منٰی میں پہلے والا قیام کا زیادہ حقدار ہے
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَبْنِي لَكَ بَيْتًا يُظِلُّكَ بِمِنًى، قَالَ: لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منی میں ایک گھر نہ بنادیں جو آپ کو سایہ دے۔ آپ نے فرمایا: نہیں ١ ؎، منیٰ میں اس کا حق ہے جو وہاں پہلے پہنچے ۔
Sayyidah Ayshah reported that they said, “O Messenger of Allah! ﷺ Shall we build for you a structure in Mina to give you shade?” He said, “No. He who comes to Mina first, it is his place.” [Ahmed25776, Ibn e Majah 3006, Abu Dawud 2019] --------------------------------------------------------------------------------