عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم احرام کہاں سے باندھیں؟ آپ نے فرمایا: اہل مدینہ ذی الحلیفہ ٢ ؎ سے احرام باندھیں، اہل شام جحفہ ٣ ؎ سے اور اہل نجد قرن سے ٤ ؎۔ اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اہل یمن یلملم سے ٥ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that a man asked, ‘From where do we assume the ihram, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, from Dhul Hulayfah, the Syrians from Juhafah, the Najdis from Qarn, and the Yamanis from Yalamlam.” [Ahmed5087, Bukhari 1525, Muslim 1182, Abu Dawud V37, Nisai 2647, Ibn e Majah 2914]
صحيح، ابن ماجة (2914)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 831
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، جابر بن عبداللہ اور عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «مواقیت» میقات کی جمع ہے، میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر احرام باندھ کر حج کی نیت کرتا ہے۔ ٢ ؎: مدینہ کے قریب ایک مقام ہے۔ جس کی دوری مدینہ سے مکہ کی طرف دس کیلو میٹر ہے اور یہ مکہ سے سب سے دوری پر واقع میقات ہے۔ ٣ ؎: مکہ کے قریب ایک بستی ہے جسے اب رابغ کہتے ہیں۔ ٤ ؎: اسے قرن المنازل بھی کہتے ہیں، یہ مکہ سے سب سے قریب ترین میقات ہے۔ مکہ سے اس کی دوری ٩٥ کیلو میٹر ہے۔ ٥ ؎: ایک معروف مقام کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٧٥٩٣) وانظر: مسند احمد (٢/٤٨، ٦٥) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/العلم ٥٢ (١٣٣)، والحج ٤ (١٥٢٢)، و ٨ (١٥٢٥)، و ١٠ (١٥٢٧)، والاعتصام ١٥ (٧٣٣٤)، صحیح مسلم/الحج ٢ (١١٨٢)، سنن ابی داود/ المناسک ٩ (١٧٣٧)، سنن النسائی/المناسک ١٧ (٢٦٥٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٣ (٢٩١٤)، موطا امام مالک/الحج ٨ (٢٢)، مسند احمد (٢/٥٥)، سنن الدارمی/المناسک ٥ (١٨٣١)، من غیر ہذا الطریق۔