دیت کتنے دراہم سے ادا کی جائے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا .
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دیت بارہ ہزار درہم مقرر کی۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ fixed diyat at twelve thousand dirhams. [Abu Dawud 4546, Nisai 4817, Ibn e Majah 2629]
ضعيف، ابن ماجة (2629)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1388
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الدیات ١٨ (٤٥٤٦)، سنن النسائی/القسامة ٣٥ (٤٨٠٧، ٤٨٠٨)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٢٩)، (تحفة الأشراف: ٦١٦٥) وسنن الدارمی/الدیات ١١ (ضعیف) (اس روایت کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے، جیسا کہ امام ابوداود اور مولف نے صراحت کی ہے، اس کو ” عمروبن دینار “ سے سفیان بن عینیہ نے جو کہ محمد بن مسلم طائفی کے بالمقابل زیادہ ثقہ ہیں) نے بھی روایت کیا ہے لیکن انہوں نے ابن عباس ؓ کا تذکرہ نہیں کیا ہے دیکھئے: الإرواء رقم ٢٢٤٥ )