Sunan At-Tirmidhi 904

حج کا بیان

904Sunan At-Tirmidhi

اونٹ اور گائے میں شراکت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَحَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ يَرَوْنَ الْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ وَرُوِي، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْجَزُورَ عَنْ عَشَرَةٍ . وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَاق، وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ وَجْهٍ وَاحِدٍ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گائے اور اونٹ کو سات سات آدمیوں کی جانب سے نحر (ذبح) کیا۔

Sayyidina Jabir (RA) said that in the year of Hudaybiyah, we, with Allah’s Messenger ﷺ sacrificed a cow associating seven people and a camel also seven people in association. [Ahmed14120, Muslim 1318, Abu Dawud 2809, Ibn e Majah 3132]

صحيح، ابن ماجة (3132)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 904
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ، عائشہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ اونٹ سات لوگوں کی طرف سے اور گائے سات لوگوں کی طرف سے ہوگی۔ اور یہی سفیان ثوری، شافعی اور احمد کا قول ہے، ٤- ابن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ گائے سات لوگوں کی طرف سے اور اونٹ دس لوگوں کی طرف سے کافی ہوگا ١ ؎۔ یہ اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل لی ہے۔ ابن عباس کی حدیث کو ہم صرف ایک ہی طریق سے جانتے ہیں (ملاحظہ ہو آنے والی حدیث: ٩٠٥) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جابر ؓ کی یہ حدیث حج و عمرہ کے «ھدی» کے بارے میں ہے، جس کے اندر ابن عباس ؓ کی اگلی حدیث قربانی کے بارے میں ہے ( اور اس کی تائید صحیحین میں مروی رافع بن خدیج کی حدیث سے بھی ہوتی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مال غنیمت میں ایک اونٹ کے بدلے دس بکریاں تقسیم کیں، یعنی: ایک اونٹ برابر دس بکریوں کے ہے ) شوکانی نے ان دونوں حدیثوں میں یہی تطبیق دی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦٢ (١٣١٨)، سنن ابی داود/ الضحایا ٧ (٢٨٠٩)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٥ (٣١٣٢) (تحفة الأشراف: ٢٩٣٣)، موطا امام مالک/الضحایا ٥ (٩)، ویأتي عند المؤلف في الأضاحي ٨ (١٥٠٢) (صحیح) وأخرجہ کل من: (صحیح مسلم/المصدر المذکور)، سنن ابی داود/ المصدر المذکور سنن النسائی/الضحایا ١٦ (٤٣٩٨) من غیر ہذا الطریق۔