ﷺ of Allah, how shall I distribute my wealth among my children?” He did not reply to me in any way till this was revealed: Allah enjoins you concerning your children, for the male is the share equivalent of that of two females. (4:11) --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2096
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - شعبہ، سفیان بن عیینہ اور دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث محمد بن منکدر کے واسطہ سے جابر ؓ سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اگلی روایت جو صحیحین کی ہے اس میں اولاد کی بجائے بہنوں کا تذکرہ ہے، اور صحیح واقعہ بھی یہی ہے کہ جابر ؓ کی اس وقت تو اولاد تھی ہی نہیں، اس لیے یہ روایت صحیح ہونے کے باوجود شاذ کی قبیل سے ہوئی (دیکھئیے اگلی روایت)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف و أعادہ في تفسیر النساء (٣٠١٥) (تحفة الأشراف: ٣٠٦٦) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ ﷺ میری عیادت کرنے آئے، آپ نے مجھے بیہوش پایا، آپ کے ساتھ ابوبکر اور عمر ؓ بھی تھے، وہ پیدل چل کر آئے، آپ ﷺ نے وضو کیا اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی میرے اوپر ڈال دیا، میں ہوش میں آگیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اپنے مال کے بارے میں کیسے فیصلہ کروں؟ یا میں اپنے مال (کی تقسیم) کیسے کروں؟ (یہ راوی کا شک ہے) آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا - جابر ؓ کے پاس نو بہنیں تھیں - یہاں تک کہ آیت میراث نازل ہوئی: «يستفتونک قل اللہ يفتيكم في الکلالة» لوگ آپ سے (کلالہ ١ ؎ کے بارے میں) فتویٰ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے: اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے (النساء: ١٧٦ ) ۔ جابر ؓ کہتے ہیں: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Muhammad ibn Munkadir narrated, I heard from Jabir ibn Abdullah (RA) that he said when I fell sick, Allah’s Messenger ﷺ visited me and found me unconscious. He came to me and Abu Bakr (RA) was with him. They had come on foot. Allah’s Messenger ﷺ performed ablution and poured the water from his ablution. I regained consciousness and said to him, “O Messenger of Allah, how may I divide my property? “ Or, I said, what should I do with my property? He did not give me any reply.” The narrator said that Jabir had nine sisters. Then the verse of inheritance was revealed. Jabir said, ‘This was revealed concerning me.” The verse: They ask you for a pronouncement say Allah pronounces to you concerning (the inheritance of) a kalalah (who has no parents and no child (4:126) to the end of the verse. . [Bukhari 7309, Muslim 1616, Ibn Majah 2728, Abu Dawud 2886, Ahmed 14190] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2728)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2097
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «کلالہ» وہ میت ہے جس کی اولاد نہ ہو اور نہ ہی والد، صرف بھائی بہن وارث بن رہے ہوں۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی جانب سے متعین میراث کے حصوں کو حصہ داروں تک پہنچا دو، پھر اس کے بعد جو بچے وہ میت کے قریبی مرد رشتہ دار کا ہے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Stick to the Fara’id (inheritance) of those who have a right over them. Then what remains, it is for the nearest male (relative) of the deceased.’ [Bukhari 6737] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2740)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2098
Notes · وضاحت
١ ؎: «عصبہ» وہ رشتہ دار جو باپ کی جانب سے ہوں، شرعی اصطلاح میں «عصبہ» ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو میت کی میراث میں سے متعین حصہ کے بغیر وارث ہوں۔ یعنی: «ذوی الفروض» کو دینے کے بعد جو بچ جائے اس کے وہ وارث ہوتے ہیں، جیسے بیٹا، بیٹا نہ ہونے کی صورت میں کبھی باپ، کبھی پوتا، کبھی دادا، کبھی چچا اور بھتیجا وغیرہ۔
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: میرا پوتا مرگیا ہے، مجھے اس کی میراث میں سے کتنا حصہ ملے گا؟ آپ نے فرمایا: تمہیں چھٹا حصہ ملے گا، جب وہ مڑ کر جانے لگا تو آپ نے اسے بلا کر کہا: تمہیں ایک اور چھٹا حصہ ملے گا ، پھر جب وہ مڑ کر جانے لگا تو آپ نے اسے بلایا کر فرمایا: دوسرا چھٹا حصہ بطور خوراک ہے ۔
Sayyidina Imran ibn Husayn reported that a man came to the Prophet ﷺ and said, ‘My son has died. So, what is there for me in inheritance?” He said, “For you is one-sixth.: As he was departing, he called him (again) and said, “you have an additional one-sixth.’ Again, as he was going, he called him to him and said, “The additional one-sixth for was through asbah (not mafrudah). [Abu Dawud 2896] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ضعيف أبي داود (500) // (619 / 2896)، المشکاة (3060) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2099
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں معقل بن یسار ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الفرائض ٦ (٢٨٩٦) (تحفة الأشراف: ١٠٨٠١) (ضعیف) (سند میں قتادة اور حسن بصری دونوں مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز حسن بصری کے عمران بن حصین ؓ سے سماع میں بھی سخت اختلاف ہے )
قبیصہ بن ذویب ؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ کے پاس ایک دادی یا نانی نے آ کر کہا: میرا پوتا یا نواسہ مرگیا ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ اللہ کی کتاب (قرآن) میں میرے لیے متعین حصہ ہے۔ ابوبکر ؓ نے کہا: میں اللہ کی کتاب (قرآن) میں تمہارے لیے کوئی حصہ نہیں پاتا ہوں اور نہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے تمہارے لیے کسی حصہ کا فیصلہ کیا، البتہ میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھوں گا۔ ابوبکر ؓ نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ ؓ نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے چھٹا حصہ دیا، ابوبکر ؓ نے کہا: تمہارے ساتھ اس کو کس نے سنا ہے؟ مغیرہ ؓ نے کہا: محمد بن مسلمہ نے۔ چناچہ ابوبکر ؓ نے اسے چھٹا حصہ دے دیا، پھر عمر ؓ کے پاس اس کے علاوہ دوسری دادی آئی (اگر پہلے والی دادی تھی تو عمر کے پاس نانی آئی اور اگر پہلی والی نانی تھی تو عمر کے پاس دادی آئی) سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: زہری کے واسطہ سے روایت کرتے ہوئے معمر نے اس حدیث میں مجھ سے کچھ زیادہ باتیں بیان کی ہیں، لیکن زہری کے واسطہ سے مروی روایت مجھے یاد نہیں، البتہ مجھے معمر کی روایت یاد ہے کہ عمر ؓ نے کہا: اگر تم دونوں (دادی اور نانی) وارث ہو تو چھٹے حصے میں دونوں شریک ہوں گی، اور جو منفرد ہو تو چھٹا حصہ اسے ملے گا۔
Qabisah ibn Zuwayb reported that a grandmother paternal or maternal came to Sayyidina Abu Bakr (RA) She said, “My son’s son or daughter’s son has died. And I have been informed that a right for me is recorded in the Book.’ Abu Bakr (RA) said, “I do not find a right for you in the Book and I have not heard Allah’s Messenger give a verdict for you. But, I will ask people.” So, he asked the people and Mughirah ibn Shu’bah bore witness that Allah’s Messenger ﷺ gave her one-sixth. He asked, “Who else heard the hadith with you”? He said “Muhammad ibn Muslamah,’ So Abu Bakr (RA) gave her one-sixth. Then came the other grandmother who followed her to Sayyidina Umar (RA) Sufyan said that Ma mar added words from Zuhri but I did not preserve from Zuhri. I preserved them from Ma’mar that Umar said, “If you two associate together then it (the one-sixth) is for both of you. And, if either of you alone then it is for her.” [Abu Dawud 2894]
ضعيف، الإرواء (1680)، ضعيف أبي داود (497) // (617 / 2894)، ضعيف ابن ماجة (595 / 2724) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2100
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الفرائض ٥ (٢٨٩٤)، سنن ابن ماجہ/الفرائض ٤ (٢٧٢٤) (تحفة الأشراف: ١١٢٣٢) (ضعیف) (سند میں قبیصہ اور مغیرہ و ابوبکر صدیق ؓ وغیرہ کے درمیان انقطاع ہے، اور زہری کے تلامذہ کے درمیان اس حدیث کو زہری سے نقل کرنے میں اضطراب ہے، دیکھیے: ضعیف أبي داود رقم: ٤٩٧، والإروائ: ١٦٨٠ )
قبیصہ بن ذویب ؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ کے پاس ایک دادی یا نانی میراث سے اپنا حصہ پوچھنے آئی، ابوبکر ؓ نے اس سے کہا: تمہارے لیے اللہ کی کتاب (قرآن) میں کچھ نہیں ہے اور تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی سنت میں بھی کچھ نہیں ہے، تم لوٹ جاؤ یہاں تک کہ میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھ لوں، انہوں نے لوگوں سے اس بارے میں پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، آپ نے دادی یا نانی کو چھٹا حصہ دیا، ابوبکر ؓ نے کہا: تمہارے ساتھ کوئی اور بھی تھا؟ محمد بن مسلمہ انصاری ؓ کھڑے ہوئے اور اسی طرح کی بات کہی جیسی مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کہی تھی۔ چناچہ ابوبکر ؓ نے اس کے لیے حکم جاری کردیا، پھر عمر ؓ کے پاس دوسری دادی (اگر پہلی دادی تھی تو دوسری نانی تھی اور اگر پہلی نانی تھی تو دوسری دادی تھی) میراث سے اپنا حصہ پوچھنے آئی۔ انہوں نے کہا: تمہارے لیے اللہ کی کتاب (قرآن) میں کچھ نہیں ہے البتہ وہی چھٹا حصہ ہے، اگر تم دونوں (دادی اور نانی) اجتماعی طور پر وارث ہو تو چھٹا حصہ تم دونوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، اور تم میں سے جو منفرد اور اکیلی ہو تو وہ اسی کو ملے گا۔
Ansari reported from Man from Malik from ibn Shihab, from Uthman ibn Ishaq ibn Kharashah, from Qabisah ibn Zuwayb who narrated; a grandmother came to Abu Bakr (RA) and asked for her inheritance. He said to her, “There is nothing for you in the Book of Allah and nothing for you in the Sunnah of Allah’s Messenger. So, return to me while I enquire from the people”. Mughirah ibn Shu’bah (RA) said, ‘1 witnessed Allah’s Messenger ﷺ give her one-sixth”. He asked, “Is there anyone else with you?” So, Muhammad ibn Muslamah stood up and said like what Mughirah ibn Shu’bah (RA) had said. So, he implemented it for her. The narrator went on to report that the other grandmother came to Umar ibn Khattab (RA) and asked him for her inheritance. He said, “There is nothing in Allah’s Book for you except that one-sixth, so if you join together in it, it is between both of you. And if either of you singles herself for it then it is for her.”
ضعيف انظر ما قبله (2100)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2101
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور یہ (مالک کی) روایت سفیان بن عیینہ کی روایت کی بنسبت زیادہ صحیح ہے، ٣ - اس باب میں بریدہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ وہ (پوتے کے ترکہ میں) دادی اور اس کے بیٹے کے حصہ کے بارے میں کہتے ہیں: وہ پہلی دادی تھی جسے رسول اللہ ﷺ نے اس کے بیٹے کی موجودگی میں چھٹا حصہ دیا، اس وقت اس کا بیٹا زندہ تھا۔
Sayyidina ibn Mas’ud said about (the inheritance of) a grandmother while her son is alive, “She was the first grandmother whom Allah’s Messenger ﷺ gave one-sixth while her son was alive.”
ضعيف، الإرواء (1687)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2102
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ہم اسے صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ٢ - بعض صحابہ نے بیٹے کی موجودگی میں دادی کو وارث ٹھہرایا ہے اور بعض نے وارث نہیں ٹھہرایا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٥٦٥) (ضعیف) (سند میں ” محمد بن سالم “ ضعیف ہیں )
ابوامامہ بن سہل بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے ابوعبیدہ ؓ کو لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: اللہ اور اس کے رسول ولی (سرپرست) ہیں جس کا کوئی ولی (سرپرست) نہیں ہے اور ماموں اس آدمی کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں ہے ۔
Sayyidina Abu Umamah ibn Sahl reported that Sayyidina Umar ibn Khattab (RA) had him write a letter to Abu Ubaydah (RA) saying, Allah and His Messenger are friends of him who has no friends. And, the maternal uncle is the heir of him who has no heir of him. [Ahmed 189. Ibn Majah 1737]
صحيح، ابن ماجة (2737)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2103
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ام المؤمنین عائشہ اور مقدام بن معدیکرب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفرائض ٩ (٢٧٣٧) (تحفة الأشراف: ١٠٣٨٤) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ماموں اس آدمی کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں ہے ۔
Sayyidina Aisha (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The maternal uncle is the heir of one who has no heir." --------------------------------------------------------------------------------
صحيح انظر ما قبله (2103)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2104
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - بعض لوگوں نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں عائشہ ؓ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا، ٣ - اس مسئلہ میں صحابہ کرام کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے ماموں، خالہ اور پھوپھی کو وارث ٹھہرایا ہے۔ ذوی الارحام (قرابت داروں) کو وارث بنانے کے بارے میں اکثر اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، ٤ - لیکن زید بن ثابت ؓ نے بھی انہیں وارث نہیں ٹھہرایا ہے یہ میراث کو بیت المال میں رکھنے کے قائل ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا ایک آزاد کردہ غلام کھجور کی ٹہنی سے گرا اور مرگیا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دیکھو، کیا اس کا کوئی وارث ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: اس کا مال اس کے گاؤں کے کچھ لوگوں کو دے دو ۔
Sayyidina Aisha (RA) reported that a freedman of the Prophet ﷺ fell down from a date tree. The Prophet ﷺ asked, “Find out if he had an heir.” They said, “No, he had none.” He said, “So, give away his legacy to some people of his village.” [Abu Dawud 2902] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2733)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2105
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الفرائض ٨ (٢٩٠٢)، سنن ابن ماجہ/الفرائض ٧ (٢٧٣٣) (تحفة الأشراف: ١٦٣٨١)، و مسند احمد (٦/١٣٧، ١٨١ (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی مرگیا اور اپنے پیچھے کوئی وارث نہیں چھوڑا سوائے ایک غلام کے جس کو اس نے آزاد کیا تھا، نبی اکرم ﷺ نے اسی غلام کو اس کی میراث دے دی۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that a man died in the times of Allah’s Messenger ﷺ . He did not leave behind any heir except a slave whom he had set free. So, the Prophet ﷺ gave him the man’s inheritance. [Abu Dawud 2905] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ابن ماجة (2741) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (599)، الإرواء (1669) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2106
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں اہل علم کا عمل ہے کہ جب کوئی آدمی مرجائے اور اپنے پیچھے کوئی عصبہ نہ چھوڑے تو اس کا مال مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الفرائض ٨ (٢٩٠٥)، سنن ابن ماجہ/الفرائض ١١ (٢٧٤١) (تحفة الأشراف: ٦٣٢٦) (ضعیف) (سند میں عوسجہ مجہول راوی ہیں )
اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوگا اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہوگا ١ ؎۔
Sayyidina Usamah ibn Zayd (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, A Muslim does not inherit from a disbeliever neither does a disbeliever from a Muslim.” [Bukhari 6764, Muslim 1614] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2729)
صحيح، ابن ماجة (2729)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2107
اس سند سے بھی اسامہ ؓ سے ایسی ہی روایت ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2107
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - معمر اور کئی لوگوں نے زہری سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، مالک نے اسے «عن الزهري عن علي بن حسين عن عمر بن عثمان عن أسامة بن زيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، مالک کی روایت میں وہم ہے اور یہ وہم مالک سے سرزد ہوا ہے، بعض لوگوں نے اس حدیث کی مالک سے روایت کرتے ہوئے «عن عمرو بن عثمان» کہا ہے، جب کہ مالک کے اکثر شاگردوں نے «مالک عن عمر بن عثمان» کہا ہے، ٣ - اور عمرو بن عثمان بن عفان مشہور ہیں، عثمان کے لڑکوں میں سے ہیں اور عمر بن عثمان معروف آدمی نہیں ہیں، ٤ - اس باب میں جابر اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٥ - اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، ٦ - بعض اہل علم نے مرتد کی میراث کے بارے میں اختلاف کیا ہے، اکثر اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ اس کا مال اس کے مسلمان وارثوں کا ہوگا، ٧ - بعض لوگوں نے کہا ہے: اس کے مسلمان وارث اس کے مال کا وارث نہیں ہوں گے، ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ (کی اسی حدیث) «لا يرث المسلم الکافر» یعنی مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا ہے سے استدلال کیا ہے شافعی کا یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان کسی مرنے والے کافر رشتہ دار کا وارث نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کافر اپنے مسلمان رشتہ دار کا وارث ہوگا، جمہور علماء کی یہی رائے ہے۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دو مختلف مذہب کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir reported that the Prophet ﷺ said, “Followers of two religions do not inherit from one another.”
صحيح، ابن ماجة (2731 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2108
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ہم اس حدیث کو صرف ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ جابر ؓ سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دو مختلف ملت و مذہب سے مراد بعض لوگوں نے کفر و اسلام کو لیا ہے، اور بعض نے اسے عام رکھا ہے، ایسی صورت میں عیسائی یہودی کا اور یہودی عیسائی کا وارث نہیں ہوگا، پہلا ہی قول راجح ہے کیونکہ کفر کی ساری ملتیں «ملة واحدة» ایک ہی ملت ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٢٩٣٨) (صحیح) (سند میں محمد بن أبی لیلیٰ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قاتل (مقتول کا) وارث نہیں ہوگا ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The murderer does not inherit.” [Muslim 2735]
صحيح، ابن ماجة (2735)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2109
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح نہیں ہے، یہ صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے، ٢ - اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ (کی روایت) کو بعض محدثین نے ترک کردیا ہے، احمد بن حنبل انہیں لوگوں میں سے ہیں، ٣ - اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ قاتل وارث نہیں ہوگا، خواہ قتل قتل عمد ہو یا قتل خطا، ٤ - بعض اہل علم کہتے ہیں: جب قتل قتل خطا ہو تو وہ وارث ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ١٤ (٢٦٤٥)، والفرائض ٨ (٢٧٣٥) (تحفة الأشراف: ١٢٢٨٦) (صحیح) (سند میں اسحاق بن ابی فروہ ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث عمر، عبداللہ بن عمرو بن العاص، اور ابن عباس کے شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے، الإرواء: ١٦٧٠، ١٦٧١، ١٦٧٢ )