حج کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 9 · 166 hadiths · Page 4 of 8

870Sunan At-Tirmidhi

طواف کی دو رکعتوں میں کیا پڑھا جائے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يَقْرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الطَّوَافِ بِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عِمْرَانَ، وَحَدِيثُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ.

محمد (محمد بن علی الباقر) سے روایت ہے کہ وہ طواف کی دونوں رکعتوں میں: «قل يا أيها الکافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔

Hannad reported from Waki, from Sufyan, from Jafar ibn Muhammad who from his father that it is rnustahabb to recite surah al-Kafirun and al-Ikhlas in the two raka’at of salah.

صحيح الإسناد مقطوعاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 870
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- سفیان کی جعفر بن محمد عن أبیہ کی روایت عبدالعزیز بن عمران کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ٢- اور (سفیان کی روایت کردہ) جعفر بن محمد کی حدیث جسے وہ اپنے والد (کے عمل سے) سے روایت کرتے ہیں (عبدالعزیز کی روایت کردہ) جعفر بن محمد کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے وہ اپنے والد سے اور وہ جابر سے اور وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں ١ ؎، ٣- عبدالعزیز بن عمران حدیث میں ضعیف ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی کے اس قول میں نظر ہے کیونکہ عبدالعزیز بن عمران اس حدیث کو «عن جعفر بن محمد عن أبیہ عن جابر» کے طریق سے روایت کرنے میں منفرد نہیں ہیں، امام مسلم نے اپنی صحیح میں ( برقم: ١٢١٨) «حاتم بن اسماعیل المدنی عن جعفر بن محمد عن أبیہ عن جابر» کے طریق سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٩٣٢٤) (صحیح الإسناد)
871Sunan At-Tirmidhi

ننگے ہو کر طواف کرنا حرام ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ زَيْدِ بْنِ أُثَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ، قَالَ: بِأَرْبَعٍ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَجْتَمِعُ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ، فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ، وَمَنْ لَا مُدَّةَ لَهُ فَأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ. ح

زید بن اثیع کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ سے پوچھا: آپ کو کن باتوں کا حکم دے کر بھیجا گیا ہے؟ ١ ؎ انہوں نے کہا: چار باتوں کا: جنت میں صرف وہی جان داخل ہوگی جو مسلمان ہو، بیت اللہ کا طواف کوئی ننگا ہو کر نہ کرے۔ مسلمان اور مشرک اس سال کے بعد جمع نہ ہوں، جس کسی کا نبی اکرم ﷺ سے کوئی عہد ہو تو اس کا یہ عہد اس کی مدت تک کے لیے ہوگا۔ اور جس کی کوئی مدت نہ ہو تو اس کی مدت چار ماہ ہے۔

Ibn Uthay said that he asked Sayyidina Ali , “With what were you sent (by the Prophet ﷺ )“ ?‘ He said, “With four things : No one but a Muslim will enter Paradise. Do not make tawaf of the House in the nude. The Muslims and the idolators will not come together (for Hajj) after this year. If there is a covenant between anyone and the Prophet ﷺ then that will be valid till its expriy but if no period is stipulated then it will operate for four months.’

صحيح، الإرواء (1101)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 871
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس سال کے حج کی بات ہے جب نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر ؓ کو حج کا امیر بنا کر بھیجا تھا، ( آٹھویں یا نویں سال ہجرت میں ) اور پھر اللہ عزوجل کی طرف سے حرم مکی میں مشرکین و کفار کے داخلہ پر پابندی کا حکم نازل ہوجانے کی بنا پر آپ ﷺ نے علی ؓ کو ابوبکر ؓ کے پاس مکہ میں یہ احکام دے کر روانہ فرمایا تھا، راوی حدیث زید بن اثیع الہمدانی ان سے انہی احکام و اوامر کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں جو ان کو نبی اکرم ﷺ کی طرف سے دے کر بھیجا گیا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وأعادہ في تفسیر التوبة (٣٠٩٢) (تحفة الأشراف: ١٠١٠١) (صحیح)
872Sunan At-Tirmidhi

ننگے ہو کر طواف کرنا حرام ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق نَحْوَهُ، وَقَالَا: زَيْدُ بْنُ يُثَيْعٍ وَهَذَا أَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَشُعْبَةُ وَهِمَ فِيهِ، فَقَالَ: زَيْدُ بْنُ أُثَيْلٍ.

ہم سے ابن ابی عمر اور نصر بن علی نے بیان کیا، یہ دونوں کہتے ہیں کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا اور سفیان نے ابواسحاق سبیعی سے اسی طرح کی حدیث روایت کی، البتہ ابن ابی عمر اور نصر بن علی نے (زید بن اثیع کے بجائے) زید بن یثیع کہا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔

Ibn Abu Umar and Nasr ibn Ali reported the like of it from Sufyan, from Abu Ishaq and they name Zayd ibn Yathi’ said and this is (more) sahih.

صحيح انظر ما قبله (871)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 872
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
شعبہ کو اس میں وہم ہوا ہے، انہوں نے: زید بن اثیل کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح)
873Sunan At-Tirmidhi

خانہ کعبہ میں داخل ہونا

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِي وَهُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ طَيِّبُ النَّفْسِ، فَرَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ حَزِينٌ، فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ: إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ وَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ أَتْعَبْتُ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے نکل کر گئے، آپ کی آنکھیں ٹھنڈی تھیں اور طبیعت خوش، پھر میرے پاس لوٹ کر آئے، تو غمگین اور افسردہ تھے، میں نے آپ سے (وجہ) پوچھی، تو آپ نے فرمایا: میں کعبہ کے اندر گیا۔ اور میری خواہش ہوئی کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا۔ میں ڈر رہا ہوں کہ اپنے بعد میں نے اپنی امت کو زحمت میں ڈال دیا ۔

Say’dah Ayshah (RA) said that once the Prophet ﷺ departed from her with cool eyes and a happy disposition. When he returned to her he was grieved. She asked him and he said, “I entered the Ka’bah and I wished that I had not done that. I fear that I have put my ummah to inconvenience after me.” [Ahmed25110, Abu Dawud 2029, Ibn e Majah 3064]

ضعيف، ابن ماجة (3064) // ضعيف سنن ابن ماجة (656)، ضعيف الجامع الصغير (2085)، ضعيف أبي داود (440 / 2029) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 873
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٩٥ (٢٠٢٩)، سنن ابن ماجہ/المناسک (٧٩) (٣٠٦٤) (تحفة الأشراف: ١٦٢٣٠) (ضعیف) (اس کے راوی ” اسماعیل بن عبدالملک “ کثیرالوہم ہیں)
874Sunan At-Tirmidhi

کعبہ میں نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ بِلَالٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ يُصَلِّ وَلَكِنَّهُ كَبَّرَ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بِلَالٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِالصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ بَأْسًا، وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: لَا بَأْسَ بِالصَّلَاةِ النَّافِلَةِ فِي الْكَعْبَةِ، وَكَرِهَ أَنْ تُصَلَّى الْمَكْتُوبَةُ فِي الْكَعْبَةِ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا بَأْسَ أَنْ تُصَلَّى الْمَكْتُوبَةُ وَالتَّطَوُّعُ فِي الْكَعْبَةِ، لِأَنَّ حُكْمَ النَّافِلَةِ وَالْمَكْتُوبَةِ فِي الطَّهَارَةِ وَالْقِبْلَةِ سَوَاءٌ.

بلال ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی۔ جب کہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: آپ نے نماز نہیں پڑھی بلکہ آپ نے صرف تکبیر کہی۔

Sayyidina Bilal (RA) said that the Prophet ﷺ offered salah inside the Ka’bah. But Sayyidina Ibn Abbas (RA) said that he never prayed but called the takbir.

صحيح، ابن ماجة (3063)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 874
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- بلال ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں اسامہ بن زید، فضل بن عباس، عثمان بن طلحہ اور شیبہ بن عثمان ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کعبہ کے اندر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، ٤- مالک بن انس کہتے ہیں: کعبے میں نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، اور انہوں نے کعبہ کے اندر فرض نماز پڑھنے کو مکروہ کہا ہے، ٥- شافعی کہتے ہیں: کعبہ کے اندر فرض اور نفل کوئی بھی نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اس لیے کہ نفل اور فرض کا حکم وضو اور قبلے کے بارے میں ایک ہی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: راجح بلال ؓ کی روایت ہے کیونکہ اس سے کعبہ کے اندر نماز پڑھنا ثابت ہو رہا ہے، رہی ابن عباس ؓ کی نفی، تو یہ نفی ان کے اپنے علم کی بنیاد پر ہے کیونکہ اسامہ بن زید ؓ نے انہیں اسی کی خبر دی تھی اور اسامہ کے اس سے انکار کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ لوگ کعبہ کے اندر گئے تو ان لوگوں نے دروازہ بند کرلیا اور ذکر و دعا میں مشغول ہوگئے جب اسامہ نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ دعا میں مشغول ہیں تو وہ بھی ایک گوشے میں جا کر دعا میں مشغول ہوگئے، نبی اکرم ﷺ دوسرے گوشے میں تھے اور بلال ؓ آپ سے قریب تھے اور آپ دونوں کے بیچ میں تھے، نبی اکرم ﷺ کی نماز چونکہ بہت ہلکی تھی اور اسامہ خود ذکر و دعا میں مشغول و منہمک تھے اور نبی اکرم ﷺ ان کے بیچ میں بلال حائل تھے اس لیے اسامہ کو آپ کے نماز پڑھنے کا علم نہ ہوسکا ہو گا اسی بنا پر انہوں نے اس کی نفی کی، «واللہ اعلم»۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٠٣٩) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصلاة ٣٠ (٣٩٧)، و ٨١ (٤٨٦)، و ٩٦ (٥٠٤)، والتہجد ٢٥ (١١٦٧)، والحج ٥١ (١٥٩٨)، والجہاد ١٢٧ (٢٩٨٨)، والمغازي ٤٩ (٤٢٨٩)، و ٧٧ (٤٤٠٠)، صحیح مسلم/الحج ٢٨ (١٣٢٩)، سنن ابی داود/ الحج ٩٣ (٢٠٢٣)، سنن النسائی/المساجد ٥ (٦٩١)، والقبلة ٦ (٧٤٨)، والحج ١٢٦ (٢٩٠٨)، و ١٢٧ (٢٩٠٩)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٩ (٣٠٦٣)، موطا امام مالک/الحج ٦٣ (١٩٣)، مسند احمد (٢/٣٣، ٥٥، ١١٣، ١٢٠٠، ١٣٨)، سنن الدارمی/المناسک ٤٣ (١٩٠٨) من غیر ہذا الطریق وبتغیر یسیر فی السیاق۔
875Sunan At-Tirmidhi

خانہ کعنہ کو توڑ کر بنا نا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ لَهُ: حَدِّثْنِي بِمَا كَانَتْ تُفْضِي إِلَيْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي عَائِشَةَ، فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا: لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابيْنِ . قَالَ: فَلَمَّا مَلَكَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهَا وَجَعَلَ لَهَا بَابيْنِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اسود بن یزید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر ؓ نے ان سے کہا: تم مجھ سے وہ باتیں بیان کرو، جسے ام المؤمنین یعنی عائشہ ؓ تم سے رازدارانہ طور سے بیان کیا کرتی تھیں، انہوں نے کہا: مجھ سے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اگر تمہاری قوم کے لوگ جاہلیت چھوڑ کر نئے نئے مسلمان نہ ہوئے ہوتے، تو میں کعبہ کو گرا دیتا اور اس میں دو دروازے کردیتا ، چناچہ ابن زبیر ؓ جب اقتدار میں آئے تو انہوں نے کعبہ گرا کر اس میں دو دروازے کردیئے۔

As wad ibn Yazid said that lbn Zubayr (RA) asked him to report to him that which the Mother of the Believers, Sayyidah Ayshah (RA) had disclosed to him. So he told him that she had said that Allah’s Messenger ﷺ said to her, “If your people had not been very recent (Muslims after) jahiliyah, I would have demolished the Ka’bah and made two doors into it.” So when Ibn Zubayr (RA) became governor of Makkah, he demolished it and made two doors for it. [Ahmed24763, Bukhari 1584, Muslim 1333, Ibn e Majah 2955]

صحيح، ابن ماجة (875)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 875
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ١٢٥ (٢٩٠٥) (تحفة الأشراف: ١٦٠٣٠) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحج ٤٢ (١٥٨٣)، والأنبیاء ١٠ (٣٣٦٨)، وتفسیر البقرة ١٠ (٤٤٨٤)، صحیح مسلم/الحج ٦٩ (١٣٣٣)، سنن النسائی/الحج ١٢٥ (٢٩٠٣)، موطا امام مالک/الحج ٣٣ (١٠٤)، مسند احمد (٦/١١٣، ١٧٧، ٢٤٧، ٢٥٣، ٢٥٢) من غیر ہذا الطریق وبتغیر یسیر في السیاق۔
876Sunan At-Tirmidhi

حطیم میں نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ فَأُصَلِّيَ فِيهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَأَدْخَلَنِي الْحِجْرَ، فَقَالَ: صَلِّي فِي الْحِجْرِ إِنْ أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ، فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنْ الْبَيْتِ، وَلَكِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوهُ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ، فَأَخْرَجُوهُ مِنْ الْبَيْتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ هُوَ عَلْقَمَةُ بْنُ بِلَالٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں چاہتی تھی کہ بیت اللہ میں داخل ہو کر اس میں نماز پڑھوں، رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم ١ ؎ کے اندر کردیا اور فرمایا: اگر تم بیت اللہ کے اندر داخل ہونا چاہتی ہو تو حطیم میں نماز پڑھ لو، یہ بھی بیت اللہ کا ایک حصہ ہے، لیکن تمہاری قوم کے لوگوں نے کعبہ کی تعمیر کے وقت اسے چھوٹا کردیا، اور اتنے حصہ کو بیت اللہ سے خارج کردیا۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated that she longed to enter the Ka’bah and pray (salah) therein. So, Allah’s Messenger took her by her hand and admitted her into the hijr (hatirn) and said to her, “Offer the salah, if you like to enter the House, for, it is a part of the House. Your people made it small when they built the Ka’bah and took this out of the House.” (Ahmed24670, Abu Dawud 2028, 2910]

حسن صحيح، صحيح أبي داود (1769)، الصحيحة (43)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 876
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حطیم کعبہ کے شمالی جانب ایک طرف کا چھوٹا ہوا حصہ ہے جو گول دائرے میں دیوار سے گھیر دیا گیا ہے، یہ بھی بیت اللہ کا ایک حصہ ہے اس لیے طواف اس کے باہر سے کرنا چاہیئے، اگر کوئی طواف میں حطیم کو چھوڑ دے اور اس کے اندر سے آئے تو طواف درست نہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٩٤ (٢٠٢٨)، سنن النسائی/الحج ١٢٨ (٢٩١٥) (تحفة الأشراف: ١٧٩٦١)، مسند احمد (٦/٩٢) (حسن صحیح)
877Sunan At-Tirmidhi

حجر اسود رکن یمانی اور مقام ابر اہیم کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَزَلَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، فَسَوَّدَتْهُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حجر اسود جنت سے اترا، وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا، لیکن اسے بنی آدم کے گناہوں نے کالا کردیا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Black Stone was sent down from Paradise and it was more white than milk, but the sins of the children of Aadam turned it black.”

صحيح، المشکاة (2577)، التعليق الرغيب (2 / 123)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 877
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: زیادہ طور پر یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اسے حقیقت پر محمول کیا جائے کیونکہ عقلاً و نقلاً اس سے کوئی چیز مانع نہیں ہے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے حجر اسود کی تعظیم شان میں مبالغہ اور گناہوں کی سنگینی بتانا مقصود ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ١٤٥ (٢٩٣٨) (تحفة الأشراف: ٥٥٧١)، مسند احمد (١/٣٠٧، ٣٢٩، ٣٧٣) (صحیح)
878Sunan At-Tirmidhi

حجر اسود رکن یمانی اور مقام ابر اہیم کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ رَجَاءٍ أَبِي يَحْيَى، قَال: سَمِعْتُ مُسَافِعًا الْحَاجِبَ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ الرُّكْنَ، وَالْمَقَامَ يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ، طَمَسَ اللَّهُ نُورَهُمَا، وَلَوْ لَمْ يَطْمِسْ نُورَهُمَا لَأَضَاءَتَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا قَوْلُهُ، وَفِيهِ عَنْ أَنَسٍ أَيْضًا، وَهُوَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: حجر اسود اور مقام ابراہیم دونوں جنت کے یاقوت میں سے دو یاقوت ہیں، اللہ نے ان کا نور ختم کردیا، اگر اللہ ان کا نور ختم نہ کرتا تو وہ مشرق و مغرب کے سارے مقام کو روشن کردیتے۔

Qutaybah reported from Yazid ibn Zuray’ from Raja’ Abu Yahya who said that he heard Ibn Umar (RA) say that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “The rukn and te Maqam (Station of Ibrahim) are two rubies from the rubies of Paradise. If Allah had not blotted out their light then they would have brightened that which is between the east and the west.” [Ahmed7017]

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 878
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- یہ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے موقوفاً ان کا قول روایت کیا جاتا ہے، ٣- اس باب میں انس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وانظر: مسند احمد (٢/٢١٣، ٢١٤) (التحفة: ٨٩٣٠) (صحیح) (سند میں رجاء بن صبیح ابو یحییٰ ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات کی وجہ سے یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، دیکھیے صحیح الترغیب رقم: ١١٤٧)
879Sunan At-Tirmidhi

منٰی کی طرف جانا اور قیام کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ غَدَا إِلَى عَرَفَاتٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ قَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے منیٰ ١ ؎ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر پڑھائی ٢ ؎ پھر آپ صبح ٣ ؎ ہی عرفات کے لیے روانہ ہوگئے۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) said, “Allah’s Messenger ﷺ prayed with us at Mina the salah of zuhr and asr and maghrib and isha and fajr. Then he departed for Arafat in the early morning.” [Ibn e Majah 3004]

صحيح حجة النبی صلی اللہ عليه وسلم (69 / 55)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 879
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اسماعیل بن مسلم پر ان کے حافظے کے تعلق سے لوگوں نے کلام کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: منیٰ: مکہ اور مزدلفہ کے درمیان کئی وادیوں پر مشتمل ایک کھلے میدان کا نام ہے، مشرقی سمت میں اس کی حد وہ نشیبی وادی ہے جو وادی محسّر سے اترتے وقت پڑتی ہے اور مغربی سمت میں جمرہ عقبہ ہے۔ ٢ ؎: یوم الترویہ یعنی آٹھویں ذی الحجہ۔ ٣ ؎: یعنی سورج نکلنے کے بعد۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحج ٥١ (٣٠٠٤) (تحفة الأشراف: ٥٨٨١) (صحیح) (سند میں اسماعیل بن مسلم کے اندر ائمہ کا کلام ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
880Sunan At-Tirmidhi

منٰی کی طرف جانا اور قیام کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِمِنًى الظُّهْرَ وَالْفَجْرَ، ثُمَّ غَدَا إِلَى عَرَفَاتٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى: قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ يَسْمَعْ الْحَكَمُ مِنْ مِقْسَمٍ إِلَّا خَمْسَةَ أَشْيَاءَ وَعَدَّهَا، وَلَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ فِيمَا عَدَّ شُعْبَةُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے منیٰ میں ظہر اور فجر پڑھی ١ ؎، پھر آپ صبح ہی صبح ٢ ؎ عرفات کے لیے روانہ ہوگئے۔

Sayyidina Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ prayed with us the zuhr and fajr salah. Then he went to Arafat in the morning.

صحيح انظر ما قبله (879)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 880
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- مقسم کی حدیث ابن عباس سے مروی ہے، ٢- شعبہ کا بیان ہے کہ حکم نے مقسم سے صرف پانچ چیزیں سنی ہیں، اور انہوں نے انہیں شمار کیا تو یہ حدیث شعبہ کی شمار کی ہوئی حدیثوں میں نہیں تھی، ٣- اس باب میں عبداللہ بن زبیر اور انس سے بھی احادیث آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: ظہر سے لے کر فجر تک پڑھی۔ ظہر، عصر جمع اور قصر کر کے، پھر مغرب اور عشاء جمع اور قصر کر کے۔ ٢ ؎: یعنی نویں ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے فوراً بعد۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٥٩ (٩١١) (تحفة الأشراف: ٦٤٦٥) (صحیح)
881Sunan At-Tirmidhi

منٰی میں پہلے والا قیام کا زیادہ حقدار ہے

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَبْنِي لَكَ بَيْتًا يُظِلُّكَ بِمِنًى، قَالَ: لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منی میں ایک گھر نہ بنادیں جو آپ کو سایہ دے۔ آپ نے فرمایا: نہیں ١ ؎، منیٰ میں اس کا حق ہے جو وہاں پہلے پہنچے ۔

Sayyidah Ayshah reported that they said, “O Messenger of Allah! ﷺ Shall we build for you a structure in Mina to give you shade?” He said, “No. He who comes to Mina first, it is his place.” [Ahmed25776, Ibn e Majah 3006, Abu Dawud 2019] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، ابن ماجة (3006) // ضعيف سنن ابن ماجة (648)، ضعيف أبي داود (438 / 2019) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 881
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ منی کو کسی کے لیے خاص کرنا درست نہیں، وہ رمی، ذبح اور حلق وغیرہ عبادات کی سر زمین ہے، اگر مکان بنانے کی اجازت دے دی جائے تو پورا میدان مکانات ہی سے بھر جائے گا اور عبادت کے لیے جگہ نہیں رہ جائے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٩٠ (٢٠١٩)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٢ (٣٠٠٦)، سنن الدارمی/المناسک ٨٧ (١٩٨٠)، ( تحفة الأشراف: ١٧٩٦٣) (ضعیف) (یوسف کی والدہ ” مسیکہ “ مجہول ہیں)
882Sunan At-Tirmidhi

منٰی میں قصر نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى آمَنَ مَا كَانَ النَّاسُ وَأَكْثَرَهُ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَقْصِيرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى لِأَهْلِ مَكَّةَ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَيْسَ لِأَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَقْصُرُوا الصَّلَاةَ بِمِنًى، إِلَّا مَنْ كَانَ بِمِنًى مُسَافِرًا، وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا بَأْسَ لِأَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَقْصُرُوا الصَّلَاةَ بِمِنًى، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، وَمَالِكٍ، وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.

حارثہ بن وہب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھی جب کہ لوگ ہمیشہ سے زیادہ مامون اور بےخوف تھے۔

Sayyidina Harithahi bnWahb (RA) said, “I prayed with the Prophet ﷺ (RA) at Mina, all people being at peace, and they prayed two raka’at (qasr, or shortened salah). [Bukhari 1083, Muslim 696, Abu Dawud 1965, Nisai 2441]

صحيح، صحيح أبي داود (1714)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 882
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- حارثہ بن وہب کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود، ابن عمر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور ابن مسعود ؓ سے بھی مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر ابوبکر کے ساتھ، عمر کے ساتھ اور عثمان ؓ کے ساتھ ان کے ابتدائی دور خلافت میں دو رکعتیں پڑھیں، ٤- اہل مکہ کے منیٰ میں نماز قصر کرنے کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اہل مکہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ منیٰ میں نماز قصر کریں ١ ؎، بجز ایسے شخص کے جو منیٰ میں مسافر کی حیثیت سے ہو، یہ ابن جریج، سفیان ثوری، یحییٰ بن سعید قطان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اہل مکہ کے لیے منیٰ میں نماز قصر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ اوزاعی، مالک، سفیان بن عیینہ، اور عبدالرحمٰن بن مہدی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان لوگوں کے نزدیک منیٰ میں قصر کی وجہ منسک حج نہیں سفر ہے، مکہ اور منیٰ کے درمیان اتنی دوری نہیں کہ آدمی اس میں نماز قصر کرے، اور جوگ مکہ والوں کے لیے منیٰ میں قصر کو جائز کہتے ہیں ان کے نزدیک قصر کی وجہ سفر نہیں بلکہ اس کے حج کا نسک ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیرالصلاة ٢ (١٠٨٣)، والحج ٨٤ (١٦٥٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٢ (٦٩٦)، سنن ابی داود/ الحج ٧٧ (١٩٦٥)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ٣ (١٤٤٦)، ( تحفة الأشراف: ٣٢٨٤)، مسند احمد (٤/٣٠٦) (صحیح)
883Sunan At-Tirmidhi

عرفات میں ٹھہر نا اور دعا کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ، قَالَ: أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ وَنَحْنُ وُقُوفٌ بِالْمَوْقِفِ مَكَانًا يُبَاعِدُهُ عَمْرٌو، فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ، يَقُولُ: كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ، فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَائِشَةَ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَالشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَابْنُ مِرْبَعٍ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَإِنَّمَا يُعْرَفُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثُ الْوَاحِدُ.

یزید بن شیبان کہتے ہیں: ہمارے پاس یزید بن مربع انصاری ؓ آئے، ہم لوگ موقف (عرفات) میں ایسی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے جسے عمرو بن عبداللہ امام سے دور سمجھتے تھے ١ ؎ تو یزید بن مربع نے کہا: میں تمہاری طرف رسول اللہ ﷺ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، تم لوگ مشاعر ٢ ؎ پر ٹھہرو کیونکہ تم ابراہیم کے وارث ہو۔

Sayyidina Yazid ibn Shayban (RA) said that Ibn Mirba’ Ansari (RA) came to them while they were standing at the Mawqif (place of standing), a place distant from Amr (the imam). He (lbn Mirba) said, “I am the envoy of Allah’s Messenger ﷺ to you. Stand, all of you, at your places so that you keep to the legacy of Ibrahim ‘ [Ahmed17233, Abu Dawud 1919, Nisai 3014, Ibn e Majah 3011]

صحيح، ابن ماجة (3011)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 883
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یزید بن مربع انصاری کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسے ہم صرف ابن عیینہ کے طریق سے جانتے ہیں، اور ابن عیینہ عمرو بن دینار سے روایت کرتے ہیں، ٣- ابن مربع کا نام یزید بن مربع انصاری ہے، ان کی صرف یہی ایک حدیث جانی جاتی ہے، ٤- اس باب میں علی، عائشہ، جبیر بن مطعم، شرید بن سوید ثقفی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جملہ مدرج ہے عمرو بن دینار کا تشریحی قول ہے۔ ٢ ؎: مشاعر سے مراد مواضع نسک اور مواقف قدیمہ ہیں، یعنی ان مقامات پر تم بھی وقوف کرو کیونکہ ان پر وقوف تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) ہی کے دور سے بطور روایت چلا آ رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٦٣ (١٩١٩)، سنن النسائی/الحج ٢٠٢ (٣٠١٧)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٥ (٣٠١١)، ( تحفة الأشراف: ١٥٥٢٦)، مسند احمد (٤/١٣٧) (صحیح)
884Sunan At-Tirmidhi

عرفات میں ٹھہر نا اور دعا کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشٌ وَمَنْ كَانَ عَلَى دِينِهَا وَهُمْ الْحُمْسُ يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، يَقُولُونَ: نَحْنُ قَطِينُ اللَّهِ، وَكَانَ مَنْ سِوَاهُمْ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ مِنْ الْحَرَمِ، وَعَرَفَةُ خَارِجٌ مِنْ الْحَرَمِ، وَأَهْلُ مَكَّةَ كَانُوا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَيَقُولُونَ: نَحْنُ قَطِينُ اللَّهِ يَعْنِي سُكَّانَ اللَّهِ، وَمَنْ سِوَى أَهْلِ مَكَّةَ كَانُوا يَقِفُونَ بِعَرَفَاتٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199. وَالْحُمْسُ هُمْ: أَهْلُ الْحَرَمِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: قریش اور ان کے ہم مذہب لوگ - اور یہ «حمس» ١ ؎ کہلاتے ہیں - مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے اور کہتے تھے: ہم تو اللہ کے خادم ہیں۔ (عرفات نہیں جاتے) ، اور جوان کے علاوہ لوگ تھے وہ عرفہ میں وقوف کرتے تھے تو اللہ نے آیت کریمہ «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» اور تم بھی وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں (البقرہ: ١٩٩) نازل فرمائی۔

Sayyidah Ayshah narrated that the Quraysh and those who were on their religion, the Hums, stood at Muzdalifa. They used to say. We are servants of Allah. (so they did not go to Arafat). And those besides them would (go and) stand at Arafat. So Allah the Majestic and Glorious revealed: Then hasten onward from the place wherefrom the people hasten onward. (2 : 199) [Bukhari 4520, Muslim 1219, Abu Dawud 1910, Nisai 3009]

صحيح، ابن ماجة (3018)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 884
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اہل مکہ حرم سے باہر نہیں جاتے تھے اور عرفہ حرم سے باہر ہے۔ اہل مکہ مزدلفہ ہی میں وقوف کرتے تھے اور کہتے تھے: ہم اللہ کے آباد کئے ہوئے لوگ ہیں۔ اور اہل مکہ کے علاوہ لوگ عرفات میں وقوف کرتے تھے تو اللہ نے حکم نازل فرمایا: «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» تم بھی وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں «حمس» سے مراد اہل حرم ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «حمس» کے معنی بہادر اور شجاع کے ہیں۔ مکہ والے اپنے آپ کے لیے یہ لفظ استعمال کیا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٧٢٣٦) (صحیح)
885Sunan At-Tirmidhi

تمام عرفات ٹھہر نے کی جگہ ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: هَذِهِ عَرَفَةُ وَهَذَا هُوَ الْمَوْقِفُ، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ، ثُمَّ أَفَاضَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَجَعَلَ يُشِيرُ بِيَدِهِ عَلَى هِينَتِهِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ، وَيَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ. ثُمَّ أَتَى جَمْعًا فَصَلَّى بِهِمُ الصَّلَاتَيْنِ جَمِيعًا، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى قُزَحَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: هَذَا قُزَحُ، وَهُوَ الْمَوْقِفُ وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ، ثُمَّ أَفَاضَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى وَادِي مُحَسِّرٍ، فَقَرَعَ نَاقَتَهُ فَخَبَّتْ حَتَّى جَاوَزَ الْوَادِيَ، فَوَقَفَ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى الْمَنْحَرَ، فَقَالَ: هَذَا الْمَنْحَرُ وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ ، وَاسْتَفْتَتْهُ جَارِيَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمٍ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ قَدْ أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ، أَفَيُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ قَالَ: حُجِّي عَنْ أَبِيكِ، قَالَ: وَلَوَى عُنُقَ الْفَضْلِ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ لَوَيْتَ عُنُقَ ابْنِ عَمِّكَ ؟ قَالَ: رَأَيْتُ شَابًّا وَشَابَّةً فَلَمْ آمَنِ الشَّيْطَانَ عَلَيْهِمَا ، ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ، قَالَ: احْلِقْ أَوْ قَصِّرْ وَلَا حَرَجَ ، قَالَ: وَجَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: ارْمِ وَلَا حَرَجَ ، قَالَ: ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ، ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ، فَقَالَ: يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَنْهُ لَنَزَعْتُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشٍ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ الثَّوْرِيِّ مِثْلَ هَذَا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ رَأَوْا أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِعَرَفَةَ فِي وَقْتِ الظُّهْرِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ فِي رَحْلِهِ وَلَمْ يَشْهَدِ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ إِنْ شَاءَ جَمَعَ هُوَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِثْلَ مَا صَنَعَ الْإِمَامُ، قَالَ: وَزَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ هُوَ ابْنُ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَام.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں قیام کیا اور فرمایا: یہ عرفہ ہے، یہی وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ ہے، عرفہ (عرفات) کا پورا ٹھہرنے کی جگہ ہے، پھر آپ جس وقت سورج ڈوب گیا تو وہاں سے لوٹے۔ اسامہ بن زید کو پیچھے بٹھایا، اور آپ اپنی عام رفتار سے چلتے ہوئے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، اور لوگ دائیں بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے، آپ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہتے جاتے تھے: لوگو! سکون و وقار کو لازم پکڑو ، پھر آپ مزدلفہ آئے اور لوگوں کو دونوں نمازیں (مغرب اور عشاء قصر کر کے) ایک ساتھ پڑھائیں، جب صبح ہوئی تو آپ قزح ١ ؎ آ کر ٹھہرے، اور فرمایا: یہ قزح ہے اور یہ بھی موقف ہے اور مزدلفہ پورا کا پورا موقف ہے ، پھر آپ لوٹے یہاں تک کہ آپ وادی محسر ٢ ؎ پہنچے اور آپ نے اپنی اونٹنی کو مارا تو وہ دوڑی یہاں تک کہ اس نے وادی پار کرلی، پھر آپ نے وقوف کیا۔ اور فضل بن عباس ؓ کو (اونٹنی پر) پیچھے بٹھایا، پھر آپ جمرہ آئے اور رمی کی، پھر منحر (قربانی کی جگہ) آئے اور فرمایا: یہ منحر ہے، اور منیٰ پورا کا پورا منحر (قربانی کرنے کی جگہ) ہے ، قبیلہ خثعم کی ایک نوجوان عورت نے آپ سے مسئلہ پوچھا، اس نے عرض کیا: میرے والد بوڑھے ہوچکے ہیں اور ان پر اللہ کا فریضہ حج واجب ہوچکا ہے۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں تو کافی ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اپنے باپ کی طرف سے حج کرلے ۔ علی ؓ کہتے ہیں: آپ ﷺ نے فضل کی گردن موڑ دی، اس پر آپ سے، عباس ؓ نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ نے اپنے چچا زاد بھائی کی گردن کیوں پلٹ دی؟ تو آپ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ لڑکا اور لڑکی دونوں جوان ہیں تو میں ان دونوں کے سلسلہ میں شیطان سے مامون نہیں رہا ٣ ؎، پھر ایک شخص نے آپ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے سر منڈانے سے پہلے طواف افاضہ کرلیا۔ آپ نے فرمایا: سر منڈوا لو یا بال کتروا لو کوئی حرج نہیں ہے ۔ پھر ایک دوسرے شخص نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کرلی، آپ نے فرمایا: رمی کرلو کوئی حرج نہیں ٤ ؎ پھر آپ بیت اللہ آئے اور اس کا طواف کیا، پھر زمزم پر آئے، اور فرمایا: بنی عبدالمطلب! اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ تمہیں مغلوب کردیں گے تو میں بھی (تمہارے ساتھ) پانی کھینچتا ۔ (اور لوگوں کو پلاتے)

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) narrated : Allah’s Messenger ﷺ stood at Arafat. He said, ‘This is Arafat and it is the Mawqif (standing place), and all of it is the Mawqif.” Then, he returned when the sun set and took Usamah ibn Zayd (RA)as his co-rider. And as was his wont, he began to gesture with his hand. And the people were on the right and left beating the track.° He turned towards them and said, “O People! You must be peaceful.’ Then they all came to Muzdalifah and he prayed with them the two prayers (of maghrib and isha) together. When it was dawn, he came to Quzah and stood there and said, “This is quzah and it is the mawqif. Rather, the whole of Muzdalifah is the mawqif.” Then, he moved forward till he came to the valley Muhassir where he struck his she-camel a whip so that it began to run till they were beyond the valley. He stopped and took Fadi ibn Abbas as his co-rider and came to the jamrah and hit it with pebbles (which is called rami). Then he came to the slaughtering place. He said, “This is the mazbah (slaughtering place) and all of Mina is place of slaughtering. A young girl of the tribe Kath’am said, “My father is old. The obligation of Hajj is on him. May I perform Hajj on his behalf?” He said, “Perform Hajj on behalf of your father.” He then turned away Fadi’s neck from this girl. So, Abbas asked. “O Messenger of Allah! ﷺ Why did you turn the neck of the son of your uncle?” He said, “I saw a young man and a young woman and was apprehensive of the devil’s Mischief.” A man came shortly and said, “O Messenger of Allah! ﷺ I have performed the tawaf of if’adah before shaving my head.” He said, “Shave it now. There is no sin in that.” Another man came and submitted, “O Messenger of Allah! ﷺ I have made the sacrifice before pelting the stones.” He said, “Make rami (pelt stones) now. There is no sin.” Then he came to the House (of Allah), made the tawaf and came to the well of zamzam. He said, “O children of Abdul Muttalib! Were it not that people would overpower you (and draw water) I would have drawn for myself.” [Ahmed562, Abu Dawud 1935, Ibn e Majah 3010]

حسن حجاب المرأة المسلمة (28)، الحج الکبيرصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 885
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم اسے علی کی روایت سے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں۔ یعنی عبدالرحمٰن بن حارث بن عیاش کی سند سے، اور دیگر کئی لوگوں نے بھی ثوری سے اسی کے مثل روایت کی ہے، ٢- اس باب میں جابر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کا خیال ہے کہ عرفہ میں ظہر کے وقت ظہر اور عصر کو ملا کر ایک ساتھ پڑھے، ٤- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: جب آدمی اپنے ڈیرے (خیمے) میں نماز پڑھے اور امام کے ساتھ نماز میں شریک نہ ہو تو چاہے دونوں نمازوں کو ایک ساتھ جمع اور قصر کر کے پڑھ لے، جیسا کہ امام نے کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مزدلفہ میں ایک پہاڑ کا نام ہے۔ ٢ ؎: منیٰ اور مزدلفہ کے درمیان ایک وادی ہے جس میں اصحاب فیل پر عذاب آیات ھا۔ ٣ ؎: یعنی: مجھے اندیشہ ہوا کہ فضل جب نوجوان لڑکی کی طرف سے ملتفت تھے، شیطان ان کو بہکا نہ دے۔ ٤ ؎: حاجی کو دسویں ذوالحجہ میں چار کام کرنے پڑتے ہیں، ١- جمرہ عقبیٰ کی رمی، ٢- نحر ہدی ( جانور ذبح کرنا ) ، ٣- حلق یا قصر، ٤- طواف افاضہ، ان چاروں میں ترتیب افضل ہے، اور اگر کسی وجہ سے ترتیب قائم نہ رہ سکے تو اس سے دم لازم نہیں ہوگا اور نہ ہی حج میں کوئی حرج واقع ہوگا جب کہ بعض نے کہا کہ حرج تو کچھ نہیں ہوگا لیکن دم لازم آئے گا۔ مگر ان کے پاس نص صریح میں سے کوئی دلیل نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٦٤ (١٩٢٢) (مختصراً ) (حسن)
886Sunan At-Tirmidhi

عرفات سے واپسی

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَبِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَزَادَ فِيهِ بِشْرٌ، وَأَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ، وَزَادَ فِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، وَقَالَ لَعَلِّي: لَا أَرَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ وادی محسر میں تیز چال چلے۔ (بشر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ) آپ مزدلفہ سے لوٹے، آپ پرسکون یعنی عام رفتار سے چل رہے تھے، لوگوں کو بھی آپ نے سکون و اطمینان سے چلنے کا حکم دیا۔ (اور ابونعیم کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ) آپ نے انہیں ایسی کنکریوں سے رمی کرنے کا حکم دیا جو دو انگلیوں میں پکڑی جاسکیں، اور فرمایا: شاید میں اس سال کے بعد تمہیں نہ دیکھ سکوں ۔

Sayyidina Jabir reported that the Prophet ﷺ hurried out of the valley Muhassir. Bishr (RA) added that when he returned from the assembly (Muzdalilfah), he was at peace and commanded them (the sahabah) to be at peace. Abu Nu’aym added that the Prophet ﷺ commanded them to cast such pebbles at the jamrah which they could hoid in their fingers. He also said, “Perhaps, I may not see you after this year.” [Ahmed14559, Muslim 1297, Abu Dawud 1944, Nisai 3021, Ibn e Majah 3023] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، صحيح أبي داود (1699 و 1719)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 886
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں اسامہ بن زید ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٦٦ (١٩٤٤)، سنن النسائی/الحج ٢٠٤ (٣٠٢٤)، و ٢١٥ (٣٠٥٥)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦١ (٣٠٢٣)، ( تحفة الأشراف: ٢٧٤٧ و ٢٧٥)، مسند احمد (٣/٣٠١، ٣٣٢، ٣٦٧، ٣٩١)، ویأتي عند المؤلف رقم: ٨٩٧) (صحیح)
887Sunan At-Tirmidhi

مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو جمع کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ صَلَّى بِجَمْعٍ، فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِإِقَامَةٍ ، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ هَذَا فِي هَذَا الْمَكَانِ.

عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے مزدلفہ میں نماز پڑھی اور ایک اقامت سے مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں ایک ساتھ ملا کر پڑھیں اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس جگہ پر ایسے ہی کرتے دیکھا ہے ١ ؎۔

Abdullah ibn Maalik said that Sayyidina Ibn Umar (RA) led the salah at Muzdalifah, combining two prayers with one iqamah. He said, “I had seen Allah’s Messenger ﷺ do like this at this place.” [Ahmed5287, Muslim 1288, Abu Dawud 1932, Nisai 3026]

صحيح، صحيح أبي داود (1682 - 1690)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 887
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے برخلاف جابر ؓ کی ایک روایت صحیح مسلم میں ہے کہ آپ نے ایک اذان اور دو تکبیروں سے دونوں نمازیں ادا کیں اور یہی راجح ہے، «واللہ اعلم»۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٦٥ (١٩٢٩) (تحفة الأشراف: ٧٢٨٥) (صحیح) (ہر صلاة کے لیے الگ الگ اقامت کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے/ دیکھئے اگلی روایت)
888Sunan At-Tirmidhi

مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو جمع کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ: قَالَ يَحْيَى: وَالصَّوَابُ حَدِيثُ سُفْيَانَ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنُ عُمَرَ فِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، وَحَدِيثُ سُفْيَانَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، لِأَنَّهُ لَا تُصَلَّى صَلَاةُ الْمَغْرِبِ دُونَ جَمْعٍ، فَإِذَا أَتَى جَمْعًا وَهُوَ الْمُزْدَلِفَةُ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ وَلَمْ يَتَطَوَّعْ فِيمَا بَيْنَهُمَا، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَذَهَبَ إِلَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، قَالَ سُفْيَانُ: وَإِنْ شَاءَ صَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ تَعَشَّى وَوَضَعَ ثِيَابَهُ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ، يُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَيُقِيمُ وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يُقِيمُ وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى إِسْرَائِيلُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَخَالِدٍ ابْنَيْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَحَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ أَيْضًا، رَوَاهُ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَأَمَّا أَبُو إِسْحَاق فَرَوَاهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَخَالِدٍ ابني مالك، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.

اس سند سے بھی ابن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔ محمد بن بشار نے («حدثنا» کے بجائے) «قال یحییٰ» کہا ہے۔ اور صحیح سفیان والی روایت ہے۔

Muhammad ibn Bashshar reported like this in a marfu’ form from Yahya ibn Sa’eed from Isma’il ibn Abu Khalid, from Abu Ishaq, from Sa’eed ibn Jubyr from the Prophet ﷺ Muhammad ibn Bashshar said on the authority of Yahya ibn Saeed that the hadith of Sufyan is sahih.

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 888
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث جسے سفیان نے روایت کی ہے اسماعیل بن ابی خالد کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، اور سفیان کی حدیث صحیح حسن ہے، ٢- اسرائیل نے یہ حدیث ابواسحاق سبیعی سے روایت کی ہے اور ابواسحاق سبیعی نے مالک کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور خالد سے اور عبداللہ اور خالد نے ابن عمر سے روایت کی ہے۔ اور سعید بن جبیر کی حدیث جسے انہوں نے ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے، سلمہ بن کہیل نے اسے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے، رہے ابواسحاق سبیعی تو انہوں نے اسے مالک کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور خالد سے اور ان دونوں نے ابن عمر سے روایت کی ہے، ٣- اس باب میں علی، ابوایوب، عبداللہ بن سعید، جابر اور اسامہ بن زید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس لیے کہ مغرب مزدلفہ آنے سے پہلے نہیں پڑھی جائے گی، جب حجاج جمع ١ ؎ یعنی مزدلفہ جائیں تو دونوں نمازیں ایک اقامت سے اکٹھی پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھیں گے۔ یہی مسلک ہے جسے بعض اہل علم نے اختیار کیا ہے اور اس کی طرف گئے ہیں اور یہی سفیان ثوری کا بھی قول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ چاہے تو مغرب پڑھے پھر شام کا کھانا کھائے، اور اپنے کپڑے اتارے پھر تکبیر کہے اور عشاء پڑھے، ٤- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ مغرب اور عشاء کو مزدلفہ میں ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ جمع کرے۔ مغرب کے لیے اذان کہے اور تکبیر کہے اور مغرب پڑھے، پھر تکبیر کہے اور عشاء پڑھے یہ شافعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جمع مزدلفہ کا نام ہے، کہا جاتا ہے کہ آدم اور حوا جب جنت سے اتارے گئے تو اسی مقام پر آ کر دونوں اکٹھا ہوئے تھے اس لیے اس کا نام جمع پڑگیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٦)، سنن ابی داود/ الحج ٦٥ (٩٩٣٠، ١٩٣٢)، سنن النسائی/الصلاة ١٨ (٤٨٢)، و ٢٠ (٤٨٤، ٤٨٥)، والمواقیت ٤٩ (٦٠٧)، والأذان ١٩ (٦٥٨)، و ٢٠ (٦٥٩)، والحج ٢٠٧ (٣٠٣٣)، ( تحفة الأشراف : ٧٠٥٢)، مسند احمد (٢/٣، ٦٢، ٧٩، ٨١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٣ (١٥٥٩) (صحیح)
889Sunan At-Tirmidhi

امام کو مزدلفہ میں پا نے والے نے حج کو پا لیا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ، فَسَأَلُوهُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: الْحَجُّ عَرَفَةُ، مَنْ جَاءَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةٌ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ . قَالَ مُحَمْدٍ: وَزَادَ يَحْيَى: وَأَرْدَفَ رَجُلًا فَنَادَى بِهِ.

عبدالرحمٰن بن یعمر ؓ کہتے ہیں کہ نجد کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اس وقت آپ عرفہ میں تھے۔ انہوں نے آپ سے حج کے متعلق پوچھا تو آپ نے منادی کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا: حج عرفات میں ٹھہرنا ہے ١ ؎ جو کوئی مزدلفہ کی رات کو طلوع فجر سے پہلے عرفہ آ جائے، اس نے حج کو پا لیا ٢ ؎ منی کے تین دن ہیں، جو جلدی کرے اور دو دن ہی میں چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو دیر کرے تیسرے دن جائے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ (یحییٰ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ) آپ نے ایک شخص کو پیچھے بٹھایا اور اس نے آواز لگائی۔

Sayyidina Abdur Rahman ibn Yamur (RA) said that some people of Najd met Allahs Messenger ﷺ while he was at Arafat. They asked him (about Hajj), so he ordered an announcer to proclaim and he proclaimed that Hajj was (the standing) at Arafah. One who reaches Arafat before rise of dawn on the night of Muzdalifah has, indeed, performed Hajj. The days of Mina are three days, but Then whosoever hastens (his departure) after his stay of two days (at Mina) there is no sin on him and whosoever delays there is no sin on him. (2 203) Muhammad said that Yahya added, The Prophet ﷺ took a co-rider and got him to proclaim. [Ahmed18976, Abu Dawud 1949, Nisai 3016, Ibn e Majah 3015]

صحيح، ابن ماجة (3015)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 889
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اصل حج عرفات میں وقوف ہے کیونکہ اس کے فوت ہوجانے سے حج فوت ہوجاتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی اس نے عرفہ کا وقوف پا لیا جو حج کا ایک رکن ہے اور حج کے فوت ہوجانے سے مامون و بےخوف ہوگیا، یہ مطلب نہیں کہ اس کا حج پورا ہوگیا اور اسے اب کچھ اور نہیں کرنا ہے، ابھی تو طواف افاضہ جو حج کا ایک اہم رکن ہے باقی ہے بغیر اس کے حج کیسے پورا ہوسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٦٩ (١٩٤٩)، سنن النسائی/الحج ٢٠٣ (٣٠١٩)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٧ (٣٠١٥)، ( تحفة الأشراف: ٩٧٣٥)، مسند احمد (٤/٣٠٩، ٣١٠، ٣٣٥)، سنن الدارمی/المناسک ٥٤ (١٩٢٩)، ویأتي في التفسیر برقم: ٢٩٧٥ (صحیح)