حج کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 9 · 166 hadiths · Page 2 of 8

830Sunan At-Tirmidhi

احرام باندھتے وقت غسل کرنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَدَنِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجَرَّدَ لِإِهْلَالِهِ وَاغْتَسَلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدِ اسْتَحَبَّ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الِاغْتِسَالَ عِنْدَ الْإِحْرَامِ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ.

زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے احرام باندھنے کے لیے اپنے کپڑے اتارے اور غسل کیا۔

Kharijah ibn Zayd ibn Thabit reported from his father that he saw the Prophet ﷺ took off his garments and had a bath to assume his ihram.

صحيح التعليقات الجياد، المشکاة (2547 / التحقيق الثانی، الحج الکبير)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 830
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اہل علم کی ایک جماعت نے احرام باندھنے کے وقت غسل کرنے کو مستحب قرار دیا ہے۔ یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ احرام کے لیے غسل کرنا مستحب ہے، اکثر لوگوں کی یہی رائے ہے، اور بعض نے اسے واجب کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وانظر: سنن الدارمی/المناسک ٦ (١٨٣٥) (تحفة الأشراف: ٣٧١٠) (صحیح) (سند میں عبداللہ بن یعقوب مجہول الحال ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
831Sunan At-Tirmidhi

آفا قی کے لئے احرام باندھنے کی جگہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: مِنْ أَيْنَ نُهِلُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ . قَالَ: وَيَقُولُونَ: وَأَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم احرام کہاں سے باندھیں؟ آپ نے فرمایا: اہل مدینہ ذی الحلیفہ ٢ ؎ سے احرام باندھیں، اہل شام جحفہ ٣ ؎ سے اور اہل نجد قرن سے ٤ ؎۔ اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اہل یمن یلملم سے ٥ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that a man asked, ‘From where do we assume the ihram, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, from Dhul Hulayfah, the Syrians from Juhafah, the Najdis from Qarn, and the Yamanis from Yalamlam.” [Ahmed5087, Bukhari 1525, Muslim 1182, Abu Dawud V37, Nisai 2647, Ibn e Majah 2914]

صحيح، ابن ماجة (2914)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 831
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، جابر بن عبداللہ اور عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «مواقیت» میقات کی جمع ہے، میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر احرام باندھ کر حج کی نیت کرتا ہے۔ ٢ ؎: مدینہ کے قریب ایک مقام ہے۔ جس کی دوری مدینہ سے مکہ کی طرف دس کیلو میٹر ہے اور یہ مکہ سے سب سے دوری پر واقع میقات ہے۔ ٣ ؎: مکہ کے قریب ایک بستی ہے جسے اب رابغ کہتے ہیں۔ ٤ ؎: اسے قرن المنازل بھی کہتے ہیں، یہ مکہ سے سب سے قریب ترین میقات ہے۔ مکہ سے اس کی دوری ٩٥ کیلو میٹر ہے۔ ٥ ؎: ایک معروف مقام کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٧٥٩٣) وانظر: مسند احمد (٢/٤٨، ٦٥) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/العلم ٥٢ (١٣٣)، والحج ٤ (١٥٢٢)، و ٨ (١٥٢٥)، و ١٠ (١٥٢٧)، والاعتصام ١٥ (٧٣٣٤)، صحیح مسلم/الحج ٢ (١١٨٢)، سنن ابی داود/ المناسک ٩ (١٧٣٧)، سنن النسائی/المناسک ١٧ (٢٦٥٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٣ (٢٩١٤)، موطا امام مالک/الحج ٨ (٢٢)، مسند احمد (٢/٥٥)، سنن الدارمی/المناسک ٥ (١٨٣١)، من غیر ہذا الطریق۔
832Sunan At-Tirmidhi

آفاقی کے لئے احرام باندھنے کی جگہ

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ الْعَقِيقَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ هُوَ أبُو جَعْفَرٍ مُحمَّدُ بنُ عَلِيِّ بنِ حُسَيْنِ بنِ عَلِيِّ بنِ أبِي طَالبٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اہل مشرق کی میقات عقیق ١ ؎ مقرر کی۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ appointed Aqiq as the miqat for the people of the east. [Ahmed3205, Abu Dawud 1740]

منكر، والصحيح ذات عرق .، الإرواء (1002)، ضعيف أبي داود (306) // عندنا برقم (381 / 1740)، المشکاة (2530) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 832
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- محمد بن علی ہی ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ایک معروف مقام ہے، جو عراق کی میقات ذات العرق کے قریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٩ (١٧٤٠)، ( تحفة الأشراف: ٦٤٤٣) (ضعیف منکر) (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے، نیز محمد بن علی کا اپنے دادا ابن عباس سے سماع ثابت نہیں ہے، اور حدیث میں وارد ” عقیق “ کا لفظ منکر ہے، صحیح لفظ ” ذات عرق “ ہے، الإرواء: ١٠٠٢، ضعیف سنن ابی داود: ٣٠٦)
833Sunan At-Tirmidhi

کہ محرم ( احرام والے) کے لئے کون سالباس پہننا جائز نہیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْحَرَمِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ، وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْحَرَامُ، وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کھڑ ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں احرام میں کون کون سے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ پاجامے، نہ عمامے اور نہ موزے، الا یہ کہ کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ خف (چمڑے کے موزے) پہنے اور اسے کاٹ کر ٹخنے سے نیچے کرلے ١ ؎ اور نہ ایسا کوئی کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگا ہو ٢ ؎، اور محرم عورت نقاب نہ لگائے اور نہ دستانے پہنے ٣ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that a man stood up and asked, “O Messenger of Allah ﷺ I What garments do you order us to wear in the state of ihram?” So, Allah’s Messenger ﷺ said : “Do not wear the shirt, the trousers, hooded cloak, turban or the socks; but, if one of you does not have the sandals then he may wear socks, cutting them below the ankles. And, do not wear garments on which saffron or wursO is applied. And, a woman must not put a veil over her face nor wear hand gloves.” [Ahmed4835, Bukhari 1542, Muslim 1177, Abu Dawud 1824, Nisai 2670, Ibn e Majah 2929]

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 833
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے «خف» چمڑے کے موزوں کے کاٹنے کی شرط لگائی ہے لیکن امام احمد نے بغیر کاٹے «خف» (موزہ ) پہننے کو جائز قرار دیا ہے کیونکہ ابن عباس ؓ کی روایت «من لم يجد نعلين فليلبس خفين» جو بخاری میں آئی ہے مطلق ہے، لیکن جمہور نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہاں مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا، حنابلہ نے اس روایت کے کئی جوابات دیئے ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ ابن عمر ؓ کی یہ روایت منسوخ ہے کیونکہ یہ احرام سے پہلے مدینہ کا واقعہ ہے اور ابن عباس ؓ کی روایت عرفات کی ہے، اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ابن عمر ؓ کی روایت حجت کے اعتبار سے ابن عباس کی روایت سے بڑھی ہوئی ہے کیونکہ وہ ایسی سند سے مروی ہے جو أصح الاسانید ہے۔ ٢ ؎: ایک زرد رنگ کی خوشبودار گھاس ہے جس سے کپڑے رنگے جاتے تھے، اس بات پر اجماع ہے کہ حالت احرام میں مرد کے لیے حدیث میں مذکور یہ کپڑے پہننے جائز نہیں ہیں، قمیص اور سراویل ( پاجانے ) میں تمام سلے ہوئے کپڑے داخل ہیں، اسی طرح عمامہ اور خفین سے ہر وہ چیز مراد ہے جو سر اور قدم کو ڈھانپ لے، البتہ پانی میں سر کو ڈبونے یا ہاتھ یا چھتری سے سر کو چھپانے میں کوئی حرج نہیں، عورت کے لیے حالت احرام میں وہ تمام کپڑے پہننے جائز ہیں جن کا اس حدیث میں ذکر ہے البتہ وہ ورس اور زعفران میں رنگے ہوئے کپڑے نہ پہننے۔ ٣ ؎: محرم عورت کے لیے نقاب پہننا منع ہے، مگر اس حدیث میں جس نقاب کا ذکر ہے وہ چہرے پر باندھا جاتا تھا، برصغیر ہندو پاک کے موجودہ برقعوں کا نقاب چادر کے پلو کی طرح ہے جس کو ازواج مطہرات مردوں کے گزرتے وقت چہروں پر لٹکا لیا کرتی تھیں اس لیے اس نقاب کو عورتیں بوقت ضرورت چہرے پر لٹکا سکتی ہیں اور چونکہ اس وقت حج میں ہر وقت اجنبی مردوں کا سامنا پڑتا ہے اس لیے ہر وقت اس نقاب کو چہرے پر لٹکائے رکھ سکتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٣ (١٨٣٨)، سنن ابی داود/ المناسک ٣٢ (١٨٢٥)، سنن النسائی/الحج ٢٨ (٢٦٧٧)، ( تحفة الأشراف: ٨٢٧٥)، مسند احمد (٢/١١٩) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/العلم ٥٣ (١٣٤)، والصلاة ٩ (٣٩٦)، والحج ٢١ (١٥٤٢)، وجزاء الصید ١٥ (١٨٤٢)، واللباس ٨ (٥٧٩٤)، و ١٣ (٥٨٠٣)، و ١٤ (٥٨٠٥)، و ١٥ (٥٨٠٦)، و ٣٤ (٥٨٤٧)، و ٣٧ (٥٨٥٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٩ (٢٩٢٩)، موطا امام مالک/الحج ٣ (٨)، مسند احمد (٢/٤، ٨، ٢٩، ٣٢، ٣٤، ٤١، ٥٤، ٥٦، ٥٩، ٦٥، ٧٧)، سنن الدارمی/الحج ٩ (١٨٣٩) من غیر الطریق۔
834Sunan At-Tirmidhi

اگر تہبند اور جوتے نہ ہوں تو پاجامہ اور موزے پہن لے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْمُحْرِمُ إِذَا لَمْ يَجِدِ الْإِزَارَ فَلْيَلْبَسْ السَّرَاوِيلَ، وَإِذَا لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ .

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: محرم کو جب تہبند میسر نہ ہو تو پاجامہ پہن لے اور جب جوتے میسر نہ ہوں تو «خف» (چمڑے کے موزے) پہن لے ١ ؎۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) said that he heard Allahs Messenger ﷺ say, “If one who assumes the ihram does not have the lower wrapper theu he may wear the trousers. And if he does not have sandals, he may wear socks. [Ahmed5075, Bukhari 1740, Muslim 1178, Nisai 2668, Ibn e Majah 2931]

835Sunan At-Tirmidhi

جو شخص قمیص یا جبہ پہنے ہوئے احرام باند ھے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيًّا قَدْ أَحْرَمَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْزِعَهَا .

یعلیٰ بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک اعرابی کو دیکھا جو احرام کی حالت میں کرتا پہنے ہوئے تھا۔ تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے ١ ؎۔

Ata reported from Yala ibn Ummayyah that the Prophet ﷺ saw a villager who was in a state of ihram wearing a robe. He commanded him to remove it. [Ahmed17989, Bukhari 1837, Muslim 1180. Abu Dawud 1819] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، صحيح أبي داود (1596 - 1599)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 835
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب نبی اکرم ﷺ جعرانہ میں تھے تفصیل کے لیے دیکھئیے ابوداؤد المناسک ٣١، نسائی الحج ٢٩۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٣١ (١٨٢٠)، (٤/٢٢٤)، وانظر الحدیث الآتي ( تحفة الأشراف: ١١٨٤٤) (صحیح)
836Sunan At-Tirmidhi

جو شخص قمیص یا جبہ پہنے ہوئے احرام باند ھے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ. وَهَذَا أَصَحُّ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَاهُ قَتَادَةُ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

یعلیٰ ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں۔ یہ زیادہ صحیح ہے اور حدیث میں ایک قصہ ہے ١ ؎۔

Ibn Abu Umar reported a hadith of the same purport from Sufyan ibn Amr ibn Dinar, from Ata, from Safwan ibn Ya’la from his father, from the Prophet

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 836
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اسی طرح اسے قتادہ، حجاج بن ارطاۃ اور دوسرے کئی لوگوں نے عطا سے اور انہوں نے یعلیٰ بن امیہ سے روایت کی ہے۔ لیکن صحیح وہی ہے جسے عمرو بن دینار اور ابن جریج نے عطاء سے، اور عطاء نے صفوان بن یعلیٰ سے اور صفوان نے اپنے والد یعلیٰ سے اور یعلیٰ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس قصہ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ابوداؤد المناسک ٣١، و نسائی الحج ٢٩۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٧ (١٥٣٦)، والعمرة ١٠ (١٧٨٩)، وجزاء الصید ١٩ (١٨٤٧)، والمغازي ٥٦ (٤٣٢٩)، وفضائل القرآن ٢ (٤٩٨٥)، صحیح مسلم/الحج ١ (١١٨٠)، سنن ابی داود/ الحج ٣١ (١٨١٩)، سنن النسائی/الحج ٢٩ (٢٦٦٩)، و ٤٤ (٢٧٠٩-٢٧١١)، ( تحفة الأشراف: ١١٨٣٦)، مسند احمد (٤/٢٢٤) (صحیح)
837Sunan At-Tirmidhi

محرم کا کن جانوروں کو مارنا جائز ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ، الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ موذی جانور ہیں جو حرم میں یا حالت احرام میں بھی مارے جاسکتے ہیں: چوہیا، بچھو، کوا، چیل، کاٹ کھانے والا کتا ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Five noxious creatures may be killed in the Haram. They are : the rat, the scorpion, the crow, the eagle and the biting dog.” [Bukhari 3314, Muslim 1198, Nisai 2887]

صحيح، ابن ماجة (3087)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 837
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود، ابن عمر، ابوہریرہ، ابوسعید اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ کاٹ کھانے والے کتے سے مراد وہ تمام درندے ہیں جو لوگوں پر حملہ کر کے انہیں زخمی کردیتے ہوں مثلاً شیر چیتا بھیڑیا وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ١٦ (٣٣١٤)، صحیح مسلم/الحج ٩ (١١٩٨)، سنن النسائی/الحج ١١٨ (٢٨٩٣)، ( تحفة الأشراف: ١٦٦٢٩) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/جزاء الصید ٧ (١٨٢٩)، سنن النسائی/الحج ٨٣ (٢٨٣٢)، و ١١٣ (٢٨٨٤)، و ١١٤ (٢٨٨٥)، و ١١٦ (٢٨٩٠)، و ١١٧ (٢٨٩١)، سنن ابن ماجہ/الحج ٩١ (٣٠٨٧) مسند احمد (٦/٨٧، ٩٧، ١٢٢، ٢٠٣، ٢٥٩، ٢٦١) من غیر ہذا الطریق۔
838Sunan At-Tirmidhi

محرم کا کن جانوروں کو مارنا جائز ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ: السَّبُعَ الْعَادِيَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْفَأْرَةَ وَالْعَقْرَبَ وَالْحِدَأَةَ وَالْغُرَابَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: الْمُحْرِمُ يَقْتُلُ السَّبُعَ الْعَادِيَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: كُلُّ سَبُعٍ عَدَا عَلَى النَّاسِ أَوْ عَلَى دَوَابِّهِمْ فَلِلْمُحْرِمِ قَتْلُهُ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: محرم سرکش درندے، کاٹ کھانے والے کتے، چوہا، بچھو، چیل اور کوے مار سکتا ہے ۔

Sayyidina Abu Saeed reported that the Prophet ﷺ said, A pilgrim who has assumed tbe ihram may kill seven : the wild beasts, the dog that bites, the rat, the scorpion, the eagle, and the crow [Ahmed11755, Abu Dawud 1848, Ibn e Majah 3089]

ضعيف، ابن ماجة (3089) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (660)، الإرواء (4 / 226)، المشکاة (2702)، ضعيف الجامع الصغير (6433) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 838
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں: محرم ظلم ڈھانے والے درندوں کو مار سکتا ہے، سفیان ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: محرم ہر اس درندے کو جو لوگوں کو یا جانوروں کو ایذاء پہنچائے، مار سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٤٠ (١٨٤٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩١ (٣٠٨٩)، ( تحفة الأشراف: ٤١٣٣)، مسند احمد (٣/٣) (ضعیف) (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے)
839Sunan At-Tirmidhi

محرم کے پچھنے لگانا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ، قَالُوا: لَا يَحْلِقُ شَعْرًا، وقَالَ مَالِكٌ: لَا يَحْتَجِمُ الْمُحْرِمُ إِلَّا مِنْ ضَرُورَةٍ، وقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ: لَا بَأْسَ أَنْ يَحْتَجِمَ الْمُحْرِمُ وَلَا يَنْزِعُ شَعَرًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے ١ ؎۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ had himself cupped when he was in the state of ihram. [Ahmed1928, Bukhari 1835, Muslim 1202, Abu Dawud 1835, Nisai 2843, Ibn e Majah 3081] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1682)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 839
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس ٢ ؎، عبداللہ بن بحینہ ٣ ؎ اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کی ایک جماعت نے محرم کو پچھنا لگوانے کی اجازت دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ بال نہیں منڈائے گا، ٤- مالک کہتے ہیں کہ محرم پچھنا نہیں لگوا سکتا، الا یہ کہ ضروری ہو، ٥- سفیان ثوری اور شافعی کہتے ہیں: محرم کے پچھنا لگوانے میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ بال نہیں اتار سکتا۔
Notes · وضاحت
١ ؎ اس روایت سے معلوم ہوا کہ حالت احرام میں پچھنا لگوانا جائز ہے، البتہ اگر بچھنا لگوانے میں بال اتروانا پڑے تو فدیہ دینا ضروری ہوگا، یہ فدیہ ایک بکری ذبح کرنا ہے، یا تین دن کے روزے رکھنا، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ ٢ ؎: انس ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے احرام کی حالت میں اپنے پاؤں کی پشت پر تکلیف کی وجہ سے پچھنا لگوایا۔ ٣ ؎: عبداللہ ابن بحینہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حالت احرام میں لحی جمل میں اپنے سرکے وسط میں پچھنا لگوایا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١١ (١٨٣٥)، والصوم ٣٢ (١٩٣٨)، والطب ١٢ (٥٦٩٥)، و ١٥ (٥٧٠٠)، صحیح مسلم/الحج ١١ (١٢٠٣)، سنن ابی داود/ المناسک ٣٦ (١٨٣٥)، سنن النسائی/الحج ٩٢ (٢٨٤٨)، مسند احمد (١/٢٢١، ٢٩٢، ٣٧٢)، ( تحفة الأشراف: ٥٧٣٧، ٥٩٣٩)، وأخرجہ کل من: سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٧ (٣٠٨١)، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٢٢، ٢٣٦، ٢٤٨، ٢٤٩، ٢٨٣، ٢٨٦، ٣١٥، ٣٤٦، ٣٥١، ٣٧٢)، سنن الدارمی/ الحج ٢٠ (١٨٦٠) من غیر ہذا الطریق وبتصرف یسیر فی السیاق (صحیح)
840Sunan At-Tirmidhi

احرم کی حالت میں نکاح کرنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَرَادَ ابْنُ مَعْمَرٍ أَنْ يُنْكِحَ ابْنَهُ، فَبَعَثَنِي إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَوْسِمِ بِمَكَّةَ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَخَاكَ يُرِيدُ أَنْ يُنْكِحَ ابْنَهُ فَأَحَبَّ أَنْ يُشْهِدَكَ ذَلِكَ، قَالَ: لَا أُرَاهُ إِلَّا أَعْرَابِيًّا جَافِيًا، إِنَّ الْمُحْرِمَ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكَحُ أَوْ كَمَا قَالَ: ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ مِثْلَهُ يَرْفَعُهُ، وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي رَافِعٍ، وَمَيْمُونَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُثْمَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنُ عُمَرَ، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق لَا يَرَوْنَ أَنْ يَتَزَوَّجَ الْمُحْرِمُ، قَالُوا: فَإِنْ نَكَحَ فَنِكَاحُهُ بَاطِلٌ.

نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ ابن معمر نے اپنے بیٹے کی شادی کرنی چاہی، تو انہوں نے مجھے ابان بن عثمان کے پاس بھیجا، وہ مکہ میں امیر حج تھے۔ میں ان کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا: آپ کے بھائی اپنے بیٹے کی شادی کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں، تو انہوں نے کہا: میں انہیں ایک گنوار اعرابی سمجھتا ہوں، محرم نہ خود نکاح کرسکتا اور نہ کسی کا نکاح کرا سکتا ہے - «أو كما قال» - پھر انہوں نے (اپنے والد) عثمان ؓ سے روایت کرتے ہوئے اسی کے مثل بیان کیا، وہ اسے مرفوع روایت کر رہے تھے۔

Nubayh ibn Wahb reported that Ibn Ma’mar decided to have his son married. So, he sent Nubayh to the amir of the pilgrimage Aban ibn Uthman (RA). He went to him and said, ‘Your brother intends to have his son married and that you should witness the solemnising.’ He said, ‘I find him not but illiterate. Neither does a pilgrim in the state of ihram marry nor have anyone married.’ (Or, as he said). Then he narrated from Uthman like that a marfu hadith. [Ahmed462,Muslim 1409,Abu Dawud 1841,Nisai 2840,Ibn e Majah 1966]

صحيح، ابن ماجة (1966)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 840
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عثمان ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابورافع اور میمونہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض صحابہ کرام جن میں عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب اور ابن عمر ؓ بھی شامل ہیں اسی پر عمل ہے، اور یہی بعض تابعین فقہاء کا بھی قول ہے اور مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ یہ لوگ محرم کے لیے نکاح کرنا جائز نہیں سمجھتے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر محرم نے نکاح کرلیا تو اس کا نکاح باطل ہوگا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: شرعی ضابطہ یہی ہے کہ محرم حالت احرام میں نہ تو خود اپنا نکاح کرسکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کا نکاح کرا سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤٠٩)، سنن ابی داود/ الحج ٣٩ (١٨٤١)، سنن النسائی/الحج ٩١ (٢٨٤٥)، والنکاح ٣٨ (٣٢٧٥)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٥ (١٩٦٦)، ( تحفة الأشراف: ٩٧٧٦)، موطا امام مالک/الحج ٢٢ (٧٠)، مسند احمد (١/٥٧، ٦٤، ٦٩، ٧٣)، سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٤) (صحیح)
841Sunan At-Tirmidhi

احرم کی حالت میں نکاح کرنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْأَبِي رَافِعٍ، قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ، وَبَنَى بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ، وَكُنْتُ أَنَا الرَّسُولَ فِيمَا بَيْنَهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ رَبِيعَةَ، وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ، وَهُوَ حَلَالٌ رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا، قَالَ: وَرَوَاهُ أَيْضًا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ مُرْسَلًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرُوِي عَنْيَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ حَلَالٌ . وَيَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ هُوَ ابْنُ أُخْتِ مَيْمُونَةَ.

ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میمونہ سے نکاح کیا اور آپ حلال تھے پھر ان کے خلوت میں گئے تب بھی آپ حلال تھے، اور میں ہی آپ دونوں کے درمیان پیغام رساں تھا۔

Sayyidina Abu Rafi (RA) narrated that when Allah’s Messenger ﷺ married Sayyidah Maymunah’ (RA)’ he had not assumed the ihram and when he consumated the marriage, he had (still) not assumed the ihram. Abu Rafi (RA) said, ‘I was the one who carried the proposal between them.” [Ahmed27267]

ضعيف، لکن الشطر الأول منه صحيح من الطريق الآتية (887)، الإرواء (1849)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 841
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اور ہم حماد بن زید کے علاوہ کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اسے مطر وراق کے واسطے سے ربیعہ سے مسنداً روایت کیا ہو، ٣- اور مالک بن انس نے ربیعہ سے، اور ربیعہ نے سلیمان بن یسار سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے میمونہ سے شادی کی اور آپ حلال تھے۔ اسے مالک نے مرسلا روایت کیا ہے، اور سلیمان بن ہلال نے بھی اسے ربیعہ سے مرسلا روایت کیا ہے، ٤- یزید بن اصم ام المؤمنین میمونہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی اور آپ حلال تھے یعنی محرم نہیں تھے۔ یزید بن اصم میمونہ کے بھانجے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٦) (تحفة الأشراف: ١٢٠١٧)، و مسند احمد (٦/٣٩٢-٣٩٣) (ضعیف) (اس کا آخری ٹکڑا میں ” أنا الرسول بينهما “ میں دونوں کے درمیان قاصد تھا)، ضعیف ہے کیونکہ اس سے قوی روایت میں ہے کہ ” عباس ؓ “ نے یہ شادی کرائی تھی، اس کے راوی ” مطرالوراق “ حافظے کے ضعیف ہیں، اس روایت کا مرسل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے، اس کا پہلا ٹکڑا حدیث رقم: ٨٤٥ کے طریق سے صحیح ہے)
842Sunan At-Tirmidhi

محرم کو نکاح کی اجازت

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَأَهْلُ الْكُوفَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے میمونہ سے شادی کی اور آپ محرم تھے۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) said that the Prophet ﷺ married Maymunah (RA) while he was a muhrim.

شاذ، ابن ماجة (1965) // ضعيف ابن ماجة (426)، الإرواء (1037) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 842
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ بھی کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٢٣٠) (صحیح) (یہ روایت سنداً صحیح ہے، لیکن ابن عباس ؓ سے اس واقعہ کے نقل کرنے میں وہم ہوگیا تھا، اس لیے یہ شاذ کے حکم میں ہے، اور صحیح یہ ہے کہ میمونہ ؓ کی شادی حلال ہونے کے بعد ہوئی جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/جزاء الصید ١٢ (١٨٣٧)، والمغازي ٤٣ (٤٢٥٨)، والنکاح ٣٠ (٥١١٤)، صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤١٠)، سنن ابی داود/ الحج ٣٩ (١٨٤٤)، سنن النسائی/الحج ٩٠ (٢٨٤٠- ٢٨٤٤)، والنکاح ٣٧ (٣٢٧٣)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٥ (١٩٦٥)، مسند احمد (١/٢٢، ٢٤، ٢٦)، سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٣)، من غیر ہذا الطریق۔
843Sunan At-Tirmidhi

محرم کو نکاح کی اجازت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ .

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے میمونہ سے شادی کی اور آپ محرم تھے ١ ؎۔

Sayyidina Ayyub (RA) reported from Ikrimah who from Ibn Abbas (RA) that the Prophet ﷺ married Sayyidah Maymunah (RA) while he was a muhrim.

شاذ انظر ما قبله (842)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 843
Notes · وضاحت
١ ؎: سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ ابن عباس کو اس سلسلہ میں وہم ہوا ہے کیونکہ ام المؤمنین میمونہ ؓ کا خود بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی تو ہم دونوں حلال تھے، اسی طرح ان کے وکیل ابورافع کا بیان بھی جیسا کہ گزرا یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میمونہ سے نکاح کیا تو آپ حلال تھے، اس سلسلہ میں صاحب معاملہ کا بیان زیادہ معتبر ہوگا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ٥٩٩٠) (صحیح) (سندا صحیح ہے، لیکن متن شاذ ہے، کماتقدم)
844Sunan At-Tirmidhi

محرم کو نکاح کی اجازت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْثَاءِ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الشَّعْثَاءِ اسْمُهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ، وَاخْتَلَفُوا فِي تَزْوِيجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا فِي طَرِيقِ مَكَّةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: تَزَوَّجَهَا حَلَالًا وَظَهَرَ أَمْرُ تَزْوِيجِهَا، وَهُوَ مُحْرِمٌ، ثُمَّ بَنَى بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ بِسَرِفَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ، وَمَاتَتْ مَيْمُونَةُ بِسَرِفَ حَيْثُ بَنَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدُفِنَتْ بِسَرِفَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے میمونہ سے شادی کی تو آپ محرم تھے۔

Qutaybah reported from Dawud ibn Abdur Rahman Attar, from Amr ibn Dinar, from Abu Shatha on the authority of Sayyidina Ibn Abbas (RA) that the Prophet ﷺ married Sayyidah Maymunah while he was in a sacred state. [Bukhari 5114, Muslim 1410, Nisai 3269]

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 844
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- نبی اکرم ﷺ کے میمونہ سے شادی کرنے کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ نے مکہ کے راستے میں ان سے شادی کی تھی، بعض لوگوں نے کہا: آپ نے جب ان سے شادی کی تو آپ حلال تھے البتہ آپ کے ان سے شادی کرنے کی بات ظاہر ہوئی تو آپ محرم تھے، اور آپ نے مکہ کے راستے میں مقام سرف میں ان کے ساتھ خلوت میں گئے تو بھی آپ حلال تھے۔ میمونہ کا انتقال بھی سرف میں ہوا جہاں رسول اللہ ﷺ نے ان سے خلوت کی تھی اور وہ مقام سرف میں ہی دفن کی گئیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٨٤٢ (تحفة الأشراف: ٥٣٧٦) (صحیح) (سندا صحیح ہے، لیکن متن شاذ ہے، کماتقدم)
845Sunan At-Tirmidhi

محرم کو نکاح کی اجازت

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَال: سَمِعْتُ أَبَا فَزَارَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ، وَبَنَى بِهَا حَلَالًا، وَمَاتَتْ بِسَرِفَ، وَدَفَنَّاهَا فِي الظُّلَّةِ الَّتِي بَنَى بِهَا فِيهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ مُرْسَلًا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ .

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی اور آپ حلال تھے اور ان سے خلوت کی تو بھی آپ حلال تھے۔ اور انہوں نے سرف ہی میں انتقال کیا، ہم نے انہیں اسی سایہ دار مقام میں دفن کیا جہاں آپ نے ان سے خلوت کی تھی۔

Sayyidah Maymunah (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ married her while he was not in a state of ihram. He cohabited with her also when he was not in the sacred state. She died (later) at Sarif and they buried her in the same place where he had cohabited with her. [Ahmed26892, Muslim 1411, Abu Dawud 1843, Ibn e Majah 1964]

صحيح، ابن ماجة (1964)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 845
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث یزید بن اصم سے مرسلاً روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میمونہ سے شادی کی اور آپ حلال تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤١١)، سنن ابی داود/ الحج ٣٩ (١٨٤٣)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٥ (١٩٦٤)، ( تحفة الأشراف: ١٨٠٨٢)، مسند احمد (٣٣٣، ٣٣٥)، دي ٢١ (١٨٦٥) (صحیح)
846Sunan At-Tirmidhi

محرم کو شکار کا گوشت کھانا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، وَطَلْحَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ مُفَسَّرٌ، وَالْمُطَّلِبُ لَا نَعْرِفُ لَهُ سَمَاعًا مِنْ جَابِرٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِأَكْلِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ بَأْسًا إِذَا لَمْ يَصْطَدْهُ أَوْ لَمْ يُصْطَدْ مِنْ أَجْلِهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: هَذَا أَحْسَنُ حَدِيثٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَاب وَأَفْسَرُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خشکی کا شکار تمہارے لیے حالت احرام میں حلال ہے جب کہ تم نے اس کا شکار خود نہ کیا ہو، نہ ہی وہ تمہارے لیے کیا گیا ہو۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ said, The flesh of the game is lawful for you while you have assumed the ihram provided you have not hunted it or had it hunted for you.” [Ahmed14900, Abu Dawud 1851, Nisai 1851]

ضعيف، المشکاة (2700 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (3524)، ضعيف أبي داود (401 / 1851) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 846
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ابوقتادہ اور طلحہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٢- جابر کی حدیث مفسَّر ہے، ٣- اور ہم مُطّلب کا جابر سے سماع نہیں جانتے، ٤- اور بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ محرم کے لیے شکار کے کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جب اس نے خود اس کا شکار نہ کیا ہو، نہ ہی وہ اس کے لیے کیا گیا ہو، ٥- شافعی کہتے ہیں: یہ اس باب میں مروی سب سے اچھی اور قیاس کے سب سے زیادہ موافق حدیث ہے، اور اسی پر عمل ہے۔ اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحج ٤١ (١٨٥١)، سنن النسائی/الحج ٨١ (٢٨٣٠)، ( تحفة الأشراف: ٣٠٩٨)، مسند احمد (٣/٣٦٢) (ضعیف) (سند میں عمروبن ابی عمرو ضعیف ہیں، لیکن اگلی روایت سے اس کے معنی کی تائید ہو رہی ہے)
847Sunan At-Tirmidhi

محرم کو شکار کا گوشت کھانا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَأَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ .

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ آپ جب مکہ کا کچھ راستہ طے کرچکے تو وہ اپنے بعض محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے جب کہ ابوقتادہ خود غیر محرم تھے، اسی دوران انہوں نے ایک نیل گائے دیکھا، تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے درخواست کی کہ وہ انہیں ان کا کوڑا اٹھا کر دے دیں تو ان لوگوں نے اسے انہیں دینے سے انکار کیا۔ پھر انہوں نے ان سے اپنا نیزہ مانگا۔ تو ان لوگوں نے اسے بھی اٹھا کردینے سے انکار کیا تو انہوں نے اسے خود ہی (اتر کر) اٹھا لیا اور شکار کا پیچھا کیا اور اسے مار ڈالا، تو بعض صحابہ کرام نے اس شکار میں سے کھایا اور بعض نے نہیں کھایا۔ پھر وہ نبی اکرم ﷺ سے آ کر ملے اور اس بارے آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ تو ایک ایسی غذا ہے جسے اللہ نے تمہیں کھلایا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Qatadah (RA) narrated that he was with the Prophet ﷺ till somewhere on the road to Makkah, he lagged behind with some of his companions who where muhrirn while he was not a muhrim. He observed a wild donkey: He jumped on his horse and asked his mates to give him a spear, but they declined. So he asked them for a whip, but they again dedined. So, he took (the weapon) himself and rushed towards the donkey and killed it. Some ot the sahahah (RA) of the Prophet ﷺ ate its flesh and some of them declined. They caught up with the Prophet ﷺ and asked him about it and he said, ‘That was only a meal br you that Allah fed you. [Ahmed22630, Bukhari 1823, Muslim 1196, Abu Dawud 1852, Nisai 2812]

صحيح، الإرواء (1028)، صحيح أبي داود (1623)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 847
Notes · وضاحت
١ ؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خشکی کا شکار اگر کسی غیر احرام والے نے اپنے لیے کیا ہو اور محرم نے کسی طرح کا تعاون اس میں نہ کیا ہو تو اس میں اسے محرم کے لیے کھانا جائز ہے، اور اگر کسی غیر محرم نے خشکی کا شکار محرم کے لیے کیا ہو یا محرم نے اس میں کسی طرح کا تعاون کیا ہو تو محرم کے لیے اس کا کھانا جائز نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ٤ (١٨٢٣)، والجہاد ٨٨ (٢٩١٤)، والذباع ١٠ (٥٤٩٠)، و ١١ (٥٤٩٢)، صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٦)، سنن ابی داود/ الحج ٤١ (١٨٥٢)، سنن النسائی/الحج ٧٨ (٢٨١٨)، ( تحفة الأشراف: ١٢١٣١)، موطا امام مالک/الحج ٢٤ (٧٦)، مسند احمد (٥/٣٠١) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/جزاء الصید ٢ (١٨٢١)، و ٣ (١٨٢٢)، و ٥ (١٨٢٤)، والہبة ٣ (٢٥٧٠)، والجہاد ٤٦ (٢٨٥٤)، والأطعمة ١٩ (٥٤٠٦، ٥٤٠٧)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٣ (٣٠٩٣)، مسند احمد (٥/٣٠٧)، سنن الدارمی/المناسک ٢٢ (١٨٦٧) من غیر ہذا الطریق۔
848Sunan At-Tirmidhi

محرم کو شکار کا گوشت کھانا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ فِي حِمَارِ الْوَحْشِ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اس سند سے بھی ابوقتادہ سے نیل گائے کے بارے میں ابونضر ہی کی حدیث کی طرح مروی ہے البتہ زید بن اسلم کی اس حدیث میں اتنا زائد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ ہے ۔

Qutaybah reported a hadith like the hadith of Abu an-Nadr about a wild animal from MaaliL from Zayd ibn Aslam, from Ata ibn Yasar, from Qatadah. But, it has these words too: (The Prophet ﷺ said, Do you still have some of its flesh with you?’) [Ahmed22631, Bukhari 2914, Muslim 1196]

صحيح انظر الذي قبله (847)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 848
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٢١٢٠) (صحیح)
849Sunan At-Tirmidhi

محرم کے لئے شکار کا گوشت کھانا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، فَأَهْدَى لَهُ حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِهِ مِنَ الْكَرَاهِيَةِ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ وَكَرِهُوا أَكْلَ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنَّمَا وَجْهُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَنَا إِنَّمَا رَدَّهُ عَلَيْهِ، لَمَّا ظَنَّ أَنَّهُ صِيدَ مِنْ أَجْلِهِ وَتَرَكَهُ عَلَى التَّنَزُّهِ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، وَقَالَ: أَهْدَى لَهُ لَحْمَ حِمَارٍ وَحْشٍ، وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ صعب بن جثامہ ؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ابواء یا ودان میں ان کے پاس سے گزرے، تو انہوں نے آپ کو ایک نیل گائے ہدیہ کیا، تو آپ نے اسے لوٹا دیا۔ ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا: ہم تمہیں لوٹاتے نہیں لیکن ہم محرم ہیں ۔

Ubaydullah ibn Abdullah reported that Sayyidina Ibn Abbas (RA) informed him from Sayyidina Sab ibn Jaththamah (RA) who said that Allah’s Messenger ﷺ met him at Ahwa or Waddan (between Makkah and Madinah). He presented him (the Prophet ﷺ a wild donkey hut he returned it to him. When Allah’s Messenger ﷺ observed on his face dislike (for that), he said, ‘It is not that I returned it to you (for any reason), hut I am in a sacred state.” [Ahmed16423, Bukhari 1825, Muslim 1193, Nisai 2815, Ibn e Majah 3090]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 849
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت اسی حدیث کی طرف گئی ہے اور انہوں نے محرم کے لیے شکار کا گوشت کھانے کو مکروہ کہا ہے، ٣- شافعی کہتے ہیں: ہمارے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے وہ گوشت صرف اس لیے لوٹا دیا کہ آپ کو گمان ہوا کہ وہ آپ ہی کی خاطر شکار کیا گیا ہے۔ سو آپ نے اسے تنزیہاً چھوڑ دیا، ٤- زہری کے بعض تلامذہ نے یہ حدیث زہری سے روایت کی ہے۔ اور اس میں «أهدى له حمارا وحشياً» کے بجائے «أهدى له لحم حمارٍ وحشٍ» ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے، ٥- اس باب میں علی اور زید بن ارقم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ٦ (١٨٢٥)، والہبة ٦ (٢٥٧٣)، و ١٧ (٢٥٩٦)، صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٣)، سنن النسائی/الحج ٧٩ (٢٨٢١، ٢٨٢٢، ٢٨٢٥، ٢٨٢٦)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٢ (٣٠٩٠)، ( تحفة الأشراف: ٤٩٤٠)، موطا امام مالک/الحج ٢٤ (٨٣)، مسند احمد ( ٤/٣٧، ٣٨، ٧١، ٧٣)، سنن الدارمی/المناسک ٢٢ (١٨٧٠، و ١٨٧٢) (صحیح)