جنازوں کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 10 · 119 hadiths · Page 1 of 6

965Sunan At-Tirmidhi

بیماری کا ثواب

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا، إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَسَدِ بْنِ كُرْزٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، وَأَبِي مُوسَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کردیتا ہے ۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated that Allah’s Messenger said, “If a Believer is pricked by a thorn or afflicted by what is above that then Allah raises him a rank against that and obliterates from him a sin.” [Ahmed26437, Muslim 2572]

صحيح، الروض النضير (819)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 965
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سعد بن ابی وقاص، ابوعبیدہ بن جراح، ابوہریرہ، ابوامامہ، ابو سعید خدری، انس، عبداللہ بن عمرو بن العاص، اسد بن کرز، جابر بن عبداللہ، عبدالرحمٰن بن ازہر اور ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ١٤ (٢٥٧٢)، ( تحفة الأشراف: ١٩٩٥٣)، موطا امام مالک/العین ٣ (٦)، مسند احمد (٦/٣٩، ٤٢، ١٦٠، ١٧٣، ١٧٥، ١٨٥، ٢٠٢، ٢١٥، ٢١٥، ٢٥٥، ٢٥٧، ٢٧٨، ٢٧٩) (صحیح) وأخرجہ صحیح البخاری/المرضی ١ (٥٦٤٠) من غیر ہذا الوجہ بمعناہ۔
966Sunan At-Tirmidhi

بیماری کا ثواب

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا حَزَنٍ وَلَا وَصَبٍ حَتَّى الْهَمُّ يَهُمُّهُ إِلَّا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ فِي هَذَا الْبَابِ، قَالَ: وسَمِعْت الْجَارُودَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: لَمْ يُسْمَعْ فِي الْهَمِّ أَنَّهُ يَكُونُ كَفَّارَةً إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کو جو بھی تکان، غم، اور بیماری حتیٰ کہ فکر لاحق ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Nothing afflicts a Believer like fatigue, grief, chronic illness or worry that worries him but Allah expiates with that his sins.” [Bukhari 5641, Muslim 2573]

حسن صحيح، الصحيحة (2503)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 966
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں یہ حدیث حسن ہے، ٢- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «عطاء بن يسار عن أبي هريرة رضي اللہ عنه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، ٣- وکیع کہتے ہیں: اس حدیث کے علاوہ کسی حدیث میں «همّ» فکر کے بارے میں نہیں سنا گیا کہ وہ بھی گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ مومن کو دنیا میں جو بھی آلام و مصائب پہنچتے ہیں اللہ انہیں اپنے فضل سے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے، لیکن یہ اسی صورت میں ہے جب مومن صبر کرے، اور اگر وہ صبر کے بجائے بےصبری کا مظاہرہ اور تقدیر کا رونا رونے لگے تو وہ اس اجر سے تو محروم ہو ہی جائے گا، اور خطرہ ہے کہ اسے مزید گناہوں کا بوجھ نہ اٹھانا پڑجائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المرضی ١ (٥٦٤١، ٥٦٤٢)، صحیح مسلم/البروالصلة ١٤ (٢٥٧٣)، ( تحفة الأشراف: ٤١٦٥)، مسند احمد (٣/٤، ٢٤، ٣٨) (حسن صحیح)
967Sunan At-Tirmidhi

مریض کی عیادت

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ . وَفِي الْبَاب: عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي مُوسَى، وَالْبَرَاءِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ثَوْبَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى أَبُو غِفَارٍ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ فَهُوَ أَصَحُّ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَحَادِيثُ أَبِي قِلَابَةَ إِنَّمَا هِيَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ فَهُوَ عِنْدِي عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ.

ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ برابر جنت میں پھل چنتا رہتا ہے ۔

Sayyidina Thawban (RA) reported the Prophet ﷺ as saying, “When a Muslim pays a sick visit to his brother Muslim, he does not cease to pick up the fruits of Paradise.” [Ahmed22470, Muslim 2568]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 967
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ثوبان کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابوغفار اور عاصم احول نے یہ حدیث بطریق: «عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن أبي أسماء عن ثوبان عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، ٣- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ جس نے یہ حدیث بطریق: «عن أبي الأشعث عن أبي أسماء» روایت کی ہے وہ زیادہ صحیح ہے، ٤- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابوقلابہ کی حدیثیں ابواسماء ہی سے مروی ہیں سوائے اس حدیث کے یہ میرے نزدیک بطریق: «عن أبي الأشعث عن أبي أسماء» مروی ہے، ٥- اس باب میں علی، ابوموسیٰ، براء، ابوہریرہ، انس اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البروالصلة ١٣ (٢٥٦٨)، ( تحفة الأشراف: ٢١٠٥)، مسند احمد (٥/٢٧٧، ٢٨١، ٢٨١، ٢٨٣، ٢٨٤) (صحیح)
968Sunan At-Tirmidhi

مریض کی عیادت

حَدَّثَنَا بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ، قِيلَ: مَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ، قَالَ: جَنَاهَا .

اس سند سے بھی ثوبان ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: عرض کیا گیا: جنت کا خرفہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کے پھل توڑنا ۔ ایک دوسری سند سے ایوب سے اور ایوب نے ابوقلابہ سے، اور ابوقلابہ نے ابواسماء سے، اور ابواسماء نے ثوبان سے اور ثوبان نے نبی اکرم ﷺ سے خالد الحذاء کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، اور اس میں احمد بن عبدہ نے ابواشعث کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Muhammad ibn Wazir Wasti reported from Yazid ibn Harun, from Aasim Ahwal fromAbu Qilabah, from Abu Ash’ath, from Abu Asma, from Thawban, from the Prophet ﷺ a similar hadith with these many more words: (He was asked, ‘What is khurfah of Paradise? He said, “To collect the fruit”). [Muslim 2568]

969Sunan At-Tirmidhi

مریض کی عیادت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ ثُوَيْرٍ هُوَ: ابْنُ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخَذَ عَلِيٌّ بِيَدِي، قَالَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْحَسَنِ نَعُودُهُ، فَوَجَدْنَا عِنْدَهُ أَبَا مُوسَى، فَقَالَ عَلِيٌّ رضي الله عنه: أَعَائِدًا جِئْتَ يَا أَبَا مُوسَى أَمْ زَائِرًا، فَقَالَ: لَا بَلْ عَائِدًا. فَقَالَ عَلِيٌّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا غُدْوَةً إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ عَادَهُ عَشِيَّةً إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، مِنْهُمْ مَنْ وَقَفَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَأَبُو فَاخِتَةَ: اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ عِلَاقَةَ.

ابوفاختہ سعید بن علاقہ کہتے ہیں کہ علی ؓ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: ہمارے ساتھ حسن کے پاس چلو ہم ان کی عیادت کریں گے تو ہم نے ان کے پاس ابوموسیٰ کو پایا۔ تو علی ؓ نے پوچھا: ابوموسیٰ کیا آپ عیادت کے لیے آئے ہیں؟ یا زیارت «شماتت» کے لیے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ عیادت کے لیے آیا ہوں۔ اس پر علی ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو مسلمان بھی کسی مسلمان کی صبح کے وقت عیادت کرتا ہے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اور جو شام کو عیادت کرتا ہے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوگا ۔

Thuwayr reported his father as saying that Sayyidina Ali held him by his hand aid, ‘Come, let us pay a sick visit to Husayn .“ There they found Sayyidina Abu Musa (RA) with him. Sayyidina Ali asked him, “Have you come to pay a sick visit, O Abu Musa, or just a regular visit?” He said, “I have come to visit the sick.” So, Ali said, “I heard Allah’s Messenger ﷺ say : If a Muslim pays visit to a sick Muslim in the morning, seventy thousand angels pray for him till evening, and if he pays him the sick visit at night then seventy thousand angels pray for him till morning, and there is (also) a garden for him in Paradise.” [Abu Dawud 3098, Ibn e Majah 1442]

صحيح، ابن ماجة (1442)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 969
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- علی ؓ سے یہ حدیث کئی اور بھی طرق سے بھی مروی ہے، ان میں سے بعض نے موقوفاً اور بعض نے مرفوعاً روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠١٠٨) (صحیح اس میں ” زائرا “ لفظ صحیح نہیں ہے، اس کی جگہ ” شامتا “ صحیح ہے ملاحظہ ہو ” الصحیحة “ رقم: ١٣٦٧)
970Sunan At-Tirmidhi

موت کی تمنا کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ، فَقَالَ: مَا أَعْلَمُ أَحَدًا لَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَقِيتُ لَقَدْ كُنْتُ وَمَا أَجِدُ دِرْهَمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي نَاحِيَةٍ مِنْ بَيْتِي أَرْبَعُونَ أَلْفًا، وَلَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَوْ نَهَى أَنْ نَتَمَنَّى الْمَوْتَ لَتَمَنَّيْتُ. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ خَبَّابٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي .

حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ میں خباب بن ارت ؓ کے پاس گیا، ان کے پیٹ میں آگ سے داغ کے نشانات تھے، تو انہوں نے کہا: نہیں جانتا کہ صحابہ میں کسی نے اتنی مصیبت جھیلی ہو جو میں نے جھیلی ہے، نبی اکرم ﷺ کے عہد میں میرے پاس ایک درہم بھی نہیں ہوتا تھا، جب کہ اس وقت میرے گھر کے ایک کونے میں چالیس ہزار درہم پڑے ہیں، اگر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں موت کی تمنا کرنے سے نہ روکا ہوتا تو میں موت کی تمنا ضرور کرتا۔

Harithah ibn Mudarrib reported that he went to Khabbab (RA) who had branded his stomach (for some reason). He said, “I do not know of any companion of the Prophet ﷺ who has faced as many trials as I have. In the times of Allah’s Messenger r1-. ‘-- a3i I did not have even a dirham but now there are forty thousand dirhams in my house. Were it not that Allah’s Messenger ﷺ had disallowed us to wish for death, I would have wished for it.” [Ahmed21116, Bukhari 2246, Muslim 2681]

صحيح أحكام الجنائز (59)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 970 انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ہرگز کسی مصیبت کی وجہ سے جو اس پر نازل ہوئی ہو موت کی تمنا نہ کرے۔ بلکہ وہ یوں کہے: «اللهم أحيني ما کانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا کانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ! مجھے زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور مجھے موت دے جب میرے لیے موت بہتر ہو ۔
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- خباب ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس، ابوہریرہ، اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ١٣ (٤١٦٣)، ( تحفة الأشراف: ٣٥١١)، مسند احمد (٥/١٠٩، ١١٠، ١١١)، والمؤلف فی القیامة ٤٠ (٢٤٨٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/المرضی ١٩ (٥٦٧٢)، والدعوات ٣٠ (٦٣٤٩)، والرقاق ٧ (٦٤٣٠)، والتمنی ٦ (٧٢٣٤)، صحیح مسلم/الذکر ٤ (٢٦٨١)، سنن النسائی/الجنائز ٢ (١٨٢٤)، مسند احمد (٥/١٠٩، ١١١، ١١٢) من غیر ہذا الوجہ۔
972Sunan At-Tirmidhi

مریض کے لئے تعوذ

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الْبَصْرِيُّ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ اشْتَكَيْتَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنِ حَاسِدٍ، بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر جبرائیل نے پوچھا: اے محمد! کیا آپ بیمار ہیں؟ فرمایا: ہاں، جبرائیل نے کہا: «باسم اللہ أرقيك من کل شيء يؤذيك من شر کل نفس وعين حاسد باسم اللہ أرقيك والله يشفيك» میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو ایذاء پہنچا رہی ہے، ہر نفس کے شر سے اور ہر حاسد کی آنکھ سے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں، اللہ آپ کو شفاء عطا فرمائے گا ۔

Sayyidina Abu Saeed (RA) reported that Sayyidina Jibril (RA) came to the Prophet ﷺ and asked, “ O Muhammad ﷺ , do you have a complaint?” He said, “Yes” He said: “In the name of Allah, I put a spell on you against everything that may harm you, against the evil of every person and every envious eye. In the name of Allah,I cast a spell on you and may Allah cure you.

صحيح، ابن ماجة (3523)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 972
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ١٦ (٢١٨٦)، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٦ (٣٥٢٣)، ( تحفة الأشراف: ٤٣٦٣)، مسند احمد (٣/٢٨، ٥٦) (صحیح)
973Sunan At-Tirmidhi

مریض کے لئے تعوذ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ ثَابِتٌ: يَا أَبَا حَمْزَةَ اشْتَكَيْتُ ؟ فَقَالَ أَنَسٌ: أَفَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقُلْتُ لَهُ: رِوَايَةُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَصَحُّ، أَوْ حَدِيثُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كِلَاهُمَا صَحِيحٌ، وَرَوَى عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أبِي سَعِيدٍ، وعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ.

عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ میں اور ثابت بنانی دونوں انس بن مالک ؓ کے پاس گئے۔ ثابت نے کہا: ابوحمزہ! میں بیمار ہوگیا ہوں، انس نے کہا: کیا میں تم پر رسول اللہ ﷺ کے منتر کے ذریعہ دم نہ کر دوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! انس نے کہا: «اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت شفاء لا يغادر سقما» اے اللہ! لوگوں کے رب! مصیبت کو دور کرنے والے! شفاء عطا فرما، تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شافی نہیں۔ ایسی شفاء دے کہ کوئی بیماری باقی نہ رہ جائے ۔

Abdul Aziz ibn Suhayb reported that he and Thabit Bunani went to Sayyidina Anas (RA). Thabit said, “O Abu Hamzah, I have a complaint (of illness).” So, Anas (RA) said, “Shall I not apply a charm to you with the spell of Allah’s Messenger i I ?“ He said, “Certainly.” So, he prayed: O Allah, Lord of the people, Remover of the suffering. Heal, for You are the Healer. There is no healer except you. Give a healing that leaves no sickness. [Bukhari 2265, Abu Dawud 3890] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 973
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابو سعید خدری کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا کہ عبدالعزیز بن صہیب کی روایت بسند «ابی نضرة عن ابی سعید الخدری» زیادہ صحیح ہے یا عبدالعزیز کی انس سے روایت ہے؟ تو انہوں نے کہا: دونوں صحیح ہیں، ٣- عبدالصمد بن عبدالوارث نے بسند «عبدالوارث عن أبيه عن عبد العزيز بن صهيب عن أبي نضرة عن أبي سعيد» روایت کی ہے اور عبدالعزیز بن صھیب نے انس سے بھی روایت کی ہے، ٤- اس باب میں انس اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٣٨ (٥٧٤٢)، سنن ابی داود/ الطب ١٩ (٣٨٩٠)، ( تحفة الأشراف: ١٠٣٤)، مسند احمد (٣/١٥١) (صحیح)
974Sunan At-Tirmidhi

وصیت کی ترغیب

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک مسلمان، جس کی دو راتیں بھی اس حال میں گزریں کہ اس کے پاس وصیت کرنے کی کوئی چیز ہو، اس پر لازم ہے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہو ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “It is upon every Muslim who possesses something for which he shQuld leave instructions that he should not let two nights pass without writing a will about it?.” [Ahmed5197, Bukhari 1314, Muslim 1627, Ibn e Majah 2699, Abu Dawud 2862]

صحيح، ابن ماجة (2699)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 974
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن ابی اوفی ؓ سے بھی حدیث آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الوصایا ١ (١٦٢٧)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٢ (٢٦٩٩)، ( تحفة الأشراف: ٧٩٤٤) (صحیح) مسند احمد (٢/٥٧، ٨٠)، (ویأتي عند المؤلف فی الوصایا ٣ (٢١١٨)، وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الوصایا ١ (٢٧٣٨)، صحیح مسلم/الوصایا (المصدر المذکور)، سنن النسائی/الوصایا ١ (٣٦٤٥، ٣٦٤٦، ٣٦٤٨)، موطا امام مالک/الوصایا ١ (١)، مسند احمد (٢/٤، ١٠، ٣٤، ٥٠، ١١٣)، سنن الدارمی/الوصایا ١ (٣٢٣٩)، من غیر ہذا الوجہ۔
975Sunan At-Tirmidhi

تہائی اور چوتھائی مال کی وصیت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ، فَقَالَ: أَوْصَيْتَ ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِكَمْ ، قُلْتُ: بِمَالِي كُلِّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: فَمَا تَرَكْتَ لِوَلَدِكَ ؟ قُلْتُ: هُمْ أَغْنِيَاءُ بِخَيْرٍ، قَالَ: أَوْصِ بِالْعُشْرِ ، فَمَا زِلْتُ أُنَاقِصُهُ حَتَّى قَالَ: أَوْصِ بِالثُّلُثِ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَنَحْنُ نَسْتَحِبُّ أَنْ يَنْقُصَ مِنَ الثُّلُثِ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَعْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ: وَالثُّلُثُ كَبِيرٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ أَنْ يُوصِيَ الرَّجُلُ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ، وَيَسْتَحِبُّونَ أَنْ يَنْقُصَ مِنَ الثُّلُثِ، قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: كَانُوا يَسْتَحِبُّونَ فِي الْوَصِيَّةِ الْخُمُسَ دُونَ الرُّبُعِ، وَالرُّبُعَ دُونَ الثُّلُثِ، وَمَنْ أَوْصَى بِالثُّلُثِ فَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا وَلَا يَجُوزُ لَهُ إِلَّا الثُّلُثُ.

سعد بن مالک (سعد بن ابی وقاص) ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میری عیادت فرمائی، میں بیمار تھا۔ تو آپ نے پوچھا: کیا تم نے وصیت کردی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں (کر دی ہے) ، آپ نے فرمایا: کتنے کی؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی راہ میں اپنے سارے مال کی۔ آپ نے پوچھا: اپنی اولاد کے لیے تم نے کیا چھوڑا؟ میں نے عرض کیا: وہ مال سے بےنیاز ہیں، آپ نے فرمایا: دسویں حصے کی وصیت کرو ۔ تو میں برابر اسے زیادہ کراتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: تہائی مال کی وصیت کرو، اور تہائی بھی زیادہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ تہائی مال کی وصیت بھی زیادہ ہے مستحب یہی سمجھتے ہیں کہ تہائی سے بھی کم کی وصیت کی جائے۔

Sayyidina Sad Maalik (RA) said: During my illness, Allah’s Messenger ﷺ visited me asked me, “Have you willed.” I said, “Yes.” He asked, “How much property?” I said, “All my property, in Allah’s cause.” He said, “What have you kept aside for your children?” I said, “They are rich and happy.” He said, “Make a will for one-tenth (leaving one-ninth for your children).’ I did not cease to diminish it till be said, “Make a will for one-third though that is much.” Abu Abdur Rahman said, “We wished that he should lower down on one-third because of the saying of Allah’s Messenger that one-third is too much.” [Muslim 1628]

صحيح، ابن ماجة (2708)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 975
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- سعد ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- سعد ؓ سے یہ حدیث دوسرے اور طرق سے بھی مروی ہے، ٣- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔ اور ان سے «والثلث کثير» کی جگہ «والثلث کبير» تہائی بڑی مقدار ہے بھی مروی ہے، ٤- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ اس بات کو صحیح قرار نہیں دیتے کہ آدمی تہائی سے زیادہ کی وصیت کرے اور مستحب سمجھتے ہیں کہ تہائی سے کم کی وصیت کرے، ٥- سفیان ثوری کہتے ہیں: لوگ چوتھائی حصہ کے مقابل میں پانچویں حصہ کو اور تہائی کے مقابلے میں چوتھائی حصہ کو مستحب سمجھتے تھے، اور کہتے تھے کہ جس نے تہائی کی وصیت کردی اس نے کچھ نہیں چھوڑا۔ اور اس کے لیے تہائی سے زیادہ جائز نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الوصایا ٣ (٣٦٦١)، ( تحفة الأشراف: ٣٨٩٨) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز ٣٦ (١٢٩٥)، والوصایا ٢ (٢٧٤٢)، ومناقب الأنصار ٤٩ (٣٩٣٦)، والمغازي ٧٧ (٤٣٩٥)، والنفقات ١ (٥٣٥٤)، المرضی ١٣ (٥٦٥٩)، والدعوات ٤٣ (٦٣٧٣)، والفرائض ٦ (٦٧٣٣)، صحیح مسلم/الوصایا ٢ (١٦٢٨)، سنن ابی داود/ الوصایا ٢ (٢٨٦٤)، سنن النسائی/الوصایا ٣ (٣٦٥٦، ٣٦٦٠، ٣٦٦١، ٣٦٦٢، ٣٦٦٥)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٥ (٢٧٠٨)، موطا امام مالک/الوصایا ٣ (٤)، مسند احمد (١/١٦٨، ١٧٢، ١٧٦، ١٧٩)، سنن الدارمی/الوصایا ٧ (٣٢٣٨، ٣٢٣٩) والمؤلف/الوصایا ١ (٢١١٦) من غیر ہذا الوجہ۔
976Sunan At-Tirmidhi

حالت نزع میں مریض کو تلقین اور دعا کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَعَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَسُعْدَى الْمُرِّيَّةِ وَهِيَ: امْرَأَةُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اپنے مرنے والے لوگوں کو جو بالکل مرنے کے قریب ہوں «لا إله إلا الله» کی تلقین ١ ؎ کرو ۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Encourage those of you who are dying to say: (There is no God but Allah). [Ahmed10993, Muslim 916, Abu Dawud 3117, Nisai 1822, Ibn e Majah 1445]

صحيح، ابن ماجة (1444 و 1445)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 976
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابو سعید خدری کی حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، ام سلمہ، عائشہ، جابر، سعدی مریہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- سعدی مریہ طلحہ بن عبیداللہ کی بیوی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ تلقین سے مراد تذکیر ہے یعنی مرنے والے کے پاس «لا إله إلا الله» پڑھ کر اسے کلمہ شہادت کی یاد دہانی کرائی جائے تاکہ سن کر وہ بھی اسے پڑھنے لگے، براہ راست اس سے پڑھنے کے لیے نہ کہا جائے کیونکہ وہ تکلیف کی شدت سے جھنجھلا کر انکار بھی کرسکتا ہے جس سے کفر لازم آئے گا، لیکن شیخ ناصرالدین البانی نے اسے درست قرار نہیں دیا وہ کہتے ہیں کہ تلقین کا مطلب یہ ہے کہ اسے «لا إله إلا الله» پڑھنے کے لیے کہا جائے۔ افضل یہ ہے کہ مریض کی حالت دیکھ کر عمل کیا جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ١ (٩١٦)، سنن ابی داود/ الجنائز ٢٠ (٣١١٧)، سنن النسائی/الجنائز ٢٠ (٣١١٧)، سنن النسائی/الجنائز ٤ (١٨٢٧)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣ (١٤٤٥)، ( تحفة الأشراف: ٤٤٠٣)، مسند احمد (٣/٣) (صحیح)
977Sunan At-Tirmidhi

حالت نزع میں مریض کو تلقین اور دعا کرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ أَوِ الْمَيِّتَ فَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ . قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ مَاتَ، قَالَ: فَقُولِيَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ، وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مِنْهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: شَقِيقٌ هُوَ: ابْنُ سَلَمَةَ أَبُو وَائِلٍ الْأَسَدِيُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ كَانَ يُسْتَحَبُّ أَنْ يُلَقَّنَ الْمَرِيضُ عِنْدَ الْمَوْتِ، قَوْلَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا قَالَ ذَلِكَ مَرَّةً فَمَا لَمْ يَتَكَلَّمْ بَعْدَ ذَلِكَ، فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُلَقَّنَ وَلَا يُكْثَرَ عَلَيْهِ فِي هَذَا، وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، جَعَلَ رَجُلٌ يُلَقِّنُهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَكْثَرَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: إِذَا قُلْتُ مَرَّةً فَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مَا لَمْ أَتَكَلَّمْ بِكَلَامٍ، وَإِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ: إِنَّمَا أَرَادَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ آخِرُ قَوْلِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: جب تم مریض کے پاس یا کسی مرے ہوئے آدمی کے پاس آؤ تو اچھی بات کہو ١ ؎، اس لیے کہ جو تم کہتے ہو اس پر ملائکہ آمین کہتے ہیں ، جب ابوسلمہ کا انتقال ہوا، تو میں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسلمہ کا انتقال ہوگیا ہے۔ آپ نے فرمایا: تو تم یہ دعا پڑھو: «اللهم اغفر لي وله وأعقبني منه عقبی حسنة» اے اللہ! مجھے اور انہیں معاف فرما دے، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما وہ کہتی ہیں کہ: جب میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ نے مجھے ایسی ہستی عطا کردی جو ان سے بہتر تھی یعنی رسول اللہ ﷺ کو عطا کیا۔

Sayyidah Umm Salamah (RA) said : Allah’s Messenger ﷺ said to us, “If you go to a sick person or a dead person, speak a good word, for the angels say Aameen to what you say.” When Abu Salamah (RA) died, I went to the Prophet ﷺ and said, “O Messenger of Allah, Abu Salamah has died.” He said, “Say "O Allah, forgive me and forgive him. And give me better than this (loss)." So, Allah gave me one who was better than him, Allah’s Messenger ﷺ .

صحيح، ابن ماجة (1447)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 977
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ام سلمہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ مستحب سمجھا جاتا تھا کہ مریض کو اس کی موت کے وقت «لا إله إلا الله» کی تلقین کی جائے، ٣- بعض اہل علم کہتے ہیں: جب وہ (میت) اسے ایک بار کہہ دے اور اس کے بعد پھر نہ بولے تو مناسب نہیں کہ اس کے سامنے باربار یہ کلمہ دہرایا جائے، ٤- ابن مبارک کے بارے میں مروی ہے کہ جب ان کی موت کا وقت آیا، تو ایک شخص انہیں «لا إله إلا الله» کی تلقین کرنے لگا اور باربار کرنے لگا، عبداللہ بن مبارک نے اس سے کہا: جب تم نے ایک بار کہہ دیا تو میں اب اسی پر قائم ہوں جب تک کوئی اور گفتگو نہ کروں، عبداللہ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ ان کی مراد اس سے وہی تھی جو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ جس کا آخری قول «لا إله إلا الله» ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً مریض سے کہو اللہ تمہیں شفاء دے اور مرے ہوئے آدمی سے کہو اللہ تمہاری مغفرت فرمائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣ (٩١٩)، سنن ابی داود/ الجنائز ١٩ (٣١١٥)، سنن النسائی/الجنائز ٧ (١٨٢٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤ (١٤٤٧)، ( تحفة الأشراف: ١٨١٦٢)، مسند احمد (٦/٢٩١، ٣٠٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٥ (١٥٩٨)، موطا امام مالک/الجنائز ١٤ (٤٢) من غیر ہذا الوجہ۔
978Sunan At-Tirmidhi

موت کی سختی

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَوْتِ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ، وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى غَمَرَاتِ الْمَوْتِ، وسَكَرَاتِ الْمَوْتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ سکرات کے عالم میں تھے، آپ کے پاس ایک پیالہ تھا، جس میں پانی تھا، آپ پیالے میں اپنا ہاتھ ڈالتے پھر اپنے چہرے پر ملتے اور فرماتے: «اللهم أعني علی غمرات الموت أو سکرات الموت» اے اللہ! سکرات الموت میں میری مدد فرما ۔

Sayyidah Ayshah (RA) said, “I saw Allah’s Messenger ﷺ while he was dying. He had a bowl of water by him. He put his hand into it and then wiped his face with water. Then he said: O Allah! Help me to bear the pangs of death and the agonies of death. [Ahmed24535, Ibn e Majah 1623]

ضعيف، ابن ماجة (1623) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (357)، المشکاة (1564)، ضعيف الجامع الصغير (1176) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 978
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٦٤ (١٦٢٣)، ( تحفة الأشراف: ١٧٥٥٦) (ضعیف) (سند میں موسیٰ بن سرجس مجہول الحال راوی ہیں)
979Sunan At-Tirmidhi

موت کی سختی

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَلاَئِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا أَغْبِطُ أَحَدًا بِهَوْنِ مَوْتٍ بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ شِدَّةِ مَوْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ. وَقُلْتُ لَهُ: مَنْ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْعَلاَئِ؟ فَقَالَ: هُوَ الْعَلاَئُ بْنُ اللَّجْلاَجِ. وَإِنَّمَا عَرَّفَهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی موت کی جو شدت میں نے دیکھی، اس کے بعد میں کسی کی جان آسانی سے نکلنے پر رشک نہیں کرتی ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) said, “I do not envy anyone an easy death after what I have seen of the severity of the death of Allah’s Messenger ﷺ [Bukhari 4446, Nisai 1826]

صحيح مختصر الشمائل المحمدية (325)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 979
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا کہ عبدالرحمٰن بن علاء کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا: وہ علاء بن اللجلاج ہیں، میں اسے اسی طریق سے جانتا ہوں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ موت کی سختی برے ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ ترقی درجات اور گناہوں کی مغفرت کا بھی سبب ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦٢٧٤) (صحیح)
980Sunan At-Tirmidhi

موت کی سختی

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَامُ بْنُ الْمِصَكِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنُ تَخْرُجُ رَشْحًا، وَلَا أُحِبُّ مَوْتًا كَمَوْتِ الْحِمَارِ ، قِيلَ: وَمَا مَوْتُ الْحِمَارِ ؟ قَالَ: مَوْتُ الْفَجْأَةِ .

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: مومن کی جان تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتی ہے جیسے جسم سے پسینہ نکلتا ہے اور مجھے گدھے جیسی موت پسند نہیں ۔ عرض کیا گیا: گدھے کی موت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اچانک موت ۔

Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٣٣) (ضعیف جداً ) (سند میں حسام متروک راوی ہے)
981Sunan At-Tirmidhi

موت کی سختی

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْحَلَبِيُّ، عَنْ تَمَّامِ بْنِ نَجِيحٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ حَافِظَيْنِ رَفَعَا إِلَى اللَّهِ مَا حَفِظَا مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ فَيَجِدُ اللَّهُ فِي أَوَّلِ الصَّحِيفَةِ وَفِي آخِرِ الصَّحِيفَةِ خَيْرًا إِلَّا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي مَا بَيْنَ طَرَفَيِ الصَّحِيفَةِ .

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بھی دونوں لکھنے والے (فرشتے) دن و رات کسی کے عمل کو لکھ کر اللہ کے پاس لے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دفتر کے شروع اور اخیر میں خیر (نیک کام) لکھا ہوا پاتا ہے تو فرماتا ہے: میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے بندے کے سارے گناہ معاف کردینے جو اس دفتر کے دونوں کناروں شروع اور اخیر کے درمیان میں ہیں ۔

Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (التحفہ: ٥٣٣) (ضعیف جداً ) (اس کے راوی تمام بن نجیح ضعیف ہیں)
982Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا نَعْرِفُ لِقَتَادَةَ سَمَاعًا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ.

بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن پیشانی کے پسینہ کے ساتھ مرتا ہے ١ ؎۔

Abdullah ibn Buraydah (RA) reported on the authority of his father that the Prophet ﷺ said, “The Believer dies with sweat on his forehead.” [Ahmed23109, Nisai 1827, Ibn e Majah 1452]

صحيح، ابن ماجة (1452)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 982
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن بریدہ سے قتادہ کے سماع کا علم نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مومن موت کی شدت سے دو چار ہوتا ہے تاکہ یہ اس کے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بن جائے، ( شدت کے وقت آدمی کی پیشانی پر پسینہ آ جاتا ہے ) یا یہ مطلب ہے کہ موت اسے اچانک اس حال میں پا لیتی ہے کہ وہ رزق حلال اور ادائیگی فرائض میں اس قدر مشغول رہتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ سے تر رہتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٥ (١٨٢٩)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥ (١٥٥٢)، مسند احمد (٥/٣٥٠، ٣٥٧، ٣٦٠)، ( تحفة الأشراف: ١٩٩٢) (صحیح)
983Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْكُوفِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ هُوَ: ابْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى شَابٍّ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَجِدُكَ ، قَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي أَرْجُو اللَّهَ، وَإِنِّي أَخَافُ ذُنُوبِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا يَرْجُو وَآمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک نوجوان کے پاس آئے اور وہ سکرات کے عالم میں تھا۔ آپ نے فرمایا: تم اپنے کو کیسا پا رہے ہو؟ اس نے عرض کیا: اللہ کی قسم، اللہ کے رسول! مجھے اللہ سے امید ہے اور اپنے گناہوں سے ڈر بھی رہا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ دونوں چیزیں اس جیسے وقت میں جس بندے کے دل میں جمع ہوجاتی ہیں تو اللہ اسے وہ چیز عطا کردیتا ہے جس کی وہ اس سے امید رکھتا ہے اور اسے اس چیز سے محفوظ رکھتا ہے جس سے وہ ڈر رہا ہوتا ہے ۔

Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ visited a young man who was dying. He asked, “How do you find yourself?” He said, “By Allah, O Messenger of Allah! ﷺ I have hope in Allah. I am fearful because of my sins.” Allah’s Messenger ﷺ said, “These two things (hope and fear) do not combine in the heart of a Believer but Allah grants him what he hopes for and protects him from what he fears.” [Ibn e Majah 4261]

حسن، ابن ماجة (4261)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 983
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن اور غریب ہے، ٢- اور بعض لوگوں نے یہ حدیث ثابت سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٣٠٨ (١٠٦٢)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣١ (٤٢٦١) (تحفة الأشراف: ٢٦٢) (حسن)
986Sunan At-Tirmidhi

کسی کی موت کی خبر کا اعلان کرنا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَبْسِيُّ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: إِذَا مِتُّ فَلَا تُؤْذِنُوا بِي إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

حذیفہ بن الیمان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب میں مرجاؤں تو تم میرے مرنے کا اعلان مت کرنا۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ بات «نعی» ہوگی۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو «نعی» سے منع فرماتے سنا ہے۔

Sayyidina Huzdhayfah (RA) is reported to have said, “When I die, do not inform anyone of my death lest this should be like a death notice. I heard Allah’s Messenger ﷺ disallow announcing anyone’s death.” [Ibn e Majah 1476]

حسن، ابن ماجة (1476)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 986
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ١٤ (١٤٩٧) (تحفة الأشراف: ٣٣٠٣) (حسن)
984Sunan At-Tirmidhi

کسی کی موت کی خبر کا اعلان کرنا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، وَهَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالنَّعْيَ فَإِنَّ النَّعْيَ مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَالنَّعْيُ أَذَانٌ بِالْمَيِّتِ. وَفِي الْبَاب، عَنْ حُذَيْفَةَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «نعی» (موت کی خبر دینے) ١ ؎ سے بچو، کیونکہ «نعی» جاہلیت کا عمل ہے ۔ عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں: «نعی» کا مطلب میت کی موت کا اعلان ہے۔

Sayyidina Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Keep away from obituary notices, for that is from the deeds of jahiliyah.” Abdullah said, “Na’yu (oblituary notice) is announcing a death.”

ضعيف تخريج إصلاح المساجد (108) // ضعيف الجامع الصغير (2211) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 984
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں حذیفہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی کی موت کی خبر دینے کو «نعی» کہتے ہیں، «نعی» جائز ہے خود نبی اکرم ﷺ نے نجاشی کی وفات کی خبر دی ہے، اسی طرح زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ ؓ کی وفات کی خبریں بھی آپ نے لوگوں کو دی ہیں، یہاں جس «نعی» سے بچنے کا ذکر ہے اس سے اہل جاہلیت کی «نعی» ہے، زمانہ جاہلیت میں جب کوئی مرجاتا تھا تو وہ ایک شخص کو بھیجتے جو محلوں اور بازاروں میں پھر پھر کر اس کے مرنے کا اعلان کرتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٩٤٦١) (ضعیف) (سند میں میمون ابو حمزہ اعور ضعیف راوی ہیں)