Sunan At-Tirmidhi 917

حج کا بیان

917Sunan At-Tirmidhi

احرم کھو لنے کے بعد طواف زیارت سے پہلے خوشبو لگانا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، يَرَوْنَ أَنَّ الْمُحْرِمَ إِذَا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ وَذَبَحَ وَحَلَقَ أَوْ قَصَّرَ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَرُمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءَ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ: حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ . وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام باندھنے سے پہلے اور دسویں ذی الحجہ کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے خوشبو لگائی جس میں مشک تھی ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah said, “I applied perfume to Allah’s Messenger ﷺ before he assumed the ihram and on the day 01 sacrifice before he circumambulated the House (in tawaf ziyarat) with perfume containing musk.” [Ahmed26065, Bukhari 1539, Muslim 1189, Abu Dawud 1745, Nisai 2681]

صحيح، ابن ماجة (2926)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 917
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ محرم جب دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی کرلے، جانور ذبح کرلے، اور سر مونڈا لے یا بال کتروا لے تو اب اس کے لیے ہر وہ چیز حلال ہوگئی جو اس پر حرام تھی سوائے عورتوں کے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٤- عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ اس کے لیے ہر چیز حلال ہوگئی سوائے عورتوں اور خوشبو کے، ٥- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، اور یہی کوفہ والوں کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دسویں تاریخ کو جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی حلال ہوجاتا ہے، اسے تحلل اول کہتے ہیں، تحلل اول میں عورت کے علاوہ ساری چیزیں حلال ہوجاتی ہیں، اور طواف افاضہ کے بعد عورت بھی حلال ہوجاتی ہے، اب وہ عورت سے صحبت یا بوس وکنار کرسکتا ہے اسے تحلل ثانی کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٨٩)، سنن النسائی/الحج ٤١ (٢٦٩٣) (تحفة الأشراف: ١٧٥٢٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحج ١٨ (١٥٣٩)، و ١٤٣ (١٧٥٤)، واللباس ٧٣ (٥٩٢٢)، و ٧٩ (٥٩٢٨)، و ٨١ (٥٩٣٠)، سنن ابی داود/ المناسک ١١ (١٧٤٥)، سنن النسائی/الحج ٤١ (٢٦٨٥-٢٦٩٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١١ (٢٩٢٦)، و ٧٠ (٣٠٤٢)، موطا امام مالک/الحج ٧ (١٧)، مسند احمد (٦/٩٨، ١٠٦، ١٣٠، ١٦٢، ١٨١، ١٨٦، ١٩٢، ٢٠٠، ٢٠٧، ٢٠٩، ٢١٤، ٢١٦، ٢٣٧، ٢٣٨، ٢٤٤، ٢٤٥، ٢٥٨)، سنن الدارمی/المناسک (١٨٤٤) من غیر ہذا الطریق۔