عمر ؓ کہتے ہیں کہ دیت عاقلہ ١ ؎ پر واجب ہے، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت میں سے کسی چیز کا وارث نہیں ہوگی، (یہ سن کر) ضحاک بن سفیان کلابی ؓ نے عمر ؓ کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو لکھا: اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دو ۔
Sa’eed ibn Musayyab reported that Sayyidina Umar ibn Khattab said, “Blood money is payable by the aaqilah (male relatives from one father who pay blood money). A woman does not inherit from the blood money of her husband, nothing at all.” But Dhahak ibn Sufyan Kalabi informed him that Allah’s Messenger ﷺ had written to him, “Give the wife of Ashyam Dababi her share from the blood money of her husband.” [Abu Dawud 2927] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2642)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2110
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی لحیان کی ایک عورت کے بارے میں جس کا حمل ساقط ہو کر بچہ مرگیا تھا ایک «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا، (حمل گرانے والی مجرمہ ایک عورت تھی) پھر جس عورت کے بارے میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ وہ (بطور دیت) غرہ (غلام) دے، مرگئی، تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور شوہر میں تقسیم ہوگی، اور اس پر عائد ہونے والی دیت اس کے عصبہ کے ذمہ ہوگی ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ gave judgment that compensation should be paid---a male or a female slave---when a woman of Banu Lihyan had miscarriage, and she bore a still-born child. Then the woman against whom he had given this judgment also died. So, Allah’s Messenger ruled that her legacy should go to her sons and her husband while blood money should be paid by her relatives on her father’s side (asbah). [Bukhari 6909] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الإرواء (2205)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2111
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یونس نے یہ حدیث «عن الزهري عن سعيد بن المسيب وأبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی روایت کی ہے، ٢ - مالک نے یہ حدیث «عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة» کی سند سے روایت کی ہے، اور مالک نے «عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے جو حدیث روایت کی ہے وہ مرسل ہے۔
تمیم داری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: اس مشرک کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے جو کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ (مسلمان) اس (نو مسلم) کی زندگی اور موت کا میں تمام لوگوں سے زیادہ حقدار ہے۔
Sayyidina Tamim Dan reported that he asked Allah’s Messenger ﷺ what the Sunnah is for a man of the polytheists who embraces Islam at the hands of a man among the Muslims.” He said, “He has the greatest right of all people to his life and death. [Abu Dawud 2918] --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، ابن ماجة (2752)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2112
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ہم اس حدیث کو صرف عبداللہ بن وہب کی روایت سے جانتے ہیں، ان کو ابن موہب بھی کہا جاتا ہے، یہ تمیم داری سے روایت کرتے ہیں۔ بعض لوگوں نے عبداللہ بن وہب اور تمیم داری کے درمیان قبیصہ بن ذویب کو داخل کیا ہے جو صحیح نہیں، یحییٰ بن حمزہ نے عبدالعزیز بن عمر سے یہ حدیث روایت کی ہے اور اس کی سند میں قبیصہ بن ذویب کا اضافہ کیا ہے، ٢ - بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے، ٣ - بعض لوگوں نے کہا ہے: اس کی میراث بیت المال میں رکھی جائے گی، شافعی کا یہی قول ہے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی (اس) حدیث سے استدلال کیا ہے «أن الولاء لمن أعتق» حق ولاء (میراث) اس شخص کو حاصل ہے جو آزاد کرے ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفرائض ٢٢ (تعلیقات في ترجمة الباب) سنن ابی داود/ الفرائض ١٣ (٢٩١٨)، سنن ابن ماجہ/الفرائض ١٨ (٢٧٥٢) (تحفة الأشراف: ٢٠٥٢)، و مسند احمد (٤/١٠٢، ١٠٣)، وسنن الدارمی/الفرائض ٣٤ (٢٠٧٦) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی آزاد عورت یا کسی لونڈی کے ساتھ زنا کرے تو (اس سے پیدا ہونے والا) لڑکا ولد الزنا ہوگا، نہ وہ (اس زانی کا) وارث ہوگا۔ نہ زانی (اس کا) وارث ہوگا ۔
Amr ibn Shu’ayb reported from his father who from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ said, “if a man commits adultery with a free woman or a female slave then their child will be Walad-uz-Zina (child of adultery) and he will neither be an heir nor have an heir.’
١ - ابن لہیعہ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے، ٢ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ولد الزنا اپنے باپ کا وارث نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٧٣١) (حسن صحیح) (سند میں عبداللہ بن لھیعہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن صحیح ہے )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ولاء کا وارث وہی ہوگا جو مال کا وارث ہوگا ۔
Amr ibn Shu’ayb reported from his father who from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ said, “He inherits the wala who inherits property.” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، المشکاة (3066 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6426) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2114
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٧٣٢) (ضعیف) (سند میں ابن لھیعة ضعیف ہیں، اور کوئی شاہد نہیں )
واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت تین قسم کی میراث اکٹھا کرتی ہے: اپنے آزاد کیے ہوئے غلام کی میراث، اس لڑکے کی میراث جسے راستے سے اٹھا کر اس کی پرورش کی ہو، اور اس لڑکے کی میراث جس کو لعان کر کے اپنے ساتھ لے گئی ہو ۔
Sayyidina Wathilah ibn Asqa (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, A woman can own legacy from three sources: the legacy of the slave she sets free, the child she fondles (and rears up), and her own child about whom she cursed herself (in li’an with her husband that he was a legitimate child.’ [Abu Dawud 2906]
ضعيف، ابن ماجة (2742) // ضعيف سنن ابن ماجة (600)، ضعيف أبي داود (623 / 3906)، إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل (1576)، ضعيف الجامع الصغير وزيادته الفتح الکبير (5925)، المشکاة (3053) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2115
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یہ حدیث اس سند سے صرف محمد بن حرب کی روایت سے معروف ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الفرائض ٩ (٢٩٠٦)، سنن ابن ماجہ/الفرائض ١٢ (٢٧٤٢) (تحفة الأشراف: ١١٧٤٤) (ضعیف) (سند میں ” عمر بن رؤبہ “ ضعیف ہںْ )