Sunan At-Tirmidhi 868

حج کا بیان

868Sunan At-Tirmidhi

عصر اور فجر کے بعد طواف کے دو ( نفل) پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَاباهَ، عَنْجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ، وَصَلَّى أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي ذَرٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جُبَيْرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَاباهَ أَيْضًا، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ بِمَكَّةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا بَأْسَ بِالصَّلَاةِ وَالطَّوَافِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا. وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا طَافَ بَعْدَ الْعَصْرِ لَمْ يُصَلِّ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَكَذَلِكَ إِنْ طَافَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ أَيْضًا لَمْ يُصَلِّ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ عُمَرَ أَنَّهُ طَافَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَلَمْ يُصَلِّ، وَخَرَجَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى نَزَلَ بِذِي طُوًى فَصَلَّى بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ.

جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! رات دن کے کسی بھی حصہ میں کسی کو اس گھر کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے نہ روکو ۔

Sayyidina Jubayr ibn Mut’im narrated that the Prophet ﷺ said, “O Children of Abd Manaf, do not disallow anyone who makes tawaf of this house to offer salah at whichever hour of night or day he likes.” [Ahmed16737, Abu Dawud 1894, Nisai 584, Ibn e Majah 1254]

صحيح، ابن ماجة (1254)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 868
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جبیر مطعم ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- عبداللہ بن ابی نجیح نے بھی یہ حدیث عبداللہ بن باباہ سے روایت کی ہے، ٣- اس باب میں ابن عباس اور ابوذر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- مکہ میں عصر کے بعد اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں: عصر کے بعد اور فجر کے بعد نماز پڑھنے اور طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ١ ؎ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی حدیث ٢ ؎ سے دلیل لی ہے۔ اور بعض کہتے ہیں: اگر کوئی عصر کے بعد طواف کرے تو سورج ڈوبنے تک نماز نہ پڑھے۔ اسی طرح اگر کوئی فجر کے بعد طواف کرے تو سورج نکلنے تک نماز نہ پڑھے۔ ان کی دلیل عمر ؓ کی حدیث ہے کہ انہوں نے فجر کے بعد طواف کیا اور نماز نہیں پڑھی پھر مکہ سے نکل گئے یہاں تک کہ وہ ذی طویٰ میں اترے تو سورج نکل جانے کے بعد نماز پڑھی۔ یہ سفیان ثوری اور مالک بن انس کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہی ارجح و اشبہ ہے۔ ٢ ؎: جو اس باب میں مذکور ہے، اس کا ماحصل یہ ہے کہ مکہ میں مکروہ اور ممنوع اوقات کا لحاظ نہیں ہے۔ ( خاص کر طواف کے بعد دو رکعتوں کے سلسلے میں ) جب کہ عام جگہوں میں فجر و عصر کے بعد کوئی نفل نماز نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٥٣ (١٨٩٤)، سنن النسائی/المواقیت ٤١ (٥٨٦)، والحج ١٣٧ (٢٩٢٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٩ (١٢٥٦)، ( تحفة الأشراف: ٣١٨٧)، مسند احمد (٤/٨٠، ٨١، ٨٤)، سنن الدارمی/المناسک ٧٩ (١٩٦٧) (صحیح)