جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دسویں ذی الحجہ کو (ٹھنڈی) چاشت کے وقت رمی کرتے تھے اور اس کے بعد زوال کے بعد کرتے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ cast pebbles at the time of duha (chaast) on the day of sacrifice (tenth Dul Hajjah). Thereafter, he cast them after zawal (declination of the sun). [Ahmed14360, Muslim 1299, Abu Dawud 1971, Nisai 3060, Ibn e Majah 3053]
صحيح، ابن ماجة (3053)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 894
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ وہ دسویں ذی الحجہ کے زوال بعد کے بعد ہی رمی کرے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ سنت یہی ہے کہ یوم النحر ( دسویں ذوالحجہ، قربانی والے دن ) کے علاوہ دوسرے، گیارہ اور بارہ والے دنوں میں رمی سورج ڈھلنے کے بعد کی جائے، یہی جمہور کا قول ہے اور عطاء و طاؤس نے اسے زوال سے پہلے مطلقاً جائز کہا ہے، اور حنفیہ نے کوچ کے دن زوال سے پہلے رمی کی رخصت دی ہے، عطاء و طاؤس کے قول پر نبی اکرم ﷺ کے فعل و قول سے کوئی دلیل نہیں ہے، البتہ حنفیہ نے اپنے قول پر ابن عباس کے ایک اثر سے استدلال کیا ہے، لیکن وہ اثر ضعیف ہے اس لیے جمہو رہی کا قول قابل اعتماد ہے۔