عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے ١ ؎۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ had himself cupped when he was in the state of ihram. [Ahmed1928, Bukhari 1835, Muslim 1202, Abu Dawud 1835, Nisai 2843, Ibn e Majah 3081] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1682)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 839
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس ٢ ؎، عبداللہ بن بحینہ ٣ ؎ اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کی ایک جماعت نے محرم کو پچھنا لگوانے کی اجازت دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ بال نہیں منڈائے گا، ٤- مالک کہتے ہیں کہ محرم پچھنا نہیں لگوا سکتا، الا یہ کہ ضروری ہو، ٥- سفیان ثوری اور شافعی کہتے ہیں: محرم کے پچھنا لگوانے میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ بال نہیں اتار سکتا۔
Notes · وضاحت
١ ؎ اس روایت سے معلوم ہوا کہ حالت احرام میں پچھنا لگوانا جائز ہے، البتہ اگر بچھنا لگوانے میں بال اتروانا پڑے تو فدیہ دینا ضروری ہوگا، یہ فدیہ ایک بکری ذبح کرنا ہے، یا تین دن کے روزے رکھنا، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ ٢ ؎: انس ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے احرام کی حالت میں اپنے پاؤں کی پشت پر تکلیف کی وجہ سے پچھنا لگوایا۔ ٣ ؎: عبداللہ ابن بحینہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حالت احرام میں لحی جمل میں اپنے سرکے وسط میں پچھنا لگوایا۔