انس بن مالک ؓ کہتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ نے جمرہ کی رمی کرلی تو اپنے ہدی کے اونٹ نحر (ذبح) کیے۔ پھر سر مونڈنے والے کو اپنے سر کا داہنا جانب ١ ؎ دیا اور اس نے سر مونڈا، تو یہ بال آپ نے ابوطلحہ کو دئیے، پھر اپنا بایاں جانب اسے دیا تو اس نے اسے بھی مونڈا تو آپ نے فرمایا: یہ بال لوگوں میں تقسیم کر دو
Sayyidina Anas ibn Maalik said that when Allah’s Messenger ﷺ pelted pebbles at the jamrat, he sacrificed the animals. After that he called the barber and put the right side of his head towards him. He shaved it and he.gave the hair to Abu Talhah. Then he put the left side towards him and he shaved it. The Prophet ﷺ told him, “Divide them among the people.” [Ahmed12093, Muslim 1305, Abu Dawud 1981]
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سر منڈوایا، صحابہ کی ایک جماعت نے بھی سر مونڈوایا اور بعض لوگوں نے بال کتروائے۔ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بار یا دو بار فرمایا: اللہ سر مونڈانے والوں پر رحم فرمائے ، پھر فرمایا: کتروانے والوں پر بھی ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ had his hair shaved and a section of his Companions also had their hair shaved, but some of them had theirs clipped. He added that Allah’s Messenger ﷺ said once or twice, “May Allah have mercy on those who have shaved.” After that he said, “And those who have clipped.” [Ahmed6012, Bukhari 1727, Muslim 1301, Ibn e Majah 3044]
صحيح، ابن ماجة (3044)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 913
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، ابن ام الحصین، مارب، ابو سعید خدری، ابومریم، حبشی بن جنادہ اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور وہ آدمی کے لیے سر منڈانے کو پسند کرتے ہیں اور اگر کوئی صرف کتروا لے تو وہ اسے بھی اس کی طرف سے کافی سمجھتے ہیں۔ یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حلق ( منڈوانا ) تقصیر ( کٹوانے ) کے مقابلہ میں افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٢٧ (تعلیقا عقب حدیث ١٧٢٧)، صحیح مسلم/الحج ٥٥ (١٣٠١) (تحفة الأشراف: ٨٢٦٩) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحج ١٢٧ (١٧٢٧)، صحیح مسلم/الحج (المصدر المذکور)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧١ (٣٠٤٣)، موطا امام مالک/الحج ٦٠ (١٨٤)، مسند احمد (٢/٣٤، ١٣٨، ١٥١)، سنن الدارمی/المناسک ٦٤ (١٩٤٧) من غیر ہذا الطریق۔
اس سند سے بھی خلاس سے اسی طرح مروی ہے، لیکن اس میں انہوں نے علی ؓ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Muhammad ibn Bashshar reported a similar hadith from Abu Dawud, from Hammam from Khilas without mentioning Sayyidina Ali
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی حدیث میں اضطراب ہے، یہ حدیث حماد بن سلمہ سے بطریق: «قتادة عن عائشة أن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عورت کو اپنا سر مونڈانے سے منع فرمایا، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ عورت کے لیے سر منڈانے کو درست نہیں سمجھتے ان کا خیال ہے کہ اس پر تقصیر (بال کتروانا) ہے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا؟ آپ نے فرمایا: اب ذبح کرلو کوئی حرج نہیں ایک دوسرے نے پوچھا: میں نے رمی سے پہلے نحر (ذبح) کرلیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اب رمی کرلو کوئی حرج نہیں ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) narrated that a man asked Allah’s Messenger ﷺ , “I have shaved before the sacrifice.” He said, “Sacrifice now. There is no harm (or sin).” Another asked, “I have sacrificed before I cast pebbles.” He said, “Cast them now, and there is no harm (or sin).” [Ahmed6499, Bukhari 83, 1736, Abu Dawud 2014, Ibn e Majah 3051, Muslim 1306]
صحيح، ابن ماجة (3051)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 916
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، جابر، ابن عباس، ابن عمر، اسامہ بن شریک ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٤- بعض اہل علم کہتے ہیں: اگر کسی نسک کو یعنی رمی یا نحر یا حلق وغیرہ میں سے کسی ایک کو دوسرے سے پہلے کرلے تو اس پر دم (ذبیحہ) لازم ہوگا (مگر یہ بات بغیر دلیل کے ہے) ۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام باندھنے سے پہلے اور دسویں ذی الحجہ کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے خوشبو لگائی جس میں مشک تھی ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah said, “I applied perfume to Allah’s Messenger ﷺ before he assumed the ihram and on the day 01 sacrifice before he circumambulated the House (in tawaf ziyarat) with perfume containing musk.” [Ahmed26065, Bukhari 1539, Muslim 1189, Abu Dawud 1745, Nisai 2681]
صحيح، ابن ماجة (2926)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 917
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ محرم جب دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی کرلے، جانور ذبح کرلے، اور سر مونڈا لے یا بال کتروا لے تو اب اس کے لیے ہر وہ چیز حلال ہوگئی جو اس پر حرام تھی سوائے عورتوں کے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٤- عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ اس کے لیے ہر چیز حلال ہوگئی سوائے عورتوں اور خوشبو کے، ٥- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، اور یہی کوفہ والوں کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دسویں تاریخ کو جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی حلال ہوجاتا ہے، اسے تحلل اول کہتے ہیں، تحلل اول میں عورت کے علاوہ ساری چیزیں حلال ہوجاتی ہیں، اور طواف افاضہ کے بعد عورت بھی حلال ہوجاتی ہے، اب وہ عورت سے صحبت یا بوس وکنار کرسکتا ہے اسے تحلل ثانی کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٨٩)، سنن النسائی/الحج ٤١ (٢٦٩٣) (تحفة الأشراف: ١٧٥٢٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحج ١٨ (١٥٣٩)، و ١٤٣ (١٧٥٤)، واللباس ٧٣ (٥٩٢٢)، و ٧٩ (٥٩٢٨)، و ٨١ (٥٩٣٠)، سنن ابی داود/ المناسک ١١ (١٧٤٥)، سنن النسائی/الحج ٤١ (٢٦٨٥-٢٦٩٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١١ (٢٩٢٦)، و ٧٠ (٣٠٤٢)، موطا امام مالک/الحج ٧ (١٧)، مسند احمد (٦/٩٨، ١٠٦، ١٣٠، ١٦٢، ١٨١، ١٨٦، ١٩٢، ٢٠٠، ٢٠٧، ٢٠٩، ٢١٤، ٢١٦، ٢٣٧، ٢٣٨، ٢٤٤، ٢٤٥، ٢٥٨)، سنن الدارمی/المناسک (١٨٤٤) من غیر ہذا الطریق۔
فضل بن عباس ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے مزدلفہ سے منیٰ تک اپنا ردیف بنایا (یعنی آپ مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھا کرلے گئے) آپ برابر تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ (عقبہ) کی رمی کی۔
Sayyidina Fadl ibn Abbas (RA) said, “Allah’s Messenger took me as a co-rider from Miizdalifah to Mina. He did not cease to recite the talbiyah till he pelted pebbles at jamrat ul-Aqabahh.” [Ahmed1831, Bukhari 6228, Muslim 1281, Nisai 3080, Ibn e Majah 3060]
صحيح، ابن ماجة (3040)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 918
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- فضل ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، ابن مسعود، اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ حاجی تلبیہ بند نہ کرے جب تک کہ جمرہ کی رمی نہ کرلے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان لوگوں کا استدلال «حتی يرمي الجمرة» سے ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کرلینے کے بعد تلبیہ پکارنا بند کرے، لیکن جمہور علماء کا کہنا ہے کہ جمرہ عقبہ کی پہلی کنکری مارنے کے ساتھ ہی تلبیہ پکارنا بند کردینا چاہیئے، ان کی دلیل صحیح بخاری وصحیح مسلم کی روایت ہے جس میں «لم يزل يلبي حتی بلغ الجمرة» کے الفاظ وارد ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٠٢ (١٦٨٥)، صحیح مسلم/الحج ٤٥ (١٢٨١)، سنن ابی داود/ المناسک ٢٨ (١٨١٥)، سنن النسائی/الحج ٢١٦ (٣٠٥٧)، و ٢٢٨ (٣٠٨١)، و ٢٢٩ (٣٠٨٢)، مسند احمد (١/٢١٠، ٢١١، ٢١٢، ٢١٣) (تحفة الأشراف: ١١٠٥٠) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحج ٢٢ (١٥٤٣)، و ٩٣ (١٦٧٠)، صحیح مسلم/الحج (المصدرالمذکور)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٩ (٣٠٤٠)، مسند احمد (١/٢١٤)، سنن الدارمی/المناسک ٦٠ (١٩٤٣) من غیر ہذا الطریق۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عمرہ میں تلبیہ پکارنا اس وقت بند کرتے جب حجر اسود کا استلام کرلیتے۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) traced the hadith to the Prophet ﷺ that he stopped reciting the talbiyah during umrah when he kissed the hajr aswad. [Ahmed1817]
ضعيف، والصحيح موقوف علی ابن عباس، الإرواء (1099)، ضعيف أبي داود (316) // عندنا برقم (397 / 1817) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 919
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ عمرہ کرنے والا شخص تلبیہ بند نہ کرے جب تک کہ حجر اسود کا استلام نہ کرلے، ٤- بعض کہتے ہیں کہ جب مکہ کے گھروں یعنی مکہ کی آبادی میں پہنچ جائے تو تلبیہ پکارنا بند کر دے۔ لیکن عمل نبی اکرم ﷺ کی (مذکورہ) حدیث پر ہے۔ یہی سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٢٩ (١٨١٧) (تحفة الأشراف: ٥٩٥٨) (ضعیف) (سند میں محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف راوی ہیں)
عبداللہ بن عباس ؓ اور ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر کیا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) and Sayydah Ayshah (RA) said that the Prophet ﷺ postponed the tawaf ziyarah (the cirumambulation of the visit) till night. [Ahmed25857, Ibn e Majah 3059, Abu Dawud 2000]
شاذ، ابن ماجة (3059) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (654)، الإرواء (4 / 264) برقم (1070)، ضعيف أبي داود (435 / 2000) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 920
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے ٢ ؎، ٢- بعض اہل علم نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر کرنے کی اجازت دی ہے۔ اور بعض نے دسویں ذی الحجہ کو طواف زیارت کرنے کو مستحب قرار دیا ہے، لیکن بعض نے اسے منیٰ کے آخری دن تک مؤخر کرنے کی گنجائش رکھی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ عبداللہ بن عباس اور عائشہ ؓ کی یہ حدیث ابن عمر ؓ کی حدیث کے مخالف ہے جسے بخاری و مسلم نے روایت کی ہے، جس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یوم النحر کو دن میں طواف کیا، امام بخاری نے دونوں میں تطبیق اس طرح دی ہے کہ ابن عمر اور جابر کی حدیث کو پہلے دن پر محمول کیا جائے اور ابن عباس اور عائشہ کی حدیث کو اس کے علاوہ باقی دنوں پر، صاحب تحفۃ الأحوذی فرماتے ہیں: «حديث ابن عباس وعائشة المذکور في هذا الباب ضعيف فلا حاجة إلى الجمع الذي أشار إليه البخاري، وأما علی تقدير الصحة فهذا الجمع متعين»۔ (ابن عباس اور عائشہ کی باب میں مذکور حدیث ضعیف ہے، اس لیے بخاری نے جس جمع و تطبیق کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی ضرورت نہیں ہے اور صحت ماننے کی صورت میں جمع وتطبیق متعین ہے )۔ ٢ ؎ امام ترمذی کا اس حدیث کو حسن صحیح کہنا درست نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث قابل استدلال نہیں، کیونکہ ابو الزبیر کا ابن عباس سے اور عائشہ ؓ سے سماع نہیں ہے، ابوالحسن القطان کہتے ہیں «عندي أن هذا الحديث ليس بصحيح إنما طاف النبي صلی اللہ عليه وسلم يومئذ نهارا»۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٣٠ (تعلیقا فی الترجمة)، سنن ابی داود/ المناسک ٨٣ (٢٠٠٠)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٧ (٣٠٥٩)، ( تحفة الأشراف: ٦٤٥٢ و ١٧٥٩٤)، مسند احمد (١/٢٨٨) (ضعیف شاذ) (ابو الزبیر مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز ابوالزبیر کا دونوں صحابہ سے سماع نہیں ہے، اور یہ حدیث اس صحیح حدیث کے خلاف ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دن میں طواف زیارت فرمایا تھا، اس لیے شاذ ہے)۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ، ابوبکر، عمر، اور عثمان ؓ ابطح ١ ؎ میں قیام کرتے تھے۔
Sayyidina lbn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ (RA) and Abu Bakr (RA) Umar (RA) and Uthman (RA) used to stop at Abtah. [Ahmed2631, Muslim 1310, Ibn e Majah 3069]
صحيح، ابن ماجة (3069)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 921
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ ہم اسے صرف عبدالرزاق کی سند سے جانتے ہیں، وہ عبیداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں، ٢- اس باب میں عائشہ، ابورافع اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم نے ابطح میں قیام کو مستحب قرار دیا ہے، واجب نہیں، جو چاہے وہاں قیام کرے، ٤- شافعی کہتے ہیں: ابطح کا قیام حج کے مناسک میں سے نہیں ہے۔ یہ تو بس ایک مقام ہے جہاں نبی اکرم ﷺ نے قیام فرمایا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ابطح، بطحاء خیف کنانہ اور محصب سب ہم معنی ہیں اس سے مراد مکہ اور منیٰ کے درمیان کا علاقہ ہے جو منی سے زیادہ قریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٨١ (٣٠٦٩) (تحفة الأشراف: ٨٠٢٥) (صحیح) وأخرجہ مسلم فی الحج (٥٩/١٣١٠) من غیر ہذا الوجہ)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ وادی محصب میں قیام کوئی چیز نہیں ١ ؎، یہ تو بس ایک جگہ ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے قیام فرمایا۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) said, “There is nothing about Muhassab save that it is a station where Allah’s Messenger ﷺ stopped-over (for rest).” [Ahmed1925, Bukhari 1866, Muslim 1312]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 922
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- «تحصیب» کے معنی ابطح میں قیام کرنے کے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: محصب میں نزول و اقامت مناسک حج میں سے نہیں ہے، رسول اللہ ﷺ نے زوال کے بعد آرام فرمانے کے لیے یہاں اقامت کی، ظہر و عصر اور مغرب اور عشاء پڑھی اور چودھویں رات گزاری، چونکہ آپ نے یہاں نزول فرمایا تھا اس لیے آپ کی اتباع میں یہاں کی اقامت مستحب ہے، خلفاء نے آپ کے بعد اس پر عمل کیا، امام مالک امام شافعی اور جمہور اہل علم نے رسول اللہ ﷺ اور خلفاء راشدین ؓ کی اقتداء میں اسے مستحب قرار دیا ہے اگر کسی نے وہاں نزول نہ کیا تو بالاجماع کوئی حرج کی بات نہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابطح میں قیام فرمایا اس لیے کہ یہاں سے (مدینے کے لیے) روانہ ہونا زیادہ آسان تھا۔
Sayyidah Ayshah (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ stopped at Abtah because that was easier for him to depart (when he had to). [Ahmed25778, Bukhari 901, Muslim 1311, Ibn e Majah 3067]
صحيح، صحيح أبي داود (1752)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 923
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا اور سفیان نے ہشام بن عروہ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٥٩ (١٣١١) (تحفة الأشراف: ١٦٧٨٥)، وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الحج (المصدر المذکور)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨١ (٣٠٦٧) من غیر ھذا الوجہ۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو رسول اللہ ﷺ کی طرف اٹھا کر پوچھا: اللہ کے رسول! کیا اس پر بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اور اجر تجھے ملے گا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated that a woman carried her child to Allah’s Messenger ﷺ and asked, “O Messenger of Allah! ﷺ May he perform Hajj?” He said, “Yes! And the reward (thereof) is for you.” [Ibn e Majah 2910]
صحيح، ابن ماجة (2910)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 924
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر کی حدیث غریب ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ اس میں شافعی احمد، مالک اور جمہور علماء کے لیے دلیل ہے، جو اس بات کے قائل ہیں کہ نابالغ بچے کا حج صحیح ہے، اس پر اسے ثواب دیا جائے گا اگرچہ اس سے فرض ساقط نہیں ہوگا اور بالغ ہونے کی استطاعت کی صورت میں اسے پھر سے حج کرنا پڑے گا اور نابالغ کا یہ حج نفلی حج ہوگا، امام ابوحنیفہ کا کہنا ہے کہ نابالغ بچے کا حج منعقد نہیں ہوگا وہ صرف تمرین ومشق کے لیے اسے کرے گا اس پر اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا، یہ حدیث ان کے خلاف حجت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ١١ (٢٩١٠) (تحفة الأشراف: ٣٠٧٦) (صحیح)
اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Ahadith like it is reported marfu by Qutaybah from Qaza’ah ibn Suwayd Bahili, from Muhammad ibn Munkadir from Sayyidina Jabir (RA) while there is a hadith in mursal form, too, from Muhammad ibn Munkadir.
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ محمد بن منکدر سے بھی روایت کی گئی ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے، ٢- اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ بچہ جب بالغ ہونے سے پہلے حج کرلے تو (اس کا فریضہ ساقط نہیں ہوگا) جب وہ بالغ ہوجائے گا تو اس کے ذمہ حج ہوگا، کم سنی کا یہ حج اسلام کے عائد کردہ فریضہ حج کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ اسی طرح غلام کا معاملہ ہے، اگر وہ غلامی میں حج کرچکا ہو پھر آزاد کردیا جائے تو آزادی کی حالت میں اس پر حج فرض ہوگا جب وہ اس کی سبیل پالے، غلامی کی حالت میں کیا ہوا حج کافی نہیں ہوگا۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے حجۃ الوداع میں مجھے ساتھ لے کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا، میں سات برس کا تھا۔
Sayyidina Sa’ib ibn Yazid said, “My father took me along and performed Hajj with Allah’s Messenger ﷺ during the farewell pilgrimage. I was then seven years old.” [Ahmed 15718,Bukhari 1858]
صحيح الحج الکبيرصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 925
جابر ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج کیا تو ہم عورتوں کی طرف سے تلبیہ کہتے اور بچوں کی طرف سے رمی کرتے تھے۔
Sayyidina Jabir (RA) said, “When we performed Hajj with the Prophet ﷺ we would call the talbiyah for the women and throw the pebbles for the children.” [Ahmed14377, Ibn e Majah 3038] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ابن ماجة (3038) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (652)، وانظر حجة النبي صلی اللہ عليه وسلم الصفحة (50) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 927
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ٢- اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت کی طرف سے کوئی دوسرا تلبیہ نہیں کہے گا، بلکہ وہ خود ہی تلبیہ کہے گی البتہ اس کے لیے تلبیہ میں آواز بلند کرنا مکروہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٨ (٣٠٣٨) (تحفة الأشراف: ٢٦٦٢) (ضعیف) (سند میں اشعث بن سوار ضعیف راوی ہیں)
فضل بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کو اللہ کے فریضہ حج نے پا لیا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہیں کہ اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ نہیں سکتے (تو کیا کیا جائے؟ ) ۔ آپ نے فرمایا: تو ان کی طرف سے حج کرلے ۔
Sayyidina Fadl ibn Abbas (RA) narrated that a woman of Bani Kath’am said, O Messenger of Allah ﷺ Hajj is fard on my father but he is a very old man unable to sit on the back of a camel.” He said, “You perform Hajj for him.” [Ahmed3050, Bukhari 1513, Muslim 1334, Abu Dawud 1809, Nisai 2637, Ibn e Majah 2909]
صحيح، ابن ماجة (2909)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 928
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- فضل بن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابن عباس ؓ سے حصین بن عوف مزنی ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٣- ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سنان بن عبداللہ جہنی ؓ نے اپنی پھوپھی سے اور ان کی پھوپھی نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٤- ابن عباس ؓ نے براہ راست نبی اکرم ﷺ سے بھی روایت کی ہے، ٥-
میں نے ان روایات کے بارے میں محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس باب میں سب سے صحیح روایت وہ ہے جسے ابن عباس نے فضل بن عباس سے اور فضل نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے ٦- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس کا بھی احتمال ہے کہ ابن عباس نے اسے (اپنے بھائی) فضل سے اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں سے بھی سنا ہو اور ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہو، اور پھر ابن عباس ؓ نے اسے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہو اور جس سے انہوں نے اسے سنا ہو اس کا نام ذکر نہ کیا ہو، نبی اکرم ﷺ سے اس باب میں کئی اور بھی احادیث ہیں، ٧- اس باب میں علی، بریدہ، حصین بن عوف، ابورزین عقیلی، سودہ بنت زمعہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٨- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ میت کی طرف سے حج کیا جاسکتا ہے، ٩- مالک کہتے ہیں: میت کی طرف سے حج اس وقت کیا جائے گا جب وہ حج کرنے کی وصیت کر گیا ہو، ١٠- بعض لوگوں نے زندہ شخص کی طرف سے جب وہ بہت زیادہ بوڑھا ہوگیا ہو یا ایسی حالت میں ہو کہ وہ حج پر قدرت نہ رکھتا ہو حج کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہی ابن مبارک اور شافعی کا بھی قول ہے۔
ابورزین عقیلی لقیط بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ حج و عمرہ کرنے اور سوار ہو کر سفر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ) آپ نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرلو ۔
Sayyidina Abu Razin Uqayli (RA) said that he niet the Prophet ﷺ and said to him, “O Messenger of Allah! ﷺ My father is a very old man who cannot perform Hajj or Umrah neither can he sit on the riding beast.” He said, “Make Hajj for him and the Umrah.’ [Ahmed16184, Abu Dawud 1810, Nisai 2617, Ibn e Majah 2906]
صحيح، ابن ماجة (2906)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 930
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- عمرے کا ذکر صرف اسی حدیث میں مذکور ہوا ہے کہ آدمی غیر کی طرف سے عمرہ کرسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٢٦ (١٨١٠)، سنن النسائی/الحج ٢ (٢٦٢٢)، و ١٠ (٢٦٣٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٠ (٢٩٠٦)، ( تحفة الأشراف: ١١١٧٣)، مسند احمد (٤/١٠-١٢) (صحیح)
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں مرگئی ہے، وہ حج نہیں کرسکی تھی، کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، تو اس کی طرف سے حج کرلے ۔
Sayyidina Abdullah ibn Buraydah (RA) reported from his father that a woman came to the Prophet ﷺ and said, “My mother has died and did not perform Hajj. May I perform Hajj on her behalf?” He said, “Yes, you may perform Hajj for her.” [Muslim 157, Abu Dawud 2877]
صحيح، صحيح أبي داود (2561)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 929
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے عمرے کے بارے میں پوچھا گیا: کیا یہ واجب ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن عمرہ کرنا بہتر ہے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) narrated that the Prophet ﷺ was asked if umrah was wajib, he said, ‘No. But, if it is observed then that is better.” [Ahmed14404]
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 931
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور یہی بعض اہل علم کا قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ عمرہ واجب نہیں ہے، ٣- اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حج دو ہیں: ایک حج اکبر ہے جو یوم نحر (دسویں ذی الحجہ کو) ہوتا ہے اور دوسرا حج اصغر ہے جسے عمرہ کہتے ہیں، ٤- شافعی کہتے ہیں: عمرہ (کا وجوب) سنت سے ثابت ہے، ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اسے چھوڑنے کی اجازت دی ہو۔ اور اس کے نفل ہونے کے سلسلے میں کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے جس سند سے (نفل ہونا) مروی ہے وہ ضعیف ہے۔ اس جیسی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاسکتی، اور ہم تک یہ بات بھی پہنچی ہے کہ ابن عباس ؓ اسے واجب قرار دیتے تھے۔ یہ سب شافعی کا کلام ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے حنفیہ اور مالکیہ نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ عمرہ واجب نہیں ہے، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے لائق استدلال نہیں۔