اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو قتل کردے تو قصاص لیا جائے یا نہیں
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يُقَادُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ .
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا ١ ؎۔
Sayyidina Umar ibn Khattab (RA), said that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, ‘A father will not be killed for slaying his son.” [Ibn e Majah 2662, Ahmed 346]
صحيح، ابن ماجة (2662)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1400
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ بیٹے کے وجود کا سبب ہے، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ بیٹا باپ کے خاتمے کا سبب بنے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٢ (٢٦٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٨٢)، و مسند احمد (١/١٦، ٢٣) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ ” حجاج بن ارطاة متکلم فیہ راوی ہیں )