ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے تھے کہ ہمارے سامنے ٹڈی کا ایک دل آگیا، ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے کھاؤ، کیونکہ یہ سمندر کا شکار ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah said that they went out with Allah’s Messenger ﷺ to perform Hajj or Umrah. They encountered a swarm of locusts and they began to strike them with their sticks and whips. The Prophet ﷺ said, “Eat it, for it is the game of the sea.” [Abu Dawud 1854, Ibn e Majah 3222] ]
ضعيف، ابن ماجة (3222) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (693)، الإرواء (1031)، ضعيف الجامع الصغير (4207) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 850
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابوالمھزم کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، ٢- ابوالمہزم کا نام یزید بن سفیان ہے۔ شعبہ نے ان میں کلام کیا ہے، ٣- اہل علم کی ایک جماعت نے محرم کو ٹڈی کا شکار کرنے اور اسے کھانے کی رخصت دی ہے، ٤- اور بعض کا خیال ہے کہ اگر وہ اس کا شکار کرے اور اسے کھائے تو اس پر فدیہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٤٢ (١٨٥٤)، سنن ابن ماجہ/الصید ٢٩ (٣٢٢)، ( تحفة الأشراف : ١٤٨٣٢)، مسند احمد (٢/٣٠٦، ٣٦٤) (ضعیف) (سند میں ابو الہزم ضعیف راوی ہے)
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر ؓ سے پوچھا: کیا لکڑ بگھا شکار میں داخل ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، (پھر) میں نے پوچھا: کیا میں اسے کھا سکتا ہوں ـ؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے کہا: کیا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم نے فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
Sayyidina Ibn Abu Ammar (RA) said that he asked Jabir jbn Abdullah (RA) about hunting the hyena.He said, “Yes (it is allowed).” He asked about eating it and he answered, “Yes (it is allowed).” He asked, “Did Allah’s Messenger ﷺ eat it?” Jabir r’said, “Yes!” [Abu Dawud 3801, T 1798, Ibn e Majah 3085, Ahmed14456]
صحيح، ابن ماجة (3085)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 851
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید کا بیان ہے کہ یہ حدیث جریر بن حزم نے بھی روایت کی ہے لیکن انہوں نے جابر سے اور جابر نے عمر ؓ سے روایت کی ہے، ابن جریج کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ٣- اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ اور بعض اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ محرم جب لگڑ بگھا کا شکار کرے یا اسے کھائے تو اس پر فدیہ ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مکہ میں داخل ہونے کے لیے (مقام) فخ میں ١ ؎ غسل کیا۔
Sayyidjna lbn Umar said that before entering Makkah, the Prophet ﷺ had a bath at Fakh.
ضعيف الإسناد جدا، لکن رواه الشيخان دون ذکر فخ، صحيح أبي داود (1629)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 852
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، ٢- صحیح وہ روایت ہے جسے نافع نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ وہ مکہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرتے تھے۔ اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں کہ مکہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا مستحب ہے، ٣- عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف ہیں۔ احمد بن حنبل اور علی بن مدینی وغیرہما نے ان کی تضعیف کی ہے اور ہم اس حدیث کو صرف انہی کے طریق سے مرفوع جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مکہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٧٣٢) (ضعیف الإسناد جدا) (سند میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم سخت ضعیف ہیں، لیکن مقام ” فخ “ کے ذکر کے بغیر مطلق دخول مکہ کے لیے غسل ابن عمر ہی سے بخاری ومسلم میں مروی ہے)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مکہ آتے تو بلندی کی طرف سے داخل ہوتے اور نشیب کی طرف سے نکلتے۔
Sayyidah Ayshah (RA) said that when the Prophet ﷺ came to Makkah, he entered through its heights. When he departed, he went out through its lowlands. [Bukhari 1577,Muslim 1258,Abu Dawud 1869]
صحيح، صحيح أبي داود (1633)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 853
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر ؓ سے روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بلندی سے مراد ثنیہ کداء ہے جو مکہ مکرمہ کی مقبرۃ المعلیٰ کی طرف ہے، اور بلند ہے اور نشیب سے مراد ثنیۃ کدی ہے جو باب العمرۃ اور اب ملک فہد کی طرف نشیب میں ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں دن کے وقت داخل ہوئے تھے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) said that the Prophet ﷺ entered makkah during day time. [Muslim 1257, Ahmed5230, Ibn e Majah 2941]
صحيح، صحيح أبي داود (1629)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 854
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ افضل یہ ہے کہ مکہ میں دن کے وقت داخل ہوا جائے مگر یہ قدرت اور امکان پر منحصر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٦ (٢٩٤١) (تحفة الأشراف: ٧٧٢٣) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ” عبداللہ العمری “ ضعیف ہیں، دیکھئے صحیح ابی داود: ١٦٢٩، وسنن ابی داود: ١٨٦٥)
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ سے پوچھا گیا: جب آدمی بیت اللہ کو دیکھے تو کیا اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے؟ انہوں نے کہا: ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج کیا، تو کیا ہم ایسا کرتے تھے؟۔
Muhajir Makki said that Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) was asked if a man might raise his hands on seeing BaythAllah. He asked (in response), “We performed Hajj with Allah’s Messenger ﷺ , did we ever raise our hands?”
ضعيف، ضعيف أبي داود (326)، المشکاة (2574 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 855
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھانے کی حدیث ہم شعبہ ہی کے طریق سے جانتے ہیں، شعبہ ابوقزعہ سے روایت کرتے ہیں، اور ابوقزعہ کا نام سوید بن حجیر ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں استفہام انکار کے لیے ہے، ابوداؤد کی روایت میں «أفكنا نفعله» کے بجائے «فلم يكن يفعله» اور نسائی کی روایت میں «فلم نکن نفعله» ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے اس سے استدلال صحیح نہیں اس کے برعکس صحیح احادیث اور آثار سے بیت اللہ پر نظر پڑتے وقت ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٤٦ (١٨٧٠)، سنن النسائی/الحج ١٢٢ (٢٨٩٨)، سنن الدارمی/المناسک ٧٥ (١٩٦١) (تحفة الأشراف: ٣١١٦) (ضعیف) (سند میں مہاجر بن عکرمہ، لین الحدیث راوی ہیں، نیز اس کے متن میں اثبات ونفی تک کا اختلاف ہے)
جابر ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مکہ آئے تو آپ مسجد الحرام میں داخل ہوئے، اور حجر اسود کا بوسہ لیا، پھر اپنے دائیں جانب چلے آپ نے تین چکر میں رمل کیا ١ ؎ اور چار چکر میں عام چال چلے۔ پھر آپ نے مقام ابراہیم کے پاس آ کر فرمایا: مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ، چناچہ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور مقام ابراہیم آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان تھا۔ پھر دو رکعت کے بعد حجر اسود کے پاس آ کر اس کا استلام کیا۔ پھر صفا کی طرف گئے۔ میرا خیال ہے کہ (وہاں) آپ نے یہ آیت پڑھی: « (إن الصفا والمروة من شعائر الله» صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that when the Prophet ﷺ came to Makkah, he entered the mosque, he kissed the Black stone. Then he went to its right and practised ramal three times and walked four times. Then he came to the station (of Ibrahim) and said: Take to yourselves Ibrahim’s station as a place for prayer. (2:125) .There he prayed two raka’at, placing the station between him and the House. Then he came to the stone, after the two raka’at, kissed it and went to Safa. The narrator said that he thought h, recited: Surely the Safa and the Marwa are among the emblemce of Allah. (2:158) [Ahmed14666, Muslim 1218. Abu Dawud 3969, Nisai 2936, Ibn e Majah 1008]
صحيح، ابن ماجة (3074)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 856
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: رمل یعنی اکڑ کر مونڈھا ہلاتے ہوئے چلنا جیسے سپاہی جنگ کے لیے چلتا ہے، یہ طواف کعبہ کے پہلے تین پھیروں میں سنت ہے، نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو یہ حکم اس لیے دیا تھا کہ وہ کافروں کے سامنے اپنے طاقتور اور توانا ہونے کا مظاہرہ کرسکیں، کیونکہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ مدینہ کے بخار نے انہیں کمزور کردیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٩ (١٢١٨)، سنن ابی داود/ الحج ٥٧ (١٩٠٥)، والحروف ١ (٣٩٦٩)، سنن النسائی/الحج ١٤٩ (٢٩٤٢)، ١٦٣ (٢٩٦٤، ٢٩٦٥)، و ١٦٤ (٢٩٦٦)، و ١٧٢ (٢٩٧٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٦ (١٠٠٨)، والمناسک ٢٩ (٢٩٥١)، و ٨٤ (٣٠٧٤)، ( تحفة الأشراف: ٢٥٩٤ و ٢٥٩٥ و ٢٥٩٦)، مسند احمد (٣/٣٢٠)، سنن الدارمی/المناسک ١١ (١٨٤٦)، وانظر ما یأتي برقم: ٨٥٧ و ٨٦٢ و ٢٩٦٧) (صحیح)
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین پھیروں میں رمل ١ ؎ کیا اور چار میں عام چل چلے۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ began ramal from the Black stone back again to it after three rounds, and he walked the (remaining) four. [Ahmed15275, Muslim 1263, Nisai 2936, Ibn e Majah 2951]
صحيح، ابن ماجة (3074)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 857
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- شافعی کہتے ہیں: جب کوئی جان بوجھ کر رمل کرنا چھوڑ دے تو اس نے غلط کیا لیکن اس پر کوئی چیز واجب نہیں اور جب اس نے ابتدائی تین پھیروں میں رمل نہ کیا ہو تو باقی میں نہیں کرے گا، ٥- بعض اہل علم کہتے ہیں: اہل مکہ کے لیے رمل نہیں ہے اور نہ ہی اس پر جس نے مکہ سے احرام باندھا ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رمل حجر اسود سے حجر اسود تک پورے مطاف میں مشروع ہے، رہی ابن عباس کی روایت جس میں رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال چلنے کا ذکر ہے تو وہ منسوخ ہے، اس لیے کہ ابن عباس کی روایت عمرہ قضاء کے موقع کی ہے جو ٧ ھ میں فتح مکہ سے پہلے ہوا ہے اور جابر ؓ کی حدیث حجۃ الوداع کے موقع کی ہے جو ١٠ ھ میں ہوا ہے۔
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں ابن عباس ؓ کے ساتھ تھا، معاویہ ؓ جس رکن کے بھی پاس سے گزرتے، اس کا استلام کرتے ١ ؎ تو ابن عباس نے ان سے کہا: نبی اکرم ﷺ نے حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کا استلام نہیں کیا، اس پر معاویہ ؓ نے کہا: بیت اللہ کی کوئی چیز چھوڑی جانے کے لائق نہیں ٢ ؎۔
Abu Tufayl reported that they were (performing tawaf) with Sayyidina Ibn Abbas (RA) and Mu’awiyah (RA)would never go by a corner without kissing it. So, Sayyidina Ibn Abbas (RA) said to him, “Surely the Prophet ﷺ never kissed (any corner) except the Hajr Aswad and Rukn Yamani.” Sayyidina Mu’awiyah (RA) said, “There is nothing in the House that may be forsaken.” [Bukhari 849, Muslim 1269]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 858
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر سے بھی روایت ہے، ٣- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کا استلام نہ کیا جائے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: خانہ کعبہ چار رکنوں پر مشتمل ہے، پہلے رکن کو دو فضیلتیں حاصل ہیں، ایک یہ کہ اس میں حجر اسود نصب ہے دوسرے یہ کہ قواعد ابراہیمی پر قائم ہے اور دوسرے رکن کو صرف دوسری فضیلت حاصل ہے یعنی وہ بھی قواعد ابراہیمی پر قائم ہے اور رکن شامی اور رکن عراقی کو ان دونوں فضیلتوں میں سے کوئی بھی فضیلت حاصل نہیں، یہ دونوں قواعد ابراہیمی پر قائم نہیں اس لیے پہلے کی تقبیل ( بوسہ ) ہے اور دوسرے کا صرف استلام ( چھونا ) ہے اور باقی دونوں کی نہ تقبیل ہے نہ استلام، یہی جمہور کی رائے ہے، اور بعض لوگ رکن یمانی کی تقبیل کو بھی مستحب کہتے ہیں، جو ممنوع نہیں ہے۔ ٢ ؎: معاویہ ؓ کے اس قول کا جواب امام شافعی نے یہ کہہ کردیا ہے کہ ان رکن شامی اور رکن عراقی دونوں کا استلام نہ کرنا انہیں چھوڑنا نہیں ہے حاجی ان کا طواف کر رہا ہے انہیں چھوڑ نہیں رہا، بلکہ یہ فعلاً اور ترکاً دونوں اعتبار سے سنت کی اتباع ہے، اگر ان دونوں کا استلام نہ کرنا انہیں چھوڑنا ہے تو ارکان کے درمیان جو جگہیں ہیں ان کا استلام نہ کرنا بھی انہیں چھوڑنا ہوا حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں۔
یعلیٰ بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اضطباع کی حالت میں ١ ؎ بیت اللہ کا طواف کیا، آپ کے جسم مبارک پر ایک چادر تھی۔
Ibn Abu Ya’la reported from his father that the Prophet ﷺ circumambulated the Ka’bah observing idtiba; He had a green mantle on him [Abu Dawud 1883, Ibn e Majah 2954]
حسن، ابن ماجة (2954)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 859
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہی ثوری کی حدیث ہے جسے انہوں نے ابن جریج سے روایت کی ہے اور اسے ہم صرف کے انہی طریق سے جانتے ہیں، ٣- عبدالحمید جبیرہ بن شیبہ کے بیٹے ہیں، جنہوں نے ابن یعلیٰ سے اور ابن یعلیٰ نے اپنے والد سے روایت کی ہے اور یعلیٰ سے مراد یعلیٰ بن امیہ ہیں ؓ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چادر ایک سرے کو داہنی بغل کے نیچے سے نکال کر سینے سے گزارتے ہوئے پیٹھ کی طرف کے دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر ڈالنے کو اضطباع کہتے ہیں، یہ طواف کے سبھی پھیروں میں سنت ہے، بخلاف رمل کے، وہ صرف شروع کے تین پھیروں ( چکروں ) میں ہے، طواف کے علاوہ کسی جگہ اور کسی حالت میں اضطباع نہیں ہے بعض لوگ حج و عمرہ میں احرام ہی کے وقت سے اضطباع کرتے ہیں، اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ نماز کی حالت میں یہ مکروہ ہے۔
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو حجر اسود کا بوسہ لیتے دیکھا، وہ کہہ رہے تھے: میں تیرا بوسہ لے رہا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تیرا بوسہ لیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا ١ ؎۔
Aabis ibn Rabi’ah said that he saw Sayyidina Umar kiss the Stone and say. “I kiss you while I know well that you are a stone, and had I not seen Allah’s Messenger kiss you I would not have kissed you.” [Muslim 1270, Abu Dawud 1873, Nisai 2934]
صحيح، ابن ماجة (2943)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 860
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوبکر اور ابن عمر سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اپنے اس قول سے عمر ؓ لوگوں کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ حجر اسود کا چومنا رسول اللہ کے فعل کی اتباع میں ہے نہ کہ اس وجہ سے کہ یہ خود نفع و نقصان پہنچا سکتا ہے جیسا کہ جاہلیت میں بتوں کے سلسلہ میں اس طرح کا لوگ عقیدہ رکھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٥٠ (١٥٩٧)، و ٥٧ (١٦٠٥)، (١٦١٠)، صحیح مسلم/الحج ٤١ (١٢٧٠)، سنن ابی داود/ المناسک ٤٧ (١٨٧٣)، سنن النسائی/الحج ١٤٧ (٢٩٤٠)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٧ (٢٩٤٣)، ( تحفة الأشراف: ١٠٤٧٣)، مسند احمد (١/٢٦، ٤٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: موطا امام مالک/الحج ٣٦ (١١٥)، مسند احمد (١/٢١، ٣٤، ٣٥، ٣٩، ٥١، ٥٣، ٥٤)، سنن الدارمی/المناسک ٤٢ (١٩٠٦) من غیر ہذا الطریق۔
زبیر بن عربی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر ؓ سے حجر اسود کا بوسہ لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو اسے چھوتے اور بوسہ لیتے دیکھا ہے۔ اس نے کہا: اچھا بتائیے اگر میں وہاں تک پہنچنے میں مغلوب ہوجاؤں اور اگر میں بھیڑ میں پھنس جاؤں؟ تو اس پر ابن عمر نے کہا: تم (یہ اپنا) اگر مگر یمن میں رکھو ١ ؎ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اسے چھوتے اور بوسہ لیتے دیکھا ہے۔ یہ زبیر بن عربی وہی ہیں، جن سے حماد بن زید نے روایت کی ہے، کوفے کے رہنے والے تھے، ان کی کنیت ابوسلمہ ہے۔ انہوں نے انس بن مالک اور دوسرے کئی صحابہ سے حدیثیں روایت کیں ہیں۔ اور ان سے سفیان ثوری اور دوسرے کئی اور ائمہ نے روایت کی ہیں۔
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ان سے یہ دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔ ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ حجر اسود کے بوسہ لینے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو اور آدمی وہاں تک نہ پہنچ سکے تو اسے اپنے ہاتھ سے چھو لے اور اپنے ہاتھ کا بوسہ لے لے اور اگر وہ اس تک نہ پہنچ سکے تو جب اس کے سامنے میں پہنچے تو اس کی طرف رخ کرے اور اللہ اکبر کہے، یہ شافعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ مطلب یہ ہے کہ اگر مگر چھوڑ دو، اس طرح کے سوالات سنت رسول کے شیدائیوں کو زیب نہیں دیتے، یہ تو تارکین سنت کا شیوہ ہے، سنت رسول کو جان لینے کے بعد اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جس وقت مکہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور یہ آیت پڑھی: « (واتخذوا من مقام إبراهيم مصلی» مقام ابراہیم کو مصلی بناؤ یعنی وہاں نماز پڑھو (البقرہ: ١٢٥) ، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی، پھر حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا استلام کیا پھر فرمایا: ہم (سعی) اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ نے شروع کیا ہے۔ چناچہ آپ نے صفا سے سعی شروع کی اور یہ آیت پڑھی: «إن الصفا والمروة من شعائر الله» صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں (البقرہ: ١٥٨) ۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that when the Prophet ﷺ came to Makkah, he made the tawaf of the House seven rounds. He came to the Station and recited “Appoint for yourselves a place of prayer on the standing-place of Ibrahim. “(verse 2 : 125). Then prayed salah behind tbe Station, and came to the Hajr and kissed it. After that he said, “We begin with what Allah had begun.” So, he began Safa, reciting “Surely the Safa and the Marwa are among the signs appointed by Allah” (2:158, hadith 857). [Ahmed14447, Muslim 1218, Abu Dawud 1905, Nisai 708, Muslim 2960] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1374)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 862
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ سعی مروہ کے بجائے صفا سے شروع کی جائے۔ اگر کسی نے صفا کے بجائے مروہ سے سعی شروع کردی تو یہ سعی کافی نہ ہوگی اور سعی پھر سے صفا سے شروع کرے گا، ٣- اہل علم کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کی، یہاں تک کہ واپس گھر چلا گیا، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر کسی نے صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کی یہاں تک کہ وہ مکہ سے باہر نکل آیا پھر اسے یاد آیا، اور وہ مکہ کے قریب ہے تو واپس جا کر صفا و مروہ کی سعی کرے۔ اور اگر اسے یاد نہیں آیا یہاں تک کہ وہ اپنے ملک واپس آگیا تو اسے کافی ہوجائے گا لیکن اس پر دم لازم ہوگا، یہی سفیان ثوری کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اگر اس نے صفا و مروہ کے درمیان سعی چھوڑ دی یہاں تک کہ اپنے ملک واپس آگیا تو یہ اسے کافی نہ ہوگا۔ یہ شافعی کا قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ صفا و مروہ کے درمیان سعی واجب ہے، اس کے بغیر حج درست نہیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، تاکہ مشرکین کو اپنی قوت دکھا سکیں۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ made the rounds of the House and between Safa and Marwah so that the idolators might observe his strength. [Bukhari 1649, Muslim 1266, Nisai 2976]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 863
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ابن عمر اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم اسی کو مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی صفا و مروہ کے درمیان سعی کرے، اگر وہ سعی نہ کرے بلکہ صفا و مروہ کے درمیان عام چال چلے تو اسے جائز سمجھتے ہیں۔
کثیر بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کو سعی میں عام چال چلتے دیکھا تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ صفا و مروہ کی سعی میں عام چال چلتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اگر میں دوڑوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دوڑتے بھی دیکھا ہے، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو عام چال چلتے بھی دیکھا ہے، اور میں کافی بوڑھا ہوں۔
Kathir ibn Jumhan said that he saw Sayyidina Ibn Umar (RA) walk during Sa’i. So he asked him, “Do you walk durin Sa’i betw Safa and Marwah?” So, he said, “If I run then I have seen Allah’s Messenger ﷺ also run. And if I walk then, indeed, I saw Allah’s Messenger walk. And I am an old man.” [Abu Dawud 1905, Nisai 2926, Ibn e Majah 2988]
صحيح، ابن ماجة (2988)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 864
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- سعید بن جبیر کے واسطے سے ابن عمر سے اسی طرح مروی ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا جب ١ ؎ آپ حجر اسود کے پاس پہنچتے تو اس کی طرف اشارہ کرتے ٢ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) said that the Prophet ﷺ made the tawaf on his riding beast. When he came to a corner (Hajr Aswad), he would make a gesture towards it. [Bukhari 1612,Nisai 2952]
صحيح، ابن ماجة (2948)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 865
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر، ابوالطفیل اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کی ایک جماعت نے بیت اللہ کا طواف، اور صفا و مروہ کی سعی سوار ہو کر کرنے کو مکروہ کہا ہے الا یہ کہ کوئی عذر ہو، یہی شافعی کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سواری پر طواف آپ نے اس لیے کیا تھا تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ سے حج کے مسائل پوچھ سکیں کیونکہ لوگ آپ کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے تھے۔ ٢ ؎: یہ اشارہ آپ اپنی چھڑی سے کرتے تھے پھر اسے چوم لیتے تھے جیسا کہ ابوالطفیل ؓ کی روایت میں ہے جو صحیح مسلم میں آئی ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے بیت اللہ کا طواف پچاس بار کیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل آئے گا جیسے اسی دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger said, “If anyone made tawaf of the House fifty times then he will be (as) absolved of his sins, as on the day his mother had given him birth.”
ضعيف، الضعيفة (5102) // ضعيف الجامع الصغير (5682) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 866
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں انس اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- ابن عباس ؓ کی حدیث غریب ہے، ٣- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ تو ابن عباس سے ان کے اپنے قول سے روایت کیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٥٣١) (ضعیف) (سند میں سفیان بن وکیع یحییٰ بن یمان شریک القاضی اور ابواسحاق سبیعی سب میں کلام ہے، صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابن عباس کا اپنا قول ہے)
ایوب سختیانی کہتے ہیں کہ لوگ عبداللہ بن سعید بن جبیر کو ان کے والد سے افضل شمار کرتے تھے۔ اور عبداللہ کے ایک بھائی ہیں جنہیں عبدالملک بن سعید بن جبیر کہتے ہیں۔ انہوں نے ان سے بھی روایت کی ہے ١ ؎۔
Ibn Abu Umar reported from Sufyan ibn Uyaynah, from Ayyub that the scholars consider Abdullah ibn Sa’eed ibn Jubayr more excellaent than his father. He also had a brother Abdul Maalik ibn Sa’eed ibn Jubayr who was also a narrator.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 867
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف نے یہ اثر پچھلی حدیث کے راوی عبداللہ بن سعید بن جبیر کی تعریف میں پیش کیا ہے۔
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! رات دن کے کسی بھی حصہ میں کسی کو اس گھر کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے نہ روکو ۔
Sayyidina Jubayr ibn Mut’im narrated that the Prophet ﷺ said, “O Children of Abd Manaf, do not disallow anyone who makes tawaf of this house to offer salah at whichever hour of night or day he likes.” [Ahmed16737, Abu Dawud 1894, Nisai 584, Ibn e Majah 1254]
صحيح، ابن ماجة (1254)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 868
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جبیر مطعم ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- عبداللہ بن ابی نجیح نے بھی یہ حدیث عبداللہ بن باباہ سے روایت کی ہے، ٣- اس باب میں ابن عباس اور ابوذر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- مکہ میں عصر کے بعد اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں: عصر کے بعد اور فجر کے بعد نماز پڑھنے اور طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ١ ؎ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی حدیث ٢ ؎ سے دلیل لی ہے۔ اور بعض کہتے ہیں: اگر کوئی عصر کے بعد طواف کرے تو سورج ڈوبنے تک نماز نہ پڑھے۔ اسی طرح اگر کوئی فجر کے بعد طواف کرے تو سورج نکلنے تک نماز نہ پڑھے۔ ان کی دلیل عمر ؓ کی حدیث ہے کہ انہوں نے فجر کے بعد طواف کیا اور نماز نہیں پڑھی پھر مکہ سے نکل گئے یہاں تک کہ وہ ذی طویٰ میں اترے تو سورج نکل جانے کے بعد نماز پڑھی۔ یہ سفیان ثوری اور مالک بن انس کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہی ارجح و اشبہ ہے۔ ٢ ؎: جو اس باب میں مذکور ہے، اس کا ماحصل یہ ہے کہ مکہ میں مکروہ اور ممنوع اوقات کا لحاظ نہیں ہے۔ ( خاص کر طواف کے بعد دو رکعتوں کے سلسلے میں ) جب کہ عام جگہوں میں فجر و عصر کے بعد کوئی نفل نماز نہیں ہے۔
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طواف کی دو رکعت میں اخلاص کی دونوں سورتیں یعنی «قل يا أيها الکافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھیں ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah reported that Allah’s Messenger ﷺ recited in the two rakaat of tawaf, the surah al-Kafirun and al-Ikhlas.
صحيح، ابن ماجة (3074)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 869
Notes · وضاحت
١ ؎: «قل يا أيها الکافرون» کو سورة الاخلاص تغلیباً کہا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٦١٣) (صحیح) (جعفر صادق کے طریق سے صحیح مسلم میں مروی طویل حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ مولف کی اس سند میں عبدالعزیز بن عمران متروک الحدیث راوی ہے)