Sunan At-Tirmidhi 913

حج کا بیان

913Sunan At-Tirmidhi

بال منڈ وانا اور کتر وانا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَلَقَ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: وَالْمُقَصِّرِينَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ أُمِّ الْحُصَيْنِ، وَمَارِبَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي مَرْيَمَ، وَحُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ، وَإِنْ قَصَّرَ يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سر منڈوایا، صحابہ کی ایک جماعت نے بھی سر مونڈوایا اور بعض لوگوں نے بال کتروائے۔ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بار یا دو بار فرمایا: اللہ سر مونڈانے والوں پر رحم فرمائے ، پھر فرمایا: کتروانے والوں پر بھی ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ had his hair shaved and a section of his Companions also had their hair shaved, but some of them had theirs clipped. He added that Allah’s Messenger ﷺ said once or twice, “May Allah have mercy on those who have shaved.” After that he said, “And those who have clipped.” [Ahmed6012, Bukhari 1727, Muslim 1301, Ibn e Majah 3044]

صحيح، ابن ماجة (3044)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 913
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، ابن ام الحصین، مارب، ابو سعید خدری، ابومریم، حبشی بن جنادہ اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور وہ آدمی کے لیے سر منڈانے کو پسند کرتے ہیں اور اگر کوئی صرف کتروا لے تو وہ اسے بھی اس کی طرف سے کافی سمجھتے ہیں۔ یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حلق ( منڈوانا ) تقصیر ( کٹوانے ) کے مقابلہ میں افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٢٧ (تعلیقا عقب حدیث ١٧٢٧)، صحیح مسلم/الحج ٥٥ (١٣٠١) (تحفة الأشراف: ٨٢٦٩) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحج ١٢٧ (١٧٢٧)، صحیح مسلم/الحج (المصدر المذکور)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧١ (٣٠٤٣)، موطا امام مالک/الحج ٦٠ (١٨٤)، مسند احمد (٢/٣٤، ١٣٨، ١٥١)، سنن الدارمی/المناسک ٦٤ (١٩٤٧) من غیر ہذا الطریق۔