ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ کو خریدنے (اور آزاد کرنے) کا ارادہ کیا تو بریرہ کے گھر والوں نے ولاء (میراث) کی شرط رکھی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ولاء (میراث) کا حق اسی کو حاصل ہے جو قیمت ادا کرے یا آزاد کرنے کی نعمت کا مالک ہو ١ ؎۔
It is reported from Sayyidina Aisha (RA) that she intended to purchase Barirah but her masters laid the condition that they would retain inheritance from her. The Prophet ﷺ emphasized that this right belonged to one who pays the price or is guardian of the blessing. [Ahmed 25590]
صحيح، صحيح أبي داود (2589)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2125
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ولاء سے مراد وہ حقوق ہیں جو آزاد کرنے والے کو آزاد کئے ہوئے کی نسبت سے حاصل ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ، وکذا رقم: ١٢٥٦ (تحفة الأشراف: ١٥٩٩٢) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ولاء کے بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔
Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger disallowed them to sell, or make a gift of, Wala. [Bukhari 2535]
صحيح، ابن ماجة (2747 و 2748)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2126
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ہم اسے صرف عبداللہ بن دینار کے واسطہ سے ابن عمر کی روایت سے جانتے ہیں، اور وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ نے ولاء بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ شعبہ، سفیان ثوری اور مالک بن انس نے بھی یہ حدیث عبداللہ بن دینار سے روایت ہے۔ شعبہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میری خواہش تھی کہ عبداللہ بن دینار اس حدیث کو بیان کرتے وقت مجھے اجازت دے دیتے اور میں کھڑا ہو کر ان کا سر چوم لیتا، ٣ - یحییٰ بن سلیم نے اس حدیث کی روایت کرتے وقت سند یوں بیان کی ہے «عن عبيد اللہ بن عمر عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» لیکن اس سند میں وہم ہے اور یہ وہم یحییٰ بن سلیم کی جانب سے ہوا ہے، صحیح سند یوں ہے «عن عبيد اللہ بن عمر عن عبد اللہ بن دينار عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» ١ ؎ عبیداللہ بن عمر سے اسی طرح کئی لوگوں نے روایت کی ہے۔
عبیداللہ بن دینار اس حدیث کی روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نافع کی جگہ عبداللہ بن دینار کا واسطہ صحیح ہے۔
یزید بن شریک تیمی کہتے ہیں کہ علی ؓ نے ہمارے درمیان خطبہ دیا اور کہا: جو کہتا ہے کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور اس صحیفہ - جس کے اندر اونٹوں کی عمر اور جراحات (زخموں) کے احکام ہیں - کے علاوہ کوئی اور چیز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو وہ جھوٹ کہتا ہے ١ ؎ علی ؓ نے کہا: اس صحیفہ میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عیر سے لے کر ثور تک مدینہ حرم ہے ٢ ؎ جو شخص اس کے اندر کوئی بدعت ایجاد کرے یا بدعت ایجاد کرنے والے کو پناہ دے، اس پر اللہ، اس کے فرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نہ کوئی فرض عبادت قبول کرے گا اور نہ نفل اور جو شخص دوسرے کے باپ کی طرف اپنی نسبت کرے یا اپنے آزاد کرنے والے کے علاوہ کو اپنا مالک بنائے اس کے اوپر اللہ، اس کے فرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اس کی نہ فرض عبادت قبول ہوگی اور نہ نفل، مسلمانوں کی طرف سے دی جانے والی پناہ ایک ہے ان کا معمولی شخص بھی اس پناہ کا مالک ہے ٣ ؎۔
Ibrahim Tamimi reported on the authority of his father that Sayyidina Ali (RA) delivered to them a sermon, saying: If anyone thinks that we have anything else that we read besides Allah’s Book and this Sahifah (a scripture), a sahifah in which is mentioned blood wit of camels and wounds, then he is a liar. Allah’s Messenger ﷺ said that Madinah is sacred between (the places) Ayr and Thawr. Hence, if anyone innovates here a bid’ah or gives protection to an innovator then on him is the curse of Allah, the angels, and the people, all together. Allah will not accept from him, on the Day of Resurrection, any worship whether obligatory or supererogatory. And if anyone relates himself to other than his father, or cites as his emancipator other than the real one then on him is the curse of Allah, the angels and the people all together and no obligatory or supererogatory worship will be accepted from him. And, the protection given by the Muslims is the same, the lowest of them may offer it (and all will then have to respect it).” [Bukhari 1870, Muslim 1370] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الإرواء (1058)، نقد الکتانی (42)، صحيح أبي داود (1773 و 1774)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2127
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بعض لوگوں نے «عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد عن علي» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٣ - یہ حدیث کئی سندوں سے علی کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: علی ؓ کی اس تصریح سے روافض اور شیعہ کے اس قول کی واضح طور پر تردید ہو رہی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے علی ؓ کو کچھ ایسی خاص باتوں کی وصیت کی تھی جن کا تعلق دین و شریعت کے اسرار و رموز سے ہے، کیونکہ صحیح حدیث میں یہ صراحت ہے کہ علی ؓ نے فرمایا:«ما عندنا شئ إلا کتاب اللہ وهذه الصحيفة عن النبي»۔ ٢ ؎: عیر اور ثور دو پہاڑ ہیں: ثور جبل احد کے پیچھے ایک چھوٹا پہاڑ ہے۔ جب کہ عیر ذوالحلیفہ (ابیار علی) کے پاس ہے، اور یہ دونوں پہاڑ مدینہ کے شمالاً جنوباً ہیں، اور مدینہ کے شرقاً غرباً کالے پتھروں والے دو میدان ہیں، مملکت سعودیہ نے پوری نشان دہی کر کے مدینہ منورہ کے حرم کی حد بندی محراب نما برجیوں کے ذریعے کردی ہے، «جزاهم اللہ خيراً» ٣ ؎: یعنی اس کی دی ہوئی پناہ بھی قابل احترام ہوگی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ بنی فزارہ کے ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیوی سے ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے پوچھا: وہ کس رنگ کے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ۔ آپ نے پوچھا: کیا اس میں کوئی مٹمیلے رنگ کا بھی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، اس میں ایک خاکستری رنگ کا بھی ہے۔ آپ نے پوچھا: وہ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا: شاید وہ کوئی خاندانی رگ کھینچ لایا ہوگا ١ ؎، آپ نے فرمایا: اس لڑکے نے بھی شاید کوئی خاندانی رگ کھینچ لائی ہو اور کالے رنگ کا ہو ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that a man of Banu Fazarah came to the Prophet ﷺ and complained, “O Messenger of Allah, my wife has given birth to a boy with a black complexion.’ The Prophet ﷺ asked him, “Do you have camels? He said, “Yes.” He asked, “What is their colour? “ He said, “Red.” He asked, “Is there a leaf-coloured one among them?” He said, “Yes, there is a leafy one among them.” He asked, “From where has it come?” The man offered, “Perhaps a vein resembled.” (An earlier one may have had this colour). The Prophet ﷺ explained, “Thus, here too, is a resemblance to a vein (of an ancestor).” (A reversion to a strain). [Bukhari 7314, Muslim 1500] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2102)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2128
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے باپ دادا میں سے کوئی اس رنگ کا ہوگا۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ خوشی خوشی ان کے پاس تشریف لائے، آپ کے چہرے کے خطوط چمک رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے دیکھا نہیں، ابھی ابھی مجزز نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو دیکھ کر کہا ہے کہ یہ قدم (یعنی ان کا رشتہ) ایک دوسرے سے ہیں ١ ؎۔
Sayyidina Aisha (RA) narrated: The Prophet ﷺ came to me one day with smiling, happy face. He said, “Do you see that Mujazziz observed the feet of Zayd ibn Harithah and Usamah ibn Zayd and said, “These are feet belonging to a common strain.” [Bukhari 3731, Muslim 1459]
صحيح، ابن ماجة (2349)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2129
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابن عیینہ نے یہ حدیث «عن الزهري عن عروة عن عائشة» کی سند سے روایت کی ہے۔ اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مجزز، زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید ؓ کے پاس سے گزرا، اس وقت وہ دونوں اپنا سر ڈھانپے ہوئے تھے اور ان کے پیر کھلے ہوئے تھے تو اس نے کہا: ان قدموں (کا رشتہ) ایک دوسرے سے ہیں، ٣ - اسی طرح ہم سے سعید بن عبدالرحمٰن اور کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن سفيان بن عيينة هذا الحديث عن الزهري عن عروة عن عائشة» کی سند سے بیان کی ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٤ - بعض اہل علم نے اس حدیث سے قیافہ کے معتبر ہونے پر استدلال کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اہل جاہلیت زید اور ان کے بیٹے اسامہ کے نسب میں طعنہ زنی کرتے تھے کیونکہ زید گورے تھے جب کہ اسامہ کالے اور سیاہ رنگ کے تھے، جب مجزز جیسے قیافہ شناس نے دونوں کے پیر دیکھ کر کہہ دیا کہ ان کا آپس میں نسب ثابت ہے تو آپ ﷺ بہت خوش ہوئے، کیونکہ طعنہ زنی کرنے والوں کی جن کے نزدیک قیافہ شناسی معتبر تھی اس قیافہ شناس کی بات سے تکذیب ہوگئی، اور ان دونوں کے نسب کی تصدیق ہوگئی، یہ صرف مشرکین کے عرف سے اس طعنہ کی تردید کی وجہ سے تھا، ورنہ آپ ﷺ بذریعہ وحی اس حقیقت سے واقف تھے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو، اس لیے کہ ہدیہ دل کی کدورت کو دور کرتا ہے، کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے ہدیہ کو حقیر نہ سمجھے اگرچہ وہ بکری کے کھر کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, ‘Give presents to each other for, a gift removes ill-will from the heart. And let not a woman look down upon the gift of her neighbour of a piece of a sheep’s trotter. [Bukhari 2566, Muslim 1030, Ahmed 9261]
ضعيف، لکن الشطر الثاني منه صحيح، المشکاة (3028) // ضعيف الجامع الصغير (2489) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2130
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - ابومعشر کا نام نجیح ہے وہ بنی ہاشم کے (آزاد کردہ) غلام ہیں، ان کے حافظے کے تعلق سے بعض اہل علم نے ان کے بارے میں کلام کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک دوسرے کو ہدیہ بھیجنا چاہیئے کیوں اس سے آپس میں دلی محبت اور قلبی لگاؤ میں اضافہ ہوتا ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ ہدیہ خوش دلی سے قبول کرنا چاہیئے، اس کی مقدار کم ہو یا زیادہ، بلکہ وہ ہدیہ جو مقدار میں کم ہو زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس میں ہدیہ بھیجنے والے کو زیادہ تکلف نہیں کرنا پڑتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٣٠٧٢) (ضعیف) (سند میں ابو معشر سندی ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث کا آخری ٹکڑا، ابوہریرہ ؓ ہی سے صحیحین میں مروی ہے، دیکھیے: صحیح البخاری/الأدب ٣٠ (٦٠١٧)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٠ (١٠٣٠ )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ہدیہ دے کر پھر واپس لے لے اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا رہے یہاں تک کہ جب وہ آسودہ ہوجائے تو قے کرے، پھر اسے چاٹ لے ۔
Sayyidina ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger said, ‘The example of one who gives a gift and takes it back afterwards is like the dog that eats voraciously till it vomits and then returns to eat from what it had vomited. [Bukhari 1489, Muslim 1621]
عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ کوئی ہدیہ دے، پھر اسے واپس لے لے، سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دیتا ہے (وہ اسے واپس لے سکتا ہے) اور جو شخص کوئی عطیہ دے پھر واپس لے لے اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا رہے یہاں تک کہ جب آسودہ ہوجائے تو قے کرے، پھر اپنا قے کھالے ۔
It is reported marfu by Sayyidina Ibn Umar (RA) and Ibn Abbas (RA) (that the Prophet ﷺ said,) “It is not lawful for a man who presents a gift to take it back, except a father (can take back) after giving to his son. And the example of one who presents a gift and afterwards demands it back is like the dog that eats excessively till it spews out and then returns to it to consume from it.” [Abu Dawud 3539] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح انظر ما قبله (2131)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2132
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - شافعی کہتے ہیں: کسی ہدیہ دینے والے کے لیے جائز نہیں کہ ہدیہ واپس لے لے سوائے باپ کے، کیونکہ اس کے لیے جائز ہے کہ جو ہدیہ اپنے بیٹے کو دیا ہے اسے واپس لے لے، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔