احرام باندھتے وقت غسل کرنا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَدَنِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجَرَّدَ لِإِهْلَالِهِ وَاغْتَسَلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدِ اسْتَحَبَّ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الِاغْتِسَالَ عِنْدَ الْإِحْرَامِ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ.
زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے احرام باندھنے کے لیے اپنے کپڑے اتارے اور غسل کیا۔
Kharijah ibn Zayd ibn Thabit reported from his father that he saw the Prophet ﷺ took off his garments and had a bath to assume his ihram.
صحيح التعليقات الجياد، المشکاة (2547 / التحقيق الثانی، الحج الکبير)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 830
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اہل علم کی ایک جماعت نے احرام باندھنے کے وقت غسل کرنے کو مستحب قرار دیا ہے۔ یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ احرام کے لیے غسل کرنا مستحب ہے، اکثر لوگوں کی یہی رائے ہے، اور بعض نے اسے واجب کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وانظر: سنن الدارمی/المناسک ٦ (١٨٣٥) (تحفة الأشراف: ٣٧١٠) (صحیح) (سند میں عبداللہ بن یعقوب مجہول الحال ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)