A had ith of same meaning is reported by Ibn Abu Umar from Sufyan ibn Uyaynah (RA) from Sufyan Thawrim from Bukayr ibn Ata, from Abdur Rahman ibn Yamur and he from the Prophet ﷺ .
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 890
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- شعبہ نے بھی بکیر بن عطا سے ثوری ہی کی طرح روایت کی ہے، ٢- وکیع نے اس حدیث کا ذکر کیا تو کہا کہ یہ حدیث حج کے سلسلہ میں ام المناسک کی حیثیت رکھتی ہے، ٣- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا عمل عبدالرحمٰن بن یعمر کی حدیث پر ہے کہ جو طلوع فجر سے پہلے عرفات میں نہیں ٹھہرا، اس کا حج فوت ہوگیا، اور اگر وہ طلوع فجر کے بعد آئے تو یہ اسے کافی نہیں ہوگا۔ اسے عمرہ بنا لے اور اگلے سال حج کرے ، یہ ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
عروہ بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام الطائی ؓ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس مزدلفہ آیا، جس وقت آپ نماز کے لیے نکلے تو میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قبیلہ طی کے دونوں پہاڑوں سے ہوتا ہوا آیا ہوں، میں نے اپنی سواری کو اور خود اپنے کو خوب تھکا دیا ہے، اللہ کی قسم! میں نے کوئی پہاڑ نہیں چھوڑا جہاں میں نے (یہ سوچ کر کہ عرفات کا ٹیلہ ہے) وقوف نہ کیا ہو تو کیا میرا حج ہوگیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بھی ہماری اس نماز میں حاضر رہا اور اس نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہم یہاں سے روانہ ہوں اور وہ اس سے پہلے دن یا رات میں عرفہ میں وقوف کرچکا ہو ١ ؎ تو اس نے اپنا حج پورا کرلیا، اور اپنا میل کچیل ختم کرلیا ٢ ؎۔
Sayyidina Urwah ibn Mudarris ibn Aws ibn Harithah ibn al-Umm at-Ta’i said that he met Allahs Messenger at Muzdalifah while he was coming out for salah. He submitted, O Messenger of Allah, I have come from Mount Tai. I have tired my riding beast (she-camel) and wearied myself. By Allah, I have not let any mountain go where I have not stood. Is my Hajj valid?” So Allah’s Messenger ﷺ said, ‘He who offered this prayer with us and stays with us till we are here and he has observed the standing at Arafat before this during (any portion of) day or night, has indeed performed Hajj and done his duty.” [Ahmed18328, Abu Dawud 1950, Nisai 3036, Ibn e Majah 3016]
صحيح، ابن ماجة (3016)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 891
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- «تَفَثَهُ» کے معنی «نسكه» کے ہیں یعنی مناسک حج کے ہیں۔ اور اس کے قول: «ما ترکت من حبل إلا وقفت عليه» کوئی ٹیلہ ایسا نہ تھا جہاں میں نے وقوف نہ کیا ہو کے سلسلے میں یہ ہے کہ جب ریت کا ٹیلہ ہو تو اسے حبل اور جب پتھر کا ہو تو اسے جبل کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ عرفات میں ٹھہرنا ضروری ہے اور اس کا وقت نو ذی الحجہ کو سورج ڈھلنے سے لے کر دسویں تاریخ کے طلوع فجر تک ہے ان دونوں وقتوں کے بیچ اگر تھوڑی دیر کے لیے بھی عرفات میں وقوف مل جائے تو اس کا حج ادا ہوجائے گا۔ ٢ ؎: یعنی حالت احرام میں پراگندہ ہو کر رہنے کی مدت اس نے پوری کرلی اب وہ اپنا سارا میل کچیل جو چھوڑ رکھا تھا دور کرسکتا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے گھر والوں میں سے کمزوروں (یعنی عورتوں اور بچوں) کو پہلے ہی روانہ کردیا، اور آپ نے (ان سے) فرمایا: جب تک سورج نہ نکل جائے رمی جمار نہ کرنا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated that the Prophet ﷺ sent ahead the weak people of his household and told them that they should not pelt the pebbles on the jamrah before the sun rise. [Ahmed3203]
صحيح، ابن ماجة (3025)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 893
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابن عباس ؓ کی حدیث «بعثني رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم في ثقل» صحیح حدیث ہے، یہ ان سے کئی سندوں سے مروی ہے، شعبہ نے یہ حدیث مشاش سے اور مشاش نے عطاء سے اور عطا نے ابن عباس سے اور ابن عباس نے فضل بن عباس سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے گھر والوں میں سے کمزور لوگوں کو پہلے ہی رات کے وقت مزدلفہ سے منیٰ کے لیے روانہ کردیا تھا، یہ حدیث غلط ہے۔ مشاش نے اس میں غلطی کی ہے، انہوں نے اس میں فضل بن عباس کا اضافہ کردیا ہے۔ ابن جریج اور دیگر لوگوں نے یہ حدیث عطاء سے اور عطاء نے ابن عباس سے روایت کی ہے اور اس میں فضل بن عباس کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ٣- مشاش بصرہ کے رہنے والے ہیں اور ان سے شعبہ نے روایت کی ہے، ٤- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ کمزور لوگ مزدلفہ سے رات ہی کو منیٰ کے لیے روانہ ہوجائیں، ٥- اکثر اہل علم نے نبی اکرم ﷺ کی حدیث کے مطابق ہی کہا ہے کہ لوگ جب تک سورج طلوع نہ ہو رمی نہ کریں، ٦- اور بعض اہل علم نے رات ہی کو رمی کرلینے کی رخصت دی ہے۔ اور عمل نبی اکرم ﷺ کی حدیث پر ہے کہ وہ رمی نہ کریں جب تک کہ سورج نہ نکل جائے، یہی سفیان ثوری اور شافعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے رات ہی میں منیٰ بھیج دینا جائز ہے تاکہ وہ بھیڑ بھاڑ سے پہلے کنکریاں مار کر فارغ ہوجائیں لیکن سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ ماریں، ابن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہماری رانوں پر دھیرے سے مارتے تھے اور فرماتے تھے: اے میرے بچو جمرہ پر کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ سورج نہ نکل جائے، یہی قول راجح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٤٧٢) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/ الحج ٦٦ (١٩٤٠)، سنن النسائی/الحج ٢٢٢ (٣٠٦٦)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٢ (٣٠٢٥)، مسند احمد (١/٢٣٤، ٣١١) من غیر ہذا الطریق۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دسویں ذی الحجہ کو (ٹھنڈی) چاشت کے وقت رمی کرتے تھے اور اس کے بعد زوال کے بعد کرتے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ cast pebbles at the time of duha (chaast) on the day of sacrifice (tenth Dul Hajjah). Thereafter, he cast them after zawal (declination of the sun). [Ahmed14360, Muslim 1299, Abu Dawud 1971, Nisai 3060, Ibn e Majah 3053]
صحيح، ابن ماجة (3053)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 894
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ وہ دسویں ذی الحجہ کے زوال بعد کے بعد ہی رمی کرے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ سنت یہی ہے کہ یوم النحر ( دسویں ذوالحجہ، قربانی والے دن ) کے علاوہ دوسرے، گیارہ اور بارہ والے دنوں میں رمی سورج ڈھلنے کے بعد کی جائے، یہی جمہور کا قول ہے اور عطاء و طاؤس نے اسے زوال سے پہلے مطلقاً جائز کہا ہے، اور حنفیہ نے کوچ کے دن زوال سے پہلے رمی کی رخصت دی ہے، عطاء و طاؤس کے قول پر نبی اکرم ﷺ کے فعل و قول سے کوئی دلیل نہیں ہے، البتہ حنفیہ نے اپنے قول پر ابن عباس کے ایک اثر سے استدلال کیا ہے، لیکن وہ اثر ضعیف ہے اس لیے جمہو رہی کا قول قابل اعتماد ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ (مزدلفہ سے) سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Prophet ﷺ returned (from Muzdalifah) before sunrise. [Ahmed2051]
صحيح بما بعده (896)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 895
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- جاہلیت کے زمانے میں لوگ انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا پھر لوٹتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٤٧٣) (صحیح بما بعدہ) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” حکم “ نے ” مقسم “ سے صرف پانچ احادیث سنی ہیں، اور یہ حدیث شاید ان میں سے نہیں ہے؟ )
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ مزدلفہ میں ٹھہرے ہوئے تھے، عمر بن خطاب ؓ نے کہا: مشرکین جب تک کہ سورج نکل نہیں آتا نہیں لوٹتے تھے اور کہتے تھے: ثبیر! تو روشن ہوجا (تب ہم لوٹیں گے) ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی مخالفت کی، چناچہ عمر ؓ سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔
Abu Ishaq narrated that he heard Amr ibn Maymum say: We were at Muzdalifah when Umar ibn Khattab (RA) said, “The idolators did not depart from Muzdalifah till the sun had risen. They used to say. “Let Thabir shine (before going). But, Allah’s Messenger miS’ j_1_ differentiated from them.” So, Umar went onward before sunrise. [Ahmed84, Bukhari 1684, Nisai 3044, Abu Dawud 1938, Ibn e Majah 3022]
صحيح، ابن ماجة (3022)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 896
جابر ؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ایسی کنکریوں سے رمی جمار کر رہے تھے جو انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کے درمیان پکڑی جاسکتی تھیں ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) said, “I saw Allah’s Messenger ﷺ throw pebbles at the jamrat like the ones in a sling (that is, small pebbles). [Ahmed14559, Muslim 313, Abu Dawud 1944, Nisai 3071, Ibn e Majah 3023]
صحيح، ابن ماجة (3023)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 897
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سلیمان بن عمرو بن احوص (جو اپنی ماں ام جندب ازدیہ سے روایت کرتے ہیں) ، ابن عباس، فضل بن عباس، عبدالرحمٰن بن عثمان تمیمی اور عبدالرحمٰن بن معاذ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اسی کو اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ کنکریاں جن سے رمی کی جاتی ہے ایسی ہوں جو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے پکڑی جاسکیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ کنکریاں «باقلاّ» کے دانے کے برابر ہوتی تھیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمی جمار اس وقت کرتے جب سورج ڈھل جاتا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) said that Allah’s Messenger used to cast the pebbles after the sun had passed the meridian. [Ibn e Majah 3054]
صحيح بحديث جابر رقم (901)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 898
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یوم النحر کے علاوہ باقی دنوں میں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٥ (٣٠٥٤) (تحفة الأشراف: ٦٤٦٦) (صحیح) (سابقہ حدیث نمبر ٨٩٤ سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، حکم نے مقسم سے صرف پانچ احادیث ہی سنی ہیں، اور یہ شاید ان میں سے نہیں)
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دسویں ذی الحجہ کو جمرہ کی رمی سواری پر کی۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ cast pebbles at the jamrat while riding (a beast). [Ahmed2056, Ibn e Majah 3034]
صحيح، وانظر الحديث (887)، ابن ماجة (3034)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 899
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں جابر، قدامہ بن عبداللہ، اور سلیمان بن عمرو بن احوص کی ماں ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- بعض نے یہ پسند کیا ہے کہ وہ جمرات تک پیدل چل کر جائیں، ٥- ابن عمر سے مروی ہے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ جمرات تک پیدل چل کر جاتے، ٦- ہمارے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے کبھی کبھار سواری پر رمی اس لیے کی تاکہ آپ کے اس فعل کی بھی لوگ پیروی کریں۔ اور دونوں ہی حدیثوں پر اہل علم کا عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٦ (٣٠٣٤) (تحفة الأشراف: ٦٤٦٧) (صحیح) (سابقہ جابر کی حدیث نمبر ٨٨٦ سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب رمی جمار کرتے، تو جمرات تک پیدل آتے جاتے تھے۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ walked to the jamrat and back when he cast pebbles at them.
صحيح، الصحيحة (2072)، صحيح أبي داود (1718)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 900
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض لوگوں نے اسے عبیداللہ (العمری) سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ٣- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- بعض لوگ کہتے ہیں کہ دسویں ذی الحجہ کو سوار ہوسکتا ہے، اور دسویں کے بعد باقی دنوں میں پیدل جائے گا۔ گویا جس نے یہ کہا ہے اس کے پیش نظر صرف نبی اکرم ﷺ کے اس فعل کی اتباع ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ دسویں ذی الحجہ کو سوار ہوئے جب آپ رمی جمار کرنے گئے۔ اور دسویں ذی الحجہ کو صرف جمرہ عقبہ ہی کی رمی کرے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٠١١) (صحیح) وأخرجہ مسند احمد (٢/١٣٨) من طریق عبد العمری عن نافع بہ۔
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ جب عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو وادی کے بیچ میں کھڑے ہوئے اور قبلہ رخ ہو کر اپنے داہنے ابرو کے مقابل رمی شروع کی۔ پھر سات کنکریوں سے رمی کی۔ ہر کنکری پر وہ اللہ اکبر کہتے تھے، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس ذات نے بھی یہیں سے رمی کی جس پر سورة البقرہ نازل کی گئی ہے۔
Abdur Rahman ibn Yazid said that when Abdullah (RA) came to jamrat uI-Aqabahh in the middle of the valley, he faced the Ka’bah and began to cast pebbles at the jamrah to his right. He cast seven pebbles, calling out the takbir at each throw. He then said, “By Allah beside Whom is no one (worthy of worship), from here, he, on whom surah al-Baqarah was revealed, cast pebbles.” [Bukhari 1747, Muslim 1296, Abu Dawud 1974, Nisai 3067, Ibn e Majah 3030]
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جمرات کی رمی اور صفا و مروہ کی سعی اللہ کے ذکر کو قائم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے ۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “The rami of the jimar and the Sa’i between Safa and Marwah are imposed only to maintain remembrance of Allah. [Ahmed25134, Abu Dawud 1888]
ضعيف، المشکاة (2624)، ضعيف أبي داود (328) // عندنا برقم (410 / 1888) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 902
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٩١ (١٨٨٨) (تحفة الأشراف: ١٧٥٣٣)، مسند احمد (٦/١٣٩)، سنن الدارمی/المناسک ٣٦ (١٨٩٥) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبیداللہ بن ابی زیاد “ ضعیف ہیں)
جابر ؓ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گائے اور اونٹ کو سات سات آدمیوں کی جانب سے نحر (ذبح) کیا۔
Sayyidina Jabir (RA) said that in the year of Hudaybiyah, we, with Allah’s Messenger ﷺ sacrificed a cow associating seven people and a camel also seven people in association. [Ahmed14120, Muslim 1318, Abu Dawud 2809, Ibn e Majah 3132]
صحيح، ابن ماجة (3132)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 904
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ، عائشہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ اونٹ سات لوگوں کی طرف سے اور گائے سات لوگوں کی طرف سے ہوگی۔ اور یہی سفیان ثوری، شافعی اور احمد کا قول ہے، ٤- ابن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ گائے سات لوگوں کی طرف سے اور اونٹ دس لوگوں کی طرف سے کافی ہوگا ١ ؎۔ یہ اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل لی ہے۔ ابن عباس کی حدیث کو ہم صرف ایک ہی طریق سے جانتے ہیں (ملاحظہ ہو آنے والی حدیث: ٩٠٥) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جابر ؓ کی یہ حدیث حج و عمرہ کے «ھدی» کے بارے میں ہے، جس کے اندر ابن عباس ؓ کی اگلی حدیث قربانی کے بارے میں ہے ( اور اس کی تائید صحیحین میں مروی رافع بن خدیج کی حدیث سے بھی ہوتی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مال غنیمت میں ایک اونٹ کے بدلے دس بکریاں تقسیم کیں، یعنی: ایک اونٹ برابر دس بکریوں کے ہے ) شوکانی نے ان دونوں حدیثوں میں یہی تطبیق دی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦٢ (١٣١٨)، سنن ابی داود/ الضحایا ٧ (٢٨٠٩)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٥ (٣١٣٢) (تحفة الأشراف: ٢٩٣٣)، موطا امام مالک/الضحایا ٥ (٩)، ویأتي عند المؤلف في الأضاحي ٨ (١٥٠٢) (صحیح) وأخرجہ کل من: (صحیح مسلم/المصدر المذکور)، سنن ابی داود/ المصدر المذکور سنن النسائی/الضحایا ١٦ (٤٣٩٨) من غیر ہذا الطریق۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ذو الحلیفہ میں (ہدی کے جانور کو) دو جوتیوں کے ہار پہنائے اور ان کی کوہان کے دائیں طرف اشعار ١ ؎ کیا اور اس سے خون صاف کیا۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) narrated that the Prophet ﷺ garlanded his she camel with two sandals on its neck and marked it on the right side at Zul Hulayfah and wiped off the blood from it. [Ahmed3149, Muslim 1243, Abu Dawud 1752, Nisai 2769. Ibn e Majah 3097]
صحيح، ابن ماجة (3097)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 906
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام ؓ وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ اشعار کے قائل ہیں۔ یہی ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٣- یوسف بن عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے وکیع کو کہتے سنا جس وقت انہوں نے یہ حدیث روایت کی کہ اس سلسلے میں اہل رائے کے قول کو نہ دیکھو، کیونکہ اشعار سنت ہے اور ان کا قول بدعت ہے، ٤- میں نے ابوسائب کو کہتے سنا کہ ہم لوگ وکیع کے پاس تھے تو انہوں نے اپنے پاس کے ایک شخص سے جو ان لوگوں میں سے تھا جو رائے میں غور و فکر کرتے ہیں کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اشعار کیا ہے، اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ وہ مثلہ ہے تو اس آدمی نے کہا: ابراہیم نخعی سے مروی ہے انہوں نے بھی کہا ہے کہ اشعار مثلہ ہے، ابوسائب کہتے ہیں: تو میں نے وکیع کو دیکھا کہ (اس کی اس بات سے) وہ سخت ناراض ہوئے اور کہا: میں تم سے کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اور تم کہتے ہو: ابراہیم نے کہا: تم تو اس لائق ہو کہ تمہیں قید کردیا جائے پھر اس وقت تک قید سے تمہیں نہ نکالا جائے جب تک کہ تم اپنے اس قول سے باز نہ آ جاؤ ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ہدی کے اونٹ کی کوہان پر داہنے جانب چیر کر خون نکالنے اور اس کے آس پاس مل دینے کا نام اشعار ہے، یہ ہدی کے جانوروں کی علامت اور پہچان ہے۔ ٢ ؎: وکیع کے اس قول سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیئے جو ائمہ کے اقوال کو حدیث رسول کے مخالف پا کر بھی انہیں اقوال سے حجت پکڑتے ہیں اور حدیث رسول کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ اس حدیث میں اندھی تقلید کا زبردست رد ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہدی کا جانور قدید سے خریدا۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ bought his hadi at Qudayd. [Ibn e Majah 3102] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسناد، ابن ماجة (3102)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 907
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے ثوری کی حدیث سے صرف یحییٰ بن یمان ہی کی روایت سے جانتے ہیں: اور نافع سے مروی ہے کہ ابن عمر نے قدید ١ ؎ سے خریدا، اور یہ زیادہ صحیح ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قدید مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔ ٢ ؎: یعنی یہ موقوف اثر اس مرفوع حدیث سے کہ جسے یحییٰ بن یمان نے ثوری سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٩ (٣٠٩٨) (تحفة الأشراف: ٧٨٩٧) (ضعیف الإسناد) (سند میں یحییٰ بن یمان اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے، صحیح بات یہ ہے کہ قدید سے ہدی کا جانور خود ابن عمر ؓ نے خریدا تھا جیسا کہ بخاری نے روایت کی ہے (الحج ١٠٥ ح ١٦٩٣) یحییٰ بن یمان نے اس کو مرفوع کردیا ہے)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے قلادے بٹے، پھر آپ نہ محرم ہوئے اور نہ ہی آپ نے کوئی کپڑا پہننا چھوڑا۔
Sayyidah Ayshah (RA) said, “I used to twist ropes into garlands for the hadi of Allah’s Messenger ﷺ After that he would neither assume the ihram nor cease to wear (normal) garments.” [Bukhari 1696, Muslim 1321, Abu Dawud 1757, Nisai 2779, Ibn e Majah 3098]
صحيح، ابن ماجة (3098)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 908
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی ہدی (کے جانور) کو قلادہ پہنا دے اور وہ حج کا ارادہ رکھتا ہو تو اس پر کپڑا پہننا یا خوشبو لگانا حرام نہیں ہوتا جب تک کہ وہ احرام نہ باندھ لے، ٣- اور بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب آدمی اپنے ہدی (کے جانور) کو قلادہ پہنا دے تو اس پر وہ سب واجب ہوجاتا ہے جو ایک محرم پر واجب ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٦٨ (٢٧٨٦) (تحفة الأشراف: ١٧٥١٣)، مسند احمد (٦/٨٥) (صحیح) (وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحج ١٠٦ (١٦٩٨)، و ١٠٧ (١٦٩٩)، و ١٠٨ (١٦٩٩)، و ١٠٩ (١٧٠٠)، و ١١٠ (١٧٠٢، ١٧٠٣)، الوکالة ١٤ (٢٣١٧)، والأضاحي ١٥ (٥٥٦٦)، صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١)، سنن ابی داود/ الحج ١٧ (١٧٥٨)، سنن النسائی/الحج ٦٥ (٢٧٧٧-٢٧٨١)، و ٦٦ (٢٧٨٢)، ٦٨ (٢٧٨٥)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٤ (٣٠٩٥)، مسند احمد (٦/٣٥، ٣٦، ٧٨، ٩١، ١٠٢، ١٢٧، ١٧٤، ١٨٠، ١٨٥، ١٩٠، ١٩١، ٢٠٠، ٢٠٨، ٢١٣، ٢١٦، ٢٢٥، ٢٣٦، ٢٥٣، ٢٦٢) من غیر ہذا الطریق۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ہدی کی بکریوں کے سارے قلادے (پٹے) میں ہی بٹتی تھی ١ ؎ پھر آپ احرام نہ باندھتے (حلال ہی رہتے تھے) ۔
Sayyidah Ayshah (RA) said, “I twisted garlands of the hadi of Allah’s Messenger ﷺ all of them sheep. After that he did not assume the ihram.” [Ahmed25930, Bukhari 1702, Muslim 1321, Nisai 2774, Ibn e Majah 3095]
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام وغیرہ میں سے بعض اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، وہ بکریوں کے قلادہ پہنانے کے قائل ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بکریوں کی تقلید بھی مستحب ہے، امام مالک اور امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ بکریوں کی تقلید مستحب نہیں ان دونوں نے تقلید کو اونٹ گائے کے ساتھ خاص کیا ہے، یہ حدیث ان دونوں کے خلاف صریح حجت ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ کمزوری کا باعث ہوگی، لیکن یہ دلیل انتہائی کمزور ہے اس لیے کہ تقلید سے مقصود پہچان ہے انہیں ایسی چیز کا قلادہ پہنایا جائے جس سے انہیں کمزوری نہ ہو۔ اللہ عزوجل ہم سب کو مذہبی و معنوی تقلید سے محفوظ رکھے، «اللہم آمین»۔
رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں کی دیکھ بھال کرنے والے ناجیہ خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو اونٹ راستے میں مرنے لگیں انہیں میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: انہیں نحر (ذبح) کر دو، پھر ان کی جوتی انہیں کے خون میں لت پت کر دو، پھر انہیں لوگوں کے لیے چھوڑ دو کہ وہ ان کا گوشت کھائیں ۔
Sayyidina Najiyah Khuza’i (RA) narrated that he said, “O Messenger of Allah! ﷺ How should I treat the hadi that is on the point of death?” He said, “Slaughter it and dip its shoes with which it is garlanded in its blood. After that leave it among the people that they may eat it.” [Ahmed18965, Abu Dawud 1762, Ibn e Majah 3106]
صحيح، ابن ماجة (3106)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 910
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ناجیہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ذویب ابو قبیصہ خزاعی ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ نفلی ہدی کا جانور جب مرنے لگے تو نہ وہ خود اسے کھائے اور نہ اس کے سفر کے ساتھی کھائیں۔ وہ اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دے، کہ وہ اسے کھائیں۔ یہی اس کے لیے کافی ہے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس میں سے کچھ کھالیا تو جتنا اس نے اس میں سے کھایا ہے اسی کے بقدر وہ تاوان دے، ٤- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب وہ نفلی ہدی کے جانور میں سے کچھ کھالے تو جس نے کھایا وہ اس کا ضامن ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ١٩ (١٧٦٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٠١ (٣١٠٦) (تحفة الأشراف: ١١٥٨١)، موطا امام مالک/الحج ٤٧ (١٤٨)، مسند احمد (٤/٣٣)، سنن الدارمی/المناسک ٦٦ (١٩٥٠) (صحیح)
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو ہدی کے اونٹ ہانکتے دیکھا، تو اسے حکم دیا اس پر سوار ہو جاؤ، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ہدی کا اونٹ ہے، پھر آپ نے اس سے تیسری یا چوتھی بار میں کہا: اس پر سوار ہوجاؤ، تمہارا برا ہو ١ ؎ یا تمہاری ہلاکت ہو ۔
Sayyidina Anas (RA) narrated that the Prophet ﷺ saw a man drive his camel. He said to him, “Ride it.” The man said, “O Messenger of Allah! ﷺ It is a sacrificial camel.” So, he said three or four times, “Ride it!” and “wayhaka”, or “waylaka.” (meaning, ‘Alas for you’ or ‘shame on you’ both words have same meaning). [Ahmed13414, Bukhari 1690, Ibn e Majah 3104]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 911
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، ابوہریرہ، اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہ میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کی اجازت دی ہے، جب کہ وہ اس کا محتاج ہو، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٤- بعض کہتے ہیں: جب تک مجبور نہ ہو ہدی کے جانور پر سوار نہ ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آپ نے تنبیہ اور ڈانٹ کے طور پر فرمایا کیونکہ سواری کی اجازت آپ اسے پہلے دے چکے تھے اور آپ کو یہ پہلے معلوم تھا کہ یہ ہدی ہے۔