Sunan At-Tirmidhi 908

حج کا بیان

908Sunan At-Tirmidhi

مقیم کا ہدی کے گلے میں ہار ڈالنا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَمْ يُحْرِمْ وَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: إِذَا قَلَّدَ الرَّجُلُ الْهَدْيَ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَجَّ، لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنَ الثِّيَابِ وَالطِّيبِ حَتَّى يُحْرِمَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا قَلَّدَ الرَّجُلُ هَدْيَهُ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ مَا وَجَبَ عَلَى الْمُحْرِمِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے قلادے بٹے، پھر آپ نہ محرم ہوئے اور نہ ہی آپ نے کوئی کپڑا پہننا چھوڑا۔

Sayyidah Ayshah (RA) said, “I used to twist ropes into garlands for the hadi of Allah’s Messenger ﷺ After that he would neither assume the ihram nor cease to wear (normal) garments.” [Bukhari 1696, Muslim 1321, Abu Dawud 1757, Nisai 2779, Ibn e Majah 3098]

صحيح، ابن ماجة (3098)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 908
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی ہدی (کے جانور) کو قلادہ پہنا دے اور وہ حج کا ارادہ رکھتا ہو تو اس پر کپڑا پہننا یا خوشبو لگانا حرام نہیں ہوتا جب تک کہ وہ احرام نہ باندھ لے، ٣- اور بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب آدمی اپنے ہدی (کے جانور) کو قلادہ پہنا دے تو اس پر وہ سب واجب ہوجاتا ہے جو ایک محرم پر واجب ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٦٨ (٢٧٨٦) (تحفة الأشراف: ١٧٥١٣)، مسند احمد (٦/٨٥) (صحیح) (وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحج ١٠٦ (١٦٩٨)، و ١٠٧ (١٦٩٩)، و ١٠٨ (١٦٩٩)، و ١٠٩ (١٧٠٠)، و ١١٠ (١٧٠٢، ١٧٠٣)، الوکالة ١٤ (٢٣١٧)، والأضاحي ١٥ (٥٥٦٦)، صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١)، سنن ابی داود/ الحج ١٧ (١٧٥٨)، سنن النسائی/الحج ٦٥ (٢٧٧٧-٢٧٨١)، و ٦٦ (٢٧٨٢)، ٦٨ (٢٧٨٥)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٤ (٣٠٩٥)، مسند احمد (٦/٣٥، ٣٦، ٧٨، ٩١، ١٠٢، ١٢٧، ١٧٤، ١٨٠، ١٨٥، ١٩٠، ١٩١، ٢٠٠، ٢٠٨، ٢١٣، ٢١٦، ٢٢٥، ٢٣٦، ٢٥٣، ٢٦٢) من غیر ہذا الطریق۔