دیت کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 16 · 41 hadiths · Page 1 of 2

1386Sunan At-Tirmidhi

دیت میں کتنے اونٹ دئے جائیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وعَنْ خَشْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرِينَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرِينَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورًا، وَعِشْرِينَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَعِشْرِينَ جَذَعَةً، وَعِشْرِينَ حِقَّةً . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا، إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْقُوفًا، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّ الدِّيَةَ تُؤْخَذُ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ، فِي كُلِّ سَنَةٍ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَرَأَوْا أَنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ عَلَى الْعَاقِلَةِ، وَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنَّ الْعَاقِلَةَ قَرَابَةُ الرَّجُلِ مِنْ قِبَلِ أَبِيهِ، وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا الدِّيَةُ عَلَى الرِّجَالِ دُونَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ مِنَ الْعَصَبَةِ، يُحَمَّلُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ رُبُعَ دِينَارٍ، وَقَدْ قَالَ بَعْضُهُمْ: إِلَى نِصْفِ دِينَارٍ، فَإِنْ تَمَّتِ الدِّيَةُ، وَإِلَّا نُظِرَ إِلَى أَقْرَبِ الْقَبَائِلِ مِنْهُمْ فَأُلْزِمُوا ذَلِكَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا: قتل خطا ١ ؎ کی دیت ٢ ؎ بیس بنت مخاض ٣ ؎، بیس ابن مخاض، بیس بنت لبون ٤ ؎، بیس جذعہ ٥ ؎ اور بیس حقہ ٦ ؎ ہے ۔ ہم کو ابوہشام رفاعی نے ابن ابی زائدہ اور ابوخالد احمر سے اور انہوں نے حجاج بن ارطاۃ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔

Khashf ibn Maalik(RA) reported that he heard Sayyidina Ibn Mas’ud(RA) say that in a case of killing by mistake. Allah’s Messenger ( had passed judgement that blood-money should be paid thus: twenty she-camells and twenty he-camels in their second year, twenty she-camels in their third year, twenty she-camels in their fifth year and twenty she-camels in their fourth year. [Abu Dawud 4545, Nisai 4816, Ibn e Majah 2531]

ضعيف، ابن ماجة (2631)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1386
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن مسعود ؓ کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں اور عبداللہ بن مسعود سے یہ حدیث موقوف طریقہ سے بھی آئی ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ٤ - اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دیت تین سال میں لی جائے گی، ہر سال دیت کا تہائی حصہ لیا جائے گا، ٥ - اور ان کا خیال ہے کہ دیت خطا عصبہ پر ہے، ٦ - بعض لوگوں کے نزدیک عصبہ وہ ہیں جو باپ کی جانب سے آدمی کے قرابت دار ہوں، مالک اور شافعی کا یہی قول ہے، ٧ - بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ عصبہ میں سے جو مرد ہیں انہی پر دیت ہے، عورتوں اور بچوں پر نہیں، ان میں سے ہر آدمی کو چوتھائی دینار کا مکلف بنایا جائے گا، ٨ - کچھ لوگ کہتے ہیں: آدھے دینار کا مکلف بنایا جائے گا، ٩ - اگر دیت مکمل ہوجائے گی تو ٹھیک ہے ورنہ سب سے قریبی قبیلہ کو دیکھا جائے گا اور ان کو اس کا مکلف بنایا جائے گا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قتل کی تین قسمیں ہیں: ١ - قتل عمد: یعنی جان بوجھ کر ایسے ہتھیار کا استعمال کرنا جن سے عام طور سے قتل واقع ہوتا ہے، اس میں قاتل سے قصاص لیا جاتا ہے، ٢ - قتل خطا،: یعنی غلطی سے قتل کا ہوجانا، اوپر کی حدیث میں اسی قتل کی دیت بیان ہوئی ہے۔ ٣ - قتل شبہ عمد: یہ وہ قتل ہے جس میں ایسی چیزوں کا استعمال ہوتا ہے جن سے عام طور سے قتل واقع نہیں ہوتا جیسے لاٹھی اور کوڑا وغیرہ، اس میں دیت مغلظہ لی جاتی ہے اور یہ سو اونٹ ہے ان میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔ ٢ ؎: کسی نفس کے قتل یا جسم کے کسی عضو کے ضائع کرنے کے بدلے میں جو مال دیا جاتا ہے اسے دیت کہتے ہیں۔ ٣ ؎: وہ اونٹنی جو ایک سال کی ہوچکی ہو ٤ ؎، وہ اونٹنی جو دو سال کی ہوچکی ہو۔ ٥ ؎؎ وہ اونٹ جو چار سال کی ہوچکا ہو ٦ ؎؎، وہ اونٹ جو تین سال کا ہوچکا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الدیات ١٨ (٤٥٤٥)، سنن النسائی/القسامة ٣٤ (٤٨٠٦)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٣١)، (تحفة الأشراف: ١٩٨)، و مسند احمد (١/٤٥٠) (ضعیف) (سند میں حجاج بن ارطاة مدلس اور کثیر الوہم ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز خشف بن مالک کی ثقاہت میں بھی بہت کلام ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم: ٤٠٢٠ )
1387Sunan At-Tirmidhi

دیت میں کتنے اونٹ دئے جائیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ وَهُوَ ابْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَقْتُولِ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا، وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ، وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً، وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً، وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ، وَذَلِكَ لِتَشْدِيدِ الْعَقْلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا، اگر وہ چاہیں تو اسے قتل کردیں اور چاہیں تو اس سے دیت لیں، دیت کی مقدار تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس خلفہ ١ ؎ ہے اور جس چیز پر وارث مصالحت کرلیں وہ ان کے لیے ہے اور یہ دیت کے سلسلہ میں سختی کی وجہ سے ہے۔

Amr ibn Shu’ayb (RA) reported from his father on the authority of his grandfather that the Prophet ﷺ said, “If anyone slays a Believer wilfully then he should be handed over to the heirs of the slain. If they wish, they may kill him or if they wish, take bloodmoney from him. Bloodmoney is thirty she-camels in their fourth year, thirty she-camels in their fifth year and forty pregnant camels and that which the heirs have decided. This (diyat) is severe for the aaqilah. [Abu Dawud 4506. Ibn e Majah 2626, Ahmed 6729]

حسن، ابن ماجة (2626)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1387
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حاملہ اونٹنی اس کی جمع خلفات و خلائف آتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الدیات ٤ (٤٥٠٦)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢١ (٢٦٥٩)، (تحفة الأشراف: ٨٧٠٨) (حسن )
1395Sunan At-Tirmidhi(1388)

دیت کتنے دراہم سے ادا کی جائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا .

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دیت بارہ ہزار درہم مقرر کی۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ fixed diyat at twelve thousand dirhams. [Abu Dawud 4546, Nisai 4817, Ibn e Majah 2629]

ضعيف، ابن ماجة (2629)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1388
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الدیات ١٨ (٤٥٤٦)، سنن النسائی/القسامة ٣٥ (٤٨٠٧، ٤٨٠٨)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٢٩)، (تحفة الأشراف: ٦١٦٥) وسنن الدارمی/الدیات ١١ (ضعیف) (اس روایت کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے، جیسا کہ امام ابوداود اور مولف نے صراحت کی ہے، اس کو ” عمروبن دینار “ سے سفیان بن عینیہ نے جو کہ محمد بن مسلم طائفی کے بالمقابل زیادہ ثقہ ہیں) نے بھی روایت کیا ہے لیکن انہوں نے ابن عباس ؓ کا تذکرہ نہیں کیا ہے دیکھئے: الإرواء رقم ٢٢٤٥ )
1389Sunan At-Tirmidhi

دیت کتنے دراہم سے ادا کی جائے

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا يَذْكُرُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الدِّيَةَ عَشْرَةَ آلَافٍ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا أَعْرِفُ الدِّيَةَ إِلَّا مِنَ الْإِبِلِ، وَهِيَ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ أَوْ قِيمَتُهَا.

ہم سے سعید بن عبدالرحمٰن المخزومی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار کے واسطے سے بیان کیا، عمرو بن دینار نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اس روایت میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا، ابن عیینہ کی روایت میں محمد بن مسلم طائفی کی روایت کی بنسبت کچھ زیادہ باتیں ہیں۔

A hadith like Hadith No. 1393 is reported by Sa’eed ibn Abdur Rahman Makhzumi from Sufyan ibn lJyaynah, from Amr ibn Dinar, from Ikramah, from Allah’s Messenger ﷺ but it does not mention Sayyidina Ibn Abbas (RA) . [Abu Dawud 4546]

ضعيف، ابن ماجة (2629)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1389
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ہمارے علم میں محمد بن مسلم کے علاوہ کسی نے اس حدیث میں ابن عباس کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ٢ - بعض اہل علم کے نزدیک اسی حدیث پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ٣ - اور بعض اہل اعلم کے نزدیک دیت دس ہزار (درہم) ہے، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے، ٤ - امام شافعی کہتے ہیں: ہم اصل دیت صرف اونٹ کو سمجھتے ہیں اور وہ سو اونٹ یا اس کی قیمت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ١٩١٢٠) (ضعیف) (یہ مرسل روایت ہے )
1390Sunan At-Tirmidhi

ایسے زخم کی دیت جن میں ہڈی ظاہر ہوجائے

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فِي الْمَوَاضِحِ، خَمْسٌ خَمْسٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، أَنَّ فِي الْمُوضِحَةِ خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «موضحہ» (ہڈی کھل جانے والے زخم) ١ ؎ میں پانچ اونٹ ہیں ۔

Amr ibn Shuayb reported from his father on the authority of his grandfather that the Prophet ﷺ said, The diyat for a wound that lays bare a bone is five camels, five camels. [Abu Dawud 4566]

حسن صحيح، ابن ماجة (2655)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1390
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اور اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول یہی ہے کہ «موضحہ» (ہڈی کھل جانے والے زخم) میں پانچ اونٹ ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «موضحہ» وہ زخم ہے جس سے ہڈی کھل جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الدیات ٢٠ (٤٥٦٢)، سنن النسائی/القسامة ٤٤ (٤٨٥٤)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٨ (٢٦٥٣) (تحفة الأشراف: ٨٦٨٠)، و مسند احمد (٢/٢٠٧) (حسن صحیح )
1391Sunan At-Tirmidhi

انگلیوں کی دیت

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي دِيَةِ الْأَصَابِعِ، الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ سَوَاءٌ، عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ لِكُلِّ أُصْبُعٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي مُوسَى، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انگلیوں کی دیت کے بارے میں فرمایا: دونوں ہاتھ اور دونوں پیر برابر ہیں، (دیت میں) ہر انگلی کے بدلے دس اونٹ ہیں ۔

Sayidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The diyat of the fingers and toes is equal. It is ten camels for every finger (or toe).” [Abu Dawud 4561]

صحيح، الإرواء (2271)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1391
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس سند سے ابن عباس کی حدیث حسن صحیح اور غریب ہے، ٢ - اہل علم کا عمل اسی پر ہے، سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الدیات ٢٠ (٤٥٦١)، (تحفة الأشراف: ٦٢٤٩) (صحیح )
1392Sunan At-Tirmidhi

انگلیوں کی دیت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ ، يَعْنِي: الْخِنْصَرَ، وَالْإِبْهَامَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دیت میں یہ اور یہ برابر ہیں، یعنی چھنگلیا انگوٹھا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “This and this are equal, meaning the little finger and the thumb.” [Bukhari 6895]

صحيح، ابن ماجة (2652)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1392
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دونوں کی دیت دس دس اونٹ ہے، اگرچہ انگوٹھا چھنگلی سے جوڑ میں کم ہے، اس طرح انگلی کے پوروں میں کوئی پور کاٹ دیا جائے تو اس کی دیت پوری انگلی کی دیت کی ایک تہائی ہوگی، انگوٹھے کا ایک پور کاٹ دی جائے تو اس کی دیت انگوٹھے کی آدھی دیت ہوگی کیونکہ انگوٹھے میں دو ہی پور ہوتی ہے برخلاف باقی انگلیوں کے ان میں تین پور ہوتی ہیں ہاتھ اور پیر کی انگلی دونوں کا حکم ایک ہے ان میں فرق نہیں کیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدیات ٢٠ (٦٨٩٥)، سنن ابی داود/ الدیات ٢٠ (٤٥٥٨)، سنن النسائی/القسامة ٤٤ (٤٨٥٢)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٨ (٢٦٥٢)، (تحفة الأشراف: ٦١٨٧)، و مسند احمد (١/٣٣٩)، و سنن الدارمی/الدیات ١٥ (٢٤١٥) (صحیح )
1393Sunan At-Tirmidhi

دیت معاف کردینا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، حَدَّثَنَا أَبُو السَّفَرِ، قَالَ: دَقَّ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ سِنَّ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ هَذَا دَقَّ سِنِّي، قَالَ مُعَاوِيَةُ: إِنَّا سَنُرْضِيكَ، وَأَلَحَّ الْآخَرُ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَبْرَمَهُ، فَلَمْ يُرْضِهِ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: شَأْنَكَ بِصَاحِبِكَ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ جَالِسٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ، فَيَتَصَدَّقُ بِهِ، إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهِ خَطِيئَةً ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، قَالَ: فَإِنِّي أَذَرُهَا لَهُ، قَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا جَرَمَ لَا أُخَيِّبُكَ، فَأَمَرَ لَهُ بِمَالٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَلَا أَعْرِفُ لِأَبِي السَّفَرِ سَمَاعًا مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَأَبُو السَّفَرِ اسْمُهُ: سَعِيدُ بْنُ أَحْمَدَ، وَيُقَالُ: ابْنُ يُحْمِدَ الثَّوْرِيُّ.

ابوسفر سعید بن احمد کہتے ہیں کہ ایک قریشی نے ایک انصاری کا دانت توڑ دیا، انصاری نے معاویہ ؓ سے فریاد کی، اور ان سے کہا: امیر المؤمنین! اس (قریشی) نے میرا دانت توڑ دیا ہے، معاویہ ؓ نے کہا: ہم تمہیں ضرور راضی کریں گے، دوسرے (یعنی قریشی) نے معاویہ ؓ سے بڑا اصرار کیا اور (یہاں تک منت سماجت کی کہ) انہیں تنگ کردیا، معاویہ اس سے مطمئن نہ ہوئے، چناچہ معاویہ نے اس سے کہا: تمہارا معاملہ تمہارے ساتھی کے ہاتھ میں ہے، ابو الدرداء ؓ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ابو الدرداء ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا ہے، میرے کانوں نے اسے سنا ہے اور دل نے اسے محفوظ رکھا ہے، آپ فرما رہے تھے: جس آدمی کے بھی جسم میں زخم لگے اور وہ اسے صدقہ کر دے (یعنی معاف کر دے) تو اللہ تعالیٰ اسے ایک درجہ بلندی عطا کرتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے، انصاری نے کہا: رسول اللہ ﷺ سے آپ نے سنا ہے؟ ابو الدرداء نے کہا: میرے دونوں کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے، اس نے کہا: تو میں اس کی دیت معاف کردیتا ہوں، معاویہ ؓ نے کہا: لیکن میں تمہیں محروم نہیں کروں گا، چناچہ انہوں نے اسے کچھ مال دینے کا حکم دیا۔

Abu Safar narrated : A man of Quraysh broke a tooth of an Ansari. He complaind to Sayyidina Mu’awiyah (RA) saying, “O Amir ul-Mu’mineen, he has broken my tooth.” Muawiyah (RA) said, “We will soon make you pleased.” The other man pleaded with him till he agreed and said to him, “That is between you and your companion.” Sayyidina Abu Darda (RA) was sitting there. He said, “I had heard Allah’s Messenger ﷺ say, “If anyone suffers a bodily injury and forgives it, Allah will raise him a degree and remove a sin from him”. The Ansar asked, “Did you hear that from Allah’s Messenger ﷺ . He said, “Yes my two ears heard it and my heart retained it.” He said, “Then I pardon him for that.” Muawiyah (RA) said, “There’s no wrong now, but I will not deprive you.” So, he commanded some wealth to be given to him. [Ibn e Majah 2693, Ahmed 6899]

ضعيف، ابن ماجة (2693) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (586)، ضعيف الجامع الصغير (5175) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1393
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہمیں یہ صرف اسی سند سے معلوم ہے، مجھے نہیں معلوم کہ ابوسفر نے ابو الدرداء سے سنا ہے، ٢ - ابوسفر کا نام سعید بن احمد ہے، انہیں ابن یحمد ثوری بھی کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ٣٥ (٢٦٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٧١)، و مسند احمد (٦/٤٤٨) (ضعیف) (ابوالسفر کا سماع ابو الدرداء ؓ سے نہیں ہے، اس لیے سند میں انقطاع ہے )
1394Sunan At-Tirmidhi

جس کا سر پتھر سے کچل دیا گیا ہو

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ، فَأَخَذَهَا يَهُودِيٌّ فَرَضَخَ رَأْسَهَا بِحَجَرٍ، وَأَخَذَ مَا عَلَيْهَا مِنَ الْحُلِيِّ، قَالَ: فَأُدْرِكَتْ وَبِهَا رَمَقٌ، فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ قَتَلَكِ، أَفُلَانٌ ؟ قَالَتْ بِرَأْسِهَا: لَا، قَالَ: فَفُلَانٌ، حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ ، فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا: أَيْ نَعَمْ، قَالَ: فَأُخِذَ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا قَوَدَ إِلَّا بِالسَّيْفِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک لڑکی زیور پہنے ہوئے کہیں جانے کے لیے نکلی، ایک یہودی نے اسے پکڑ کر پتھر سے اس کا سر کچل دیا اور اس کے پاس جو زیور تھے وہ اس سے چھین لیا، پھر وہ لڑکی ایسی حالت میں پائی گئی کہ اس میں کچھ جان باقی تھی، چناچہ اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے اس سے پوچھا: تمہیں کس نے مارا ہے، فلاں نے؟ اس نے سر سے اشارہ کیا: نہیں، آپ نے پوچھا: فلاں نے؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا (جس نے اس کا سر کچلا تھا) تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا یعنی ہاں! تو یہودی پکڑا گیا، اور اس نے اعتراف جرم کرلیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا، اور اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔

Sayyidina Anas (RA) reported that a girl went out (of her house). She had silver jewellery on her. A Jew caught hold of her and smashed her head (with a stone) and took away whatever she had of jewellery. She had some life in her and was taken to the Prophet ﷺ who asked her, “Who has killed you?” Was it so-and-so?” She gestured with her head, “No!”. He asked, “So-and-so?” till when he named the Jew, she gestured, “Yes!” with her nod. Thus, he was arrested and he confessed (to his crime). The Prophet ﷺ commanded that his head should be crushed between two stones. [Bukhari 2413, Muslim 1672]

صحيح، ابن ماجة (2665 - 2666)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1394
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں: قصاص صرف تلوار سے لیا جائے گا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اہل کوفہ کا مذہب ہے جن میں امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب شامل ہیں ان کی دلیل نعمان بن بشیر کی روایت ہے جو ابن ماجہ میں «لا قود إلا بالسيف» کے الفاظ کے ساتھ وارد ہے، لیکن یہ روایت اپنے تمام طرق کے ساتھ ضعیف ہے بلکہ بقول ابوحاتم: منکر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ٥ (٢٧٤٦)، والطلاق ٢٤ (تعلیقاً ) والدیات ٤ (٦٨٧٦)، و ٥ (٦٨٧٧)، و ١٢ (٦٨٨٤)، صحیح مسلم/القسامة ٣ (١٦٧٢)، سنن ابی داود/ الدیات ١٠ (٤٥٢٧)، سنن النسائی/المحاربة ٩ (٤٠٥٥)، والقسامة ١٣ (٤٧٤٥)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٤ (٢٦٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٩١)، و مسند احمد (٣/١٦٣، ١٨٣، ٢٠٣، ٢٦٧)، سنن الدارمی/الدیات ٤ (٢٤٠٠) (صحیح )
1395Sunan At-Tirmidhi

مومن کے قتل پر عذاب کی شدت

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ

عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دنیا کی بربادی اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل ہونے سے کہیں زیادہ کمتر و آسان ہے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr reported that the Prophet ﷺ said, “The end of the world is lesser evil in the sight of Allah than murder of a Muslim man.” [Nisai 3998]

1396Sunan At-Tirmidhi

خون کے فیصلے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحْكَمُ بَيْنَ الْعِبَادِ فِي الدِّمَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ مَرْفُوعًا، وَرَوَى بَعْضُهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (آخرت میں) بندوں کے درمیان سب سے پہلے خون کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, The first thing about which judgement will be given (on the Day of Resurrection) between people will be shedding of blood.” [86533, Muslim 1678]

صحيح، ابن ماجة (2615)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1396
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عبداللہ کی حدیث حسن صحیح ہے، اسی طرح کئی لوگوں نے اعمش سے مرفوعاً روایت کی ہے، ٢ - اور بعض نے اعمش سے روایت کی ہے ان لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کہا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث «أول ما يحاسب به العبد صلاته» کے منافی نہیں ہے، کیونکہ خون کے فیصلہ کا تعلق لوگوں کے آپسی حقوق سے ہے جب کہ صلاۃ والی حدیث کا تعلق خالق کائنات کے حقوق سے ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگوں کے حقوق میں سے سب سے بڑی اور اہم چیز جس کے بارے میں سوال ہوگا وہ خون ہے، اسی طرح حقوق اللہ میں سے سب سے بڑی چیز جس کے بارے میں سب سے پہلے سوال ہوگا وہ صلاۃ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٤٨ (٦٥٣٣)، والدیات ١ (٦٨٦٤)، صحیح مسلم/القسامة ٨ (١٦٧٨)، سنن النسائی/المحاربة ٢ (٣٩٩٧)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١ (٢٦١٧)، (تحفة الأشراف: ٩٢٤٦)، و مسند احمد (١/٣٨٨، ٤٤١، ٤٤٢) (صحیح )
1397Sunan At-Tirmidhi

خون کے فیصلے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ فِي الدِّمَاءِ .

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (آخرت میں) بندوں کے درمیان سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا ۔

Abu Kurayb reported from Waki, from A’mash, from Abu Wa’il that Sayyidina Abdullah reported Allah’s Messenger ﷺ as saying (the foregoing words). The Arabic words differ slightly in the first is used and in the next (two) with almost the same connotation.

صحيح انظر ما قبله (1396)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1397
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1398Sunan At-Tirmidhi

خون کے فیصلے

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحَكَمِ الْبَجَلِيُّ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، يَذْكُرَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ، وَأَهْلَ الْأَرْضِ، اشْتَرَكُوا فِي دَمِ مُؤْمِنٍ، لَأَكَبَّهُمُ اللَّهُ فِي النَّارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

ابو سعید خدری اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر آسمان اور زمین والے (سارے کے سارے) ایک مومن کے خون میں ملوث ہوجائیں تو اللہ ان (سب) کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا ۔

Yazid Raqashi reported that Abul Hakam Bajali said that he heard Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) and Abu Hurayrah (RA) recall that Allah’s Messenger ﷺ said, “If the inhabitants of the heaven and the earthlings join together in killing a Believer, Allah would Cast them in the Fire.”

صحيح، الروض النضير (925)، التعليق الرغيب (3 / 202)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1398
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٤١١ و ١٤٨٤٦) (صحیح )
1399Sunan At-Tirmidhi

اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو قتل کردے تو قصاص لیا جائے یا نہیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشَمٍ، قَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيدُ الْأَبَ مِنَ ابْنِهِ، وَلَا يُقِيدُ الِابْنَ مِنْ أَبِيهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُرَاقَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِصَحِيحٍ، رَوَاهُ إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، مُرْسَلًا، وَهَذَا حَدِيثٌ فِيهِ اضْطِرَابٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ الْأَبَ إِذَا قَتَلَ ابْنَهُ لَا يُقْتَلُ بِهِ، وَإِذَا قَذَفَ ابْنَهُ لَا يُحَدُّ.

سراقہ بن مالک بن جعشم ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، (تو دیکھا) کہ آپ باپ کو بیٹے سے قصاص دلواتے تھے اور بیٹے کو باپ سے قصاص نہیں دلواتے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Suraqah ibn Maalik (RA) reported that he was present when Allah’s Messenger ﷺ made a son pay retaliation for killing his father, but he did not ask a father to pay retaliation for the murder of his son.

ضعيف، الإرواء (7 / 272) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (2214) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1399
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - سراقہ ؓ کی اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اس کی سند صحیح نہیں ہے، اسے اسماعیل بن عیاش نے مثنیٰ بن صباح سے روایت کی ہے اور مثنیٰ بن صباح حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں، ٢ - اس حدیث کو ابوخالد احمر نے بطریق: «عن الحجاج بن أرطاة عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، ٤ - یہ حدیث عمرو بن شعیب سے مرسلاً بھی مروی ہے، اس حدیث میں اضطراب ہے، ٤ - اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ باپ جب اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو بدلے میں (قصاصاً ) اسے قتل نہیں کیا جائے گا اور جب باپ اپنے بیٹے پر (زنا کی) تہمت لگائے تو اس پر حد قذف نافذ نہیں ہوگی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء کہتے ہیں کہ باپ اور بیٹے کے مابین تفریق کا سبب یہ ہے کہ باپ کے دل میں اولاد کی محبت کسی دنیوی منفعت کی لالچ کے بغیر ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ باپ کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اولاد باقی زندہ اور خوش رہے، جب کہ اولاد کے دل میں پائی جانے والی محبت کا تعلق «الاما شاء اللہ» صرف دنیاوی منفعت سے ہے (یہ حدیث گرچہ سنداً ضعیف ہے مگر دیگر طرق سے مسئلہ ثابت ہے)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٨١٨) (ضعیف) (سند میں ” المثنی بن صباح “ ضعیف ہیں، اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے، نیز حدیث میں بہت اضطراب ہے )
1400Sunan At-Tirmidhi

اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو قتل کردے تو قصاص لیا جائے یا نہیں

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يُقَادُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ .

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا ١ ؎۔

Sayyidina Umar ibn Khattab (RA), said that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, ‘A father will not be killed for slaying his son.” [Ibn e Majah 2662, Ahmed 346]

صحيح، ابن ماجة (2662)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1400
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ بیٹے کے وجود کا سبب ہے، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ بیٹا باپ کے خاتمے کا سبب بنے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٢ (٢٦٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٨٢)، و مسند احمد (١/١٦، ٢٣) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ ” حجاج بن ارطاة متکلم فیہ راوی ہیں )
1401Sunan At-Tirmidhi

اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو قتل کردے تو قصاص لیا جائے یا نہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَلَا يُقْتَلُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَرْفُوعًا، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مسجدوں میں حدود نہیں قائم کی جائیں گی اور بیٹے کے بدلے باپ کو (قصاص میں) قتل نہیں کیا جائے گا ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The prescribed punishments are not carried out in mosques and a father is not killed for (the slaying of) his son.”

حسن، ابن ماجة (2599 و 2661)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1401
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس سند سے اس حدیث کو ہم صرف اسماعیل بن مسلم کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں اور اسماعیل بن مسلم مکی کے حفظ کے سلسلے میں بعض اہل علم نے کلام کیا ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن شواہد کی بنا پر حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحدود ٣١ (٢٥٩٩)، والدیات ٢٢ (٢٦٦١)، (تحفة الأشراف: ٥٧٤٠) (حسن )
1402Sunan At-Tirmidhi

مسلمان کا قتل تین باتوں کے علاوہ جائز نہیں۔

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ، الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُثْمَانَ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کا خون جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، حلال نہیں سوائے تین باتوں میں سے کسی ایک کے: یا تو وہ شادی شدہ زانی ہو، یا جان کو جان کے بدلے مارا جائے، یا وہ اپنا دین چھوڑ کر جماعت مسلمین سے الگ ہوگیا ہو ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The blood of a Muslim person who bears witness that there is no God but Allah and that I am Allah’s Messenger, is not lawful (to shed) except for one of three reasons, (i) a married man commits fornication, (ii) life for a life, and (iii) who abandons his religion and separates from his community.” [Ahmed 3621, Bukhari 6878, Muslim 1676]

صحيح، ابن ماجة (2534)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1402
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن مسعود ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عثمان، عائشہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دیگر مذاہب کے مقابلے میں اسلام نے انسانی جانوں کی حفاظت نیز ان کی بقا اور امن و امان کا سب سے زیادہ پاس و لحاظ رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ شرک کے بعد کسی نفس کا قتل اسلام میں عظیم تر گناہ ہے، اسی لیے شارع حکیم نے کسی مسلمان کا قتل تین چیزوں میں سے کسی ایک کے پائے جانے ہی کی صورت میں حلال کیا ہے: ( ١ ) کسی آزاد شخص کا شادی شدہ ہو کر زنا کرنا، ( ٢ ) جان بوجھ کر کسی معصوم انسان کو ظلم و زیادتی کے ساتھ قتل کرنا ( ٣ ) اسلام سے پھرجانا کیونکہ ایسے شخص کا دل خیر سے اس طرح خالی ہوجاتا ہے کہ حق بات قبول کرنے کی اس میں صلاحیت باقی نہیں رہتی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدیات ٦ (٦٨٧٨)، صحیح مسلم/القسامة ٦ (١٦٧٦)، سنن ابی داود/ الحدود ١ (٤٣٥١)، سنن النسائی/المحاربة ٥ (٤٠٢١)، سنن ابن ماجہ/الحدود ١ (٢٥٣٤)، (تحفة الأشراف: ٩٥٦٧)، و مسند احمد (١/٣٨٢، ٤٢٨، ٤٤٤، ٤٦٥) (صحیح )
1403Sunan At-Tirmidhi

معاہد کو قتل کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ هُوَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَلَا مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهِدًا لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَقَدْ أَخْفَرَ بِذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا يُرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ خَرِيفًا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خبردار! جس نے کسی ایسے ذمی ١ ؎ کو قتل کیا جسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پناہ حاصل تھی تو اس نے اللہ کے عہد کو توڑ دیا، لہٰذا وہ جنت کی خوشبو نہیں پا سکے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت (دوری) سے آئے گی ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Beware! He, who kills a mu’ahadah who is in Allah’s protection and His Messenger’s ﷺ protection, has violated Allah’s protection. He will not experience the fragrance of Paradise, though its fragrance can be sensed at a distance of seventy years’ journey.” [Ibn e Majah 2687]

صحيح، ابن ماجة (2687)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1403
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - نبی اکرم ﷺ سے ابوہریرہ کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے، ٣ - اس باب میں ابوبکرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا کافر جو کسی اسلامی مملکت میں مسلمانوں سے کیے ہوئے عہد و پیمان کے مطابق رہ رہا ہو خواہ جزیہ دے کر معاہدہ کر کے رہ رہا ہو یا دارالحرب سے معاہدہ یا امان پر دارالسلام میں آیا ہو، اسے مسلمانوں کی پناہ اس وقت تک حاصل ہوگی جب تک وہ بھی اپنے معاہدہ پر قائم رہے، یا اپنے وطن دارالحرب لوٹ جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ٣٢ (٢٦٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٤١٤٠) (صحیح )
1404Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَى الْعَامِرِيَّيْنِ بِدِيَةِ الْمُسْلِمِينَ، وَكَانَ لَهُمَا عَهْدٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ اسْمُهُ: سَعِيدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قبیلہ عامر کے دو آدمیوں کو مسلمانوں کے برابر دیت دی، (کیونکہ) ان دونوں کا رسول اللہ ﷺ سے عہد و پیمان تھا۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported from the Prophet ﷺ that he secured for two men of Banu Aamir blood money from the Muslims, for they had a covenant from him (and were killed by the Muslims).

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1404
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - حدیث کے راوی ابوسعد بقال کا نام سعید بن مرزبان ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٠٩٣) (ضعیف الإسناد) (سند میں ” ابو سعد البقال “ ضعیف اور مدلس ہیں )
1405Sunan At-Tirmidhi

مقتول کے ولی کو اختیار ہے چاہے تو قصاص لے ورنہ معاف کردے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَكَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يَعْفُوَ، وَإِمَّا أَنْ يَقْتُلَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي شُرَيْحٍ خُوَيْلِدِ بْنِ عَمْرٍو.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب اللہ نے اپنے رسول کے لیے مکہ کو فتح کردیا تو آپ ﷺ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: جس کا کوئی شخص مارا گیا ہو اسے دو باتوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہے: یا تو معاف کر دے یا (قصاص میں) اسے قتل کرے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that when Allah gave victory to His Messenger ﷺ over Makkah, he stood among the people, praised Allah and glorified Him, and said thereafter, ‘If someone’s man is killed then he has a choice of two things either to pardon or to kill (the murderer).” [Bukhari 2434, Muslim 13551

صحيح، ابن ماجة (2624)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1405
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے (کماسیأتی) ، ٢ - اس باب میں وائل بن حجر، انس، ابوشریح اور خویلد بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٣٩ (١١٢)، واللقطة ٧ (٢٤٣٤)، والدیات ٨ (٦٨٨٠)، صحیح مسلم/الحج ٨٢ (١٣٥٥)، سنن ابی داود/ الدیات ٤ (٤٥٠٥)، سنن النسائی/القسامة ٣٠ (٤٧٨٩)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٣ (٢٦٢٤)، ویأتي في العلم برقم ٢٦٦٧، (تحفة الأشراف: ١٥٣٨٣)، و مسند احمد (٢/٢٣٨) (صحیح )