نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں، وہ احرام سے تھے، انہوں نے ابان بن عثمان سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: ان میں ایلوے کا لیپ کرلو، کیونکہ میں نے عثمان بن عفان ؓ کو اس کا ذکر کرتے سنا ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا: ان پر ایلوے کا لیپ کرلو ١ ؎۔
Nubayh ibn Wahb reported that Umar ibn Ubaydullah ibn Ma’mar had eye trouble while he was a muhrjm. He asked Aban ibn Uthman who said, “Give them a dressin with aloes. For, I had heard Uthman ibn Affan mention that Allah’s Messenger ﷺ said : Dress that with aloes.” [Muslim 1204, Abu Dawud 1838, Nisai 2707]
صحيح، صحيح أبي داود (1612)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 952
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ محرم کے ایسی دوا سے علاج کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جس میں خوشبو نہ ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایلوے، یا اس جیسی چیز جس میں خوشبو نہ ہو سے آنکھوں میں لیپ لگانا جائز ہے، اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں ہوگا، رہیں ایسی چیزیں جن میں خوشبو ہو تو بوقت ضرورت و حاجت ان سے بھی لیپ کرنا درست ہوگا، لیکن اس پر فدیہ دینا ہوگا، علماء کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ بوقت ضرورت محرم کے لیے آنکھ میں سرمہ لگانا جس میں خوشبو نہ ہو جائز ہے، اس سے اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں آئے گا، البتہ زینت کے لیے سرمہ لگانے کو امام شافعی وغیرہ نے مکروہ کہا ہے، اور ایک جماعت نے اس سے منع کیا ہے، امام احمد اور اسحاق کی بھی یہی رائے ہے کہ زینت کے لیے سرمہ لگانا درست نہیں۔
کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ان کے پاس سے گزرے، وہ حدیبیہ میں تھے، احرام باندھے ہوئے تھے۔ اور ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہے تھے۔ جوئیں ان کے منہ پر گر رہی تھیں تو آپ نے پوچھا: کیا یہ جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟ کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: سر منڈوا لو اور چھ مسکینوں کو ایک فرق کھانا کھلا دو، (فرق تین صاع کا ہوتا ہے) یا تین دن کے روزے رکھ لو۔ یا ایک جانور قربان کر دو۔ ابن ابی نجیح کی روایت میں ہے یا ایک بکری ذبح کر دو ۔
Sayyidina Ka’b ibn Ujrah (RA) reported that the Prophet ﷺ passed by him in Hudaybiyah before enterring Makkah while he was a muhrim, kindling a fire un a vessel and lice infested his face. He (the Prophet) asked him, ‘Do they trouble you?” He said, “Yes.” So, the Prophet ﷺ said, “Shave your head and feed a faraq to six poor people-and a faraq is three sa-or fast three days, or sacrifice an animal.” The version of lbn Nujayh has, “or sacrifice a goat.” [Bukhari 921, Muslim 80]
صحيح، ابن ماجة (3079 و 3080)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 953
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام ؓ وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ محرم جب اپنا سر مونڈا لے، یا ایسے کپڑے پہن لے جن کا پہننا احرام میں درست نہیں یا خوشبو لگالے۔ تو اس پر اسی کے مثل کفارہ ہوگا جو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المحصر (١٨١٤)، و ٦ (١٨١٥)، و ٧ (١٨١٦)، و ٨ (١٨١٧)، والمغازي ٣٥ (٤١٥٩، ٤١٩٠)، وتفسیر البقرة ٣٢ (٤٥١٧)، والمرضی ١٦ (٥٦٦٥)، والطب ١٦ (٥٧٠٣)، والکفارات ١ (٦٨٠٨)، صحیح مسلم/الحج ١٠ (١٢٠١)، سنن ابی داود/ المناسک ٤٣ (١٨٥٦)، سنن النسائی/المناسک ٩٦ (٢٨٥٤)، ( تحفة الأشراف: ١١١١٤)، موطا امام مالک/الحج ٧٨ (٢٣٨)، مسند احمد (٤/٢٤٢، ٢٤٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الحج ١٠ (المصدر المذکور)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٦ (٣٠٧٩)، مسند احمد (٤/٢٤٢، ٢٤٣) من غیر ہذا الوجہ۔
عدی ؓ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑ دیں ١ ؎۔
Abu al-Baddah ibn Aasim ibn Adi reported from his father that the Prophet ﷺ gave consession to the shepherd to cast pebbles one day and skip the next day. [Ahmed23835, Abu Dawud 1976, Nisai 3068, Ibn e Majah 3036]
صحيح، ابن ماجة (3036)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 954
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اسی طرح ابن عیینہ نے بھی روایت کی ہے، اور مالک بن انس نے بسند «عبد اللہ بن أبي بکر بن محمد ابن عمرو بن حزم عن أبيه عن أبي البداح بن عدي عن أبيه أن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، اور مالک کی روایت زیادہ صحیح ہے، ٢- اہل علم کی ایک جماعت نے چرواہوں کو رخصت دی ہے کہ وہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ترک کردیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی چرواہوں کے لیے جائز ہے کہ وہ ایام تشریق کے پہلے دن گیارہویں کی رمی کریں پھر وہ اپنے اونٹوں کو چرانے چلے جائیں پھر تیسرے دن یعنی تیرہویں کو دوسرے اور تیسرے یعنی بارہویں اور تیرہویں دونوں دنوں کی رمی کریں، اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ وہ یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی کریں پھر اس کے بعد والے دن گیارہویں اور بارہویں دونوں دنوں کی رمی کریں اور پھر روانگی کے دن تیرہویں کی رمی کریں۔
عاصم بن عدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ کے چرواہوں کو (منی میں ) رات گزارنے کے سلسلہ میں رخصت دی کہ وہ دسویں ذی الحجہ کو (جمرہ عقبہ کی) رمی کرلیں۔ پھر دسویں ذی الحجہ کے بعد کے دو دنوں کی رمی جمع کر کے ایک دن میں اکٹھی کرلیں ١ ؎ (مالک کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ راوی نے کہا) پہلے دن رمی کرلے پھر کوچ کے دن رمی کرے ۔
Abu al-Baddah ibn Aasim ibn Adi reported from his father that Allah’s Messenger ﷺ allowed the cameiherds to not stay in Mina and to cast pebbles on the day of sacrifice and after that make rami of two days together after the day of sacrifice on one of the days. Maalik said: I imagine that he said, “On the first of those days and then on the day of departure.” [Ahmed23837, Al 1975, Nisai 3069, Ibn e Majah 3037]
صحيح، ابن ماجة (3037)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 955
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ ابن عیینہ کی عبداللہ بن ابی بکر سے روایت والی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس جمع کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ تیرہویں کو بارہویں اور تیرہویں دونوں دنوں کی رمی ایک ساتھ کریں، دوسری صورت یہ ہے کہ گیارہویں کو گیارہویں اور بارہویں دونوں دنوں کی رمی ایک ساتھ کریں پھر تیرہویں کو آ کر رمی کریں۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ علی ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس یمن سے آئے تو آپ نے پوچھا: تم نے کیا تلبیہ پکارا، اور کون سا احرام باندھا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: میں نے وہی تلبیہ پکارا، اور اسی کا احرام باندھا ہے جس کا تلبیہ رسول اللہ ﷺ نے پکارا، اور جو احرام رسول اللہ ﷺ نے باندھا ہے ١ ؎ آپ نے فرمایا: اگر میرے ساتھ ہدی کے جانور نہ ہوتے تو میں احرام کھول دیتا ٢ ؎،
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated that Sayyidina Ali came to Allah’s Messenger ﷺ from Yaman. He asked, “What intention have you formed?” He said, “I have formed the same intention that Allah’s Messenger ﷺ has formed.” He said, “If I did not have with me the hadi then I would have come out of the ihram.” [Bukhari 1558, Muslim 1250]
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنے احرام کو دوسرے کے احرام پر معلق کرنا جائز ہے۔ ٢ ؎: یعنی: عمرہ کے بعد احرام کھول دیتا، پھر ٨ ذی الحجہ کو حج کے لیے دوبارہ احرام باندھنا، جیسا کہ حج تمتع میں کیا جاتا ہے، مذکورہ مجبوری کی وجہ سے آپ نے قران ہی کیا، ورنہ تمتع کرتے، اس لیے تمتع افضل ہے۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: حج اکبر (بڑے حج) کا دن کون سا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: «یوم النحر» قربانی کا دن ۔
Sayyidina Ali said that he asked Allah’s Messenger ﷺ “What day is the Hajj Akbar (the greater pilgrimage)?” He said, ‘On the day of sacrifice (10th Dhul Hajjah).”
صحيح، الإرواء (1101)، صحيح أبي داود (1700 و 1701)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 957
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وأخرجہ في تفسیر التوبة أیضا (٣٠٨٨) (تحفة الأشراف: ١٠٠٤٩) (صحیح) (سند میں حارث اعور سخت ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
علی ؓ کہتے ہیں کہ حج اکبر (بڑے حج) کا دن دسویں ذی الحجہ کا دن ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ali (RA) said, “The day of the Hajj Akbar is the day of sacrifice,” and he did not trace the hadith to the Prophet ﷺ
صحيح انظر ما قبله (957)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 958
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابن ابی عمر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے اور ابن عیینہ کی موقوف روایت محمد بن اسحاق کی مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح بہت سے حفاظ حدیث نے اسے بسند «أبي إسحق عن الحارث عن علي» موقوفاً روایت کیا ہے، شعبہ نے بھی ابواسحاق سبیعی سے روایت کی ہے انہوں نے یوں کہا ہے «عن عبد اللہ بن مرة عن الحارث عن علي موقوفا» ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دسویں تاریخ کو حج اکبر ( بڑا حج ) اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسی دن حج کے اکثر افعال انجام دیئے جاتے ہیں، مثلاً جمرہ عقبہ کی رمی ( کنکری مارنا ) ، حلق ( سر منڈوانا ) ، ذبح، طواف زیارت وغیرہ اعمال حج، اور عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ حج اکبر اس حج کو کہتے ہیں جس میں دسویں تاریخ جمعہ کو آ پڑی ہو، تو اس کی کوئی اصل نہیں، رہی طلحہ بن عبیداللہ بن کرز کی روایت «أفضل الأيام يوم عرفه وإذا وافق يوم جمعة فهو أفضل من سبعين حجة في غير يوم جمعة» تو یہ مرسل ہے، اور اس کی سند بھی معلوم نہیں، اور حج اصغر سے جمہور عمرہ مراد لیتے ہیں اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حج اصغر یوم عرفہ ہے اور حج اکبر یوم النحر۔ ٢ ؎: یعنی شعبہ والی روایت میں ابواسحاق سبیعی اور حارث کے درمیان عبداللہ بن مرہ کے واسطے کا اضافہ ہے جب کہ دیگر حفاظ کی روایت میں ایسا نہیں ہے۔
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ حجر اسود اور رکن یمانی پر ایسی بھیڑ لگاتے تھے جو میں نے صحابہ میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا۔ تو میں نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! آپ دونوں رکن پر ایسی بھیڑ لگاتے ہیں کہ میں نے صحابہ میں سے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا؟ تو انہوں نے کہا: اگر میں ایسا کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ان پر ہاتھ پھیرنا گناہوں کا کفارہ ہے ۔ اور میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: جس نے اس گھر کا طواف سات مرتبہ (سات چکر) کیا اور اسے گنا، تو یہ ایسے ہی ہے گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا۔ اور میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: وہ جتنے بھی قدم رکھے اور اٹھائے گا اللہ ہر ایک کے بدلے اس کی ایک غلطی معاف کرے گا اور ایک نیکی لکھے گا ۔
Abu Ubayd ibn Umayr reported from his father that Sayyidina ibn Umar used to crowd (stop) at the two corners. So, he said to him, “O Abu Abdur Rahman! you stop at the two corners making a crowd. I have not seen any of the Prophet’s ﷺ companions stop here.” He said, “If I do that then I had heard Allah’s Messenger ﷺ say, ‘The touching of these two is an atonement of sins’. And I had heard him say, ‘If anyone makes circuit of this House seven times and counts them then it is like setting a slave free’. And, I had heard him say, ‘Hardly is a foot put down (during tawaf) and the other raised, but Allah obliterates by it sin from him and ious deed is recorded for him’.” [Ahmed 5706]
(قوله:صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 959
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- حماد بن زید نے بطریق: «عطا بن السائب، عن ابن عبید بن عمير، عن ابن عمر» روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے ابن عبید کے باپ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیت اللہ کے گرد طواف نماز کے مثل ہے۔ البتہ اس میں تم بول سکتے ہو (جب کہ نماز میں تم بول نہیں سکتے) تو جو اس میں بولے وہ زبان سے بھلی بات ہی نکالے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The tawaf round the House is like the salah except that you converse during it (the tawaf). And, he who converses does not do so except with a good word.”
صحيح، الإرواء (121)، المشکاة (2576)، التعليق الرغيب (2 / 121)، التعليق علی ابن خزيمة (2739)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 960
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث ابن طاؤس وغیرہ نے ابن عباس سے موقوفاً روایت کی ہے۔ ہم اسے صرف عطاء بن سائب کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں، ٢- اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے، یہ لوگ اس بات کو مستحب قرار دیتے ہیں کہ آدمی طواف میں بلا ضرورت نہ بولے (اور اگر بولے) تو اللہ کا ذکر کرے یا پھر علم کی کوئی بات کہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جس سے یہ دیکھے گا، ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولے گا۔ اور یہ اس شخص کے ایمان کی گواہی دے گا جس نے حق کے ساتھ (یعنی ایمان اور اجر کی نیت سے) اس کا استلام کیا ہوگا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said concerning the (Black) stone, “By Allah! Allah will raise it on the Day of Resurrection such that it will have two eyes with which it will see, and a tongue whereby it will speak to give testimony over those who made its istilam with truth, (meaning) touched it or kissed it truly).” [Ibn e Majah 2944]
صحيح، المشکاة (2578)، التعليق الرغيب (2 / 122)، التعليق علی ابن خزيمة (2735)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 961
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کو چوما یا چھوا ہوگا یہ حدیث اپنے ظاہر ہی پر محمول ہوگی اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ حجر اسود کو آنکھیں اور زبان دیدے اور دیکھنے اور بولنے کی طاقت بخش دے بعض لوگوں نے اس حدیث کی تاویل کی ہے کہ یہ کنایہ ہے حجر اسود کا استلام کرنے والے کو ثواب دینے اور اور اس کی کوشش کو ضائع نہ کرنے سے لیکن یہ محض فلسفیانہ موشگافی ہے، صحیح یہی ہے کہ حدیث کو ظاہر ہی پر محمول کیا جائے۔ اور ایسا ہونے پر ایمان لایا جائے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ حالت احرام میں زیتون کا تیل لگاتے تھے اور یہ (تیل) بغیر خوشبو کے ہوتا تھا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ used to apply to himself while he was a muhrim olive oil which was not perfumed. [Ahmed4783, Ibn e Majah 3083] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 962
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف فرقد سبخی کی روایت سے جانتے ہیں، اور فرقد نے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے۔ یحییٰ بن سعید نے فرقد سبخی کے سلسلے میں کلام کیا ہے، اور فرقد سے لوگوں نے روایت کی ہے، ٢- مقتت کے معنی خوشبودار کے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محرم کے لیے زیتون کا تیل جس میں خوشبو کی ملاوٹ نہ ہو لگانا جائز ہے، لیکن حدیث ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٨ (٣٠٨٣)، ( تحفة الأشراف: ٧٠٦٠) (ضعیف الإسناد) (سند میں فرقد سبخی لین الحدیث اور کثیر الخطاء راوی ہں ذ) (وأخرجہ صحیح البخاری/الحج ١٨ (١٥٣٧) موقوفا علی ابن عمر وہو أصح)
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ زمزم کا پانی ساتھ مدینہ لے جاتی تھیں، اور بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ بھی زمزم ساتھ لے جاتے تھے ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported that she used to carry the water of zamzam with her. She also reported that Allah’s Messenger ﷺ (also) carried it (with him).
صحيح، الصحيحة (883)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 963
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ حاجیوں کے لیے زمزم کا پانی مکہ سے اپنے وطن لے جانا مستحب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦٩٠٥) (صحیح) (سند میں خلاد بن یزید جعفی کے حفظ میں کچھ کلام ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے کہا: مجھ سے آپ کوئی ایسی بات بیان کیجئیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے یاد کر رکھی ہو۔ بتائیے آپ نے آٹھویں ذی الحجہ کو ظہر کہاں پڑھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں، (پھر) میں نے پوچھا: اور کوچ کے دن عصر کہاں پڑھی؟ کہا: ابطح میں لیکن تم ویسے ہی کرو جیسے تمہارے امراء و حکام کرتے ہیں۔
Abdul Aziz ibn Rafay narrated that he asked Sayyidina Anas (RA), “Narrate to me something of what you learnt from Allah’s Messenger ﷺ . Where did he pray the zuhr on the day of tarwiyah (8th Dhul Hajjah)?” He said, “At Mina.” He asked, “And where did he pray the asr on the day of departure?” He said, “At Abtah.” And he said, “Do as your chiefs do.” [Bukhari 1763, Muslim 1309, Abu Dawud 1912, Nisai 2994]
صحيح، صحيح أبي داود (1670)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 964
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور اسحاق بن یوسف الازرق کی روایت سے غریب جانی جاتی ہے جسے انہوں نے ثوری سے روایت کی ہے۔
میں نے نبی اکرم ﷺ کو «لبيك بعمرة وحجة» فرماتے سنا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر اور عمران بن حصین سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، اہل کوفہ وغیرہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
Anas narrated: I heard the Prophet saying: (Labbaika Bi'umratin wa Hajjah) 'Here I am for 'Umrah and Hajj.'
میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ ایک اونٹنی پر جمرات کی رمی کر رہے تھے، نہ لوگوں کو دھکیلنے اور ہانکنے کی آواز تھی اور نہ ہٹو ہٹو کی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- قدامہ بن عبداللہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اسی طریق سے جانی جاتی ہے، یہ ایمن بن نابل کی حدیث ہے۔ اور ایمن اہل حدیث ( محدثین ) کے نزدیک ثقہ ہیں، ۳- اس باب میں عبداللہ بن حنظلہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Qudamah bin Abdullah said: I saw the Prophet stoning the Jimar upon his she-camel; there was no hitting, nor crowding, nor: 'Look out! Look out!'
ہم ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے کہ عید الاضحی کا دن آ گیا، چنانچہ گائے میں ہم سات سات لوگ اور اونٹ میں دس دس لوگ شریک ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ حسین بن واقد کی حدیث ( روایت ) ہے۔
Ibn Abbas narrated: We were with the Prophet on a journey (on the Day of) Adha, so seven of us shared in a cow, and ten for a camel.