Sunan At-Tirmidhi 921

حج کا بیان

921Sunan At-Tirmidhi

وادی ابطح میں اتر نا

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ يَنْزِلُونَ الْأَبْطَحَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي رَافِعٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَقَدِ اسْتَحَبَّ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ نُزُولَ الْأَبْطَحِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَرَوْا ذَلِكَ وَاجِبًا إِلَّا مَنْ أَحَبَّ ذَلِكَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَنُزُولُ الْأَبْطَحِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ، ابوبکر، عمر، اور عثمان ؓ ابطح ١ ؎ میں قیام کرتے تھے۔

Sayyidina lbn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ (RA) and Abu Bakr (RA) Umar (RA) and Uthman (RA) used to stop at Abtah. [Ahmed2631, Muslim 1310, Ibn e Majah 3069]

صحيح، ابن ماجة (3069)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 921
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ ہم اسے صرف عبدالرزاق کی سند سے جانتے ہیں، وہ عبیداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں، ٢- اس باب میں عائشہ، ابورافع اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم نے ابطح میں قیام کو مستحب قرار دیا ہے، واجب نہیں، جو چاہے وہاں قیام کرے، ٤- شافعی کہتے ہیں: ابطح کا قیام حج کے مناسک میں سے نہیں ہے۔ یہ تو بس ایک مقام ہے جہاں نبی اکرم ﷺ نے قیام فرمایا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ابطح، بطحاء خیف کنانہ اور محصب سب ہم معنی ہیں اس سے مراد مکہ اور منیٰ کے درمیان کا علاقہ ہے جو منی سے زیادہ قریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٨١ (٣٠٦٩) (تحفة الأشراف: ٨٠٢٥) (صحیح) وأخرجہ مسلم فی الحج (٥٩/١٣١٠) من غیر ہذا الوجہ)