عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہوچکا ہے ۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “Till the Last Day, umrah is included in Hajj.” [Ahmed2115, Muslim 1241, Abu Dawud 1790, Nisai 2811]
صحيح، صحيح أبي داود (1571)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 932
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں سراقہ بن جعشم اور جابر بن عبداللہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہی تشریح شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ نے بھی کی ہے کہ جاہلیت کے لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ نہیں کرتے تھے، جب اسلام آیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی اجازت دے دی اور فرمایا: عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہوچکا ہے ، یعنی حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اشہر حج شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن ہیں ، کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ حج کے مہینوں کے علاوہ کسی اور مہینے میں حج کا احرام باندھے، اور حرمت والے مہینے یہ ہیں: رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مگر حرمت والے مہینوں کا حج کے لیے احرام باندھنے سے کوئی تعلق نہیں ہے، امام (رح) نے ان کا ذکر صرف وضاحت کے لیے کیا ہے تاکہ دونوں خلط ملط نہ جائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٤٣٠١) (صحیح) (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں، لیکن متابعات وشواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الحج ٣١ (١٢٤١)، سنن ابی داود/ المناسک ٢٣ (١٧٩٠)، سنن النسائی/الحج ٧٧ (١٨١٧)، مسند احمد ( ١/٢٣٦، ٢٥٣، ٢٥٩، ٣٤١)، سنن الدارمی/المناسک ١٨ (١٨٩٨)، من غیر ہذا الطریق، وأصلہ عند: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٣ (١٠٨٥)، والحج ٢٣ (١٥٤٥)، و ٣٤ (١٥٦٤)، والشرکة ١٥ (٢٥٠٥)، ومناقب الأنصار ٢٦ (٣٨٣٢)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عمرے کے بعد دوسرا عمرہ درمیان کے تمام گناہ مٹا دیتا ہے ١ ؎ اور حج مقبول ٢ ؎ کا بدلہ جنت ہی ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “An Umrah till another umrah is expiation for what is between the two (of sins). And a Hajj that is accepted has no reward except Paradise for it.” [Ahmed9955, Bukhari 1773, Muslim 1349, Nisai 2625, Ibn e Majah 2888] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2888)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 933
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد صغائر ( چھوٹے گناہ ) ہیں نہ کہ کبائر ( بڑے گناہ ) کیونکہ کبائر بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔ ٢ ؎: حج مقبول وہ حج ہے جس میں کسی گناہ کی ملاوٹ نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧٩ (١٣٤٩)، ( تحفة الأشراف: ١٢٥٥٦)، مسند احمد (٢/٢٤٦، ٤٦١) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/العمرة (١٧٧٣)، صحیح مسلم/الحج (المصدرالمذکور) سنن النسائی/الحج ٣ (٢٦٢٣)، و ٥ (٢٦٣٠)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣ (٢٨٨٨)، موطا امام مالک/الحج ٢١ (٦٥)، مسند احمد (٢/٢٦٢)، سنن الدارمی/المناسک ٧ (١٨٠٢)، من غیر ہذا الطریق۔
عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ عائشہ ؓ کو تنعیم ١ ؎ سے عمرہ کرائیں۔
Sayyidina Abdur Rahman ibn Abu Bakr (RA) said that the Prophet ﷺ commanded him to get Sayyidah Ayshah ‘ to assume the ihram for umrah from Tan’im. [Muslim 1212, Ibn e Majah 2999]
صحيح، ابن ماجة (2999)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 934
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: تنعیم مکہ سے باہر ایک معروف جگہ کا نام ہے جو مدینہ کی جہت میں مکہ سے چار میل کی دوری پر ہے، عمرہ کے لیے اہل مکہ کی میقات حل ( حرم مکہ سے باہر کی جگہ ) ہے، اور تنعیم چونکہ سب سے قریبی حِل ہے اس لیے آپ نے عائشہ ؓ کو تنعیم سے احرام باندھنے کا حکم دیا۔ اور یہ عمرہ ان کے لیے اس عمرے کے بدلے میں تھا جو وہ حج سے قبل حیض آ جانے کی وجہ سے نہیں کرسکی تھیں، اس سے حج کے بعد عمرہ پر عمرہ کرنے کی موجودہ چلن پر دلیل نہیں پکڑی جاسکتی۔
محرش کعبی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جعرانہ سے رات کو عمرے کی نیت سے نکلے اور رات ہی میں مکہ میں داخل ہوئے، آپ نے اپنا عمرہ پورا کیا، پھر اسی رات (مکہ سے) نکل پڑے اور آپ نے واپس جعرانہ ١ ؎ میں صبح کی، گویا آپ نے وہیں رات گزاری ہو، اور جب دوسرے دن سورج ڈھل گیا تو آپ وادی سرف ٢ ؎ سے نکلے یہاں تک کہ اس راستے پر آئے جس سے وادی سرف والا راستہ آ کر مل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے (بہت سے) لوگوں سے آپ کا عمرہ پوشیدہ رہا۔
Sayyidina Muharrish Ka’bi (RA) reported that Allah’s,Messenger ﷺ came out of Ji’ranah on a night to perform umrah and came to Makkah while it was.(still) night and performed Umrah.Then he went Out in the night and saw the morning In Ju’ranah as one spends the night. When the sun declined next day, he went Out and came to Sarif where the two roads meet. This is why this umrah of his is unknown to the people. [Ahmed15512, Abu Dawud 1996, Nisai 2863]
صحيح، صحيح أبي داود (1742)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 935
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ہم اس حدیث کے علاوہ محرش کعبی کی کوئی اور حدیث نہیں جانتے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہو اور کہا جاتا ہے: «جاء مع الطريق» والا ٹکڑا موصول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔ ٢ ؎: مکہ سے تین میل کی دوری پر ایک جگہ ہے۔
عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ سے پوچھا گیا: رسول اللہ ﷺ نے کس مہینے میں عمرہ کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: رجب میں، اس پر عائشہ ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے جو بھی عمرہ کیا، اس میں وہ یعنی ابن عمر آپ کے ساتھ تھے، آپ نے رجب کے مہینے میں کبھی بھی عمرہ نہیں کیا ١ ؎۔
Sayyidina Urwab (RA) said that Sayyidina Ibn Umar (RA) was asked, “In which months did Allah’s Messenger ﷺ perform Umrah?” He said, “In Rajab.” But Sayyidah Ayshah ﷺ said, “He did not perform umrah but he, meaning Ibn Umar (RA) , was and he never performed umrah in Rajab.” [Bukhari 1775, Muslim 1255, Abu Dawud 1992, Ibn e Majah 2998]
صحيح، ابن ماجة (2997 و 2998)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 936
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ جبیب بن ابی ثابت نے عروہ بن زبیر سے نہیں سنا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ابن عمر عائشہ ؓ کی یہ بات سن کر خاموش رہے، کچھ نہیں بولے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ ان پر مشتبہ تھا، یا تو وہ بھول گئے تھے، یا انہیں شک ہوگیا تھا، اسی وجہ سے ام المؤمنین کی بات کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، اس سلسلہ میں صحیح بات ام المؤمنین کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٧ (٢٩٩٨)، ( تحفة الأشراف: ١٧٣٧٣)، وراجع ما عند صحیح البخاری/العمرة ٣ (١٧٧٦)، صحیح مسلم/الحج ٣٥ (١٢٥٥، ١٢٩) (صحیح)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے چار عمرے کیے، ان میں سے ایک رجب میں تھا ١ ؎۔
Ahmad ibn Mani reported, from Hasan ibn Musa, from Shayban, from Mansur, from Mujahid and from Ibn Umar (RA) that the Prophet ﷺ performed four umrah, one of which he performed in Rajab.” [Ahmed6250, Bukhari 1775, Muslim 1255, Abu Dawud 1992]
صحيح، ولكنه مختصر من السياق الذی قبله، وفيه انکار عائشة عمرة رجبصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 937
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ترمذی نے یہ حدیث مختصراً روایت کی ہے شیخین نے اسے «جریر عن منصور عن مجاہد» کے طریق سے مفصلاً روایت کی ہے صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں «قال: دخلت أنا وعروۃ بن الزبیر المسجد فإذا عبداللہ بن عمر جالس إلی حجرۃ عائشۃ، وإذا ناس یصلون فی المسجد صلاۃ الضحیٰ، قال: فسألناہ عن صلاتہم فقال: بدعۃ، ثم قال لہ: کم اعتمر النبي صلی اللہ عليه وسلم قال: اربع احداہن فی رجب، فکرہنا أن نردعلیہ وقال: سمعنا استنان عائشۃ أم المؤمنین فی الحجرۃ فقال عروۃ: یا أم المؤمنین! ألاتسمعین ما یقول ابوعبدالرحمٰن؟ قالت: مایقول؟ قال: یقول: أن رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم اعتمر أربع عمرات إحداہن فی رجب، قالت: - ی (رح) اباعبدالرحمٰن - ما اعتمر عمرۃ إلا وہو شاہد، وما اعتمرفی رجب قط»۔ مجاہد کہتے ہیں کہ میں اور عروہ بن زبیر مسجد نبوی میں داخل ہوئے اور عبداللہ بن عمر ؓ کو عائشہ ؓ کے حجرے کے پاس بیٹھا پایا، لوگ مسجد میں نماز الضحی ( چاشت کی نماز ) پڑھ رہے تھے، ہم نے ابن عمر ؓ سے ان لوگوں کی نماز کے بارے میں پوچھا، فرمایا: یہ بدعت ہے، پھر مجاہد نے ان سے پوچھا نبی اکرم ﷺ نے کتنے عمرے کئے تھے؟ کہا: چار عمرے ایک ماہ رجب میں تھا، ہم نے یہ ناپسند کیا کہ ان کی تردید کریں، ہم نے ام المؤمنین عائشہ کی حجرے میں آواز سنی تو عروہ نے کہا: ام المؤمنین ابوعبدالرحمٰن ابن عمر جو کہہ رہے ہیں کیا آپ اسے سن رہی ہیں؟ کہا: کیا کہہ رہے ہیں؟، کہا کہہ رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چار عمرے کئے ایک رجب میں تھا فرمایا: اللہ ابوعبدالرحمٰن ابن عمر پر اپنا رحم فرمائے، رسول اللہ ﷺ کے ہر عمرہ میں وہ حاضر تھے ( پھر بھی یہ بات کہہ رہے ہیں ) آپ نے رجب میں ہرگز عمرہ نہیں کیا۔
براء ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ذی قعدہ کے مہینہ میں عمرہ کیا ١ ؎۔
Sayyidina Bara ibn Aazib narrated that the Prophet ﷺ (RA) performed umrah in Dhul Qa’dah. [Bukhari 1844]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 938
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بخاری کی ایک روایت میں ہے «اعتمر رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم في ذي القعدة قبل أن يحج مرتين»۔ نبی اکرم ﷺ نے حج سے پہلے آپ نے ذوقعدہ میں دو مرتبہ عمرہ کیا )۔
ام معقل ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رمضان کا عمرہ ایک حج کے برابر ہے ۔
Umm Ma’qil (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Performing umrah in Ramadan is parallel to performing Hajj.” [Ahmed2736, Abu Dawud 1988, Ibn e Majah 2993]
صحيح، ابن ماجة (2993)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 939
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ام معقل کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- ( وہب کے بجائے) ھرم بن خنبش بھی کہا جاتا ہے۔ بیان اور جابر نے یوں کہا ہے «عن الشعبي عن وهب بن خنبش» اور داود اودی نے یوں کہا ہے «عن الشعبي عن هرم بن خنبش» لیکن صحیح وہب بن خنبش ہی ہے، ٣- اس باب میں ابن عباس، جابر، ابوہریرہ، انس اور وہب بن خنبش ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے کہ رمضان کا عمرہ حج کے ثواب برابر ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کا مفہوم بھی اس حدیث کے مفہوم کی طرح ہے جو نبی اکرم ﷺ سے روایت کی گئی ہے کہ جس نے سورة «قل هو اللہ أحد» پڑھی اس نے تہائی قرآن پڑھا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر اعتبار سے عمرہ حج کے برابر ہے، بلکہ صرف اجر و ثواب میں حج کے برابر ہے، ایسا نہیں کہ اس سے فریضہء حج ادا ہوجائے گا، یا نذر مانا ہوا حج پورا ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٤٥ (٢٩٩٣) (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٠) (صحیح)
حجاج بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا کوئی عضو ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہوجائے تو اس کے لیے احرام کھول دینا درست ہے، اس پر دوسرا حج لازم ہوگا
Ikrimah said that Hajjaj ibn Amr narrated to him that the Prophet ﷺ said, “If anyone breaks a limb or becomes lame then he comes out of the ihram and it becomes wajib for him to perform Hajj nextyear.” He narrated the hadith to Abu Hurayrab and Ibn Abbas (RA) • .,- and they said, “He spoke the truth.” [ Abu Dawud 1862, Nisai 2860]
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، تو کیا میں شرط لگا سکتی ہوں؟ (کہ اگر کوئی عذر شرعی لاحق ہوا تو احرام کھول دوں گی) آپ نے فرمایا: ہاں، تو انہوں نے پوچھا: میں کیسے کہوں؟ آپ نے فرمایا: «لبيك اللهم لبيك لبيك محلي من الأرض حيث تحبسني» حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں حاضر ہوں، میرے احرام کھولنے کی جگہ وہ ہے جہاں تو مجھے روک دے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Sayyidah Duba’ah bint Zubayr (RA) met the Prophet ﷺ and asked him, “O Messenger.of Allah! I intend to perform Hajj, May I place a condition?” He said, “Yes.” She asked, “How?” He said, “Say: Here am I, O Allah! Here am I . I will come out of the sacred state whereever You stop me. [Ahmed3117, Muslim 1208, Nisai 2761, Ibn e Majah 2938] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2938)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 941
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر، اسماء بنت ابی بکر اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے، وہ حج میں شرط لگا لینے کو درست سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس نے شرط کرلی پھر اسے کوئی مرض یا عذر لاحق ہوا تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ حلال ہوجائے اور اپنے احرام سے نکل آئے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٤- بعض اہل علم حج میں شرط لگانے کے قائل نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس نے شرط لگا بھی لی تو اسے احرام سے نکلنے کا حق نہیں، یہ لوگ اسے اس شخص کی طرح سمجھتے ہیں جس نے شرط نہیں لگائی ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ لوگ ضباعہ بنت زبیر کی روایت کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ضباعہ ہی کے ساتھ خاص تھا، ایک تاویل یہ بھی کی گئی ہے کہ «محلي حيث حبسني» میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے کا معنی «محلي حيث حبسني الموت» میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو نے مجھے موت دے دی ہے کیونکہ مرجانے سے احرام خود بخود ختم ہوجاتا ہے لیکن یہ دونوں تاویلیں باطل ہیں، ایک قول یہ ہے کہ شرط خاص عمرہ سے تحلل کے ساتھ ہے حج کے تحلل سے نہیں، لیکن ضباعہ کا واقعہ اس قول کو باطل کردیتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٢٢ (١٧٧٦)، سنن النسائی/الحج ٦٠ (٢٧٦٧)، سنن الدارمی/المناسک ١٥ (١٨٥٢)، ( تحفة الأشراف: ٦٢٣٢) (صحیح) و أخرجہ: سنن النسائی/الحج ٥٩ (٢٧٦٦)، و ٦٠ (٢٧٦٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٤ (٢٩٣٨)، مسند احمد (١/٣٥٣٧) من غیر ہذا الطریق۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ حج میں شرط لگانے سے انکار کرتے تھے اور کہتے تھے: کیا تمہارے لیے تمہارے نبی اکرم ﷺ کا طریقہ کافی نہیں ہے ١ ؎۔
Saalim ﷺ reported from his father that he denied placing condition in (the resolve of) Hajj, saying, “Is not the sunnah of your Prophet ﷺ ?nough for you?
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 942
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دراصل ابن عمر ؓ نے یہ بات ابن عباس ؓ کی تردید میں کہی تھی جو شرط لگانے کا فتوی دیتے تھے، ان کو ضباعہ ؓ والی حدیث نہیں پہنچی تھی ورنہ ایسی بات نہ کہتے، اور آپ کا اشارہ صلح حدیبیہ میں نبی اکرم ﷺ کے عمرہ سے روک دیئے جانے کی طرف تھا۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا کہ صفیہ بنت حیی منیٰ کے دنوں میں حائضہ ہوگئی ہیں، آپ نے پوچھا: کیا وہ ہمیں (مکے سے روانہ ہونے سے) روک دے گی؟ لوگوں نے عرض کیا: وہ طواف افاضہ کرچکی ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تب تو کوئی حرج نہیں ۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated that Allah’s Messenger was told that (Sayyidah) Safiyah bint Huyyay began to mentsruate during the days of Mina. He asked “Will she detain us?” They said, “She has performed the tawaf ifadah.” So, he said, “Then, there’s no need to stay behind.” [Ahmed24168, Muslim 1211]
صحيح، ابن ماجة (3072 و 3073)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 943
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ام المؤمنین عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عورت جب طواف زیارت کرچکی ہو اور پھر اسے حیض آ جائے تو وہ روانہ ہوسکتی ہے، طواف وداع چھوڑ دینے سے اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی۔ یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦٧ (١٢١١/٣٨٣) (تحفة الأشراف: ١٧٥١٢) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحیض ٢٧ (٣٢٨)، والحج ١٢٩ (١٧٣٣)، و ١٤٥ (١٧٥٧)، و ١٥ (١٧٧١)، صحیح مسلم/الحج (المصدر المذکور رقم: ٣٨٢)، سنن ابی داود/ الحج ٨٥ (٢٠٠٣)، سنن النسائی/الحیض ٢٣ (٣٩١)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٣ (٣٠٧٢)، موطا امام مالک/الحج ٧٥ (٢٦٦)، مسند احمد (٦/٣٨، ٣٩، ٨٢، ٩٩، ١٢٢، ١٦٤، ١٧٥، ١٩٣، ٢٠٢، ٢٠٧، ٢١٣، ٢٢٤، ٢٣١، ٢٥٣)، سنن الدارمی/المناسک ٧٣ (١٩٥٨) من غیر ہذا الطریق۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جس نے بیت اللہ کا حج کیا، اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف (وداع) ہونا چاہیئے حائضہ عورتوں کے سوا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں رخصت دی ہے۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) said, “One who performs the Hajj must make the last tawaf at the House, but Allah’s Messenger ﷺ has allowed women to go without observing it. --------------------------------------------------------------------------------
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ مجھے حیض آگیا چناچہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے طواف کے علاوہ سبھی مناسک ادا کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah (RA) said, “I was menstruating. So the Prophet ﷺ commanded me to observe all the rituals except the tawaf of House.
صحيح، ابن ماجة (2963)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 945
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس طریق کے علاوہ سے بھی عائشہ سے مروی ہے۔ ٢- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ حائضہ خانہ کعبہ کے طواف کے علاوہ سبھی مناسک ادا کرے گی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بخاری و مسلم کی روایت میں ہے «أهلي بالحج واصنعي ما يصنع الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت» یعنی حج کا تلبیہ پکارو اور وہ سارے کام کرو جو حاجی کرتا ہے سوائے خانہ کعبہ کے طواف کے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦٠١٣) (صحیح) (سند میں جابر جعفی سخت ضعیف ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحیض ٧ (٣٠٥)، والحج ٣٣ (١٥٠٦)، و ٨١ (١٦٥٠)، والعمرة ٩ (١٧٨٨)، والأضاحي ٣ (٥٥٤٨)، و ١٠ (٥٥٥٩)، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، سنن ابی داود/ المناسک ٢٣ (١٧٨٢)، سنن النسائی/الطہارة ١٨٣ (٢٩١)، والحیض ١ (٣٤٩)، والجہاد ٥ (٢٧٤٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٦ (٢٩٦٣)، سنن الدارمی/المناسک ٦٢ (١٩٤٥) من غیر ہذا الطریق وبسیاق آخر۔
حارث بن عبداللہ بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے اس گھر (بیت اللہ) کا حج یا عمرہ کیا تو چاہیئے کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ہو۔ تو ان سے عمر ؓ نے کہا: تم اپنے ہاتھوں کے بل زمین پر گرو یعنی ہلاک ہو، تم نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی اور ہمیں نہیں بتائی ١ ؎۔
Sayyidina Harith ibn Abdullah ibn Aws (RA) narrated that he heard the Prophet ﷺ say, “One who performs the Hajj of this House, or the Umrah, let his last rite be tawaf of the House.” Sayyidiana Umar .(RA) said to him, “How sad! You heard this from Allah’s Messenger 3i and did not inform us of it!” [Ahmed15442, Abu Dawud 2004]
منکر بهذا اللفظ، و، الصحيحة معناه دون قوله: أو اعتمر، صحيح أبي داود (1749)، الضعيفة (4585) // عندنا برقم (1763 / 2002)، ضعيف الجامع الصغير (5555) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 946
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- حارث بن عبداللہ بن اوس ؓ کی حدیث غریب ہے، اسی طرح دوسرے اور لوگوں نے بھی حجاج بن ارطاۃ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ اور اس سند کے بعض حصہ کے سلسلہ میں حجاج سے اختلاف کیا گیا ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ طواف وداع واجب ہے یہی اکثر علماء کا قول ہے، وہ اس کے ترک سے دم کو لازم قرار دیتے ہیں، امام مالک، داود اور ابن المنذر کہتے ہیں کہ یہ سنت ہے اور اس کے ترک سے کوئی چیز لازم نہیں آتی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، ( تحفة الأشراف: ٣٢٧٨) وانظر مسند احمد (٣/٤١٦-٤١٧) (منکر) (اس لفظ سے منکر ہے، لیکن اس کا معنی دوسرے طرق سے صحیح ہے، اور ” أواعتمر “ کا لفظ ثابت نہیں ہے، سند میں ” عبدالرحمن بن بیلمانی ضعیف ہیں، اور حجاج بن ارطاة مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کو ملا کر ایک ساتھ کیا اور ان کے لیے ایک ہی طواف کیا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) said, that Allah’s Messenger ﷺ performed the qiran (which combines) Hajj and Umrah. He made only one tawaf for both. [Ibn e Majah 2973]
صحيح، ابن ماجة (2971 - 2974)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 947
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر اور ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- صحابہ کرام ؓ وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حج قران کرنے والا ایک ہی طواف کرے گا۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٤- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ وہ دو طواف اور دو سعی کرے گا۔ یہی ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے جمہور نے استدلال کیا ہے جو کہتے ہیں کہ قارن کے لیے ایک ہی طواف کافی ہے۔ اور اس سے مراد «طواف بین الصفا والمروۃ» یعنی سعی ہے نہ کہ خانہ کعبہ کا طواف، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع میں عمرہ میں بھی خانہ کعبہ کا طواف کیا، اور یوم النحر کو طواف افاضہ بھی کیا، البتہ طواف افاضہ میں صفا و مروہ کی سعی نہیں کی ( دیکھئیے صحیح مسلم کتاب الحج باب رقم: ١٩)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٦٧٧) (صحیح) (سند میں حجاج بن ارطاة اور ابوالزبیر دونوں مدلس راوی ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا اس کے لیے ایک طواف اور ایک سعی کافی ہے یہاں تک کہ وہ ان دونوں کا احرام کھول دے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “Onewho has assumed the ihram for Hajj and Umrah should suffice with one tawaf and sa’i for both till he comes out of the sacredstate from both.” [Ahmed5350, Ibn e Majah 2975]
صحيح، ابن ماجة (2975)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 948
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت کرنے میں عبدالعزیز دراوردی منفرد ہیں، اسے دوسرے کئی اور لوگوں نے بھی عبیداللہ بن عمر (العمری) سے روایت کیا ہے، لیکن ان لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٩ (٢٩٧٥)، ( تحفة الأشراف: ٨٠٢٩) (صحیح)
علاء بن حضرمی ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مہاجر اپنے حج کے مناسک ادا کرنے کے بعد مکہ میں تین دن ٹھہر سکتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ata ibn Hadrami (RA) reported in a marfu’ form that the muhajir must tarry in Makkah for three days after having observed his rites (pertaining to Hajj). [Ahmed19006, Bukhari 1832, Muslim 441]
صحيح، ابن ماجة (1073)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 949
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور اس سند سے اور طرح سے بھی یہ حدیث مرفوعاً روایت کی گئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلے منیٰ سے لوٹنے کے بعد مہاجرین کی مکہ میں اقامت جائز نہیں تھی، بعد میں اسے جائز کردیا گیا اور تین دن کی تحدید کردی گئی، اس سے زیادہ کی اقامت اس کے لیے جائز نہیں کیونکہ اس نے اس شہر کو اللہ کی رضا کے لیے چھوڑ دیا ہے لہٰذا اس سے زیادہ وہ وہاں قیام نہ کرے، ورنہ یہ اس کے واپس آ جانے کے مشابہ ہوگا ( یہ مدینے کے مہاجرین مکہ کے لیے خاص تھا )۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کسی غزوے، حج یا عمرے سے لوٹتے اور کسی بلند مقام پر چڑھتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے، پھر کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو علی كل شيء قدير آيبون تائبون عابدون سائحون لربنا حامدون صدق اللہ وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ سلطنت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم لوٹنے والے ہیں، رجوع کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، سیر و سیاحت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا ہی ساری فوجوں کو شکست دے دی ،
Sayyidina Ibn Umar (RA) said that whenever the Prophet ﷺ returned from a battle or Hajj or Umrah and came across a height or an uneven place, he called the takbir (Allahu Akbar) three times and said: There is no God but Allah Who is Alone and Who has no partner. To Him belongs the dominion and for Him is all praise, and He is over all things Powerful. We return repentant, worshipping, returners for our Lord, glorifying and praising our Lord. Allah made His promise true and helped .His slave and He alone routed the confederates. [Ahmed49603, Bukhari 1797, Muslim 1344]
صحيح، صحيح أبي داود (2475)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 950
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں براء، انس اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، آپ نے دیکھا کہ ایک شخص اپنے اونٹ سے گرپڑا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا وہ محرم تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے اس کے انہی (احرام کے) دونوں کپڑوں میں کفناؤ اور اس کا سر نہ چھپاؤ، اس لیے کہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) s narrated that they were with the Prophet ﷺ a ourney. They saw a man fall down from his camel. He broke his neck and died. He was a muhrim. So, Allah’s Messenger ﷺ said, “Give him a bath with water and lotus leaves, shroud him in his two garments and do not cover his head, for, he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Kalimah or the talbiyah.” (The narrator said the tahlil or the talbiyah) [Ahmed3230, Bukhari 1849, Muslim 1206, Nisai 2710, Ibn e Majah 3084]
صحيح، ابن ماجة (3084)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 951
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٣- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب محرم مرجاتا ہے تو اس کا احرام ختم ہوجاتا ہے، اور اس کے ساتھ بھی وہی سب کچھ کیا جائے گا جو غیر محرم کے ساتھ کیا جاتا ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ قول حنفیہ اور مالکیہ کا ہے، ان کی دلیل ابوہریرہ کی حدیث «إذا مات ابن آدم انقطع عمله» ہے اور باب کی حدیث کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ ممکن ہے نبی اکرم ﷺ کو وحی کے ذریعہ یہ بتادیا گیا ہو کہ یہ شخص مرنے کے بعد اپنے احرام ہی کی حالت میں باقی رہے گا، یہ خاص ہے اسی آدمی کے ساتھ، لیکن کیا اس خصوصیت کی کوئی دلیل ہے؟، ایسی فقہ کا کیا فائدہ جو قرآن وسنت کی نصوص کے ہی خلاف ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٢١ (١٢٦٨)، وجزاء الصید ٢٠ (١٨٤٩)، صحیح مسلم/الحج ١٤ (١٢٠٦)، سنن ابی داود/ الجنائز ٨٤ (٣٢٢٨)، سنن النسائی/الجنائز (١٩٠٥)، والحج ٤٧ (٢٧١٥)، و ١٠١ (١٨٦١)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٩ (٣٠٨٤)، ( تحفة الأشراف: ٥٥٨٢)، مسند احمد (١/٣٤٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز ١٩ (١٢٦٥)، و ٢٠ (١٢٦٦)، و ٢١ (١٢٦٧)، وجزاء الصید ١٣ (١٨٣٩)، و ٢١ (١٨٥١)، صحیح مسلم/الحج (المصدرالمذکور)، سنن النسائی/الحج ٤٧ (٢٧١٤)، و ٩٧ (٢٨٥٦)، و ٩٨ (٢٨٥٧)، و ٩٩ (٢٨٥٨، ٢٨٥٩)، و ١٠٠ (٢٨٦٠)، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٦٦، ٢٨٦)، سنن الدارمی/المناسک ٣٥ (١٨٩٤) من غیر ہذا الطریق۔