مزدلفہ طلوع آفتاب سے پہلے نکلنا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَنْتَظِرُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ يُفِيضُونَ.
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ (مزدلفہ سے) سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Prophet ﷺ returned (from Muzdalifah) before sunrise. [Ahmed2051]
صحيح بما بعده (896)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 895
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- جاہلیت کے زمانے میں لوگ انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا پھر لوٹتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٤٧٣) (صحیح بما بعدہ) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” حکم “ نے ” مقسم “ سے صرف پانچ احادیث سنی ہیں، اور یہ حدیث شاید ان میں سے نہیں ہے؟ )